Dhamal Shah

دھمال شاہ

قمر بخاری پیر دسمبر

گزشتہ روز مجھے ایک محفل سماع میں شرکت کا موقع ملا۔ خلاف توقع اس تقریب میں مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین کی بھی ایک بڑی تعداد موجود تھی جنہوں نے بھرپور میک اپ کر رکھا تھا جس کی وجہ سے محفل میں جوش و خروش دیدنی تھا۔ قوال بھی کوئی اتنے معروف نہیں تھے تاہم لوگ جوق در جوق اس محفل میں شریک ہو رہے تھے۔ قوال پارٹی کے لئے کافی اونچائی پر ایک چھوٹا سا سٹیج بنایا گیا تھا جبکہ اس چھوٹے سٹیج کے بالکل سامنے ذرا سا نیچے ایک بڑا سٹیج بنایا گیا تھا جو کہ محفل میں شریک لوگوں سے محض دو فٹ کی بلندی پر قائم کیا گیا تھا۔

دو دو سٹیج دیکھ کر میرا دل باغ باغ ہو گیا کہ اب ہماری قوالی کی محفلیں اس سٹیج پر آ گئی ہیں کہ ہمیں ایک سے زیادہ سٹیج لگانا پڑتے ہیں۔ قوال پارٹی نے ابھی قوالی شروع کی ہی تھی کہ لوگوں نے شور مچانا شروع کر دیا۔

(جاری ہے)

سیٹیوں کی بڑھتی ہوئی آوازوں پر قوال پارٹی نے دوسری قوالی شروع کی تو شورشرابا اور بھی بڑھ گیا۔ اس ہجوم میں شور کرنے والوں کے ساتھ ساتھ ایک ”شرابا“ گروپ بھی واضح طور پر اپنی حرکتوں کی وجہ سے نمایاں دکھائی دیا جو باقاعدہ شوروغوغا اور غل غپاڑہ کرنے میں پیش پیش تھا۔

بالاخر قوال پارٹی نے روایتی صوفیانہ کلام چھوڑ کر ”شرابی میں شرابی“ گانا شروع کر دیا اور اسی اثنا ءمیں ایک چمکیلے گولڈن لباس میں ملبوس نوجوان نے سامنے سٹیج پر آ کر وجد نما دھمال ڈالنا شروع کر دی۔ دیکھتے ہی دیکھتے چند اور نوجوان بھی ایک ردھم کے ساتھ اس کے ہمراہ دھمالیاتی ذوق کا مظاہرہ کرنے لگے۔ سٹیج پر اس روح پرور مظاہرے کو دیکھ کر لوگ بہت پرجوش انداز سے داد کے ڈونگرے برساتے رہے اور کچھ مخیر حضرات آگے بڑھ کر ان پر نوٹوں کی بارش کرتے رہے۔

مجھے نوجوانوں کا یہ ہنر دیکھ کر بے حد مسرت کا احساس ہوا۔ ان کے سٹپس دیکھ کر اندازہ لگایا جا سکتا تھا کہ اگر انہیں مواقع دستیاب ہوں تو یہ بالی وڈ کے اداکاروں کو بھی پیچھے چھوڑ سکتے ہیں۔ شرابی قوالی کے دوران کچھ وضع دار سنجیدہ عمر کے افراد اپنا یہ شوق پورا کرنے کے لئے وجد کے عالم میں متحرک دکھائی دیئے۔ چند افراد کو ٹکریں، کندھے، ٹانگیں اور پا ¶ں مارنے کا کارنامہ سرانجام دیتے ہوئے زنانہ حصے کو الگ کرنے والی قناتوں سے حسب توفیق ٹکراتے دکھائی دیئے ۔

ایک وجد میں مبتلا نوجوان قوالوں کی ڈھولکی پر جا گرا اور ڈھولکی دھماکے سے پاش پاش ہو گئی چونکہ یہ سب کچھ بے خودی اور عقیدت کے عالم میں کیا جا رہا تھا لہٰذا خواتین نے بھی ان کی ان حرکتوں کا ہرگز برا نہیں منایا۔ ان وجدانی کیفیات میں مبتلا لوگوں کو دیکھ کر مجھے اقبال کے شاہین کا تصور ذہن میں آ گیا جو پلٹنے جھپٹنے اور جھپٹ کر پلٹنے میں کسی مصلحت کو آڑے نہیں آنے دیتا۔

زرق برق لباس میں ملبوس نوجوان جب سٹیج پر آیا تو لوگوںنے اونچی اونچی آواز میں اسے دھمال شاہ دھمال شاہ کے نعرے لگا کر خیرمقدمی کلمات ادا کئے۔ شرابی قوالی چونکہ نوٹوں کی بارش کے نیچے برپا ہو رہی تھی اس لئے یہ مسلسل جاری و ساری رہی اور اس محفل کے اختتام پر میں نے بھڑکیلے لباس میں مبتلا دھمال شاہ کو جھومتے ہوئے گلے لگا لیا اور مجھے اس سے بڑھ کر یہ بھی خوشی تھی کہ وہ بھی میری طرح ”شاہ“ ہے۔

میں نے اس سے پوچھا شاہ جی آپ کا نام دھمال شاہ اصلی ہے یا آپ کے فن کی وجہ سے لوگ اس نام سے مخاطب کرتے ہیں؟ کہنے لگا میرا نام شاہ محمد ہے لہٰذا دھمالی خصوصیات کی وجہ سے لوگوں نے مجھے دھمال شاہ دھمال شاہ کہنا شروع کر دیا ہے۔ مجھے یہ سن کر افسوس سا ہوا کہ وہ حقیقی معنوں میں شاہ نہیں تھا۔ اس نے بتایا کہ اسے پورے ملک سے ایسی محفلوں میں بلایا جاتا ہے لہٰذا ہر پروگرام پر ایئرفیئر کے علاوہ اس پر نوٹوں کی بارش بھی کی جاتی ہے جس کی وجہ سے وہ اچھی خاصی رقم کما لیتا ہے۔

اس نے اپنے خاندانی پس منظر کے حوالے سے بتایا کہ وہ پٹیالہ گھرانے سے تعلق رکھتا ہے ۔ واقعی اس کے سرتال اور رقص کے انداز سے محسوس ہوتا تھا کہ اس کا شام چوراسی یا موسیقی کے سب سے بڑے گھرانے پٹیالہ گھرانے سے تعلق ہے۔ میں نے علمی رعب جھاڑنے کے لئے اسے پٹیالہ گھرانے کا تاریخی پس منظر بتاتے ہوئے کہا کہ آپ کے جدامجد استاد بڑے غلام علی کو کون نہیں جانتا۔

میری بات سن کر وہ حیرت میں ڈوب گیا کہنے لگا کہ آپ کس پٹیالہ گھرانے کی بات کر رہے ہیں؟ ہمارے پڑدادا استاد حیدر بخش پہلوان ہڈی جوڑ کی پٹی کے ماہر تھے۔ اس نسبت سے ہمارے گھرانے کو پٹی آلا گھرانہ کہا جانے لگا لہٰذا میں اس پٹیالہ گھرانے سے تعلق رکھتا ہوں۔ میں نے پوچھا کہ آپ لوگ اب بھی وہی کام کرتے ہیں تو کہنے لگا کہ ہمارے دادا حضور کو ہماری دادی اماں نے پٹیاں پڑھا پڑھا کر اس پٹی والے کام سے باز رہنے پر قائل کر لیا تھا اور وہ دہی بڑے کا کاروبار کرنے لگے تھے۔

ہمارے دادا کا نام دہی بڑے والے غلام علی تھا۔ میں نے نوجوان سے اس کے مذہبی رجحان کے بارے میں سوال کیا تو کہنے لگا کہ میں نے عید کی نماز کے علاوہ کبھی مسجد کی شکل نہیں دیکھی۔ تاہم ربیع الاول کے مہینے میں ادھر ادھر سے بھاری پتھر لا کر محلے کے مرکزی چوراہے میں پہاڑیاں بنا کر اس میں مصنوعی اونٹ اور گھوڑے کھڑے کرنے کے علاوہ محلے کے بچوں کے کھلونے چھین کر ایک خوبصورت منظرنامہ تشکیل دیتا ہوں۔

لوگ اس پہاڑی کو دیکھنے کے لئے دور دراز سے آتے ہیں لیکن ان کے محلے میں داخلے کے لئے کوئی راستہ موجود نہیں ہوتا کیونکہ روایتی قناعت پسندی کے باعث ہم نے قناتیں لگا کر سب گلیاں بند کی ہوتی ہیں۔ مجال ہے محلے کا کوئی مریض اس روز ایمرجنسی کی صورت میں ہسپتالوں تک جا سکے۔ یہ سب کچھ چونکہ نیک نیتی کے جذبے سے کیا جاتا ہے اس لئے ہم سمجھتے ہیں کہ اس کے ثواب سے ہماری بخشش کا اہتمام ہو جائے گا۔

جن گلیوں کو قناتوں کی وجہ سے بندنہیں کیا جا سکتا وہاں رسیاں لگا کر لوگوں کو داخلے سے روکا جاتا ہے ایسی ہی ایک گلی میں سے گزرتے ہوئے ابا جی عشاءکی نماز کی ادائیگی کی دھن میں رسی سے الجھ کر منہ کے بل گر گئے تھے جس سے زیادہ نقصان تو نہیں ہوا ان کے سامنے والے چار دانت ٹوٹ گئے اور دائیں بازو کی ہڈی محض دو جگہ سے کریک ہوئی اور چک بھی پڑ گئی تھی ۔

اتفاق سے ہمارے ابا جی نظریاتی طور پر دائیں بازو سے تعلق رکھتے ہیں ، اتنی تکلیف کے باوجود انہوں نے ہماری نیک نیتی کی وجہ سے اف تک نہ کی۔ آج کل درد کی وجہ سے ہر روز کھپ ڈالے رکھتے ہیں لیکن ہم انہیں باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ گلیوں میں جگہ جگہ پتھر بکھیر کر دراصل ہم نے اپنی نیکیوں کو پورے محلے میں پھیلانے کی کوشش کی ہے۔ اس نیک کام میں اگر کسی کو تکلیف بھی پہنچی ہے تو اسے شکر ادا کرنا چاہیے کہ یہ سب کچھ اعلیٰ مقصد کے تحت کیا گیا تھا۔ میں نوجوان کی باتیں سن کر وجد کے عالم میں جھومتا رہا اور میرا دل چاہ رہا تھا کہ میں بھی وجدانی کیفیت میں اسے ایسی ٹکریں ماروں کہ اسے پتہ چل سکے کہ نیک مقصد کے تحت دوسروں کو کس طرح تکلیف پہنچائی جاتی ہے۔

Your Thoughts and Comments