Intqaal Par Malaal O Ghair Par Malaal

انتقال پر ملال وغیر پر ملال

جمعہ اپریل

Intqaal Par Malaal O Ghair Par Malaal
نسیم انصاری
ہمارے شہر کا رواج ہے کہ جب کسی کا انتقال ہوتا ہے تو ایک آٹو میں مائک لگا کر شہر میں اعلان کیا جاتا ہے۔”نہایت افسوس کے ساتھ اطلاع دی جاتی ہے کہ فلاں صاحب کا انتقال ہو گیا ہے ۔ان کا جنازہ ان کے مکان واقع مقام فلاں سے روانہ ہو کر بوقت فلاں قبرستان جائے گا“۔خصوصیت اس اعلان کی یہ ہوتی ہے کہ یہ آٹو نہ تو کہیں رکتا ہے اور نہ ہی کوئی پوری بات سن پاتا ہے ۔

بس جب کوئی آٹو گھومتا ہوا اعلان کرتا ہے تو لوگ اندازہ لگا لیتے ہیں ۔ایک بار ایک لیڈر نما شخص کہیں تقریر کرنے ولے تھے ۔آٹو سے اعلان کیا گیا۔
لوگ پوری بات تو نہیں سن پائے بس اندازہ لگا لیا کہ شاید موصوف کا انتقال ہو گیا ہے ۔لوگ جوق درجوق ان کے گھر تعزیت کے لیے پہنچ گئے ۔ادھر گھر والے حیران و پریشان ہو گئے ۔

(جاری ہے)

لیڈرموصوف اتفاق سے کہیں تاش کھیل رہے تھے ۔

بیگم سے چھپ کر ۔اس لیے بصدتلاش بسیار کہیں نہیں ملے ۔گھر والوں کو ان کے انتقال کا کچھ کچھ یقین ہونے ہی والا تھا کہ موصوف آگئے ۔اپنے گھر پر ایک جم غفیر دیکھ انھیں گمان ہوا کہ شاید ان کی بیگم جو علیل تھیں ،اللہ کو پیاری ہو گئیں اور زندگی میں پہلی بار انھیں اپنی بیگم کی رفاقتوں اور محبتوں کا احساس ہوا۔آنکھیں نم ہو گئیں۔
 ادھر وہ دوست احباب جو ان کی ”تعزیت“کر چکے تھے اور ان کی شخصیت کی وہ تمام خوبیاں بیان کر چکے تھے جو ان میں کبھی تھی ہی نہیں ،انھیں زندہ سلامت دیکھ کر پشیمان تعزیت ،ان سے گلے ملنے لگے۔

اب تو موصوف کو یقین ہو گیا کہ بیگم گئیں۔کچھ دیر میں جب گھر کے تمام افراد باہر آگئے بمعہ بیگم ،تو انھیں اصل قصہ کا علم ہوا۔بے ساختہ آنسو نکل آئے۔خوشی کے آنسو ۔اور خوشی یہ نہیں تھی کہ بیگم بقید حیات تھیں بلکہ اس بات کی تھی کہ ان کے انتقال کا سن کر اس قدر لوگ جمع ہو گئے ۔خود اپنی موت پر آنسو بہانے والے یہ دنیا کے واحد شخص تھے ۔
بیشک اس بھیڑ میں وہ لوگ بھی تھے جن سے انھوں نے قرض لے رکھا تھا اور انھیں زندہ سلامت دیکھ کر سب سے زیادہ خوش وہی ہوئے ۔

لیکن اتنی بھیڑ دیکھ کر خود انھیں بے حد طمانیت کا احساس وہا۔اپنی بیگم کو زندہ سلامت دیکھ کر ان کے کیاتا ثرات تھے اس کا احوال تو ہمیں نہیں معلوم ،لیکن ایک لطیفہ سن لیجیے۔
ایک صاحب کی بیگم کا انتقال ہو گیا۔جنازہ جارہا تھا کہ اچانک ایک بجلی کے کھمبے سے ٹکرا گیا۔بیگم اٹھ کر بیٹھ گئیں۔کچھ عرصہ زندہ رہیں پھر دوبارہ انتقال کر گئیں ۔جب ان کا جنازہ قبرستان جارہا تھا تو شوہر جنازے کے آگے آگے لوگو ں کو تلقین کرتے چل رہے تھے”کھمبا بچاکے ،کھمبا بچا کے“۔


اسی طرح ایک صاحب اپنی بیگم کو دفنا کے پلٹے تو آسمان پرزور سے بجلی کڑکی۔انھوں نے فرمایا”پہنچ گئیں“۔
حضرات! انتقال کو مختلف لوگوں نے مختلف قسموں میں تقسیم کیا ہے ۔مثلاً طبعی انتقال،غیر طبعی انتقال ،فطری انتقال ،حادثاتی انتقال وغیرہ وغیرہ ۔لیکن میں نے انتقال کی صرف دواقسام مقرر کی ہیں۔ انتقال پر ملال وانتقال غیر پُر ملال۔


میں نے ہر قسم کے انتقالوں میں شرکت کی ہے اور میرا اندازہ ہے کہ زیادہ تر انتقال غیر پُر ملال ہی ہوتے ہیں ۔کیوں کہ جنازے میں شریک زیادہ تر لوگ،سیاست ،مہنگائی ،بڑھتی ہوئی بے حیائی اور آج کے دور کی خرابیوں پر ہی گفتگو کرتے ہیں ۔بیچ بیچ میں وہ مرحوم کی ان خوبیوں کا تذکرہ بھی کرتے ہیں جو ان میں کبھی تھی ہی نہیں ۔ہماری عادت ہے کہ مرنے والے میں ہزار خوبیاں تلاش کرلیتے ہیں۔


پتہ نہیں مزرا غالب نے کیوں کہا تھا”ہوئے مرکے ہم جو رسوا“۔لیکن اگر وہ واقعی غرق دریا ہوجاتے تو ہمارے پاس ان کی یادگار صرف ان کا دیوان ہی ہوتا۔اب ایک مزار تو ہے جہاں فاتحہ پڑھنے جا سکتے ہیں بصورتِ غرقابی تو سمندر پر جا کر فاتحہ پڑھنا پرتا۔
مختلف لوگوں کی موت پر ہماراReactionبھی مختلف ہوتا ہے ۔جب کوئی لیڈر مرتا ہے تو ازاوّل تاآخر وہ کتنے عہدوں پر رہا نیز بدعنوانیوں میں اس کو کب کب ملوث کیا گیا،اس نے زندگی میں کب کب ٹکٹ یا کرسی نہ ملنے پر”اصولی اختلاف “کانام لے کر کون کون سی پارٹی چھوڑی ۔

یہ سارا تذکرہ ہوتا ہے ۔
کسی فلمی شخصیت کے مرنے پر اس کی فلموں کے نام لے لے کر اسے یاد کرتے ہیں ۔جو ان العمر لوگوں کی موت پر کہتے ہیں ”ارے ابھی عمر ہی کیا تھی“مجھے یاد آیا کہ ایک جو ان خوبصورت کنواری لڑکی موت پر کسی نے کہا تھا”جیسی آئی تھی ویسی ہی گئی معصوم “ایک اصیل النسل وضع دار پٹھان کی بیٹی نے ایک غیر پٹھان غیر وضع دار شخص سے شادی کرلی اور ڈیڑھ سال بعد دوران زچگی ختم ہو گئی ۔

پٹھان نے بغیر آنسو بہائے کہا”ہماری بیٹی شہید ہوئی ہے “شہید محبت۔اسی طرح ایک انگریز خاتون اپنے کتے کی موت پر دہاڑیں مار مار کر رورہی تھیں ۔کسی نے کہا”میڈم اس قدر تو آپ اپنے شوہر کی موت پر بھی نہیں روئی تھیں“۔انگریز عورت نے جواب دیا”میرا کتا بڑا وفادار تھا“۔ویسے ہمارے ملک میں ”کتے کی موت مرنا“بہت برے معنوں میں استعمال ہوتا ہے لیکن اگر ہم یوروپ کے کتوں کی تیمارداری ،علاج اور موت دیکھ لیں تو شاید اگلے جنم میں یوروپ میں کتابن کر پیدا ہونے کی خواہش کا اظہار کریں۔


ویسے یوروپ میں موت ایک رسم ہے ہمارے یہاں حادثہ ۔
انتقالوں میں ہمارا رویہ بھی مغرب زدہ ہوتا جارہا ہے ۔وہاں تجہیز وتکفین کا ٹھیکہ کسی کمپنی کو دے دیا جاتا ہے ،جنازے میں شرکت خصوصی سیاہ ماتمی لباس پہن کر کی جاتی ہے ۔وہ جنازے کو دیکھ کر ٹوپی اتار دیتے ہیں۔ ہم جنازے میں ٹوپی پہن کر شرکت کرتے ہیں ۔
تعزیب کا سلسلہ ہمارے یہاں ہمیشہ چلتا ہے یعنی اگر دس سال بعد بھی کسی کی موت کی اطلاع ملے تو پرانے مندمل شدہ زخموں کو کریدنے کا کام بطور کا رِ ثواب کیا جاتا ہے پھر تعزیت میں مرحوم یا مرحومہ کی ان گنت خوبیوں کا ذکر،وہ خوبیاں جو اگر مردہ سن سکتا تو شاید اٹھ کر بیٹھ جاتا۔

مثلاً
کیا عمر رہی ہوگی مرحوم کی ؟
تھے کوئی اسی برس کے
مگر قویٰ توبے حد مضبوط تھے ۔دانت تو سب سلامت تھے ۔خوب چلتے پھرتے تھے ۔تو گویا ملک الموت پر لازم ہے کہ وہ روح قبض کرنے سے پہلے دیکھ لے کہ وہ جس کی روح قبض کر رہا ہے اس کے قویٰ کیسے ہیں جسمانی حالت کیسی ہے اور کیا اسے مزید مہلت زندگی دی جا سکتی ہے۔
کسی کی موت کی خبر سن کر میں نے بعض لوگوں کو کہتے سناہے”ارے کل تو ملے تھے“یعنی یہ مرنے والے کی انتہائی غیر ذمہ دارانہ حرکت تھی کہ ایک دن قبل ملے اور اپنے منصوبہ انتقال کا ذکر تک نہیں کیا۔


کیسے مر گئے ۔اب بتائیے کہ کیسے مرگئے ۔یعنی موت کی وجہ تسمیہ۔
کیا ہارٹ فیل ہوا۔ہارٹ فیل تو یقینا ہوا ہو گا۔کوئی انتقال بغیر ہارف فیل کے مکمل ہوہی نہیں سکتا۔اور اگر ہارٹ فیل نہ ہوتو آدمی ادھ مرا تو ہو سکتا ہے مکمل مرحوم نہیں ہو سکتا۔
ہر مرنے والے سے ایک الہامی کیفیت ضرور منسوب کی جاتی ہے ۔مثلاً ارے صاحب مرحوم کو پتہ چل گیا تھا۔

کل مجھ سے کہہ رہے تھے”بس اب اپنا چل چلاؤ ہے “کوئی کہتاہے ۔مجھ سے تو کہہ رہے تھے ”بھائی کہا سنا معاف کرنا۔اب زندگی کا بھروسہ نہیں “کوئی کہتا ہے ”’چند روز قبل ہی تو انھوں نے بینک اکاؤنٹ بیوی کے نام کر دیا تھا“۔کوئی کہتا ہے ”میرے پاس خاص طور سے یہ کہنے آئے تھے کہ میرے بعد میرے بچوں کا خیال رکھنا ،مجھے رشتہ داروں پر کوئی بھروسہ نہیں ہے“۔

پتہ نہیں مرنے والے کو پہلے پتہ چل جاتا ہے یا نہیں مرزا غالب کو پتہ چل گیا تھا کہ تمام بلائیں بشمول بیوی وڈومنی تمام ہو چکی ہیں اوریہ کہ ا ن کی موت نا گہانی ہو گی ۔ویسے ہر موت نا گہانی ہی ہوتی ہے ورنہ آدمی مرنے سے پہلے کچھ اہتمام بھی کرتا۔
عموماً شاعر جب کہیں تعزیت کو جاتا ہے تو دو چار شعر زندگی کی بے ثباتی پر ضرور سناتا ہے مثلاً:
زندگی کیا ہے عناصر میں ظہورِ ترتیب
موت کیا ہے ان ہی اجزاء کا پریشاں ہونا
یا
موت اک ماندگی کا وقفہ ہے
یعنی آگے چلیں گے دم لے کر
ایک نوزائیدہ بچے کی موت پر ایک شاعر نے شعر پڑھا:
پھول تو دو دن بہار جاں فزا دکھلا گئے
حسرت ان غنچوں پہ ہے جو بن کھلے مرجھا گئے
ایک غیر شاعر نے یہ شعر یاد کر لیا اور ہر تعزیت میں بلا لحاظ عمر پڑھنا شروع کر دیا۔


ویسے تعزیتی کلمات سن سن کر میں نے اندازہ لگایا کہ کوئی بھی موت بروقت نہیں ہوتی سب بے وقت ہوتی ہیں ۔ایک صاحب جو عمر کے نوے برس پورے کر چکے تھے اور احباب ان سے مذاقاً کہا کرتے تھے ’اب چلے بھی جاؤ گورکن بھی تھک گئے انتظار کرکرکے“۔لیکن جب ان کا انتقال ہوا تو ایک دوست نے آسمان کی طرف دیکھ کر کہا۔
”کیا تیرابگڑتا جو نہ مرتا کوئی دن اور“۔


حضرات! میں ایک گنہگار انسان ہوں لیکن مجھے بالکل تمنا نہیں ہے کہ میرے بعد لوگ میری تعریف کریں بلکہ میں تو چاہتا ہوں کہ میری لوحِ مزار پر یہ شعر لکھ دیا جائے:
ڈھانپا کفن نے داغِ عیوبِ برہنگی
میں ورنہ ہر لباس میں ننگ وجود تھا
ہاں اگر آپ اپنے نکتہ چینوں سے تنگ آگئے ہوں اور چاہتے ہوں کہ لوگ آپ کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملادیں تو آپ انتقال فرماکردیکھیے۔

Your Thoughts and Comments