Jungle Ka Badshah

جنگل کا بادشاہ

بدھ اپریل

Jungle Ka Badshah
بہت عرصہ پہلے میں نے ایک فلم ’’پھنے خان‘‘ دیکھی تھی جس میں علائو الدین مرحوم نے ’’پھنے خان‘‘ کا کردارادا کیا تھا۔ پھنے خان لاہور کا مخصوص کردار ہے۔ آپ اسے جعلی بدمعاش بھی کہہ سکتے ہیں۔ چنانچہ متذکرہ فلم میں علائو الدین جہاں چار لوگ اکٹھے ہوتے ہیں اپنی قمیض کے دامن سے پنکھے کا کام لیتے ہوئے کہتا ہے، بڑی گرمی ہے، اور یوں دامن اوپر اٹھائے جانے سے نیفے میں اڑسا ہوا چاقو نظر آجاتا ہے اور یہی اس کا مقصود ہوتا ہے، کیونکہ وہ لوگوں کو اپنے بارے میں یہ یقین دلانا چاہتا ہے کہ وہ بہت بڑا بدمعاش ہے۔

یہ ’’پھنے خان‘‘ کا کردار مجھے اپنے ہاں کے بعض سیاست دانوں کو دیکھ کر یاد آتا ہے، یہ بے چارے بھی اندر سے ’’پھنے خان‘‘ کی طرح معصوم اوربھولے بھالے لوگ ہوں گے، مگر یہ اپنے بارے میں مسلسل یہ تاثر دینے میں لگے رہتے ہیں کہ وہ امریکہ کے آدمی ہیں چنانچہ جب بھی فضا میں گھٹن ہوتی ہے، یہ اپنی قمیض کے دامن سے پنکھا کرتے ہوئے کہتے ہیں ’’بڑی گرمی ہے‘‘ اور اس دوران ان کے نیفے میں اڑسا ہوا ’’امریکہ‘‘ نظر آجاتا ہے، جس سے بے چارے دیکھنے والے سہم کر رہ جاتے ہیں۔

(جاری ہے)


ایک اسی طرح کے ’’پھنے خان‘‘ سیاست دان سے گزشتہ روز میری ملاقات ہوئی۔ وہ کافی دیر تک مجھے یہ تاثر دیتے رہے کہ وہ امریکہ کے آدمی ہیں اشاروں، کنایوں میں انہوں نے
مجھے یہ بھی بتا دیا کہ تھوڑی دیر پہلے جو فون کی گھنٹی بجی تھی وہ صدر اوبامہ کی تھی۔ انہوں نے مجھے یہ تاثر دینے کی کوشش بھی کی کہ وہ ان دنوں صرف سگنل کے منتظر ہیںلیکن جب ان کے بارے میں میرا ایمان بالکل ڈانوا ڈول نہ ہوا تو انہوں نے مجھے ایک اور طرف سے آلیا۔

کہنے لگے ’’یہ تو تم جانتے ہی ہو گے کہ پاکستان ایسے ترقی پذیر ملکوں میں کوئی حکومت امریکہ کی مرضی کے بغیر نہیں بنتی۔ میں نے کہا ’’غالباً آپ ٹھیک کہتے ہیں‘‘ پھر فرمانے لگے ’’اور یہ بھی تمہیں معلوم ہوگا کہ کوئی حکومت امریکہ کی مرضی کےبغیر جاتی بھی نہیں ہے‘‘ میں نے کہا ’’غالباً آپ یہ بھی ٹھیک فرماتے ہیں‘‘ پھر انہوں نے مجھے یہ شعر بھی سنایا۔


بے وقار آزادی ہم غریب ملکوں کی
سر پہ تاج رکھا ہے بیڑیاں ہیں پائوں میں
میں نے اس شعر پر داد دی تو کہنے لگے ’’لوگ میرے بارے میں ایسے ہی افواہیں اڑاتے رہتے ہیں کہ میں امریکہ کا آدمی ہوں حالانکہ صدر اوبامہ سے میرے تعلقات ذاتی نوعیت کے ہیں اگر ہوسکے تو کبھی اپنے کالم میں میرے بارے میں یہ غلط تاثر دور کرنے کی کوشش کرنا۔

‘‘ اس پر مجھے اپنے ایک شاعر دوست یاد آگئے۔ پہلے مجھے وہ اپنے بارے میں کوئی نہایت مضحکہ خیز سی خبر سناتے ہیں پھر کہتے ہیں کہ کہیں اس پر کالم نہ لکھ دینا اور جب انہیں یقین ہو جاتا ہے کہ میں اس پر کالم ضرور لکھوں گا تو آخر میں وہ یہ درخواست کرتے ہیں چلو ٹھیک ہے کالم لکھ دینا لیکن یار کہیں ساتھ میری تصویر نہ چھاپ دینا اور جب میں تصویر چھاپ دیتا ہوں تو اگلے روز وہ مجھے کالم لکھنے اور تصویر چھاپنے پر برا بھلا کہتے ہیں اور اٹھتے اٹھتے اپنے حوالے سے ایک اور مضحکہ خیز خبر سناتے ہوئے کہتے ہیں ’’میں جانتا ہوں تم کمینے آدمی ہو۔

تم میرے روکنے سے بھی کالم لکھنے سے نہیں رکو گے۔ اور تم تصویر چھاپنے سے بھی باز نہیں آئو گے۔ چلو اگر دوستوں کو ذلیل کر کے تمہیں خوشی ملتی ہے تو ہم کہہ سکتے ہیں مگر تصویر یہ والی چھاپنا‘‘ اور اس کے ساتھ وہ اپنی تازہ تصویر بھی عطا کر دیتے ہیں۔ حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ کالم نگار کے علاوہ کالم میں کسی اور کی تصویر شائع نہیں ہوتی ان کی پہلی تصویر بھی میں نے ایڈیٹر کی منت سماجت کر کے شائع کی تھی۔


میں نے ابھی جس سیاست دان کا ذکر کیا ہے کہ وہ اکیلے نہیں ہیں جنہیں پاکستان میں امریکہ کے ’’نمائندہ خصوصی‘‘ ہونے کا دعویٰ ہو اور وہ اس ’’شہرت‘‘ پر خوش ہوتے ہیں بلکہ ایسے کئی ’’دانے‘‘ ہمارے ہاں اور بھی ہیں، جو خود یا ان کے حواری ان کا نام بڑی طاقتوں سے نتھی کرکے ہم کمزور دلوں کو دہلاتے رہتے ہیں۔

حتیٰ کہ ان کی اتنی رازداری سے کی گئی بات بچے بچے کی زبان پر آجاتی ہیں جس طرح ہمارے ہاں سکھوں کے لطیفے مشہور ہیں۔ اسی طرح یورپ میں پولینڈ کے لوگوں کے لطیفے زبان زد عام و خاص ہیں۔ مشتے نمونہ از خردارے کے مطابق ایک سفارتی نمائندے کو بعض انتہائی اہم نوعیت کی دستاویزات حاصل کرنے کے لئے پولینڈ کے ایک جاسوس کے پاس بھیجا گیاجو سی آئی اے کے لئے کام کرتا تھا اور اس کا نام جارج تھا۔

کوڈ لفظ یہ دیا گیا کہ ’’بڑی گرمی ہے‘‘ چنانچہ جب یہ ’’سفارتی‘‘ نمائندہ ہزاروں میل کا سفر طے کر کے پولینڈ کے اس قصبے میں پہنچا جہاں وہ انتہائی خفیہ جاسوس رہتا تھا تو اس نے ایک بار میں داخل ہو کر شراب کا آرڈر دیا اور اسی دوران بار والے سے پوچھا ’’یہاں جارج نام کا کوئی شخص رہتا ہے؟‘‘ اس نے کہا ’’جارج نام کے کئی لوگ اس قصبے میں رہتے ہیں ایک جارج لوہار ہے۔

ایک جارج ٹائپسٹ ہے۔ ایک جارج انجینئر ہے۔ حتیٰ کہ خود میرا نام بھی جارج ہے۔‘‘ اس پر طویل سفر طے کر کے آنے والے شخص نے کہا ’’بڑی گرمی ہے‘‘ یہ سن کر بار والے نے کہا۔ ’’اچھا اچھا تم جارج جاسوس کے بار ےمیں پوچھ رہے ہو۔‘‘ جن سیاست دانوں کا ہم ذکر کررہے ہیں وہ بھی عالمی طاقتوں کے اتنے خفیہ نمائندے ہیں کہ ان کے کوڈ خفیہ نہیں رہے اور یوں بچہ بچہ ان سے واقف ہے، کیونکہ قمیض کے دامن سے پنکھا کرتے ہوئے یہ کوڈ وہ خود دہراتے ہیں کہ ’’بڑی گرمی ہے‘‘ جس سے علاقے میں ان کی ٹور بنی رہتی ہے۔

تاہم یہ خفیہ، اسی طرح کے ’’خفیہ‘‘ ہیں جس طرح کے ایک جلسے کا اعلان سردار جی کررہے تھے کہ ’’سجنو تے مترو! آج خالصوں کا خفیہ جلسہ فلاں جگہ پر فلاں خفیہ مقام پر فلاں وقت ہورہا ہے، سارے مترو وہاں پہنچ جائیں۔‘‘
اب اگر سنجیدگی سے اس مسئلے کے بارے میں میری رائے پوچھی جائے تو بات یہ ہے کہ جنگل ایک ہے بادشاہت کے خواہش مند بہت سے ہیں۔

جس کے پاس طاقت ہو وہ بادشاہ بن جاتا ہے، کیونکہ جنگل کا قانون بھی یہی ہے تاہم کبھی کبھی اس ضمن میں کوئی ’’سانحہ‘‘ بھی پیش آجاتا ہے۔ جنگل کا بادشاہ یعنی شیر ایک روز سیر ہو کر اپنے کچھار سے نکلا۔ رستے میں اسے ایک لومڑی نظر آئی شیر نے اس حقارت سے دیکھتے ہوئے کہا۔ ’’اوئے جنگل کا بادشاہ کون ہے؟‘‘ لومڑی نے ہاتھ جوڑ کر کہا ’’حضور آپ جنگل کے بادشاہ ہیں۔

‘‘ تھوڑی دیر بعد ایک گیدڑ سامنے سے گزرا۔ شیر نے اسے گالی دے کر پاس بلایا اور کہا ’’اوئے جنگل کا بادشاہ کون ہے؟‘‘ گیدڑ نے کہا ’’مائی باپ، آپ کے علاوہ کون ہوسکتا ہے!‘‘ اتنے میں ایک ہاتھی سامنے آگیا۔شیر نے جسے خوراک ’’چڑھی‘‘ ہوئی تھی۔ اسے بھی روکا اور کہا اوئے بتائو جنگل کا بادشاہ کون ہے؟‘‘ ہاتھی نے یہ سن کر جنگل کے بادشاہ کو اپنی سونڈ میں لپیٹا اور اسے اٹھا کر پرے پھینک دیا شیر خفیف سا ہو کر اپنی جگہ سے اٹھا اور کہا ’’قبلہ اس میں اتنا ناراض ہونے کی بات کون سی تھی۔

اگر آپ کو نہیں پتہ تھا کہ جنگل کا بادشاہ کون ہے۔ تو مجھ سے پوچھ لیتے۔‘‘ سو دنیا بھر کے جنگل کے بادشاہوں کو میرا مشورہ ہے کہ وہ گیدڑوں اور لومڑیوں پر بے شک ساری عمر اپنی بادشاہت کا رعب جماتے رہیں لیکن اگر کبھی ان کا سامنا کسی ’’ہاتھی‘‘ سے ہو جائے تو اس وقت ادھر ادھر ہو جائیں یا کم از کم اس سے یہ نہ پوچھیں کہ ’’جنگل کا بادشاہ کون ہے؟‘‘

Your Thoughts and Comments