Kash Main Tere Bawarchi Khane Ka Tomato Hota

” کاش میں تیرے باورچی خانے کا ٹماٹر ہوتا؟ “

حافظ مظفر محسن منگل جنوری

Kash Main Tere Bawarchi Khane Ka Tomato Hota
” ضرورت رشتہ کا اخبار میں اشتہار “ دے کر شادی کرنے والے ایک گھرانے میں لڑائی جھگڑا طول پکڑ رہا ہے اور میں وہاں منصف کے طور پر بلایا گیا ہُوں ...!! اِس عمر میں سوچا نہ تھا یہ کام کرنے پڑ جائیں گے حالانکہ ابھی میری خود لڑنے جھگڑنے موج منانے کی عمر ہے مگر لوگ نہ جانے کیوں مجھے معزز آدمی سمجھنے لگتے ہیں۔ملکہ ترنم نور جہاں اپنے پوتے پوتیوں سے کہا کرتیں تھیں .

.. ” خبردار کسی نے مجھے دادی اماں کہا ...“
یہ منصف ہونا بھی ایک عجیب سا عمل ہے ۔ایک بہت بڑے اینکر نے اباّ جی کا شعر پروگرام میں سنانے کے بعد ایک دفعہ ٹیلی ویژن پروگرام میں Live بتایا... کہ بہت سے تھانوں کے انچارج اِس وقت اُن عورتوں کے ” خاوند“ ہیں جو لڑائی جھگڑے کے چکر میں تھا نہ میں انصاف طلب کرنے منصف کے پاس آئیں اور منصف نے لڑائی کو طول دے کر موقع سے فائدہ اٹھالیا .

.. !! ظالم مرد کی شکایت کرنے والی ... بس بس .. آگے کیا کہوں؟!!
مجھے یہ سوچ کر اکثر ہنسی آجاتی ہے کہ ایسی بیگمات کہہ سکتی ہیں ... کہ
” وڈا تھا نیدار تے ویخ ... انصاف منگن آن والی دے سامنے ہتھیار ڈال بیٹھا ؟!!“
بڑے بڑے دفتروں میں ایسی وارداتیں ہو چکی ہیں بیڑہ غرق ہو موبائل فون کا اور کلپس بنا کر فیس بک پر ڈالنے والے شیطانوں کا ...!
ہمیں اس سے کیا .

.. ہم تو حالات حاضرہ پر گفتگو کرتے ہیں اور نچوڑ عوام کے سامنے رکھ دیتے ہیں .. کالم کی صورت میں۔

(جاری ہے)

! میرا خیال ہے منصف کے حوالے سے مزید گفتگو نہ کی جائے تو بہتر ہے ... کچھ کالموں میں ایسی باتیں لکھنے پر مجھے کئی فون آئے اور ایک ایک تازہ لطیفہ سُن کر ہنستے ہنستے فون بند کر گئے .. ؟!!میں نے دیکھا ہے جہاں گفتگو ناکام ہو جائے یا ناکام ہوتی نظر آئے آپ کوئی .

.. لطیفہ سنا کر ... یا کوئی شعر پھینک کر ماحول خوشگوار بنا سکتے ہو ... ہمیں اس”فن “ نے بہت سے معا ملات سلجھانے میں مدد دی ...ہر آدمی کے اندر Infact ایک عدد میراثی چھپا بیٹھا ہوتا ہے ... بس آپ اپنے اندر کے مراثی کو جگائیں ... اور فلاح پائیں ... یا من کی مراد پائیں .... جی ... جی کیا فرمایا .... ( پہلے میراثی صرف گلوکار یاطبلہ نواز کو کہتے تھے اب یہ اصطلاح زبان زد عام ہے اور بہت سے لوگ اِس کی زد میں ہیں )
رات خبروں میں .

.. ” جی ہاں اِس وقت پھر یہ کام جاری ہے ... بڑے بڑے اہم لوگ اہم ترین خبروں کے درمیان جگت بازی کر رہے ہیں ... اور عوام ... ” ہواؤں کا رخ بدل رہی ہے “... جیسے اہم ترین فقرے کے درمیان چلتی ” مزاحیہ خبروں “ سے لطف اندوز ہوتے ہوئے ... آنے والے دنوں میں ہوتی مثبت تبدیلی پر غور کرنے لگ پڑتے ہیں ...کیونکہ... سیاسی بصیرت اب عام ہو چکی ہے اور عوام اِس سیاسی بصیرت سے مالا مال ہو چکے ہیں .

.. ” چوہدری پرویز الٰہی کا بصیرت افروز بیان ” کے عنوان سے میرا کالم دو چار دن پہلے چھپا تو اُسی کا فون آیا ... جو ڈراتا بھی ہے ... Appreciate بھی کرتا ہے اور وارننگ بھی دیتا ہے ... ” مظفر یہ تم نے کالم کا عنوان کس سے پوچھ کر رکھا ہے ...؟!“
” سر ... خدا کی قسم کسی نے نہیں بتایا ... خود ہی میرے ذہن میں آیا تھا اور میں نے بھیج دیا لکھ کر ... میرے اخبار نے چھاپ دیا .

.. ؟!!میں یہ سب بتاتے ہوئے ذرا بھی نہیں گھبرایا وہ گھبرایا گھبرایا لگ رہا تھا ویسے ...
”رحمت علی رازی مرحوم کی طرح لگتا ہے تمہارا بھی کوئی رشتہ دار کسی اہم جگہ پر بیٹھا ہے ... ؟“
” میں خود سر “... میں نے جواب دیا تو ہنستے ہوئے فون بند کر دیا ... !!کبھی کبھی میرا خود بھی اُن کے نمبر پر کال کر کے بات کرنے کو دل چاہتا ہے مجھے افسوس ہے کہ اُن کا نمبر بھی میرے پاس نہیں ہے ؟!!بات شروع ہوئی تھی ” ضرورت رشتہ کے اشتہار “ .

... سے شروع ہونے والی شادی سے اور لڑائی جھگڑے سے اور نکل گئی .... ” چوہدری پرویز الٰہی کا بصیرت افروز بیان “ کی طرف... !!
اصل میں کل میری ہونے والی کزن نے کہا تھا .... محسن ” ٹماٹر “ پہ کوئی مضمون لکھو تو مانوں .... ( ویسے ہی مان جاؤ میں نے آہستہ سے کہا ؟)
دیکھا آجکل ... لکھاری سے لوگ کیسی کیسی چیزوں پر قلم آزمائی کرنے کو کہتے ہیں ؟    
شہزادی .

.. ہمارے فیصل آباد میں مقیم شاعر اور صدارتی ایوارڈ یافتہ مصنف جناب ریاض قادری نے 48 چک میں بیٹھ کر چھو ہارے پر نظم لکھ ڈالی تھی یہ ٹماٹر کیا چیز ہے ” چھو ہارے “ پر... نظم وہ ہنستے ہنستے لوٹ پوٹ ہو گئی ... چھوہارا وہی ناں جو شادی پر جواں لڑکے لڑکیوں کو اِس لئے کھلایا جاتا ہے کہ تمہاری جلد شادی ہو ... ؟!!
ہاں ہاں وہی ... تو تم کھا لو ناں اکھٹے آٹھ دس چھوہارے .

.. وہ ہنسی سے لوٹ پوٹ ہوتے ہوئے بولی ....
” محترمہ ... اپنی اوقات میں رہیں . .. جوتے پڑ سکتے ہیں ایسا سوچ کر بھی ... “ تو کیا ہوا ... دو چار کھا لینا ...میری خاطر....محبت اور” جھنگ“ میں سب جائز ہے .....؟!!
” میری ہنسی چھوٹ پڑی “ جاہل لڑکی ” جھنگ “ نہیں ” جنگ“ War and Peace ...؟!!
اور سن جھنگ کی شان میں گستاخی نہ کرنا وہاں ہمارا پیار ا شاعر فرحت عباس شاہ رہتا ہے .

.. تازہ کلام ملاحظہ کریں ... ہمارے پیارے فرحت عباس شاہ کا ....
مجھ سے مل کر تیرے چہرے پر اُجالے پر جائیں
شہر کے لوگ ہمیں دیکھ کر کالے پر جائیں...
میں رہوں چپ تو سبھی چیخ پڑیں وحشت سے
میں سوالات کروں ہونٹوں پہ تالے پڑ جائیں ...
میں نہیں ہوتا تو فرعون بنے پھرتے ہیں....
دیکھ کر مجھ کو جنہیں جان کے لالے پڑ جائیں
آگ پر ہاتھ رکھیں راکھ اٹھائیں واپس ...
برف پر پاؤں رکھیں پاؤں پر چھالے پڑ جائیں
درد کی لہر کوئی بھیج میری دنیا میں ...
اِس سے پہلے میری روح میں جالے پڑ جائیں
ہم جو الجھیں تو سدا بچ بچاؤ ہو جائے ....
درمیان دونوں کے کُچھ چاہنے والے پڑ جائیں

Your Thoughts and Comments