Sahafion Ki Ishq Mashooqi

صحافیوں کی عشق معشوقی

حسن نصیر سندھو منگل مئی

Sahafion Ki Ishq Mashooqi
اللہ تعالی نے اپنے برگزیدہ بندوں پر بے شمار کتابیں اتاری ہیں کچھ بوڑھے صحافیوں کی تحریریں پڑھ کر لگتا ہے کہ شیطان نے بھی اپنے برگزیدہ بندوں پر کتابیں اتاری ہیں۔ایسے صحافی اکثر اپنے جونیئرز کو ڈانٹ کر پوچھ رہے ہوتے ہیں کیا تم نے لوگوں سے کہا کہ میں احمق ہوں؟؟ اور جونیئر بھی باکمال صحافی ہوتے ہیں۔ خوف سے کانپتے ہوئے جواب دے جاتے ہیں کہ نہیں جناب لوگ پہلے ہی سے یہ بات جانتے ہیں۔


ایسے صحافیوں کے صبر کا پیمانہ اکثر لبریز رہتا ہے، منہ پھٹ ہوتے ہیں اور عموما بد دعا دینے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ چاہے اپنی جان کا خطرہ ہی کیوں نہ ہو مثلا دو صحافی ایک کشتی پر سوار تھے۔ کہ اچانک طوفان آگیا، ایک بولا کہیں ایسا نہ ہو کہ کشتی سمندر میں ڈوب جائے دوسرا بولا ڈوب جائے تو بہتر ہے کمبخت نے پیسے بھی تو زیادہ ہم سے لیے ہیں۔

(جاری ہے)

ایسے صحافی عموماً حسن پرست ہوتے ہیں۔ اپنی بیویوں کو طلاق دے کر اپنی سیکرٹری سے بھی شادی کر لیتے ہیں۔ ہمیں دوسری شادی پر اعتراض نہیں پر طلاق پر ضرور اعتراض ہے۔ دوسری تیسری اور چوتھی شادی کی خواہش رکھنے والے یہ بوڑھے صحافی بناؤ سنگھار کا سامان ساتھ رکھتے ہیں۔ مثلا چاہے گنجا ہی کیوں نہ ہو اپنی جیب میں کنگی رکھیں گے۔ دانت پانچ دس ہی کیوں نہ ہو ں۔

پوری بتیسی رکھیں گے ایسے ایک صحافی، شادی کی تقریب میں مجھ سے خوش ہوتے ہوئے پوچھا میں کتنے سال کا لگتا ہوں؟ میں نے بولا بالوں سے 16 کے, جسم سے سترہ کے اور دانتوں سے اٹھارہ کے ان کے چہرے پر خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ مجھ سے رہا نہ گیا اور دوبارہ بولا ان سب کو جمع کرا لو تو اکاون سال کے لگتے ہیں۔
یہ صحافی بڑے جہاندیدہ ہوتے ہیں انہیں کاروبار کرنا نہیں آتا اور اگر کوئی کر بھی لے تو شیخ لوگ بھی توبہ توبہ کر لیتے ہیں۔

مثلا ایسے ہی ایک سیانے جہان دیدہ صافی نے مٹھائی کی دکان کھولی۔ اسے ایک ملازم کی ضرورت تھی۔ ان کے دوست نے مدر کی نیت سے پوچھا ملازم کیسا ہونا چاہئے؟؟ بوڑھا, جوان, ادھیڑعمر یا تجربہ کار وغیرہ وغیرہ. جہاندیدہ صافی بولے ان باتوں کی کوئی اہمیت نہیں بس بندہ شوگرکامریض ہونا چاہیے۔
ایسے صحافی اپنی بات عموما دلیل سے کرتے ہیں مثلا ایک روحانی محفل میں ایک باریش بزرگ صبح اٹھنے کے فائدے گنوا رہے تھے گفتگو میں ایک دلیل شامل کرتے ہوئے بولے کہ جو ہڈہڈ صبح سویرے گھونسلے سے نکل آتا ہے اس کو پیٹ بھرنے کے لیے کیڑے مکوڑے کھانے کو ملتے ہیں۔

صحافی نے اس باریش بزرگ کو ٹوکا اور بولا۔ کبھی سوچا ہے کہ صبح نکل آنے سے یہ کیڑے مکوڑوں کا کیا حشر ہوتا ہے بزرگ بھی صحافی کی تحقیق کی داد دیے بغیر نہ رہ سکے۔ اور خاموشی میں ہی عافیت جانی۔
ہمارے آج کے دور کے صحافی بھی انہیں کیڑے مکوڑوں کی طرح ہے جو چڑھتے ہوئے سورج کی پوجا میں لگے ہیں تاکہ کوئی ہڈہڈ انہیں کھانا جائے۔ یہ بڑے سمجھدار ہو گئے ہیں ان کے پاس مولانا محمد علی جوہر کے قلم جیسا ہنر تو نہیں ہے۔

پر یہ اپنا قلم صرف وقت کے حاکموں کی قصیدہ گوئی میں اب اٹھایا کرتے ہیں۔ یہ اپنی قوم کو جگا تو سکتے ہیں پر آج کل کی نوجوان نسل کو سلا نے کے لیے بوریت سے بھرپور، تعلیم سے خالی، افادیت سے کھویا ہوا اور خوشامد کی چاشنی سے بھرا ہوا لکھتے ہیں۔ ایسے صحافیوں کے لئے آج صرف خواجہ آصف کے چند الفاظ کچھ شرم ہوتی ہے، کوئی حیا ہوتی ہے، گریس ہوتی ہے۔

Your Thoughts and Comments