Khaali Peet

خالی پیٹ

مراد علی شاہد جمعرات جولائی

Khaali Peet
چینی باشندوں کا خیال ہے کہ اگر انواع واقسام کے کھانے لذتِ طعام دے رہے ہوں اور ایسے میں کوئی صاحب کتنا ہی زیرک،فلاسفر،دانشمند،پندو نصائح کا مالک ہو،تقریر شروع کر دے تو کوئی بھی خالی پیٹ تقریر میں انہماک نہیں دے گا۔بلکہ سب کے کان تقریر اور نظریں کھانے پر ہو ں گی۔اس لئے چین میں کوئی بھی تقریب ہو کھانا پہلے کھلایا جاتا ہے تقریر بعد میں کی جاتی ہے۔

اسی لئے چِین میں سب چَین سے رہتے ہیں۔چین میں ایک اور روایت بھی ہے کہ اگر کھانے کی میز پر چاپ اسٹکس بے ترتیب اور بکھری پڑی ہوں تو اس کا مطلب ہے کہ مہمان نے خوب جی بھر کر کھایا ہے۔جبکہ پاکستان میں اس کے الٹ ہے ،اگر کھانا پہلے کھلا دیا جائے تو تقریر کے لئے کوئی نہیں رکتا۔پاکستان میں تو کسی شادی کی تقریب میں اگرروٹی نکاح سے پہلے کھول دی جائے تو گواہ تک نہیں بچتے۔

(جاری ہے)

وہ بھی کھانا کھا کر نو دو گیارہ ہو جاتے ہیں۔یعنی روٹی پہلے کھول دیں تو روٹی کی خیر نہیں اور بعد میں کھولیں تو دولہے کی خیر نہیں۔مجھے یاد ہے ایک دوست کی شادی پہ قبولہ(عارف والا) جانے کا اتفاق ہوا تو بارات میں تاخیر کے سبب گھر والوں نے نکاح سے قبل ہی روٹی کھول دی، دعوت ختم ہوتے ہی دعوتیوں کے ساتھ ہی تین بار قبول کروانے والا مولوی بھی غائب پایا گیا۔

اسے بڑی مشکل سے ایک حمام سے یہ کہہ کر لایا گیا کہ آپ کو شام کا کھانا بھی دیا جائے گا۔
ضمناً ایک بات یاد آگئی کہ ایک بچہ اپنے جوتے آگے رکھ کر نماز ادا کر رہا تھا ۔نماز ادا کر چکتے ہی مولانا صاحب فرمانے لگے کہ بیٹا جوتے نماز پڑھتے ہوئے آگے رکھیں تو نماز نہیں ہوتی،بچہ بر جستہ بولا کہ مولانا صاحب جوتا پیچھے رکھیں تو جوتا نہیں ہوتا۔ایسے ہی ایک شہری کسی گاؤں میں اپنے کسی دوست سے ملاقات کے لئے گیا تونماز کے وقت نماز کی ادائیگی کے لئے مسجد چلا گیا۔

پیش امام قرات غلط سلط پڑھا رہا تھا۔جب نماز ختم ہوئی تو شہری نے اپنے دوست سے شکائت کی کہ آپ لوگوں نے کیسا امام رکھا ہوا ہے جسے نماز پڑھانا بھی نہیں آتا۔تو دوست کہنے لگا کہ نہیں ایسا نہیں ہے یہ نماز تو ٹھیک ہی پڑھاتے ہیں بس کبھی کبھار جب رات کو مے نوشی کی ہو تو ذرا بہکے بہکے سے ہوتے ہیں۔
اوہ تو اس کا مطلب ہے کہ امام صاحب مے نوشی کا شغل بھی فرماتے ہیں۔


نہیں مستقل نہیں بس جب کبھی مجرا دیکھنے جانا ہو تب۔یعنی
گانا سننے اور طوائف کے کوٹھے پر جانے کے بھی شوقین ہیں۔
ہاں!مگر صرف اس دن جب جوے، میں کافی ساری رقم جیتی ہوئی ہو وگرنہ توبہ ہے جو کبھی اس بازار کا رخ بھی کیا ہو۔
مہمان کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا کہ پیش امام کیا کیا کارنامے سرانجام دیتے ہیں۔
کیا ؟جوا بھی کبھی کبھار ہی کھیلتے ہیں؟ظاہر ہے جب کبھی چوری کا مال ہاتھ لگتا ہے تو ایسا کرتے ہیں وگرنہ گھر میں تو فاقوں کا راج ہے۔


مہمان،کمال ہے پھر بھی آپ اسے آگے کھڑا کر دیتے ہیں۔
میزبان کیا کریں پیچھے کھڑا کریں تو جوتے چراکر بھاگ جاتا ہے۔
پاکستان میں ایک آموں کی طرح ایک اکھان عام ہے کہ خالی پیٹ کچھ نہیں سوجھتا،اکثر پاکستانی سوچنے کے لئے اتنا پیٹ بھر کر کھا لیتے ہیں کہ بھرے پیٹ بھی کچھ نہیں سوُجھتا۔خالی پیٹ ہو تو قدم نہیں اٹھتے ،پیٹ بھرا ہو تو آنکھیں نہیں کھلتیں۔

حکیم یا ڈاکٹر اگر مریض کو یہ کہہ دیں کہ خالی پیٹ دوائی نہیں کھانا تو وہ اتنا سیر شکم ہو جاتے ہیں کہ دوائی کے لئے بھی جگہ نہیں بچتی۔ایک مریض ڈاکٹر کے پاس یہ شکائت لے کر گیا کہ حضور ہفتہ پہلے دوائی لے کر گیا تھا مگر بخار ہے کہ اترنے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ڈاکٹر نے جب پوچھا کہ کیسے دوائی کھاتے ہو تو کہنے لگا کہ کھانا کیسے ہے جب پیٹ خالی ہوگا تو دو اکھاؤں گا،کیونکہ آپ نے خود ہی فرمایا تھا کہ خالی پیٹ دوا نہیں کھانا۔


ہمارے ہاں تو حکیم کے پاس مریض دو وجوہات کے لئے جاتے ہیں۔زیادہ کھا لیا ہو یا زیادہ کھانا ہو۔
مثل مشہور ہے کہ بھوکے بٹیر زیادہ لڑتے ہیں۔گوجرانوالہ کے پہلوانوں نے اس مثل کو بھی غلط ثابت کر دیا ہے،ان کا کہنا ہے کہ بٹیرے پیٹ میں ہوں تو پہلوان زیادہ لڑتے ہیں۔گوجرانوالہ واحد شہر ہے جہاں چڑے اور بٹیر فضائی حدود میں بھی اڑنے سے کتراتے ہیں کہ کہیں پکڑ ے ہی نہ جائیں۔

ویسے لاہوریے اور گوجرانوالیے خالی پیٹ ہوں تو صرف لڑتے ہیں بھرے پیٹ ہوں تو خوب لڑتے ہیں۔اسی لئے کہا جاتا ہے کہ ”بھکے وی بُرے تے رجے وی بُرے“یعنی بھوک اور سیرشکم دونوں صورتوں میں بُرے۔میرا ایک دوست گوجرانوالہ سے ہے۔اس کی بیوی اکثر مجھ سے شکائت کرتی ہے کہ بھائی ”یہ“مجھے کھانے کو نہیں دیتے۔میں نے اپنے دوست کو سمجھایا کہ دیکھو اگر اسے کھانے کو نہیں دوگے تو گھر کے کام کاج کون کرے گا؟کہنے لگا ،اگر اسے کھانے کو دوں گا تو مجھے کون سنبھالے گا؟کیا مطلب اس کا؟مطلب یہ کہ بیوی کا اگر پیٹ بھرا ہو تو آنکھیں نکالتی ہے۔

میں نے جواب دیا کہ بیوی خالی پیٹ ہوتو”آنکھیں نکال“بھی سکتی ہے۔اس دن کے بعد مجھے دوست کی آنکھیں بتا دیتی ہیں کہ آج بھابھی نے سیر ہو کر کھایا ہے یا خالی پیٹ ہیں۔ویسے بیوی کو کھانا پلانا چاہئے کیونکہ بیویاں خالی پیٹ نہیں ”پیٹ“سے ہی اچھی لگتی ہیں۔یاد رکھیں خالی پیٹ نہ بیوی گھر آنے دیتی ہے اور نہ دنیا گھر سے باہر نکلنے دیتی ہے۔
مشاہدہ یہی کہتا ہے کہ دنیا ”کھانے “والوں کی عزت زیادہ کرتی ہے اسی لئے پاکستان میں سیاستدان،ڈاکٹر اور پولیس والوں کی بہت عزت ہے۔

یہ لوگ تو کھانے میں اتنے ماہر ہیں کہ پیٹ بھرا بھی ہو تب بھی کھا جاتے ہیں۔میرا ملک جب معرض وجود میں آیا تھا یہ خالی پیٹ تھا لوگوں نے اتنا کھایا کہ بہتر سال بعد بھی خالی پیٹ ہی ہے۔حیرانگی اس بات کی نہیں کہ یہ لوگ ملک کو کیوں کھا رہے ہیں،پریشانی یہ ہے کہ اسی ملک کو اپنی ماں جیسا بھی کہتے ہیں۔ماں تو خالی پیٹ رہ کر بچوں کا پیٹ پالتی ہے مگر یہ سب تو اپنی ہی ماں کا پیٹ کھا رہے ہیں۔واقعی ان سب نے سچ کر دکھایا کہ
پیٹ نہ پیاں روٹیاں
سبھے گلاں کھوٹیاں

Your Thoughts and Comments