Khuda Ki Khatir

خدا کی خاطر

پیر مارچ

Khuda Ki Khatir
خواجہ حسن نظامی

ہم لوگوں نےہزار سرمارا کہ اس ان دیکھی خدا کی اسیری سےرہائی ہو۔

مگرخبر نہیں اُس کوکیا جادو آتا ہےاوراس نےانسانوں پر کیا کیا پڑھ کرپھونک دیا ہےکہ ہرآدمی اس کا دم بھرتا ہےاوراس کی خوشی کی خاطربڑی بڑی بلاوں کوسر پرلیتا ہے۔

(جاری ہے)

آج کل ہردوارمیں کنبہ کا میلہ ہے۔سولہ سترہ لاکھ انسانوں کاجماوہے۔

ریلوں میں انسان حیوانوں کی طرح بھرے جاتے ہیں ۔جسم و روح تحلیل کرنے والی تکلیفیں اٹھاتے ہیں مگر خدا کےنام پردریا میں ایک غوطہ مارنے کی خاطرگھربارچھوڑکرچاروں طرف سےاُمڈے چلےآتےہیں۔

مناسب ہے کہ ایک بین الاقوام مشترکہ کانفرنس قائم کی جائےجس میں غورہوکہ خدا کا اثرکم کرنےمیں ہم انسان کیا طرزعمل اختیارکریں۔

تاکہ ہمارے ہم جنس اس رات دن کی کس مکش سےنجات پائیں۔

گنگا اورزمزم کےپانی میں آخرکیابات ہے۔جوخلقت اس پرپلی پڑتی ہے۔

سوائےاس کے کچھ نہں کہ خدا نےان پرکچھ سحرکردیا ہے۔اگرچہ جادو ٹوانہ بھی خلاف ِعقل چیز ہے ۔

لیکن
بطورسراغر سانی وتفتیش تھوڑی دیرکےلئےہم ان کوتسلیم کئےلیتے ہیں،اس کےبعد تمام مُلحدان یورپ کےمنتخب آدمیوں کےذریعےکوئی نہ کوئی بات خدا کوزَک دینےکی نکل ہی آئےگی۔

مگرڈریہ ہےکہ کہیں وہ جس کوخداکہتےہیں ہمارےہی ہم قوم لوگوں کو ولی پیغمبر،رشی،اوتار کےخطابات دےکرہمارامخالف نہ بنادے۔

کیونکہ خطاب پاکرآدمی برادری کےحقوق سےکچھ بےتعلق ہو جاتا ہے۔

Your Thoughts and Comments