Khaale Ka Khat

کھالہ کا کھت

قمر بخاری پیر دسمبر

نام نہ صرف آپ کی شخصیت کا عکس ہے بلکہ آپ کی پہچان بھی اسی سے مکمل ہوتی ہے۔ والدین بچوں کے نام رکھنے کے لئے طرح طرح کے حربے استعمال کرتے ہیں۔ کبھی مشاہیر کے نام پر بچوں کے نام رکھے جاتے ہیں تو کبھی فلمی ہیروز اور ہیروئنوں کو ذہن میں رکھ کر یہ مرحلہ طے کیا جاتا ہے۔ ناموں کے حوالے سے کئی لطائف زبان زدعام ہیں۔ جن دنوں ملک میں صرف ایک ہی ٹی وی چینل(پی ٹی وی) تھا۔

یہ ان دنوں کا واقعہ ہے کہ گلوکارہ ملکہ پکھراج کو ایک ٹیلی فون کال موصول ہوئی۔ کال کرنے والے نے پوچھا کہ ”مجھے ملکہ پکھراج سے بات کرنا ہے“ تو سامنے سے ملکہ پورے شاہانہ وقار سے بولیں ”جی میں ملکہ ہی بول رہی ہوں“۔ ملکہ نے ٹیلی فون کرنے والے سے دریافت کیا آپ کون بول رہے ہیں تو جواب موصول ہوا ”ہم شہنشاہ بات کر رہے ہیں“۔

(جاری ہے)

یہ سن کر ملکہ چونک گئیں اور حیرت سے پوچھا کہ میں نے آپ کا نام پوچھا ہے؟ تو موصوف نے مسکراتے ہوئے جواب دیا ”ملکہ صاحبہ میں پی ٹی وی کا پروڈیوسر شہنشاہ نواب عرض کر رہا ہوں۔

مجھے ایک ریکارڈنگ کے سلسلے میں آپ سے وقت درکار تھا اس لئے آپ کو ٹیلی فون پر زحمت دے رہا ہوں“۔ یوں ملکہ اور شہنشاہ کے مابین مسکراہٹ کے بعد گفتگو نارمل طریقے سے شروع ہو گئی۔ ہمارے ایک یونیورسٹی کے دوست چوہدری نذیر گل کو لوگ اختصار سے سی این جی کہا کرتے تھے اور وہ بھی اپنے اس مختصر نام سے بہت خوش تھے۔ وہ دور دراز دیہی علاقے سے روزانہ سفر کر کے یونیورسٹی پہنچا کرتے تھے اور جونہی کلاس میں داخل ہوتے تو لوگ سی این جی، سی این جی کے علاوہ سی سی کی آوازیں نکال کر ان کا سواگت کیا کرتے تھے۔

وہ نام کے ہی سی این جی نہیں تھے بلکہ ان میں سے باقاعدہ سی این جی کی بو بھی آیا کرتی تھی اور اس مہک کے بارے میں چہک کر بتایا کرتے تھے کہ اس کے پیچھے مولیوں کے پراٹھوں کا کمال ہے۔ ہمارے ایک جاننے والے کا نام اختر تیمور مرزا تھا جسے لوگ اے ٹی ایم کہہ کر بلاتے تھے۔ وہ بھی اسم بامسمیٰ تھے۔ وہ حقیقی معنوں میں ضرورت مندوں کے لئے اے ٹی ایم مشین کی حیثیت رکھتے تھے اور ہر ادھار مانگنے والے کو دیکھ کر ان کا منہ اے ٹی ایم کی طرح کھل جایا کرتا تھا۔

وہ قرض دینے میں خواتین کو زیادہ ترجیح دیتے تھے کیونکہ ان کے خیال میں خواتین سے ریکوری کرنے میں مشکلات پیش نہیں آتیں۔ وہ طبیعت کے لحاظ سے حقیقی معنوں میں مرزا مغل مزاج کے حامل تھے اور انہوں نے اپنے موبائل فون پر رنگ ٹون ”جدوں آئی مرزے دی واری تے ٹُٹ گئی تڑک کر کے“ لگا رکھی تھی۔ خواتین کا مغل شہنشاہوں کی طرح بہت احترام کرتے تھے لہٰذا مرزا صاحب انہیں ان کے نام کے بعد صاحبہ کے لاحقے کے ساتھ مخاطب کیا کرتے تھے اکثر صاحبہ کہتے وقت مرزا کے منہ سے نون غنہ اس طرح نکل جاتا تھا کہ صاحباں کی آواز برآمد ہوتی تھی لہٰذا مرزا کے لئے ہر خاتون صاحباں ہی ہوتی تھی۔

لوگ اے ٹی ایم سمجھ کر ان سے ہروقت کیش نکلوانے کے چکر میں رہتے تھے مگر مجال ہے کہ کبھی ان کے منہ پر کوئی ایسا تاثر دیکھنے میں آیا ہو کہ جس سے کیش نکلوانے والے پر یہ ظاہر ہو سکے ”سوری آپ کی مطلوبہ ٹرانزکشن ممکن نہیں ہے“۔ ان کا بچپن ہی سے ہاتھ کھلا تھا اس لئے انہوں نے اپنی پوری زندگی ہاتھ سے کسی کو تنگ نہیں کیا اگرچہ گھر والے سب ان سے تنگ تھے۔

ہماری ایک پڑوسن کا نام رخسانہ باری تھا جسے چھپ چھپ کر اپنے گھر کی باری سے ہم سب باری باری دیکھا کرتے تھے بعد میں وہ شادی شدہ ہو گئیں اور آج کل لوگ انہیں رخسانہ بھاری کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ اب وہ باری سے نظر آنے کی بجائے ہر باری ہی نظر آتی ہیں۔ ایک خاتون کے شوہر کا نام انعام علی تھا جسے وہ پیار سے آئی اے کہا کرتی تھیں۔ ایک بار انٹرویو دینے کسی دفتر گئیں تو مینیجر نے انہیں دیکھتے ہی آئیے آئیے کہا تو وہ شرما کر بولیں کہاں ہیں آئی اے؟ افسر نے کہا میں نے آپ کو آئیے کہا ہے تو ہنس کر کہنے لگیں میں سمجھی تھی شاید آپ میرے شوہر کا نام لے رہے ہیں اور پھر وضاحت کی کہ میں انہیں کیوں آئی اے کے نام سے پکارتی ہوں۔

مینیجر نے خاتون سے شوہر کے اصل نام کے بارے میں بات چیت کرتے ہوئے پوچھا کہ انعام بھی اچھا نام ہے آپ انہیں انعام کہہ کر کیوں نہیں بلاتیں؟ خاتون نے جواب دیا کہ پہلے ہم لوگ انہیں انعام کے نام سے ہی بلاتے تھے مگر ایک بار وہ مین ہول میں گر گئے تھے اور ریسکیو والوں کو کہہ کر جب باہر نکالا تو پورے محلے میں بات پھیل گئی کہ انعام نکل آیا، انعام نکل آیا اور رات کو ہمارے گھر ڈاکو گھس آئے، کہنے لگے آپ کا انعام نکلا ہے کہاں ہے وہ؟ جب میں نے اپنے شوہر کی طرف اشارہ کیا تو ڈاکو کہنے لگے کہ اگر آپ انہیں انعام سمجھتی ہیں تو آپ واقعی انعام کی مستحق ہیں۔

کچھ لوگ بڑے بڑے اداکاروں کے نام پر اپنا نام لکھنا شروع کر دیتے ہیں ایسے ہی ایک صاحب جو کہ بھارتی فلم سٹار اکشے کمار کے بہت بڑے فین تھے انہوں نے اپنا نام رکشے کمار رکھ لیا۔ ہم نے اس سے پوچھا کہ مسلمان ہوتے ہوئے تم نے اپنا نام رکشے کمار کیوں رکھا؟ تو ہنس کر کہنے لگے کہ ہمارا گھر رکشوں کے اڈے کے ساتھ تھا جہاں ہر وقت رکشے کھڑے رہتے تھے اور گلی میں سے گزرنے کا کوئی راستہ نہیں ہوتا تھا لہٰذا میں جا کر رکشے کو مارتا تھا تاکہ رکشہ ڈرائیور وہاں سے رکشہ ہٹا لے لہٰذا میرے گھر والوں نے جب بھی باہر جانا ہوتا تھا تو کہتے ”جا رکشے کو مار“ اور میں نے جا کر رکشے کو مارنا شروع کر دینا اسی پر میرا نام رکشے کومار پڑ گیا اور اب میں اپنے پسندیدہ فلمسٹار کے نام سے ملتے جلتے نام کا مالک ہوں۔

تقسیم ہند سے پہلے مسلمان اداکار بھی ہندو ¶انہ نام رکھا کرتے تھے۔ سید موسیٰ رضا اور ان کے بھائی فلمی دنیا میں سنتوش کمار اور درپن کے نام سے مشہور ہوئے جبکہ یوسف خان دلیپ کمار کے نام سے برصغیر میں شہرت کی بلندیوں پر نظر آئے لیکن ان دنوں جب پاکستان اور ہندوستان الگ الگ ریاستیں ہیں ہمارا اپنا اپنا کلچر ہونے کے باوجود سوشل میڈیا کی وجہ سے ہماری نوجوان نسل میں ہندوانہ ناموں اور رسم و رواج کے علاوہ تلفظ کے استعمال کا رجحان بڑھتا چلا جا رہا ہے۔

ہندو اپنا نام رمیش رکھتے ہیں جبکہ ہم اپنے بچوں کے نام رامش رکھنے لگے ہیں۔ اسی طرح ہندو ¶ں کی مقدس کتاب رامائن سے متاثر ہو کر لوگوں نے بچیوں کے نام رامین رکھنا شروع کر دیئے ہیں۔ اب تو نئی نسل اردو کا لفظ ”خ“ نہیں بول سکتی۔ یہ لفظ ”کھ“ میں بدل چکا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اکثر ان کے منہ سے ایسے الفاظ سننے کو ملتے ہیں کہ ”ہماری بڑی کھالہ کا کھت آیا ہے کہ کھالو جی کھیمے سے نکل کر کھترناک طریقے سے کھالے میں گر گئے لیکن ان کی حالت اب کھترے سے کھالی ہے“۔

ہمارے پڑوسی ملک کے کھتریوں نے ہماری قوم کو کس طرح کھترا کھتری کے چکر میں ڈال دیا ہے یہ سب سوشل میڈیا کے کرشمے ہیں۔اب وہ زمانے گئے جب ہم مشاہیر کے نام پر اپنے بچوں کے نام رکھا کرتے تھے اب ہمارے ہیروز پڑوسی ملک کے فلمی ستارے ہیں لیکن نئی نسل کو کون بتائے کہ ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں۔

Your Thoughts and Comments