Shairi Chore Day Picha Mera Mein Baz Aaya

شاعری چھوڑ دے پیچھا میرا میں باز آیا

پیر اپریل

Shairi Chore Day Picha Mera Mein Baz Aaya
 اقبال مسعود
جس طرح آج تک یہ فیصلہ نہیں ہو سکا کہ مرغی پہلے پیدا ہوئی یا انڈا،اسی طرح یہ بات بھی آج تک طے نہیں ہو سکی کہ شاعری انسان کو مرضِ بے خوابی(Insomnia)عطا کرتی ہے یابے خوابی انسان کو شاعر بناتی ہے ۔گمان غالب ہے کہ جب آدمی کو نیند نہیں آتی اور اس کے پاس کوئی دوسرا مشغلہ بھی نہیں ہوتا تو وہ شاعری شروع کر دیتا ہے،لیکن یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آدمی شاعری شروع کرے اور اس کی راتوں کی نیند حرام ہو جائے ،اس لیے کہ کبھی کبھی ایک مصرع یا ایک گرہ لگانے میں شاعر کو سخت آزمائشوں سے گزرنا پڑتا ہے ،لیکن شاعری صرف مرضِ بے خوابی ہی عطا نہیں کرتی ،بے خوابی سے کہیں زیادہ مہلک بیماریاں بھی شاعر کو لاحق ہو جاتی ہیں۔


ہوایوں کہ ایک شاعر تھے۔

(جاری ہے)

ان کی شادی ہو گئی۔بیوی شاعری سے قطعاً نا بلد تھیں۔انھوں نے جب اپنے شوہرِ نامدار کو دل اور جگر کی خرابیوں کا تذکرہ گن گناتے سنا تو فوراً حکیم صاحب سے رجوع کیا اور حکیم صاحب نے ابلا کھانا،کھٹی بادی چیزوں کا پر ہیز اور چکنائی قطعاً ممنوع قرار دے دی اور بیوی نے حسبِ ہدایت حکیم صاحب شوہر کے لیے پر ہیزی کھانا پکانا شروع کر دیا ۔

یہ ازدواجی زندگی میں ناچاقی کی ابتدا تھی۔پھر تو دونوں میں رات دن جھگڑے شروع ہو گئے۔شاعر جب بیوی کو اپنا کوئی شعر والہانہ انداز سے سناتے تو بیوی فرماتیں”بھلا آپ کو کیا فائدہ ہوتا ہے ایسی باتیں کرکے جن کا کوئی سرپیرنہیں ہوتا۔آپ بتائیے اگر کسی لڑکی کا قدسرو کے برابر ہو گا تو بھلا اس سے شادی کون کرے گا۔موئی پندرہ بیس فٹ لمبی لڑکی کا کیا کرے گا“۔


اچھا یہ بتلائیے کہ بھلا سیاہ بالوں کو بادل کیوں کہتے ہیں ۔بادل توروئی کے گالوں کی طرح ہوتے ہیں ۔
کیا واسطہ بھلا بالوں سے۔کیا بادلوں میں آنولہ ہےئرآئل ڈالا جاتا ہے یا ان میں جوئیں پڑتی ہیں یا ان کو شیمپو سے دھویا جاتا ہے ۔اچھی بھلی آنکھوں کو آپ کہتے ہیں میخانہ ،شراب کاجام ،ساغر۔اول تو یہ حرام چیزیں ہیں کسی مسلمان لڑکی کی آنکھوں کو حرام چیز سے تشبیہ دینا گناہ ہے دوسرے بادام برابر آنکھیں بھلا اتنا بڑا سا غریا میخانہ کیسے ہو سکتی ہیں ۔

پھر آپ کہتے ہیں کہ گال سیب ہیں ،ہونٹ سنترے کی قاشیں ہیں، تولڑکی بیچاری کیا فروٹ سلاد ہے ۔اے اللہ نہ کرے۔پھر آپ پرائی بہو بیٹیوں کے بارے میں جو یہ اول فول لکھتے ہیں تو آپ نامحرم ہیں اور آپ کو بالکل زیب نہیں دیتا کہ شریف ناکتخداعورتوں کے بارے میں ایسی بے حیائی کی باتیں کریں ۔ا ب آپ نے وہ جوشعر سنایا تھا:
وہ لجائے میرے سوال پر کہ اٹھا سکے نہ جھکا کے سر
گری زلف چہرے پہ اس طرح کہ شبوں کے راز مچل گئے
تو میں پوچھتی ہوں کہ بھلا ایسا بے ہودہ سوال کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی کہیں شریف خواتین سے ایسے سوال کیے جاتے ہیں اور اگر وہ غریب شرما گئی تو اس پر اعتراض کیوں کررہے ہیں اور وہ شعر:
وصل کی صبح کا عالم ارے تو بہ توبہ
نیند آنکھوں میں ہے انگڑائی پہ انگڑائی ہے
تو آپ بتائیے کہ کسی کے گھریلو معاملات میں آپ دخل دینے والے کون اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ انگڑائی پہ انگڑائی اس لیے آرہی ہے کہ وہ فارغ الوصل ہو چکی ہے تو کیا آپ ولیمہ کا انتظام کریں گے۔

اول تو آپ کا انگڑائی کی حالت میں نظر ڈالنا ہی گناہ ہے کہ پتہ نہیں غریب دوپٹہ اوڑھے بھی ہے یاڈھلک چکا ہے ۔
دوسرے یہ بھی ممکن ہے کہ رات وہ مچھروں کی بہتات کی وجہ سے نہ سو سکی ہو اور آپ نے اس پر ”وصل“کی تہمت لگادی ۔
میں آپ سے کہتی ہوں ،یہ شریفوں کا چلن نہیں ہے۔
میری سمجھ میں تو آپ کی شاعری بالکل نہیں آتی۔آپ نے کبھی میرے سامنے تو شراب نہیں پی،مگر آپ ذکر ایسے کرتے ہیں جیسے آپ ہمیشہ نشے کی حالت میں رہتے ہوں ۔

اللہ آپ کو اس بری عادت سے محفوظ رکھے،مگر جب پیتے نہیں تو پھر جھوٹ کیوں بولتے ہیں کہ:
مجھے پینے دے پینے دے کہ تیرے جام لعلیں میں
ابھی کچھ اور ہے ،کچھ اور ہے ،کچھ اور ہے ساقی
مجھے بتائیے یہ کون ہے موئی ساقی جس کے ”جامِ لعلیں“سے آپ پینے کا سوچتے ہیں ۔میں اس کی وہ دُرگت بناؤں گی کہ پھر وہ اسپتال میں ڈاکٹروں کو پلا رہی ہوگی۔
حالانکہ میں نے آپ کو کبھی کسی غیر عورت کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھتے ہوئے بھی نہیں پایا مگر آپ کی شاعری سے مجھے ڈرلگتا ہے ۔

آپ نے ”محبوب ،محبوب“کی جورٹ لگا رکھی ہے اسے اللہ کے واسطے بند کیجیے۔پھر یہ موامحبوب ہے کون۔محبوبہ بھی نہیں بلکہ محبوب۔تو کیا وہ کوئی آدمی ہے ۔اوراگر آدمی ہے تو بھلا اس کے لب ،رخسار ،سینہ ،زلفیں، پلکیں،آنکھیں ،کمر آپ کے لیے پُر کشش کیسے ہو سکتی ہیں ۔میں کیا مرگئی ہوں۔ آپ ماشاء اللہ بال بچوں والے آدمی ہیں اپنا گھربار دیکھیے ،دوسروں کے گھروں میں جھانکنے سے کیا فائدہ ،اللہ سے ڈریے مجھے حیرت ہے کہ یہ غیرشرعی باتیں آپ اپنی غزلوں میں لکھ کر مشاعرے میں پڑھ دیتے ہیں اور لوگ بے غیرتی سے سنتے ہیں اور واہ واہ کرتے ہیں،اور پولیس بھی ان موئے شاعروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرتی جو علی الاعلان ایسی بے ہودہ باتیں کرتے ہیں ۔

ماٹی ملے اللہ رسول کی باتوں پرواہ واہ کریں تو ٹھیک ہے لیکن وہ تو ایسے شعروں پر واہ واہ کرتے ہیں جیسے:
اف تری چشمِ فسوں ساز کا انداز
ہراک کو یہ گماں کہ مجھے دیکھ رہی ہے
یہ تو کسی کوٹھے کا منظر ہے اور اس کی سیڑھیوں پر چڑھنا گویا اللہ مارے جہنم کا ایندھن بننا ہے یا پھر یہ شعر:
محفل میں تم اغیار کو دزدیدہ نظر سے
منظور ہے پنہاں نہ رہے راز تو دیکھو
اب اگر وہ غریب چوری چھپے بھی کسی غیر کو دیکھ رہی ہے تو آپ کو راز کھل جانے کا اندیشہ ہے ۔

تو پھر اسے غیروں کے بیچ بیٹھنے کیوں دیا،وہ تو دیکھے گی ہی آنکھیں تو بند نہیں کرلے گی۔اگر شاعری ہی کرنا ہے اور اس کے بغیر آپ کا پیٹ نہیں بھرتاتو نعت لکھیے،حمد لکھیے اور اپنے گناہوں سے توبہ کیجیے۔
اب بے چارہ شاعر کرتا تو کیا کرتا زندگی ضیق میں آگئی اٹھتے بیٹھتے یہ مصر عہ زیرلب بدبدانے لگا:
شاعری چھوڑدے پیچھا میرا میں باز آیا
زور سے بولنے میں خدشہ تھا کہ بیوی شاعری کے بجائے اپنے لیے یہ مصرعہ نہ سمجھنے لگے ورنہ ابھی تو نیند ہی نہیں آتی تھی اب کھانے پینے سے سکھ سویدھا سے بھی ہاتھ دھونے پڑیں گے اور بیوی الگ اٹواٹی کھٹواٹی لے کر پڑجائے گی یا مائیکے جانے کی دھمکی دینے لگی گی۔

Your Thoughts and Comments