Khawateen Per Lockdown K Asraat

خواتین پہ لاک ڈاؤن کے اثرات

سید عارف مصطفیٰ منگل اپریل

Khawateen Per Lockdown K Asraat
ایک تازہ خبر کے مطابق کرونا کی وجہ سے ہوئے طویل لاک ڈاؤن کے باعث بیوٹی پارلر بند ہونے سے اداکارائیں پریشان ہیں ۔۔۔ حالانکہ انہیں یہی تو وہ موقع ملا ہے کہ اب وہ باآسانی ادھر ادھر گھوم پھر سکتی ہیں کیونکہ انکے پہچانے جانے کا ذرا سا خدشہ بھی نہیں رہے گا۔۔۔ اس دوران وہ حسین و جمیل نظر آنے کے بجائے اگر مسٹ حسن جمیل دکھائی دینے لگیں تو بھی انہیں خطرہ ہی کیا ہے ۔

۔۔ لیکن مسئلہ شاید یہ ہے کہ ان میں سے کئی بظاہر الھڑ و چنچل سی نظر آتی بے بیاں جو دراصل اندر سے خشک و بوسیدہ بیبیاں ہیں، تو وہ مسٹر حسن جمیل دکھنے کے بجائے سنیاسی بابا جمیل بھی دکھنے لگ سکتی ہیں ۔۔ اور بعضے تو اگر گرُو جمیل خسرا بھی نظر آنے لگیں تو کیا عجب ۔۔۔  ویسے یہ بھی ہے کہ لاک ڈاؤن کے عرصے میں جیسے اور بہت سوں کے گناہوں میں کمی ہوگی اس فہرست میں خاطر خواہ کمی بیوٹی پارلر والوں کی مد میں یقینناً ہوگی کیونکہ اس  بندش کے عرصے میں ان پہ میک اپ کے ذریعے دھوکہ دہی کا الزام تو لگنے سے رہا  ۔

(جاری ہے)

۔ وہ شوہران کرام جو ہنرمند زوجہ کے  ہاتھوں اب صابرین میں شمار کیئے جانے لائق ہیں وہ تو لاک ڈاؤن کی وجہ سے شاکرین کے درجے تک پہنچنے والے بھی ہوچکے ہوںگے کیونکہ بیوٹی پارلر کی بندش کی اس عطائے ربی  پہ وہ مسلسل شکر ادا کر کر کے اب اس عظیم منصب کے لیئے بھی تقریباً کوالیفائی کر چکے ہونگے تاہم  ازخود بچت کی یہ رمز بہت سے شوہروں کی سمجھ میں شاید نہ آئے اور اندیشہ ہے کہ وہ لاک ڈاؤن کے دوران زوجاؤں کے میک اپ کے بغٰیر والی اصلی شکل دیکھ لینے کے بعد نہایت مشتعل ہو کر کہیں ان بیوٹی پارلروں پہ پتھراؤ نہ کرڈالیں ۔

۔۔ یہ مسئلہ ان گھروں میں اور بھی زیادہ سنگین صورت اختیار کرسکتا ہے کہ جہاں شوہر تو کلین شیو ہو مگر زوجہ کی مونچھیں ابھر آئیں اور یوں ایسے ازدواجی جوڑوں میں مبّینہ 'قؤت کا محور' ہی خطرے میں پڑ جائے ۔۔۔

لاک ڈاؤن کا اک بڑا نقصان خواتین کو یہ بھی ہوا ہے کہ ان چند دنوں میں وہ اپنے کوٹے کی ساری چغلیاں نپٹا چکی ہیں بلکہ کئی کئی بار دہرا چکی ہیں اور اب تو اکثر کے پاس انہی کی چھوڑی گئی افواہیں ، اور خاص خبریں گھوم گھام کے آرہی ہیں یوں گو انہیں یہ اطمینان تو ہے کہ صدیوں سے قائم سینہ گزٹ بلکہ حسینہ گزٹ بنیادوں پہ رواں غیبت کا نظام اب بھی 5 جی سسٹم سے زیادہ تیزرفتاری اور ہمہ گیری سے کام کررہا ہے لیکن گھمبیر مسئلہ یہ ہے کہ  اب انہیں خبروں اور وسوسوں اور افواہوں کا شرطیہ نیا ذخیرہ اکٹھا کرنے کے لیئے اپنے محلوں اور علاقوں سے باہر موجود ذخیرہ اندوز ہم جولیوں کے پاس پہنچنے کے مواقع میسر نہیں آپا رہے ۔

۔۔ پہلے توکوری افواہوں اور کنواری خبروں کے تبادلے اس مشن کی انجام دہی میں موبائل ہی کافی ثابت ہوتے تھے مگر چونکہ آج کل لاک ڈاؤن میں  تو گھر کے سارے افراد ہی ویلے ہوئے کچھا پہنے نظروں کے سامنے دھرے پڑے ہیں  چنانچہ انکی نگاہوں کے سامنے یہ مقصد حیات مطلوبہ خوش اسلوبی سے پورا نہیں ہو رہا ہے لہٰذا انکی حسب دلخواہ تسکین بھی نہیں ہو پارہی ۔

۔۔  ہوسکتا یہے کہ کچھ خواتین یہ سوچتی ہوں کہ اے کاش ٹیکنالوجی اتنی ترقی کرلے کہ غیبتوں اور چغلیوں کا یہ نظام کسی موبائل سے جوجنے یا کسی گاڑی سے کہیں پہنچنے کا محتاج ہی نہ رہے لیکن مجھے یقین ہے کہ زیادہ تر خواتین اس نظام سے پھر بھی مطمئن نہیں ہونگی کیونکہ کسی افواہ یا خاص انکشافی خبر دینے پہ اگر سامنے والے کا بدن لرز نہ جائے اور رنگ فق نہ ہوجائے یا اس کے چہرے پہ ہوائیاں اڑتی نظر نہ آسکیں تو بھلا کیا فائدہ اس محنت مشقت کا ۔۔۔ وہ تو پھر یہی کہیں گی نا کہ  " چار حرف بھیجو ایسے خبری نظام پہ ۔۔۔ ہاں نہیں تو " ۔۔۔۔ 

Your Thoughts and Comments