Ghaate Ka Sauda

گھاٹے کا سودا

حافظ مظفر محسن بدھ جنوری

Ghaate Ka Sauda
کچھ لوگوں سے آپ کو نہ چاہتے ہوئے بھی ملنا پڑتا ہے بالکل ایسے کہ اگر ” باس“ کوئی نہایت بوریت زدہ لطیفہ بھی پھینکے اور آپ کی جیب کٹ جانے کے باعث رونے کو دل چاہ رہا ہو پھر بھی آپ کو ہنسنا پڑے گا اور لطیفے کی تعریف بھی کرنا ہوگی۔ایک ٹریفک پولیس کا سپاہی ہے کہ جب چاہے آپ کو روک لے۔ جہاں چاہے آپ سے مانگ لے اور آپ چاہے اتنے کنجوس ہوں کہ صبح گھر سے نکلتے ہوئے روتے ہوئے بچے کو ایک روپیہ بھی اس کی خوشی کے لئے نہ دیا ہو پولیس والے کو ہنسی خوشی کچھ نہ کچھ ادا کرنا ہوگا۔

ڈاکٹر ایک ایسی ہستی ہے کہ جس سے آپ کو کسی نہ کسی وجہ سے ہر حال میں ملاقات کرنا ہوتی ہے کیونکہ جب ڈاکٹر صاحب نے اس قدر محنت کرکے تعلیم حاصل کی ہے تو ہم سب کا فرض ہے کہ اب ہم ساری زندگی ان کی ” خدمت “ کریں۔

(جاری ہے)

ایک مرتا ہواانسان بھی ڈاکٹر کی” خدمت “ کرنے سے باز نہیں آتا۔ کیونکہ اسے اپنے پسماند گان کی بھی تو فکر ہوتی ہے۔
سیاستدان بھی ہمارے معاشرے کے وہ لوگ ہیں جن سے ہماری ملاقات نہ چاہتے ہوئے بھی ہوجاتی ہے۔

وہ جو روسی افسانہ نگار چیخوف نے ایک افسانے میں اس ملازم کا ذکر کیا تھا کہ جو اپنے ” باس “ کے سخت بلکہ توہین آمیزرویے سے پریشان تھا۔ ہر رات سونے سے پہلے سوچتا کہ کل اگر ”باس“ نے بے عزت کیا تو میں گلدان اٹھا کر اس کے سرپر دے ماروں گا لیکن اگلی صبح جب ” باس “ پہلے سے بھی زیادہ بدتمیزی سے پیش آتا تو ملازم ” جی جی ! جی جی “ کرکے چپ ہوجاتا ہم بھی ہر الیکشن کے رزلٹ کے بعد اور سیاستدان کی بے حسی دیکھتے ہوئے عہد کرتے ہیں کہ اب اگر یہ ووٹ مانگنے آئے گا تو ہم سے کھری کھری سنائیں گے اس کو اتنا بے عزت کریں گے کہ آئندہ اسے ووٹ مانگنے کی جرات نہ ہوگی مگر جب الیکشن کی تاریخ کا اعلان ہوتا ہے اور سیاستدان دس بارہ چمچوں کے ساتھ بڑا رحم طلب منہ بنا کر ” چودھری صاحب ‘ چودھری صاحب “ کہتے ہوئے آپ سے بغلگیر ہوتا ہے تو آپ نہ صرف اسے ووٹ دینے کا وعدہ کرلیتے ہیں بلکہ لمبی قطار میں دھوپ میں کھڑے ہوکر ووٹ بھی ڈالتے ہیں اورکبھی کبھی شوق شوق میں جیب بھی کٹوالیتے ہیں‘ آخر اخلاق بھی تو کوئی چیز ہے۔


میاں نواز شریف کی پالیسیوں سے ہم اختلاف کرسکتے ہیں ان کے سیاسی فیصلوں پر تنقید کا ہمیں حق حاصل ہے مگر انہوں نے جو خاص کام پہلی بار ہماری سیاسی تاریخ میں کیا اس سے اب اختلاف نہیں کر سکتے ۔ انہوں نے سیاستدانوں کے اس مقولے کو جڑسے اکھاڑ پھینکا ہے کہ آؤ جاؤ ڈپٹی کمشنر کو ڈپٹی کمشنر کی پلیٹ لگانے سے روک دیا۔ ایم این اے ایم اے کو گاڑی پر اپنے عہدے کی پلیٹ نہ لگانے دی۔

ورنہ ایم این اے یا ایم پی اے کے تمام رشتہ دار اس ” سہولت“ سے خوب خوب فائدہ اٹھاتے ہیں۔ وہی ایم این اے یا ایم پی اے جو کروڑوں روپے الیکشن پر خرچ کر کے اسمبلی پہنچتے تھے اور اگلے ہی دن لوٹ کھسوٹ نظر آتے لگتی تھی ‘ محکمے ہاتھ باندھے ان کے سامنے سر جھکائے قطار میں کھڑے ہوجاتے تھے۔ اب وہ چیز نظر نہیں آتی لوگ محسوس کررہے ہیں کہ اس بار اسمبلیوں میں بیٹھنے والوں کے ہاتھ کچھ زیادہ گندے نظر نہیں آتے۔

ٹشوپیپر کے ڈبے بند کے بند پڑے ہیں ورنہ ایک ایم این اے کے لئے ٹشوپیپر کے کئی کئی ڈبے منگوانے پڑتے تھے۔ اب کی باراگر اسمبلی کی مدت پوری ہونے تک یا تین سال تک یہ صورت حال ایسے ہی رہی تو ممکن ہے اگلے الیکشن پر ہمیں خود بے چارے سیاستدان کے گھر جانا پڑے اور باادب درخواست کرنی پڑے کہ جناب عالی آپ ضرور الیکشن میں حصہ لیں ہمیں آپ کی اشد ضرورت ہے اور شاید سیاستدان جل کر جواب دے کہ ” بھاگ جاؤ“ میں کوئی بے وقوف ہوں جو گھاٹے کا سودا بار بار کروں۔ “

Your Thoughts and Comments