Sahib E Jaidad

صاحب جائیداد عطاء الحق قاسمی یا …”وہ“ …؟!

حافظ مظفر محسن بدھ دسمبر

Sahib E Jaidad
غریب آدمی (یعنی عام پاکستانی) سمجھتے ہیں کہ اگر کسی کا 2 مرلہ کا سنگل سٹوری گھر ہو تو وہ صاحب جائیداد ہوتا ہے…
کسی کو چے کسی کٹڑے سے جائے تو فقط حاجی
اگر گلبرگ سے جائے تو وہ ”الحاج“ ہوتا ہے
یہ تو بہت سال پہلے سے نامور مزاحیہ شاعر جناب سید ضمیر جعفری اُن کے دوسرے اشعار کے ساتھ میں اکثر گنگناتا ہوں، انجوائے کرتا ہوں … حالانکہ اس کی تمام شاعری قابل ستائش ہے۔

اس کے بہت سے اشعارضرب المثل ہیں …
ہم سمجھتے تھے کہ صاحب جائیداد وہ ہوتا ہے جو ستر سال کی عمر سے پہلے حج یا عمرہ کی سعادت حاصل کر لے … ہم ”عام آدمی“ ہماری پہنچ ”اسی لیول“ کی تھی اور ہم خوش تھے کے ہم ”صاحب جائیداد“ بھی ہیں اور ابا جی کو حج کی سعادت بھی اللہ پاک نے عطا کر دی ہے۔

(جاری ہے)


ایک دن میں نے استاد کمر کمانی کے حضور یہ بات رکھی تو ہنس ہنس کہ پاگل (مزید) ہو گیا اور بولا” تعلیم نے تیرا کچھ نہیں بگاڑا محسنا“ مجھے بُرا لگا اپنا نام بگڑتا دیکھ کر … مگر موضوع اس باریک نکتے سے زیادہ اہم تھا جو میرے سامنے چھڑا ہوا تھا۔

میں نے یہ ”بے عزتی“ برداشت کی … ویسے ہم ”عادی“ ہی تو ہو چکے ہیں ہلکا پھلکا بے عزت ہونے کے۔
” جاہلا “ تمہیں پتا بھی نہیں چلا کہ ”صاحب جائیداد“ کون ہوتے ہیں … ؟!!!
میں نے سنجیدگی ظاہر کرتے ہوئے کہا ”استاد جی ہم جیسے ہی صاحب جائیداد ہیں … دو مرلے کا گھر اور ابا جی کا عمرہ … حج مبارک کر لینا …
استاد کمر کمانی اٹھا اُس نے غصے میں دیوار پر ٹکر دے ماری … (ہلکی سی … یہ سیانامفکر ہے۔

ہمارے دوسرے دانشوروں کی طرح) اور قہقہے لگاتا ہوا واپس مڑا …
”جاہل شخص“ … ”یہ معیار“ تو کبھی بھی نہیں رہا … ”صاحب جائیداد کا“ … یہ تو پرانے وقتوں میں بھی غربت کی نشانی تھی …؟!
تو پھر عطاء الحق قاسمی صاحب ”صاحب جائیداد“ ہیں…؟!
میں نے غصے میں کہا … ”ہم ہم ہم ہم“ … پھر وہی ”جہالت“ ماڈل ٹاون سے اُٹھ کے اقبال ٹاون …پھر ”گھوڑا کالونی“ ایک گھر تین فیملیاں … ”واہ واہ“ یہ تیری پرواز ہے … اور یہ ہے تُو … استاد نے میرے ماتھے پر انگلی ٹھونس دی …
”ٹھوڑی ترقی ہے استاد ۔

۔؟ عطاء الحق قاسمی نے پہلے وقتوں میں ایم اے کیا (یعنی اعلی تعلیم) پھر لیکچر شپ امریکہ کادو سال کا دورہ یعنی جوانی میں محنت مزدوری … پھر لیکچر شپ (لبمبر یٹا سکوٹر) اقبال ٹاون میں صحافی بلا ک والا گھر اورپھر ساری جمع پونجی ، گھر ”گھوڑاا کالونی“ والی رہائش … اور کیا ہوتا ہے … صاحب جائیداد …؟“
میں نے اپنے تئیں وضاحت کی۔

۔ تم نے کچھ باتیں عطاء الحق قاسمی کے بارے میں نہیں کیں … وہ پارٹ ٹائم صحافی ہیں صاحب کتاب اور روز ”روزنِ دیوار“ سے لکھنا جان جو کھوں کا کام تھا کتاب یہ بھی قلم کی مزدوری تھی …؟
اب اُس گھر میں عطاء کے ساتھ بیٹے … اس کی فیملیاں اور اولادیں بھی تو وہیں ہیں …؟
مشاعرے … وغیرہ وغیرہ …
یہ بھی سب الگ معاملے ”تو پھر“؟! … میں نے غصے میں استاد کمر کمانی کو دیکھا
”ڈیئر دانشور“ … ”اپنی سمت درست کر … اپنی بڑی بڑی آنکھیں مزید کھول … اپنے ارد گرد دیکھ … کھوتے گھوڑے کی پہچان ہونی چاہیے تھے … اطلاع آئی تھی کہ بہت سے بڑے بڑے سرکاری ملازموں کی ”اربوں روپے کی جائیدادیں امریکہ میں پڑی ہیں“ اُس میں اک نام کیپٹن نصیر کا بھی تھا جو شاید پنجاب کا چیف سیکٹری بھی تھا … یہ بات پرانی ہے لیکن مجھے ابھی تک یاد ہے پرانے وقتوں میں ان کی امریکہ میں کروڑوں کی جائیدادیں تھیں … پھر ”سرے محل“ کی بات ہوئی … جو خریدنے کی سکت برطانوی (دولت مند) شہریوں میں بھی نہ تھی … اب وہ تیرا فیصل آباد والا عابد شیر علی برطانیہ میں کروڑوں پاونڈز کے اثاثے تلاش کرتا پھر رہا ہے۔

تیرے سیاستدانوں کے یہ نہر کنارے چالیس چالیس کنال کے گھروں میں رہنے والے … چار چار سو ایکڑ میں ”فارم ہاؤس“ میں چھٹیاں منانے والے … اس پر تیرا دھیان کیوں نہیں جاتا … سندھ میں میلوں تک زمینوں کے مالک …؟!!
یہ ہوتے ہیں ”صاحب جائیداد“ …!
خیر نیا دور ہے نئے ارادے ہیں نئے دعوی … ہیں اور اکِ آس ہے؟!!
کچھ تو گرفت میں ہیں لیکن ”صاحب جائیداد“ جو دس بیس سال میں ککھ سے لکھ پتی … کروڑ پتی … نہیں نہیں ارب پتی بنے … دیکھتے ہیں … وہ کب آتے ہیں گرفت میں …؟!!
صنوبر خان کی محبت میں لکھا ہوا ایک بے ضرر قطعہ پیش خدمت ہے …
باتوں کے تیری تابع ہیں کردار کے تابع
ہم دوست ہیں سچ پوچھ ہیں یار کے تابع
کرتا ہے تو پسند کوہاٹ کی نسوار
کوہاٹ کے تابع تیری نسوار کے تابع

Your Thoughts and Comments