Aam Badshah Or Hum Faqeer

آم بادشاہ اور ہم فقیر

بدھ اگست

Aam Badshah Or Hum Faqeer
سید ممتاز علی بخاری
آم کھانے کا تجربہ ہمارے لیے ہمیشہ سے نا خوشگوار رہا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہم آم کھانے کھلانے والی محفلوں سے دور ہی رہتے ہیں۔ ہمارے اکثرادبی دوست آم کے ساتھ روا رکھے گئے ہمارے رویے کو دیکھ کراس بات سے انکاری ہو جاتے ہیں کہ ہمارا شمار بھی ادیبوں میں ہو سکتا ہے۔ وہ ہمیں اقبال و غالب کی مثالیں دیتے ہیں کہ جو جنون کی حد تک آم کے عشق میں مبتلا مشہور تھے۔

اس سے وہ یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ ادیب کے لیے آم سے محبت ضروری ہے ۔ ہم ان کے اس موٴقف سے اتفاق نہیں کرتے اور اپنی اس سوچ کی تائید میں ہم انہیں میر تقی میر، میر درد، نواب داغ دہلوی اور فیض و مومن کی مثالیں پیش کرنے سے ذرا بھر بھی نہیں دریغ کرتے۔ حالانکہ اس حوالے سے ہمارے پاس کسی قسم کی کوئی ضعیف روایت بھی دستیاب نہیں جس سے ہم ان حضرات کی آم سے نفرت ظاہر کر سکیں۔

(جاری ہے)

ہمارے دوست بھی ہم سے یہی سوال کرتے ہیں کہ آیا ہمارے پاس اس قسم کی کوئی معلومات ہیں جو ان کے موٴقف کی مخالفت میں ہم انہیں پیش کر سکیں لیکن ہم زیر و زبر تو کر سکتے ہیں لیکن پیش کرنا ممکن نہیں کیونکہ ہمارے علم میں بھی ان کی کوئی حرکت تاریخ محفوظ کرنے سے محروم رہی یا پھر آم تاریخ دانوں کے پسندیدہ پھلوں میں شامل ہے۔ہم دوستوں، آم محب لوگوں اور تاریخ کے اس گٹھ جوڑ کو اس دلیل سے رد کرتے ہیں کہ اگر ان حضرات کی آم سے نفرت کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی تو آپ مجھے ان کی آم سے محبت ہی کا کوئی ثبوت فراہم کر دیں۔


آم کو پھلوں کا بادشاہ کہا جاتا ہے۔ یہ عہدہ اسے کس الیکشن کمیشن کے ذریعے حاصل ہوا تاریخ اس کے بارے میں کچھ بھی بتانے سے قاصر ہے۔ خیر جس نے بھی دیا اس نے پھلوں کی دنیاکے ساتھ نہایت زیادتی کی وگرنہ اِس منصب کے اس سے بڑھ کر کئی پھل اہل تھے لیکن شاید کہیں دھونس دھاندلی والا معاملہ ہو گایا پھر اس الیکشن میں باقی قابلِ ذکر پھل بائیکاٹ کئے بیٹھے ہوں گے۔

ہم آم کو اس لیے پھلوں کا بادشاہ ماننے کے مخالف ہیں کہ یہ پھل شاہانہ طریقے سے نہیں کھایا جا سکتا۔ اس کو کھانے کے لیے ادب اور تمیز کے دائرے سے نکلنا پڑتا ہے۔ہمارے اکثر احباب ہماری اس چڑ سے بخوبی واقف ہیں اور اکثر و بیشتر ہمیں تنگ کرنے اور ہم سے جان چھڑانے کے لیے محفل میں آم منگوا لیتے ہیں اور پھر آم کو دیکھتے ہی ہم رفوچکر ہو جاتے ہیں۔

اب یہ تو ہمیں معلوم نہیں کہ انہیں آم سے زیادہ محبت ہے یا صرف ہمیں تنگ کرنے کاچکرہے۔جب کبھی انہیں ہمیں تحفہ دینے کے لیے دل کرتا ہے تو وہ آم ہی تحفے میں دیتے ہیں۔
ابھی پچھلے دنوں ہی کا ذکر ہے کہ ہمارے ایک مہربان ثقلین ہارون( جو مظفر نگر کے رہنے والے تھے) ہمیں ملنے کے لیے جب تشریف لانے لگے تو انہوں نے گھر سے نکلنے سے پہلے ہم سے رابطہ کیا۔

سلام دعا کے بعد ہم سے سوال کیا کہ آپ سندھڑی، چوسر، لنگڑااورقلمی میں سے آپ کیا پسند کرتے ہیں؟ اب یہ تو ہمارے فرشتوں کو بھی علم نہیں تھا کہ یہ کن بلاوٴں کے نام ہیں ۔ خیر ہماری چھٹی حس کچھ ہم پر زیادہ ہی مہربان ہو گئی اور ہم نے اس کی خدمات لیتے ہوئے اتنا سمجھ لیا کہ یہ کسی کھانے ہی کی چیز کا نام ہوگا۔ اصل میں یہ نام سنتے ہی ہمارے منہ سے رال ٹپکنا شروع ہو گئی تھی جسے ہم نے بڑی مشکل سے قابو کر رکھا تھا۔

ہم نے اللہ توکل کرتے ہوئے اندازے سے قلمی کا نام لیا کیونکہ اس نام سے ادیبانہ رنگ جھلکتا تھا باقی تو نام بھی عجیب و غریب تھے۔ہماری اس لا علمی کی وجہ یہ تھی کہ آم سے ہماری واقفیت بہت ہی کم ہے اور دوسرا ہم اس بات سے لاعلم تھے کہ آم کی جائے پیدائش کون کون سی ہے۔ جب ہماری ثقلین سے ملاقات ہوئی تو کافی دیر گپ شپ کرنے کے بعد اُس نے ایک "چھوٹی سی" پیٹی ہمارے حوالے کی ۔

ہم نے دریافت کیا کہ اس میں کیا ہے تو اس نے بڑی رسانیت اور محبت و اخلاص کو سمیٹتے ہوئے ہمیں اس میں آموں کی موجودگی کی دھماکہ خیز خبر سنائی۔اس کی یہ بات سنتے ہی ہم اپنی جگہ سے اچھل پڑے اور بے اختیار ہماری آنکھوں میں آنسو آگئے۔ ہماری یہ حالت دیکھ کر ثقلین فوراً ہمیں سہارا دینے کو لپکے۔ اگر وہ ایک سیکنڈ بھی دیر کرتے تو ہم زمین بوس ہو جاتے کیونکہ ان کے سہارا دیتے ہی ہمارے ہوش و حواس کھو گئے۔

ثقلین نے ہمیں پانی پلایا اور کافی دیر کی کوشش کے بعد ہمیں ہوش دلانے میں کامیاب ہوا۔ ہمیں جب ہوش آیا تو ہم نے سب سے پہلے ثقلین کا متفکر چہرہ دیکھا۔ اس نے جیسے ہی ہماری کھلی آنکھیں دیکھیں تو خود پر قابو نہ رکھ سکے اور فوراً اس بے ہوشی کی وجہ دریافت کرنے لگے۔ اب ہم اس شش و پنج میں مبتلا ہو گئے کہ انہیں اصل بات بتائی جائے یا ناں۔۔۔ کیونکہ وہ اتنے دور سے اتنے پیار اور خلو ص کے ساتھ ہمارے لیے تحفہ لایا تھا۔

اب اسے کیا علم کہ ہم جو اقبال و غالب کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے اور ان کے اشعار ہر وقت ہماری زبان پر تھرکتے رہتے ہیں، ہمیں ان کی محبوب ترین شے سے اتنا گریز ہو سکتا ہے حالانکہ ان کے خلاف کوئی فتویٰ وغیرہ بھی موجود نہیں۔بڑی مشکلوں سے ہم نے انہیں اپنے اور آم کے تعلقات سے آگاہ کیا اور درخواست کی کہ یہ آم آپ کسی اور دوست کو دے دیں کیونکہ ہم اس تحفے کا حق ادا کرنے سے قاصر ہیں۔

ثقلین یہ سن کر غصے سے لال پیلا ہو گیا اور کہنے لگا کہ مجھے اس سے کوئی غرض نہیں کہ آپ ان آموں کے ساتھ کیا سلوک کریں گے۔میں اتنے دور سے کتنے خلوص کے ساتھ تحفہ لایا ہوں۔ اب آپ کو یہ قبول کرنا ہی ہو گا۔بڑی منت سماجت کے بعد ہم نے اسے اس بات کے لیے راضی کر ہی لیا کہ وہ پیٹی سے پانچ چھ آم نکال کر ہمیں دے دیں اور باقی پیٹی وہاں ملاقات کے لیے آنے والے احباب کے" ذوقِ خورد "کی نظر کئے جائیں۔

انہوں نے فوراً پانچ چھ آم الگ کر کے ایک شاپنگ بیگ میں ڈالے اور باقی کا افتتاح کرنے کے لیے ایک پلیٹ میں ڈال کر ہمارے سامنے رکھ دئیے۔اب ہم ایک بار پھر پریشان ہو گئے کیونکہ ہم نے اپنی پوری زندگی میں کبھی کسی محفل میں آم نہیں کھائے تھے۔ اس وقت ہماری وہی حالت تھی جیسی ایک دیہاتی کی چمچ کانٹے دیکھ کر ہوتی ہے۔لیکن پھرپتا نہیں کیسے ثقلین کو ہم پہ رحم آگیا کہ اس نے ہمیں بنا آم کھلائے رخصت کی ایک دم اجازت دے دی۔

ہم جب وہاں سے نکلنے لگے تو ہم نے چور نظروں سے اِدھر اُدھر دیکھا کہ کہیں کوئی ہمارا جان پہچان والا ہمیں آموں کے ساتھ رنگے ہاتھوں پکڑ نہ لے۔
رات کا وقت تھا اور ہماری یہ ”چوری“پکڑے جانے کے آثار بھی بہت کم تھے لیکن احتیاط پھر بھی ضروری تھی کہ آموں کا یہ شاپنگ بیگ کہیں ہماری برسوں کی کمائی عزت پر داغ نہ لگا دے کیونکہ ہم سرف ایکسل کی انتظامیہ کی طرح داغ کو اچھا نہیں سمجھتے۔

ہم نے آموں کا تھیلا ایسے اٹھا رکھا تھا جیسے بم ڈسپوزل سکواڈ والے بم اٹھا تے ہیں۔ تھوڑی دیر میں ہی ہم اپنے ہاسٹل پہنچ گئے۔ وہاں پہنچ کر ہم نے اپنے کمرے کا دروازہ بند کیا ۔ اپنی پھولی ہوئی سانسوں کودرست کیا اور پھر اس سوچ میں پڑ گئے کہ انہیں کیسے ٹھکانہ لگایا جائے۔ ہمارے آم نہ کھانے کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ آم کھاتے ہوئے بندہ انسان کم اور بندر زیادہ لگتا ہے۔

ہم اس وقت کمرے میں اکیلے تھے سو ہم نے ایک آم تھیلے سے نکالا اور تھوڑی دیر اسے ٹینس بال کی طرح دیوار پر پھینکتے رہے۔ اس احتیاط کے ساتھ کہ کہیں آم پھٹ نہ جائے کیونکہ پھٹا ہوا آم کھانا اور پھٹے ہوئے دودھ کو پینا یقیناً ایک دردناک مرحلہ ہوتا ہے۔خیر کچھ دیر میں آم جب پینے کے قابل ہو گیا تو ہم نے ایک سوراخ کیا اور لگے آم پینے۔۔۔۔ آم خود سے دشمنی بھلا کیسے بھول سکتا تھا؟ ہم نے جیسے ہی آم کو دبایا تو اس کی گٹھلی ایک دم ہمارے ناک منہ کو ماسٹر پینٹ کی طرح یک رنگ بنا گئی۔

منہ صاف کرنے کے چکر میں ہم ادھر ادھر ہاتھ پاوٴں مار ہی رہے تھے کہ اچانک ہمارے کمرے کا دروازہ کھلا اور میرے چند ہم نفرتِ آم دوست (جو آم سے نفرت کے حوالے سے میرے ہم پیالہ و ہم نوالہ تھے) دروازے سے داخل ہوئے۔۔۔!!

Your Thoughts and Comments