Aa Jao Aa Jaoi

آجاؤ،آجاؤ،جلدی آجاؤ،سارے آجاؤ

منگل جولائی

Aa Jao Aa Jaoi
ہمارے ناناجان ہر سال قوالی کی محفل بپا کرتے ۔ناناجان ذرا کنجوس طبیعت کے مالک تھے۔اس لیے کوئی اے کلاس قوال نہ بلاتے۔ایک دوبار تو میں نے اپنے ماموں کو (جو تعداد میں نوعدد ہیں)مشورہ دیا۔ماموں صاحبان اگر آپ دست شفقت رکھیں تو ہم یہ تکلیف کیوں کرتے ہیں کراچی سے قوال منگواتے ہیں ۔ہم خود ہی قوالی گالیا کریں۔ماموں کو بات پسند تو آئی لیکن انہوں نے چھوٹے ماموں کی طرف اشارہ کرکے کہا۔

کہ یہ صاحب بھول بُھلکڑ ہیں عین بیچ میں اگر قوالی بھول گئے تو گندے انڈے اور ٹماٹر تمھیں پتہ ہے ہمارے محلے میں مفت ملتے ہیں۔اور اس طرح اکثر اوقات ہوتا رہتا ہے ۔اس طرح کے کاموں میں چپ کرکے قوالی سنو جھوموانجوائے کرو۔بڑوں کے کام میں ٹانگ مت اڑاؤ۔
اس قوالی کے لیے قلعہ گجر سنگھ کے علاقے میں صبح سے ہی صفائیاں شروع ہو جاتیں ۔

(جاری ہے)

پھر شام کو پرتکلف کھانا ہوتا۔

قوال عصر کے وقت آچکے ہوتے۔وہ آرام کرتے پھر دبا کے کھاتے پھر پان وغیرہ پیش ہوتے خوشبو ئیں بکھر جاتیں۔ماحول تیار ۔ناناجان مخصوص کپڑے پہنے۔سر پر کالی مخصوص ٹوپی۔
ہمارے پڑنانا سائیں شاہ دین رحمة اللہ علیہ کی یاد میں کچھ مخصوص باتیں ہوتیں۔دادا جان بھی وہاں تشریف فرما ہوتے و ہ ہر سال یہ واقعہ بھی سناتے کہ جب ہم ہجرت کرکے امر تسر سے لاہور آرہے تھے موسم سخت خراب جگہ جگہ سکھ مسلمانوں کا قتل عام کررہے ہوتے۔

خوف کا عالم طاری تھا اور موت بانٹنے والے ہزاروں کی تعداد میں اِدھر اُدھر دندناتے پھررہے تھے۔
پڑنا نا سائیں شاہ دین رحمة اللہ علیہ بھی امر تسرسے روانہ ہوئے۔شریف پورہ کے بہت سے لوگ ساتھ تھے۔عورتیں بچے بزرگ۔اچانک سکھ گھڑآگئے۔اُنہوں نے اپنے ہتھیار نکالے اور حملہ آور ہوئے کہ بادلوں میں اِک کڑک پیدا ہوگئی۔خوفناک ماحول میں آواز آئی۔

”تلواروں کے منہ نیچے کرلو۔“اس آواز میں اتنا خوف تھا ۔رعب اور دبدبہ تھا کہ وہ سکھ گھڑ سوار ۔سائیں شاہ دین رحمة اللہ علیہ کے پاؤں پڑ گئے اور اپنی نگرانی میں پاکستان کے قریب چھوڑ کر چلے گئے۔یقینا نیک لوگوں کی ہر وقت اللہ پاک مدد فرماتے ہیں۔
اللہ والوں کے سر پہ اللہ کی رحمت کا سایہ ہوتا ہے۔پھر پاکستان بننے کی باتیں ہوتیں۔ماحول جذباتی ہوجاتا۔


لوگ جوق ودرجوق آنا شروع ہو جاتے۔وی۔آئی ۔پی۔ خواتین وحضرات کی آمد ہونے لگتی۔نانا جان سب کو محبت سے خوش آمدید کہتے ۔ڈیڑھ دو سو سے زائد حاضرین ہو جاتے تو مخصوص اشارے پر بیٹھک میں بیٹھے بارہ تیرہ قوال نمودار ہوتے۔طبلہ سارنگی،وائلن ،ڈھولک ،کیا کہنے۔سازندے اپنے اپنے سازسیٹ کررہے ہوتے۔ماحول عجب رنگ دھار لیتا۔یہ وجد طاری کردینے والا ماحول اکثر اوقات قوالی سے پہلے ہی انسان کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔


نئے نوٹ اِدھر سے اُدھر آجارہے ہوتے جنھیں قوال کن آنکھوں سے دیکھتے اور ہم مایوسی سے۔نئے نوٹ میں طاقت ہی بڑی ہے۔میں تو سمجھتا تھا کہ قوال کراچی سے لاہور تک کا یہ سفر محض نئے نوٹوں کے لیے کرتے ہیں۔ بعد میں میں ہر بار قوالی سن کے اپنے اس نیچ خیال پر دل ہی دل میں خوب شرمندی دل لگا کر خون پسینہ بہا کر قوالی کرتے تھے۔
اب دریاں بھر چکی ہیں۔

مخصوص (سینئرسٹیزن)دُور دراز سے آئے لوگ سینکڑوں کی تعداد میں کھڑے ہو جاتے۔دریوں پر جگہ ہونے کے باوجود ناناجی کے خوف سے یہ لوگ دیواروں کے ساتھ کھڑے ہو کر قوالی سنتے اور چپ کھڑے رہتے۔اس دوران جب قوال سانس لینے کے لیے وقفہ کرتے تو نانا جان بھی کمر سیدھی کرنے کے لیے اُٹھ کر مجمع پر نظر دوڑاتے۔جب دیواروں کے ساتھ کھڑے لوگوں پر نظر پڑتی تو باری باری سب کو بیٹھنے کا کہتے۔


یہ اُن کا خاص انداز تھا۔وہ سب کو جانتے پہچانتے تھے۔یہاں تک کہ اُن کے کاروبار اور پیشے بھی ۔”منیر دے پترا․․․․آجا۔بیٹھ ادھر آکے۔کاکے کو بھی لے آ۔واہ بھئی!آپا کلثوم کا پوتا بھی آیا ہے ۔منے سنا تو کب آیا جیل سے۔آجا آجا تو بھی آکے بیٹھ شر مامت ۔کھانا کھایا؟ہر بار جیب کاٹنے کے جرم میں جیل جاتے ہو ہمارا سر شرم سے جھک جاتا ہے ۔کبھی کوئی بڑا کام بھی کر (اس بات پر سب حاضرین خوب ہنستے،گویا نانا جان کو داد ملتی۔

)
محلے کا جمعدار بھی کھڑا ہے۔”سنگھاڑے مسیح تو بھی آجا“رنگو گجر!دودھ میں پانی ملانا چھوڑ دے۔سرکارکی محفل سے تو بھی کچھ لے جا۔دودھ میں پانی ملانا چھوڑ دے۔نصیحت نہیں درخواست کررہا ہوں۔اس بار مان لے۔او بھئی!جان صاحب!(ایک سینئر بزرگ سے مخاطب ہوئے)تاؤ بھی آیا ہوا ہے ۔سنا ہے لنڈے بازار قتل کیس میں بڑی مشکل سے اب کے ضمانت ہوئی ہے۔پاس بیٹھ کر اُن کے پاؤں دابنے لگتا۔

یہ اچھے دور کے بڑے لوگ تھے روایت پسند ۔
اس دوران ہم بچے تاؤ کو غور سے دور بیٹھ کے دیکھنے لگتے کہ قاتل ایسے ہوتے ہیں۔جب دس بارہ چرس بھنگ پینے والے رہ جاتے تو نانا جان سب کو کہتے۔بلند آواز میں”آجاؤ․․․․․․آجاؤ․․․․․جلدی آجاؤ․․․․․سارے آجاؤ۔“گویا اب کے اچھے برے کی تمیز ختم ۔کام تیس پر ہے۔ماحول بن چکا ہے ۔قوال مجمع دیکھ کر چھا جائیں گے۔

سب آجاتے اور قوالی کے ساتھ ساتھ ان کے پیچھے آکر بیٹھ جانے والے سو پچاس لوگوں کو کھانا تقسیم ہوتا اور وہ اُنگلیاں چاٹ رہے ہوتے۔
شاید قوالی بھی سن رہے ہوتے تھے۔کبھی قوالی کا مزہ کبھی کھانے کا۔جیب کترے شاید جیب کاٹنے کے لیے آسامی بھی تاڑ رہے ہوں۔
آج کئی سال بعد ناناجان کی یاد آئی کہ وہ عین اس قوالی والے دن محفل میں بیٹھے ہی اللہ کو پیارے ہو گئے۔

قوال اُس وقت ”رنگ“گارہے تھے۔آج عمران خان کی پارٹی میں ”ہر طرح “کے وہ سیاستدان بھی شامل ہورہے ہیں جو کرپشن کے ڈر سے دبئی بھاگ گئے۔کچھ محسن کش نکلے اپنوں کو چھوڑ کر جرنل کے چرنوں میں بیٹھ گئے اور دھتکار دیے گئے۔کوئی اُن کا نام لیوانہ تھا۔
پھر وہ سیاستدان بھی تحریک انصاف کی زینت بن رہے ہیں جو کئی کئی بار ضمانتیں ضبط کراچکے ہیں اور لاہور کے ووٹروں نے کہہ رکھا ہے کہ اگر دوبار ہ ووٹ مانگنے آئے تو ہم لاہور چھوڑ جائیں گے۔


یہاں تک کہ ”آخری فنکار “ موچھوں والے بوٹ پہنے،گردن ہلاتے۔میاں اظہر بھی تحریک انصاف کے ساتھ انصاف کرنے آپہنچے ہیں۔میاں صاحب نے آخری الیکشن ذات برادری کی بنیاد پر لڑا کہ شاید یقینی ہار جیت میں بدل جائے مگرلاہور میں صدیوں سے آرائیں،کشمیری ،کمبوہ،پٹھان،مغل اور دوسری برادریاں مل جل کر رہتی ہیں۔
اب تو یہ برادریاں آپس میں رشتہ داریاں بھی کرتی ہیں اور اک دوجے کے غم خوشی میں شریک بھی ہوتی ہیں ۔

میاں محمود الرشید تحریک انصاف کا وہ سپاہی ہے جو عمران خان کے پیچھے محبت کے ساتھ چل پڑا ہے ۔اُسے کسی گھس بیٹھے سے ڈر نہیں لگتا ۔ایسے دیواروں کے ساتھ کھڑے لوگ جن میں سے اکثر کا کردار ”اپنی مثال آپ ہے“
وہ آہستہ آہستہ عمران خان یا اُن کے حواریوں کے اشارے پر پچھلی صفوں پر چپکے چپکے بیٹھے چلے جارہے ہیں اور عزت بھی پارہے ہیں۔پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی نظریاتی جماعتیں تھیں۔

پھر سنا تھا تحریک انصاف بھی اصولوں سمیت سیاسی میدان میں اُتری ہے(میرا خیال ہے اُتری تھی۔اب کیا ہے آپ غور کریں)۔
لگ بھی رہا تھا۔اب غور کریں تو پتہ چلتا ہے کہ ہم سب کاایک ہی نظریہ ہے ۔اور وہ ہے”اقتدار“․․․․․میرا بھی یہی نظر یہ ہے اور میری بچپن سے خواہش تھی کہ پاکستان کی سیاسی پارٹیاں اک ہی نظریہ یعنی”اقتدار“کے لیے کام کریں۔

شکر ہے سب پارٹیوں نے ”اقتدار“کو ہی منشاء ومقصود بنا لیا ہے ۔اُمید ہے جلد عمران خان ملکی سطح پر بڑا کنونشن بلائیں گے۔اور وہاں ”عام معافی “کا اعلان کریں گے اور کھلے عام کہیں گے(سب پر نظریں پھرتے ہوئے اچھے برے کی تمیز کے بغیر )”آجاؤ ․․․․․․آجاؤ․․․․․ جلدی آجاؤ․․․․․․سارے آجاؤ۔“
دیکھو وہ بھی آگیا۔یہ بھی آگیا ،تم بھی آجاؤ اور پھر قوال رنگ پڑھنا شروع کریں گے۔یہ قوالی کا عروج ہوتا ہے اور بچے حسب معمول رنگ میں بھنگ ڈالیں گے کہ نانا جان کے ہرقوالی پروگرام میں یہی ہوتا تھا۔ہر سال قوالی کا اختتام بھگدڑ سے ہوتا کہ رات کے پچھلے پہر لوڈ شیڈنگ کے دوران یہی ہو سکتا ہے جو کہ ساٹھ سالوں سے دیکھتے آئے ہیں۔وہی کریں گے۔

Your Thoughts and Comments