Horn Ke Baghair

ہارن کے بغیر

جمعرات اپریل

Horn Ke Baghair
اپنے وارث روڈ والے ’’معاصر‘‘ کے دفتر سے نکلتے ہوئے میں نے گاڑی کو فاطمہ جناح میڈیکل کی طرف ٹرن کیا تو گاڑی کا ہارن خود بخود بجنا شروع ہوگیا اور پھر بجتا ہی چلا گیا۔ راہگیروں نے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں اور دوسری گاڑیوں والوں نے اسے اپنے خلاف جارحانہ اقدام تصور کرتےہوئے مجھے ایسی نظروں سے گھورنا شروع کیا کہ میں پانی پانی ہوگیا۔

میں نے جلدی سے اتر کر بونٹ کھولا اور ایسے ہی ادھر ادھر ہاتھ مارنا شروع کردیا جس کے لئے صحیح لفظ ٹامک ٹوئیاں مارنا ہے کیونکہ حرام ہے اگر مجھے بونٹ کے نیچے پائی جانے والی چیزوں کے بارے میں کچھ پتہ ہو، ادھر گاڑی کا ہارن بجتا جارہا تھا۔ بلکہ یوں لگتا تھا کہ فریاد کی لے اور تیز ہوگئی ہے ، اتنے میں ایک شریف آدمی کو مجھ پر ترس آیا چنانچہ اس نے آگے بڑھ کر ایک تارڈس کنکٹ کردی اور اس کے ساتھ ہی ہارن بجنا بند ہوگیا۔

(جاری ہے)

میں نے اس کا شکریہ ادا کیا، کہنے لگا، شکریے کی کوئی بات نہیں۔ اب یہ آپ کے بجانے پر بھی نہیں بجے گا۔ آپ اسے کسی مکینک کےپاس لے جائیں!‘‘
مکینک کے پاس لے جانے کا اس وقت میرے پاس وقت ہی نہیں تھا، کیونکہ مجھے اچانک یاد آیا کہ مجھے تو اس وقت ایک دوست کو ریسیو کرنے اسٹیشن جانا تھا، چنانچہ میں نے گاڑی کا رخ بدل کر اسے اسٹیشن کے راستے پر ڈال دیا۔

چیئرنگ کراس سے اسمبلی ہال کا نصف

رائونڈ مکمل کرنے کے بعد میکلوڈ روڈ کی طرف آگیا کہ مجھے یہاں کچھ دیر کے لئے اپنے ایک پرانے دوست سے ملنا تھا مگر وہ اپنے دفتر میں نہیں تھا، چنانچہ میں نے گاڑی موٹر سائیکلوں کے سپیئر پارٹس والی سڑک پر ڈال دی جو سیدھا اسٹیشن کو جاتی ہے۔ اس سڑک پر بہت رش تھا، ٹانگے، ریڑھے، رکشے، سوزوکیاں اور اللہ جانے کیا کیا کچھ تھا کہ سیل بلا کی طرح رواں دواں تھا۔

ایک عورت بچوں کی انگلی پکڑے سڑک پار کرنے کا ارادہ کررہی تھی جس کے لئے وہ چہرے پر پڑے بھاری نقاب سے دائیں بائیں دیکھنے کی ناکام کوشش کررہی تھی۔ میرے پاس اتنا مارجن نہیں تھا کہ میں بریک لگا کر اسے گزرنے کا موقع دے سکتا، چنانچہ اسے اس کے ارادے سے باز رکھنے کے لئے ہارن دبایا، مجھے یہ یاد ہی نہیں رہا تھا کہ ہارن اب دبانے سے بھی نہیں بجے گا، ادھر عورت اپنے فیصلے پر عمل درآمد شروع کر چکی تھی، چنانچہ وہ اس وقت سڑک کے عین درمیان میں تھی، میں نے اتنی قوت سے گاڑی کی بریکیں لگائیں کہ بریکوں کی چرچراہٹ نے ہارن کا کام دیا، مگر اس کی وجہ سے ایک سکوٹر سوار نے پیچھے سے مجھے ٹکر ماردی سکوٹر سوار کو پیچھے سے آنے والا رکشہ ’’ٹکر‘‘ مار گیا اور ظاہر ہے خود رکشے والے کے ساتھ بھی کچھ اسی قسم کانازیبا سا سلوک ہوا ہوگا۔


ٹرین کی آمد کا وقت ہوگیا تھا مگر سڑک پر رش اس قدر تھا کہ اس میں سے رستہ بنانے کے لئے ہارن کی ضرورت شدت سے محسوس ہورہی تھی، میں نے دو چار دفعہ ہارن کا کام اپنے منہ سے لینے کی کوشش یعنی گردن باہر نکال کر بھوں بھوں قسم کی آوازیں نکالیں مگر مردناداں پر کلام نرم و نازک کہاں اثر کرتا ہے؟ چنانچہ میں راضی برضا ہو کر ڈرائیو کرنے لگا، تاہم اس وقت ضبط کا پیمانہ ایک بار پھر چھلک گیا۔

جب ایک سائیکل سوار عجیب وارفتگی کے عالم میں سیٹی پر کسی فلمی گانے کی دھن بجاتا ہوا میرے آگے آگے چلنے لگا، حالانکہ وہ اگر ذرا سا بائیں جانب ہو جاتا تو میری مرادیں پوری ہو سکتی تھیں، مگر وہ بدبخت ٹھیک ناک کی سیدھ میںچلا جارہا تھا، میں نے دعا کی کہ یا خدا اس کے کتے فیل ہو جائیں، اس کی دھوتی سائیکل کے چین میں پھنس جائے، اس کی گدی یا ہینڈل ایک دم سے نیچے کو بیٹھ جائے لیکن لگتا تھا کہ وہ گھر سے ماں کی دعائیں لے کر نکلا ہے، چنانچہ میری بددعائیں اس پر کوئی اثر نہیں کررہی تھیں۔

خدا کا شکر ہے چوک میں پہنچ کر وہ بائیں طرف مڑ گیا ورنہ سفر حیات کا بے حد طویل تھا۔
میں نے ہارن کے بغیر یہ چوک جس طرح عبور کیا، وہ ایک دردناک داستان ہے مگر اس المیہ کہانی میں چونکہ ایسے دردناک واقعات خاصی تعداد میں موجود ہیں۔ لہٰذا یہ داستان چھوڑی بھی جاسکتی ہے۔ اب اسٹیشن بالکل قریب رہ گیا، مگر اچانک ٹریفک بلاک ہوگیا جن کو اللہ تعالیٰ نے ہارن دیئے تھے، وہ خوش نصیب مسلسل ہارن بجا کر اپنے غم و غصے کا اظہار کررہے تھے مگر یہ بغیر ہارن والا حرماں نصیب صرف دعائوں کے زور پر رستہ صاف ہونے کی توقع میں چپ چاپ بیٹھا ہونٹ ہلاتا رہا۔

میرے سامنے ایک ریڑھا کھڑا تھا جس پر تیز دھار والے سریے لدھے ہوئے تھے اور ان ’’نیزوں‘‘ کا رخ میری طرف تھا۔ میں نے احتیاطاً ان ’’نیزوں‘‘ اور اپنے درمیان ’’باعزت فاصلہ رکھا ہوا تھا مگر اچانک گھوڑے نے الٹے پائوں چلنا شروع کردیا۔ یہ دیکھ کر میرے ہاتھ پائوں پھول گئے۔ میں نے گاڑی کا ایکسیلیٹر پورے زور سے دبایا، مگر سر اور کانوں کو ’’پرنے‘‘ سے اچھی طرح لپیٹ کر رکھنے والے کوچوان کے لئے یہ نحیف سا الارم کوئی معنی نہیں رکھتا تھا، چنانچہ گھوڑا دبے پائوں پیچھے کی طرف چلتا رہا، میں نے ہاتھ باہر نکال کر گاڑی کے دروازے کو زور زور سے تھپتھپایا، اتنے زور سے کہ میں بھول ہی گیا کہ آج کل کی کاروں کی باڈی بقول شخصے ڈالڈا کے ڈبوں سے بنی ہوئی ہیں۔

مگر اس باڈی کو اتنے زور سے بجانے کا رسک لینے کے باوجود گھوڑے اور کوچوان کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔ مجھے اس وقت گھوڑے پر بہت غصہ آیا کہ کمبخت تم گھوڑے ہو، گدھے نہیں ہو لیکن اس غصے کے اظہار کے لئے بھی ہارن بجانا ضروری تھا، چنانچہ میں صرف جی مسوس کر رہ گیا اب وہ مقام آپہنچا تھا جس کا شمار ’’مقامات آہ فغاں‘‘ میں ہوتا ہے یعنی ریڑھے پر لدے ہوئے سریوں اور گاڑی میں کم و بیش اتنا فاصلہ رہ گیا تھا جتنا جاں اور دشمن جاں میں ہوتا ہے۔

ایک دفعہ پشاور کی طرف جاتے ہوئے حسن ابدال کے قریب بھی میں اس جان لیوا تجربے سے گزرا تھا چنانچہ انجام کا سوچتے ہی میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے اور میں فوراً کار سے نکل کر باہر آگیا تاکہ کار کے ساتھ میں بھی کسی سریے میں پرویا نہ جائوں۔
تاہم خدا کا شکر ہے کہ اس عرصے میں ٹریفک رواں ہوگیا، جس کے نتیجے میں کوچوان نے باگوں کو جھٹکا دیا ’’منہ سے ’’کھچ کھچ‘‘ کی آواز نکالی اور یوں میںاس موذی سواری کی زد میں آنے سے بچ گیا!
اسٹیشن پہنچنے پر میں نے دوست کا سامان گاڑی کی ڈکی میں رکھا اور کہا ’’اس ٹرین کو بھی آج ہی وقت پر پہنچنا تھا۔

‘‘ دوست نے کہا ’’اس کی کسر تم نے پوری کردی، دس منٹ سے باہر کھڑا تمہارا انتظار کررہا ہوں۔ کیا بات ہوگئی تھی؟‘‘ میں نے گاڑی اسٹارٹ کرتے ہوئے کہا ’’ابھی پتہ چل جائے گا!‘‘ جی ٹی ایس کے اڈے کے پاس سے گزرتے ہوئے ایک بس میرے آگے لگ گئی۔ دوست نے کہا ’’کیا اس کے پیچھے پیچھے رینگ رہے ہو، اسے پاس کیوں نہیں کرتے؟‘‘ میں نے کہا ’’اس کے پیچھے لکھا ہوا ہے، ہارن دے کر پاس کریں!‘‘ دوست نے کہا ’’ہارن کیوں نہیں دیتے؟‘‘ میں نے کہا ’’ابھی پتہ چل جائے گا!‘‘ ریڈیو اسٹیشن والی سڑک پر ٹریفک کم تھا، مگر میرے لئے بہت زیادہ تھا۔

دوست نے کہا ’’تیز کیوں نہیں چلتے، اس طرح تو ہم منزل تک بہت دیر سے پہنچیں گے۔ میں نے کہا ’’اگر تیز چلے تو یہ امکان بھی موجود ہے کہ ہم منزل تک کبھی پہنچ ہی نہ سکیں!‘‘ دوست نے پوچھا ’’وہ کیوں؟‘‘ میں نے کہا ’’ابھی پتہ چل جائے گا!‘‘ گھر میں کھانے پر میرا اور میرے دوست کا انتظار ہورہا تھا، چنانچہ میں نے ای ایم سوسائٹی تک پہنچنے کے لئے نہر والی سڑک کا انتخاب کیا کہ وہ پرسکون اور رواں سڑک ہے چنانچہ اس کے لئے ریڈیو اسٹیشن سے بائیں جانب ٹرن لے کر میں ڈیوس روڈپر آیا لیکن سرخ پھولوں والے چنار کے دور رویہ درختوں میں سے گزرتے ہوئے سامنے سے ایک کار جھومتی جھومتی آتی دکھائی دی میں نے غیر ارادی طور پر ہارن اور بریکوں پر پائوں رکھ دیا، بریکیں تو کام آگئیں مگر ہارن نے اس موقع پر بھی خاموش اختیار کئے رکھی وہ تو خدا کا شکر ہے کہ سامنے سے آنے والی کار کے ڈرائیور کو عین موقع پر اپنی غلطی کا احساس ہوگیا، مگریہ احساس قدرے لیٹ تھا جس کا خمیازہ ہم دونوں کو بہرحال بھگتنا پڑا۔


دوست نے ایک ہاتھ سے اپنا گھٹنا سہلاتے ہوئے دوسرے ہاتھ سے اپنی ٹیڑھی گردن سیدھی کرتے ہوئے خشمگیں نظروں سے میری طرف دیکھا، میں نے ہنستے ہوئے پوچھا ’’کیا بات ہے؟‘‘ اس دفعہ میری بجائے اس نے کہا ’’ابھی پتہ چل جائے گا؟‘‘
’’کیا پتہ چل جائے گا؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’یہی کہ ہمار ہاں بغیر ہارن کے گاڑی چلانا بہت خطرناک ہے۔‘‘
’’یہ تم نے کون سی نئی بات کی ہے۔

‘‘
’’میں نے کب کہا ہے کہ یہ نئی بات ہے‘‘۔ دوست بولا ’’میں تو بہت پرانی بات کررہا ہوں ....... میں تو جو کچھ کہہ رہا ہوں پاکستان کی تاریخ کے حوالے سے کہہ رہا ہوں جو فوجی، مذہبی اور معاشرتی المیوں سے بھری پڑی۔
’’کیا مطلب؟ میں نے پوچھا۔ دوست کو تازہ تازہ چوٹ لگی تھی اور یوں اسے ہارن کے ڈانڈے سے دور دور تک ملانے کا حق تھا۔
دوست نے ایک دفعہ پھر اپنی گردن سہلاتے ہوئے کہا ’’مطلب یہ کہ خطرے سے آگاہ ہونے کے بعد خطرے سے آگاہ کرنے کے لئے ہارن بجانا بہت ضروری ہے تاکہ طرفین متوقع غلطی سے واقف ہو جائیں اور اس کے نتیجے میں ہولناک انجام سے بچ جائیں، لیکن صورت حال یہ ہے کہ ہمارا سیاسی نظام، فوجی نظام، معاشی نظام اور معاشرتی نظام ہارن سے بے نیاز چل رہا ہے۔

ہارن کی آواز کسی کو اچھی نہیں لگتی چنانچہ اگر کوئی ہارن بجائے تو ارباب اقتدار ناراض ہو جاتے ہیں، سیاست دانوں کو ان کی کسی غلطی پر ٹوکنے کے لئے ہارن بجائیں تو وہ آگے سے دھمکیاں دینے لگتے ہیں اوراپنا راستہ بدلنے کی بجائے پرانے رستوں پر چلتے رہتے ہیں۔ مذہبی رہنمائوں کے کان خطرے کے ہارن نہیں سن رہے حالانکہ اس پر توجہ نہ دینے کی صورت میں ان مذہبی رہنمائوں سمیت سب کچھ خس و خاشاک کی طرح بہہ جائے گا۔

معاشی بزرجمہروں نے معاشی نظام میں وہ ہارن ہی فٹ نہیں ہونے دیا۔ جو بدترین معاشی ناہمواری کے نتیجے میں جنم لینے والے ہولناک تصادم سے بچا سکے۔ فوجی علاقوں میں ہارن بجانا ویسے ہی مداخلت فی الدین کے مترادف ہے۔ معاشرتی سیاست دانوں نے کانوں پر مفلر لپیٹے ہوئے ہیں اور ہارن کی تار بھی ڈس کنکٹ کی ہوئی ہے۔ اس صورت حال کے نتیجے میں ہم جن المیوں سے گزر چکے ہیں وہ ہمارے لئے کافی بڑے المیے ہیں۔

لیکن یقین کرو، یہ نظام اگر زیادہ دیر بغیر ہارن کے چلتے رہے تو ان کی تباہ کاریاں ایسی ہیںکہ جن کا اندازہ لگانا بھی ممکن نہیں۔ لوگوں کی زندگیوں اور ان کے عقیدوں سے کھیلنا بہت بڑا جرم ہے، ایک نسل تو ہمارے اس جرم کا عذاب بھگت چکی ہے کم از کم آئندہ نسلوں کو اس عذاب سے بچا لو!‘‘
میں نے یہ لیکچر طول پکڑتا دیکھا تو کار ایک الیکٹریشن کی دکان پر روکی اور کہا ’’اس کا ہارن خراب ہے، ٹھیک کردو‘‘ اور اس کے بعد میں کچھ اس طرح مطمئن ہوگیا جسے میں نے اپنی کار کا ہارن نہیں، موجودہ نظام کا ہارن ٹھیک کروانے کی ہدایت کردی ہے۔

Your Thoughts and Comments