Motapa Or Slimming Centers

موٹاپا اور سلمنگ سنٹرز۔۔۔!

سید تنصیر حسین منگل جون

Motapa Or Slimming Centers
کوئی بہت زیادہ عرصہ قبل کی بات نہیں ہے کہ بھاری بھرکم جسم کو کسی کے صحت مند ہونے کی علا مت سمجھا جاتا تھا اور ایسے جسم کے مالک افراد کو "پہلوان"کے نام سے یاد کر اسکی جسمانی طاقت، رُعب اور دبدبے کو خراجِ عقیدت پیش کیا جاتا تھا؛اسکے برعکس پتلے جسم کے مالک افراد کوکسی دانے دار فصل سے پرندوں کو دُور رکھنے کیلئے اس میں لگائے گئے "ڈراوے " سے موسوم کر کے اُکی تذلیل کی جاتی تھی اور اُنہیں تیز ہوا کے ساتھ اُڑنے جانے سے بچنے کے لئے اپنے جسم کے ساتھ پتھر باندھ کر گھر سے نکلنے اور اُنکی زندگی کی گاڑی ریزروء پر چلنے کی سی پھبتیاں کسی جاتیں تھیں؛ ہمارے ایک بزرگ بتاتے ہیں کہ ایامِ جوانی میں انہوں نے ایک مرتبہ شگفتہ مزاج رکھنے والے اپنے ایک ہم جولی سے دریافت کیا، جس کی نئی نئی شادی ایک ایسی دبلی پتلی لڑکی سے ہوئی تھی جس قسم کی لڑکیوں ،بلکہ لڑکوں کوبھی، دورِ رواں میں سلم اور سمار ٹ سمجھ کر رشک کیا جاتاہے" کہومیاں! کیسی جارہی ہے تمہاری نو خیز ازدواجی زندگی؟ " موصوف نے چہرے پر بناوٹی سنجیدگی سجاتے ہوئے کہا،" یار کیا بتاؤں؟موسم، سرما میں تو کوئی خاص مسلئہ نہیں ہوتامگر موسمِ گرما میں بیگم صاحبہ کے تیزہوا کے ساتھ اُڑ کر چھت سے جا ٹکرانے کے اندیشہ کی بنا پر ہم برقی پنکھا نہیں چلاسکتے جسکے نتیجہ میں اپن کا یہ موسم سارے کا سارا "باں باں" میں ہی گُزرتا ہے۔

(جاری ہے)

" پھر دیکھتے ہی دیکھتے حالات نے بھی حکمرانوں کی دیکھا دیکھی ایسا یو ٹرن لیا کہ بھلے وقتوں میں صحت مند سمجھے جانے " کی بنا پر قابلِ تعریف ٹہرائے جانے والے فربہ لوگ طنز و تضحیک کا نشانہ بننے لگے جبکہ ماضی میں چلتی پھرتی 302کاکیس کہلوانے والے سُکے سڑے افرادکو سلم اور سمارٹ قرار دے کر اُن پر تعریف کے ڈونگرے برسائے جانے لگے؛لڑکپن میں خاصے فربہ جسم کے مالک ہمارے ایک ایسے ہم جولی ہوا کرتے تھے کہ جس سے ملتی جُلتی جسامت کے کسی شخص کوہاتھی پر سوار دیکھ کر موقع پر موجود بچے ہنسی سے لوٹ پوٹ ہوگئے تھے؛ موصوف کی جانب سے اس استفسار پر کہ کیا انہوں نے پہلے کبھی ہاتھی نہیں دیکھا تھا؟ بچوں نے کر ہنسی ضبط کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے جواب دیا تھاکہ وہ سب ہاتھی تو پہلے بھی کئی بار دیکھ چکے تھے مگر ہاتھی پر ہاتھی کو سوار و ہ پہلی بار دیکھ رہے تھے ؛ مزکورہ لڑکے کو ہم سب" موٹو ! موٹو!"کہ کرپکارتے تھے؛ موٹاپے کے خلاف بیداری کی لہرکایہ ابتدائی زمانہ تھا؛ پس، اُن دنوں موٹا کہلائے جانے والے اکثر افراد کویہ سمجھنے میں خاصی دُشواری پیش آتی تھی کہ کہنے والا اُسکی تعریف کررہاہے یا اُسپر تنقید کررہا ہے؛ غالباً اِسی زہنی کشمکش کی وجہ سے ،خُود موٹے میاں کا ردِ عمل تو موٹا کہ کر پُکا رے جانے پر مسرت اور غُصے کے ملے جُلے جذبات والا ہوتا تھا مگراُسکے بہن بھائی اور ر دیگر عزیزواقارب کسی کو اُسے موٹا کہ کر مُخاطب کرتے ہوئے سُن کر خا صے سیخ پاہوجایا کرتے تھے؛ ایک دن ہم سب ہم جولی اپنے محلہ کی گلی میں کھیل رہے تھے؛ موٹو موصوف اور سڑیل طبیعت والی اُسکی ایک ہم عمرہمشیرہ بھی شاملِ کھیل تھی؛ حسبِ معمول کچھ لڑکے و قفہ وقفہ سے موٹے میاں کو ،" موٹا موٹا "کے نام سے پکارے جارہے تھے جو اسکی ہمشیرہ کو کافی ناگوار محسوس ہورہا تھا ؛ جب موٹو موٹو کی اس تکرار نے تھمنے کا نام تک نہ لیا تواُلفت کی ماری موٹو کی ہمشیر ہ سے نہ رہا گیا؛اُس نے "موٹا !موٹا!"کی رٹ لگانے والے لڑکوں کو گُھورتے ہوئے پنجابی زبان میں انہیں با آوازِ بُلند سر زنش کرتے ہوئے کہا، "وے!وے! تُواڈے نال گھناموٹا اے!" (اوئے! کیا تمہارے سے زیادہ موٹا ہے؟ )۔

اسپر موٹو سے کچھ فاصلہ پر کھیل میں مصروف اہمارے ایک شریر ساتھی نے فوری ردِ عمل کا اظہار کرتے ہوئے، موصوفہ کے مطالبہ کے حسبِ حال موٹو میاں کو برینڈ نیو عرف عام سے نوازتے ہوئے صدا دی،"او پتلا ۔۔! " اپنے احتجاج کے جواب میں یہ برجستہ مگر پہلے سے بھی زیادہ چُھبنے والا ترمیمی عرف سُن کربیچاری موٹو کی ہمشیرہ سٹپٹا کے رہ گئی جب کہ موٹو میاں کے لئے اس نئے عُرف نے "یک نہ شُد ، دو شُد کی سی صورتِ حال پیدا کردی"موٹو میاں کی والدہ ماجدہ اُس سے بھی بڑھ کر موٹی تھیں جسے دیکھ کر اکثرمحلے کے ناہنجار لونڈے کچھ اس اندازسے کھڑکیوں کے سریے وغیرہ مضبوطی سے تھام لینے کا پوز بنا تے تھے کہ جیسے وہ زلزلے کے جھٹکوں سے خود کواوندھے منہ گرنے سے بچانے کی کوشش کررہے ہوں!اُنکی اس طفلانہ حرکت پر بڑی بی کو اندروں اندری غصہ تو بہت آتا تھا مگر ایسا مزاح پرور نظارہ دیکھ کر وہ تضحیک کے احساس کے باوجو وہ اکثر اپنی ہنسی نہ روک پاتیں تھیں؛فربہ افراد پر فقرے کسنے اور اُنہیں تضحیک کا نشانہ بنانے کا یہ ٹرینڈ وقت کے ساتھ ساتھ شدت اختیار کرتا گیاجسکے منطقی اثرات کے طور پر ماضی کے برعکس فربہ افراد ا پنے موٹاپے پر نازاں ہو نے کی بجائے" بھیڑے "پڑنے لگے؛ موٹے افراد کو روز مرہ زندگی میں پیش آنے و الی کچھ عملی مشکلات نے بھی موٹاپے کوناپسندیدہ ترین شے بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا؛ہمارے والے مو ٹو کی مثال ہی لے لیجئے؛ ایک مرتبہ وہ بجلی کا بل جمع کروانے کے لئے بینک کے سامنے مال گاڑی کی طرح ایستادہ طویل لائن میں لگا ہو ا تھا؛وقفہ وقفہ سے اُ ن سے آگے لائن میں لگے چند اصحاب کی پو زیشن دفعتا ًکچھ اس طرح سے ہو جاتی جیسے رسہ کشی کے مقابلہ میں حریف ٹیم کے حا وی ہونے کی وجہ سے اُس ٹیم کی ہو جاتی ہے جس کے قدم اُکھڑ چُکے ہوں؛ جسمانی توازن خراب کر کے رکھ دینے والے ان جھٹکوں نے کافی دیر تک تھمنے کا نام تک نہ لیا تو اُنکے فرنٹ لائن متا ثر ، یعنی،موٹو میاں سے بالکل آگے و الے صاحب کا پیمانہء صبر لبریز ہوگیا؛اُ س نے موٹو کی"کُھتی پر ایک عدد زناٹے دارچپت لگاتے ہوئے کہا، اوئے گینڈے! تمہیں زیادہ جلدی ہے؛ دھکے کیوں دے رہے ہو؟" مو ٹو میاں نے ہاتھ جوڑتے ہوئے عاجزی سے جواب دیا ،
بھا جی ! میں دھکے کب دے رہا ہوں، میں توبس وقفہ وقفہ سے ،حسبِ موقعہ ،لمبے سانس لینے کی کوشش کررہا ہوں" بس یا ویگن میں سوار ہونے یا اُترنے میں بھی موٹو کو سخت دشواری پیش آتی تھی؛پہلے تو اُسے سڑ ک کے کناے کسی سواری کا منتظر پاکر اکثر ڈرائیور گا ڑی روکتے ہی نہیں تھے ؛ خُو ش قسمتی سے، اگر کوئی نیک دل ڈرائیور گاڑی روک بھی لیتا تھا تو پہلے تو کرین یا کسی مردِ توانا کی مدد کے بغیر مو ٹو میاں ، گاڑی کے دروازے کے پائیدان تک ہی نہ پہنچ پاتے تھے؛ کسی نہ کسی طرح ۔

یہ ضروری کُمک میسر آجانے پر اگر وہ پائیدان پر پاؤں رنجہ فرمانے میں کامیاب ہو جاتے تھے تو اکثراوقات گاڑی کے د وازے میں پھنس کر رہ جاتے تھے؛ مسافروں کی طرف سے " جلدی کرو! جلدی کرو! "کی گردانِ مسلسل سے "بھڑ "کی طرحجھنجھلاہٹ کا شکا گاڑی کاعملہ کھچ دھرو کے موٹو کوگاڑی کے اندرگُھسیڑ لیتا ؛ ما بعد،ہانپتے کانپتے موٹو کے سیٹ پر دراز ہوتے ہی ساتھ والی سیٹ کا مسافر اپنی سیٹ چھوڑنے پر مجبور ہوجاتا تھا کیونکہ موٹو کا جسمِ غفیر ملحقہ نششت پر اسقدر تجاوز کرجاتاکہ اُس پر بیٹھنے والی سواری کے جسم کا برائے نام حصہ باقی مانندہ نششت پررہ سکتا جبکہ جسم کا زیادہ تر حصہ ہوا میں کچھ اس طرح سے معلق ہو جاتا کہ دیکھنے والے کو یوں لگتا کہ وہ بد قسمت سواری " مسٹر کھیپل "کی سی سزا کے عمل سے گُزر رہی ہے؛لہذا ،ایک بار موٹو کا ہم نششت ہوکر ٹا نگوں میں کرینپس کی تکلیف سے گُزرنے والے مسافر آئندہ موٹو کا ہم نششت ہونے کے عزاب پر کھڑے رہنے یا پھر گاڑی ہی بدل لینے کو ترجیح دیتے تھے؛ کسی گاڑی میں موٹو کی موجودگی کے منطقی اثرات کے طور پر، اکثر اوقات گاڑی کے عملہ کو ایک عدد سواری کے کرایہ سے محروم ہوجانے کے صدمہ سے گُزرنا پڑتا؛ جسکے ازالہ کیلئے متاثرہ گاڑی کا کنڈیکٹربجا طور پر موٹو سے دو سواریو ں کاکرایہ طلب کرتا مگرموٹو انکل سام کی سی ڈھٹائی سے اُسکے اس جائزمطالبے کو ویٹو کرتے ہوئے جواب دیتا،" توں دوجی سواری بٹھا سکدا ایں تاں بٹھا لا، مینوں تاں کوئی اعتراض نہیں !"؛ موٹو سے ایسا کورا اور گھڑا گھڑایا جواب پاکر کنڈیکٹر ڈرائیور سے مُخاطب ہوتے ہوئے بے بسی سے کہتا،"" توانو آکھیا ہائی نا ، ایس رچھ نوں نا بٹھاؤ۔

۔ ہن ٹُٹھ لے لو دو سواریاں دا کرایہ ! " انجامِ کار،اکثر مسافر گاڑیوں کے عملے نے مو ٹو اور اس کی ہم جُسہ سواریوں کو " موٹی بلاں"قرار دے کر اُنہیں اُردو والے " سفر"کی سہولت سے محروم کرکے خود کو اور نمانی سواریوں کو انگریزی والے"سفر (Suffer)" سے محفوظ کرلینے کا دانشمندانہ فیصلہ کرلیاتھا؛طبیبوں اور ڈاکٹروں کی طرف سے موٹاپے کو ہائی بلڈ پریشر، امراضِ قلب، شوگر، جوڑوں کے درد اور فالج جیسے مہلک امراض کا بنیادی سبب قرار دے کر اُسکے خلاف منظم مہم کے آغاز کے بعد تو "موٹاپے اور موٹے افراد"کی رہی سہی ساکھ بھی جاتی رہی اور تعلیم یافتہ طبقہ میں یہ بات راسخ ہوتی چلی گئی کہ موٹا پا انسان کی ہیئت کے لئے ہی نہیں صحت کے لئے بھی مضر ہے"مزاحیہ شاعروں نے بھی موٹے افرادپر طنز کے کے نشتر کچھ ا ِ س شد و مد سے برسائے کہ عامتہ الناس کی نظروں میں فربہ افراد ، بالخصوص ، خواتین، ہنسی کا گول گپا بن کے رہ گئے اور ان کے لئے صرف کھانے کے لئے جینے کی اپنی اناج دُشمن پالیسی پر نظر ِ ثانی کرنے اور خود کو سلم اور سمارٹ بنانے کے لئے تمام دستیاب طریقہ ہائے کار بروئے کار لانے کے علاوہ کوئی چارہء کار نہ رہا؛ یہاں تک کہ سٹیج پر ،" لک پتلا پتنگ، میرا سُوئے جیہ رنگ" جیسا سفید جھوٹ الاپتی اُس بھاری بھرکم ڈانسر کی کلاس کی خواتین نے بھی ہر ممکن طریقہ سے اپنے جسم سے چربی کی دبیز تہوں کو پگھلا کر دبلا پتلا ہونے کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا شروع کردیا جسکے ڈانس کے نتیجے میں سٹیج کے کڑاکے نکلتے دیکھ کرایک شاعر نے کچھ اس طرح سے اُسکی مداح سرائی تھی۔

۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ کہنے کو تو اک خا تُون ہیں پر اتنی موٹی ہیں کہ اُسکے گوشت سے کوئی دو ہاتھی بنا دیتا
تباہی ہوتی و اللہ!۔۔ ایٹم بم سے بھی زیادہ اگر امریکہ انکو " ہیرو شیما " پر گرا دیتا ،۔۔۔۔ عطااللہ عیسیٰ خیلوی ٹائپ گلوکاروں نے ،"پتلا ڈھولا ۔۔اللہ جانے کیندے نصیب ہوسی" !جیسے گا نے گاگا کر اس تائثر کو مزیدبڑھا وا دیا کہ ساری کی ساری نوجوان نسل ہی"پتلے ڈھولوں"کے وصال کے لئے لوس رہی ہے۔

اس روش کے منطقی اثرات کے طور پر، شا دی کے خواہش مند نوجوان لڑکوں میں بھی شادی کے لئے بسیار خور ، بے ڈھبے جسم اور لٹکتی توند والی نام نہاد لڑکیوں کی بجائے ، دبلی پتلی چھریرے جسم کی ایسی لڑکیوں کی پسندیدگی کا گراف آسمان کی بُلندیوں کو چھونے لگا جو صرف جینے کے لئے کھانے پر یقین رکھتی ہیں؛ بعین ہی ،آج کل کی لڑکیاں بھی شریکِ حیات کا چناؤ کرتے وقت بظاہر طاقتور نظر آنے والے پہلوان نما لڑکوں کی بجائے سلم اور سمارٹ لڑکوں کو ترجیح دینے لگی ہیں: مُنڈوں اورمردوں کی نگاہ میں دُبلی پتلی لڑکیوں کی قدرو قیمت روافزوں ہوتے دیکھ کر، فربہ جسم کی مالک ادھیڑ عمر بیگمات کے کان بھی کھڑے ہوگئے اور اس خدشہ سے کہ روشن خیالی کے اس دور میں، رومانس کے دستیاب
 لا محدود اور کھلے دُلے مواقع سے بھر پور فائدہ اٹھاتے ہوئے کہیں انکے شوہر بھی منحنی سی دوشیز ا ؤں کی زلفوں کا اسیر ہو کر انہیں داغِ مفارقت ہی نہ دے جائیں، اپنے جسم سے چربی کی تہوں کو ختم کرنے میں معاون مختلف طریقے اختیار کرنے شروع کردیئے؛ اینٹی موٹا پا ہوا کی تندی کو دیکھتے ہوئے ، موقع شناس کاروباری لوگ سونا بیلٹ، ، جادوئی اثر والی الیکٹرک مساج مشینیں،سلمینگ پلز اور ٹیبلٹس جیسے نت نئے پراڈکٹس موٹاپے کو اِس طرح سے چشمِ زدن میں اُڑا کے رکھ دینے والے دعوؤں کے ساتھ کہ جس جسطرح سے سُوئی کی محض ہلکی سی چبھن ہوا سے بھرے غبارے کو پلک چبھکتے میں چیھچڑا بنا کر رکھ دیتی ہے ،نیز ہمہ قسم کے میڈیا پر سیکسی اشتہارا ت سے لیس ہوکر، اپنے لئے مال جبکہ اپنے گاہکوں کو الو بنانے کے مشن کی تکمیل کیلئے میدانِ عمل میں کو د پڑے ؛ شہروں اور قصبوں میں جیم اورسلمنگ سنٹرز موسمِ برسات میں جا بجا اُگتی کھمبیوں کی طرح کھلنے لگے جو فربہ لوگوں، خاص طور پر ایسی عظیم الجُسہ بیگمات کے منظورِ نظر بن گئے جن کادھریک کی طرح بڑھتا موٹاپا اُنکے مجبور و لاچار شوہروں کی جانب سے اس ضمن میں بھاری سرمایہ کاری کر چکنے کے۔

P-3 باوجود کم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا؛دہشت گردی کے خلاف انکل سام اور اسکے اتحادیوں کی ناکام مگر مہنگی ترین جنگ کیطرح ا پنی بیگم کی اس لاحاصل اینٹی موٹاپہ مہم پر اٹھنے والے بھاری خراجات اورصبح شام سلمنگ سنٹرز کے نہ ختم ہونے والے پھیروں سے اُکتائے ہوئے ایک مظلوم شوہر نے ایک دن بیگم صا حبہ سے اُنہیں سلمنگ سنٹر کے دروازے پر ڈراپ کرنے کے بعد دبے الفاظ میں یہ عرض کرنے کی جسارت کر ہی ڈالی۔

۔آہ ! بھرتی ہوئی آئی ہو" سلمنگ سنٹر " آہ ! کو چاہئے اک عمر اثر ہونے تک
"ڈائٹنگ "کھیل نہیں چند دنوں کا بیگم! اک صدی چاہئے کمرے کو کمرہونے تکجمز اور سلمنگ سنٹرز جادوئی اثر کے ساتھ، دیکھتے ہی دیکھتے کمرے کو کمرکرکے رکھ دینے والی اپنی مصنوعات اور آلات ِ مخصوصہ کی طرف متاثرینِ موٹاپہ کی توجہ مبذول کرانے کے لئے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر نگاہوں کو خیرہ اور دلوں کو رجھانے والے ایسے رنگیں اور دلکش اشتہارات دیتے ہیں کہ ویسے ا شتہارات دوزخ کے پبلسٹی ڈیپارٹمنٹ والے اگر پارساؤں کو دکھائیں تو غالب امکان ہے کہ ان سے متاثر ہوکروہ جنت کی ٹکٹ ہولڈر ہونے کے باوجود دوزخ کی سختیوں کے بارے میں سنی گئی تمام روایات کو محض جنت کے ا ہلکاروں کا پراپگنڈہ قرار دے کرجنت سے رضا کارانہ طور پر دستکش ہونے اور ان اشتہارات میں دکھائی گئی اشا ئشوں سے لطف اندوز ہونے کے لئے بخوشی دوزخ کے انتخاب پر تیار ہوجائیں گے؛ برائے نام لبا س میں مختلف پوز بناتی اور جنسی اشتہا کو ہوا دینے والے جسم کے مختلف حصوں پر مشین سے ناز و ادا کے ساتھ مساج کر تی خوبرولڑکیوں کا دلفریب نظارہ کر نے کے بعد نو جوان تو رہے ایک طرف، بقول ابرار الحق، بیشتربوڑھے بابوں کے دلو ں کی ٹلیاں بھی کھڑک اُٹھنے کا قوی امکان ہوتا ہے؛بہت سے دل پھینک فربہ مرد حضرات تو ٹی ۔

وی پر یہ روح پرور نظارہ بارہا د دیکھتے رہنے اور اسکے نتیجہ میں متواتر " لُو ستے"رہنے ہی کی وجہ سے سلم اور سمارٹ ہو جاتے ہیں۔ سیکسی نظاروں کے رسیا ایسے مرد ، عام مردوں یا شوہروں کے بر عکس ہر شب بخوشی اپنی اپنی بیگمات کو وقت سے پہلے ہی اُنکے مطلوبہ سلمنگ سنٹر چھوڑ آ نے کے بعد خود اولین فرصت میں ٹی وی روم کی بوئے باریاں بند کر کے ٹی وی پر سلم اور سمارٹ بننے کے اس بلا معاوضہ کورس سے بھر پور استفادہ کرنے کے اتھ ساتھ اپنی آنکھوں کی ٹھنڈک کا سامان بھی کر کے "ایک ٹکٹ میں دو دومزے لُوٹنے" کے محاورے کی عملی تفسیربن جاتے ہیں۔

اپنی پبلسٹی مہم میں سمارٹ اورپُر کشش لڑکیوں کو مختصر لباس میں مختلف سیکسی ورزشیں کرتے دکھا کر بہت سے نام نہاد جیم مالکان بھی مال بنانے کے لئے یہی ،"ایک پنتھ، دو کاج " والاسو فیصد کار گر نُسخہ استعمال کرتے ہیں؛ مزے کی بات تو یہ ہے کہ سلم اور سمارٹ بننے کاکوئی سا بھی طریقہ، مشین یا نسخہ متعارف کروانے والاہر سلمینگ سنٹر ، جیم یا اس فن میں کمال رکھنے کا دعویدار ا کوئی اور ادارہ یا فرم، بار ہازور دے کر ناظرین و سامعین یا اشتہارات پڑھنے والوں کو یہ باور کراتارہتا ہے کہ موٹاپے کو کم کرنے اور چربی کی تہوں کو تحلیل کرنے کے لئے صرف اور صرف اُسکا طریقہ ہی سب سے بہتر اور موئثرہے؛ یہاں تک کہ ان میں کچھ زیادہ ہی شاطر مہم جوجسمانی صحت وتوانائی کے لئے صدیوں سے مفید تسلیم کی جانے والی "ورزش " کو بھی انتہائی بھونڈے انداز میں محض غیر ضروری"مشقت" سے زیادہ کچھ نہ ہونے کا تاثر دے کر اپنے گاہکوں کی نظر میں دُھول جھونک کر انہیں اُلو بنانے میں بھی کوئی عار محسوس نہیں کرتے ۔

انکی اس گمراہ کُن اشتہاری مہم کے نتیجہ میں ،آج کی نوجوان نسل سلم اور سمارٹ تو شاید ہی ہوسکے مگر اُسکے کاہل ِ کامل ہوجانے کا قوی امکان ہے۔
موٹاپے کے خلاف جنگ لڑنے کے خواہش مند افراد سے گُزارش ہے کہ وہ موٹاپے کے خلاف سروسز اور مصنوعات اور اِسکے لئے اکھاڑے کی فراہمی کے زریعے اُنکی معاونت کے دعویدار کاروباری حضرات اور انکے پھیلائے ہوئے نام نہاد جیمز، سلمینگ سنٹرز اورموٹاپے کو پلک چبھکتے میں میں کم کردینے والی ادویات کے جال میں پھنسنے کی بجائے ان نعمتوں کو کام میں لائیں جو خالقِ کا ئنات نے انسان کی خدمت کے لئے پیدا کی ہیں؛موٹاپے کے خلاف جنگ میں آپکے حقیقی معاون، آپکے ارد گرد میلوں تک پھیلے کھیت، باغات اور جنگلات ہیں؛قدرت کے ان حسین تحفوں کی مفت خدمات سے فائدہ اُٹھائیں ، اپنے آپ کو مارننگ اور ایوننگ واک کا عادی بنائیں اور دوسروں کو یہ صحت افزا عادتیں اپنانے کی ترغیب دیں؛مہنگائی کی اولین ذمہ دار ، "اناج دشمن پالیسی" اپنانے سے مکمل پرہیز کریں؛ خصوصی طور پر ضیا فتوں میں مفت کے کھانے پر دھاوا بولنے سے پہلے یہ ضرور سوچ لیا کریں کہ مال تو پرایا ہے مگر پیٹ تو اپنا ہے؛ اپنے پیٹ کو تجاوزات کی فہرست میں شامل ہونے سے بچائیں؛ جینے کے لئے کھائیں، نہ کہ کھانے کے لئے جئیں؛ اپنا کام خود کرنے کی عادت ڈالیں؛ سہل پسندی ترک کردیں ؛ اپنے جسم سے زیادہ سے زیادہ کام لیں؛سواری کااستعمال ناگُزیر حالات میں صرف اُ س ہی وقت کریں جب زیادہ فاصلے یا منزل پر بروقت پہنچنے کے لئے وقت کی کمی کا سامنا ہو؛ محلے کی مسجد میں نماز کی ادائیگی کے لئے جاتے وقت سائیکل، موٹر سائیکل یا کسی اور سواری کا استعمال کر کے اپنی صحت اور ثواب میں کٹوتی کا سا مان کرنے سے اجتناب کریں؛ اچھی اور مثبت سوچ اپنائیں؛ اور سب سے اہم بات یہ کہ موٹاپے کے خلاف جنگ میں کودنے سے پہلے یہ تسلی کرلیں کہ آپ موٹے ہیں بھی کہ نہیں؟کسی ناعاقبت اندیش، کے جلے کٹے ریمارکس کے سے مُتاثر ہوکر اپنی چنگی بھلی صحت کے ہی درپے ہوجانا دانشمندی نہیں؛ اللہ سب موٹوں اور پتلوں کا حامی و ناصر ہو! آمین ۔


Your Thoughts and Comments