Professor

پروفیسر

احمد خان لنڈ ہفتہ جون

Professor
یوں تو مندرجہ بالا اوراس سے ملتے عنوانات پر قلم ریزی کرناخطرے کا باعث ہو سکتا ہے لیکن ہم کوئی بھی ایرے غیرے انسان نہیں ہیں ہم بھی روزانہ کرنل کے چاول،،فوجی کا دودھ ،کمانڈر کا صابن،جنگ کا اخبار،اور خطروں کی ایسی تیسی کرنے والی مشہور کولڈ ڈرنک استعمال کرتے ہیں۔
یوں تو ہم نے بھی اس شعبہ ہائے میں ایک قلیل وقت گزارا اور اعزازی طور پر احباب کی بجانب سے اس لقب کے مستحق "پروفیسر" کہلائے۔

پروفیسرز کا لقب حاصل کرنے اور بی اے کی نہم اور ایم اے کی ششم کُتب بینی کے باوجود ہم وہ تمام خوبیوں حاصل کرنے سے تو برخیر محروم رہے جو کہ پروفیسرز کاخاصہ کہلاتی ہیں۔مثلاَ ہم نہ تو کسی کو ادردو کی اصطلاح دینے کے قابل بن پائے کہ میاں دیکھویہ تم نے کیا تحریر کر دیا۔

(جاری ہے)

 غضب خدا کا! یہ دیکھوں میاں درخواست کا کیا تم نے کیا حال کر دیا۔

غالب اور فیض کے اشعار کا ستیا ناس کرکے انھیں باہم ملا دیا اردو کا آغازسعودی عرب اور ایران سے تحریر کرکے بیچاری زبان اور ماہر لسانیات کی تحقیقات کا بیڑا غرق کر دیا وغیرہ وغیرہ۔ مانا کہ سعودی عرب ہمارا برادر اسلامی ملک ہے اور ان دنوں ہمارا ملک اور سعودی عرب آپس میں خوب بغل گیر ہیں لیکن اس کا قطعی یہ مطلب نہیں کہ عجم کی زبان بھی اہل عرب کے حوالے کردی جائے۔

 
اس عرصہ پروفیسری کے دوران ہم تو نہ کسی کے اردو تلفظ کی اصلاح کروا سکے نہ انگریزی کی بلکہ آدھا تیتر آدھا بٹیر کی مانند بیٹھے بٹھائے اس لقب کے حق دار ٹھرے۔ویسے اگر دیکھا جائے تو یہ بھی پروفیسرز کا ہی خاصہ ہے بیٹھے بٹھائے بھولنے کی عادت پال لیتے ہیں اور جس طرح مغرب میں تو الو کو عقل ودانش کی علامت سمجھا جاتاہے لیکن ہمارے ہاں جب کسی یہ لقب دیا جائے تو بندے کی آدھی زندگی ہسپتال سے علاج کرواتے اور تھانوں کا چکر لگاتے گزرتی ہے۔

ہمارے معاشرے میں تو اب ایک نیا رجحان بھولے کو پروفیسر کہنے کا چل رہا ہے ،اب تو بھولا سائیں بھی پروفیسر کہلاتے ہیں اور بعض اوقات تو اس سج دھج سے وہ گھر سے تشریف لاتے ہیں ہیں کہ بندہ کو تعظیم کی خاطر گھٹنوں کے بل جھکناپڑاہے۔یہ کیا بات تو پروفیسرز کے عادات خصائل سے آداب تک آگئی ۔ایک دفعہ ایک حرف کے تلفظ پر ہماری ایک شخصیت سے بحث ہوئی ،ہم نے بے شمار حوالے دے کر اپنی بے گناہی ثابت کر نا چاہی لیکن موصوف نہ مانے اور فورا گھر سے رابطہ کرکے کے ایک لکڑی کا فریم اور کارڈ منگوایا اور ایک قدر شان بے نیازی سے اسے فریم کو ہماری نگاہوں کے سامنے برہنہ کرکے فرمایا کہ یہ دیکھواور اب بتاو کون درست اور کون غلط ہے ۔

ہم نے شکل سے بھولے سائیں نظر آنے والی شخصیت کے پاس پوسٹ ڈاکڑیٹ کی ڈگری دیکھ کر بے ساختہ اپنی انگلیاں منہ میں دبائی اور گھنٹوں کے بل بیٹھ کر اپنی غلطی تسلیم کرکے آئندہ سے حرف "اُظہار"اور "ُملُخ" پڑھنے کی ضمانت دے کر جان خلاصی کروائی اور اس دن ہم پر اامر کی شہ واضع ہوئی کہ ڈگریاں واقعی بڑی نعمت ہیں ۔
ہماری جانب سے اس گراں قدر موضوع پر تحریر کرنا بہت سی شخصیات کے لئے قابل اعتراض ہو سکتا ہے کہ یہ دو ٹکے کا لونڈا اور اس کی کیا مجال کہ ہمارے ہمارے بارے میں بکے۔

اس اعتراض کے بارے میں سوچتے ہی ہمیں سویلین افراد کے متعلق ایک واقعہ فوراَ یاد آ یا۔ایک مرتبہ ایک کرنل صاحب غلطی سے، اپنی خوشی سے یاخیر کوئی بھی وجہ تھی ایک کنویں میں گر گئے۔سپاہیوں نے انھیں نکالنے کے لیے کنویں میں رسی ڈالی، جونہی کرنل صاحب سطح تک پہنچے سپاہیوں نے کرنل صاحب کو دیکھ کر رسی چھوڑ کر فوراَ سلیوٹ کیا،کرنل صاحب کنویں میں گر گئے متعدد مرتبہ ایساہوتا رہا کہ کرنل صاحب جونہی سطح پر آتے ،سپاہی فوراَ سلیوٹ کرنا شروع کر دیتے۔

سپاہیوں نے مشورہ کیا کہ کیوں نہ کسی ایسے عہدہ دار سے مدد لی جائے جسے کرنل صاحب کو سلیوٹ نہ کرنا پڑے،اس مقصد کے لیے جنرل صاحب کی خدمات لی گئی۔ جنرل صاحب نے رسی ڈالی۔ رسی کو پکڑ کر کنویں والے کرنل صاحب جب سطح کے نزدیک پہنچے تو جنرل صاحب کو دیکھ کر فورارسی کو چھوڑ کر سلیوٹ کیا اور دوبارہ کنویں میں جاگرے ،کئی مرتبہ کی اس ریاضت کے بعد کنویں والے کرنل صاحب کو خیال آیا اور کنویں سے آواز لگائی کہ "اوئے کسی سویلین نو ں سدو"
قارئین اکرام! مندرجہ بالا تمام واقعات اور عادات خصائل ہم جیسے القابی پروفیسرز کے ہیں ،اصلی پروفیسرز حضرات کا ان سے کوئی تعلق نہ ہے،ویسے ہو بھی سکتا ہے ۔

پھر بھی ہمارے دل کی تسلی کے لئے پروفیسرز پروفیسرز ہوتے ہیں چاہے اصلی ہو یا القابی۔ 

Your Thoughts and Comments