پاکستان فلم انڈسٹری کے لئے سال 2018 انتہائی اہم رہا‘ فلم انڈسٹری کافی فعال رہی

جمعہ دسمبر 23:42

پاکستان فلم انڈسٹری کے لئے سال 2018 انتہائی اہم رہا‘ فلم انڈسٹری کافی ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 دسمبر2018ء) پاکستان فلم انڈسٹری کے لئے سال 2018 انتہائی اہم رہا کیونکہ اس سال فلم انڈسٹری کافی فعال رہی اور نئے چہرے بھی اس میدان میں اترے۔ جنہوں نے نئے اور منفرد انداز میں جدید تقاضوں سے ہم آہنگ فلمیں بنا کر عوام کی توجہ حاصل کی۔ سال 2018 کو فلم انڈسٹری کی بحالی کا سال قرار دیا جاسکتا ہے کیونکہ اس سال کئی نئی فلمیں بنائی گئیں اور ان فلموں نے بے پناہ بزنس کیا۔

یہ کہنا بے جاء نہ ہوگا کہ 2018 میں فلم انڈسٹری ایک مرتبہ پھر اپنے پائوں پر کھڑی ہوگئی۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ سال 2018 پاکستان فلم انڈسٹری کے لئے مثبت سال رہا، اس سال تقریباً 21 فلمیں پیش کی گئیں،جن میں سے 4 اینی میٹڈ تھیں جنہیں فلم بینوں میں بہت پسند کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق فلم انڈسٹری میں نئے لوگوں کے آنے کے بعد پاکستان میں معیاری اور بہترین فلمیں بننا شروع ہوئی ہیں۔

(جاری ہے)

اس وقت اردو، پنجابی، پشتو کے علاوہ سرائیکی اور سندھی زبان میں بھی فلمیں بن رہی ہیں اور فلمی صنعت میں پہلی بار پاکستان میں بنائی جانے والی اینی میٹڈ فلموں نے بھی اپنی ایک مستحکم مارکیٹ بنا لی ہے۔ اچھی پروڈکشن،عمدہ ہدایتکاری، اچھی کاسٹ اور معیاری سکرپٹ کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے باعث اب ایک مرتبہ پھر پاکستانی فلمیں ملک اور بیرون ملک اپنی پہچان بنارہی ہیں۔

فلم ’’پرواز ہے جنون‘‘، سات دن محبت ان، کراچی سے لاہور، لوڈ ویڈنگ، یہ جوانی پھر نہیں آنی، ڈونکی کنگ، اللہ یار اینڈ دی لیجنڈ آف مارخور، ’خدا کیلئے‘ اور’ بول ‘کے بعد ’’پنجاب نہیں جائوں گی‘‘، تیرے بن، ’کیک‘ ’پرچی‘ اور ’طیفا ان ٹربل‘ عوام میں بے حد مقبول ہوئیں۔ فلم ’یلغار‘ کو بھی شائقین نے بے حد پسند کیا۔ اس دوران کچھ فلمیں فلاپ بھی ہوئیں۔

ان میں سید نور کی فلم موٹر سائیکل گرل، چھپن چھپائی، چین آئے نہ، بالوماہی اور چلے تھے ساتھ شامل ہیں۔ ساحر لودھی کی فلم ’’راستہ‘‘ بھی بری طرح فلاپ ہوئی۔ پاکستان کے باصلاحیت اداکارعثمان خالدبٹ، عینی جعفری اور صدف کنول جیسی بڑی کاسٹ پر مشتمل فلم ’بالوماہی‘ کا ٹریلر اور گانے شائقین میں بے حد مقبول ہوئے تاہم فلم بری طرح فلاپ ہوئی۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ اب فلم بین بھی جان چکے ہیں کہ انہیں کیا دیکھنا ہے اور کیا نہیں۔ اس مرتبہ پرانے فلم سازوں کے ساتھ زیادہ تر نئے لوگ بھی میدان میں آئے اور وہ جدید تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرکے معیاری فلمیں بنا رہے ہیں۔ جنہیں دیکھنے کے لئے فیملیز نے سینما گھروں کا رخ کیا۔ پاکستان فلم انڈسٹری میں نئے ٹرینڈ کے تحت اینی میٹڈ فلموں بنانے کے رجحان میں اضافہ ہونے لگا ہے۔

سال 2018 میں بچوں کے لیے بنائی گئی چار اینی میٹڈ فلمیں سیمنا گھروں کی زینت بنیں۔ سپر ہیروز کے پسندیدہ کردار، ایکشن، مزاح اور جذبات اور سبق آموز کہانیوں سے لبریز پاکستان کی سنیما انڈسٹری میں اینی میٹڈ فلموں کا نیا ٹرینڈ تیزی سے فروغ پارہاہے۔ جس کی بنیاد آسکر ایوارڈ یافتہ فلمساز و ہدایتکارہ شرمین عبید چنائے نے رکھی۔ سال2018 میں بھی چار پاکستانی اینی میٹڈ فلمیں نمائش کے لئے پیش کی گئیں۔

2 فروری کو پاکستانی فلم اللہ یار اینڈ دی لیجند آف مارخور سینما گھروں کی زینت بنی جس میں پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں رہنے والے بچے اللہ یار کی کہانی کو دیکھایا گیا۔ فلم میں پاکستان کا قومی پرندہ چکور اور قومی جانور مارخور کی خوبصورت اینی میشن کی گئی ہے۔ 23 مارچ کو پاکستانی فلم ٹک ٹاک بھی سینما گھروں کی زینت بنی جس میں فلمی کردار ماضی میں چلے جاتے ہیں۔

13اکتوبر کو پاکستانی فلم ڈونکی کنگ کو نمائش کے لئے پیش کیا گیا۔ فلم نے اب تک پاکستان میں اینی میٹڈ فلموں کے لحاظ سے ریکارڈ بزنس کیا اور باکس آفس 23کروڑ سے زائد کا بزنس کیا۔ سال 2018 کے آخر میں 14 دسمبر کو تین بہادر کا تیسرا اور آخری سیکوئل ریلز ہوا۔ جس میں مزید کرداروں اور سپر ہیروز کو شامل کیا گیا۔ یوں 2018 میں مجموعی طور پر 21 فلمیں ریلیز کی گئیں جس میں چار فلمیں اینی میٹڈ ہیں۔

جس سے یہ امید کی جا سکتی ہے کہ آئندہ آنے والے عرصے میں مزید اینی میٹڈ پاکستانی فلمیں شائقین کے لئے پیش کی جائیں گی۔ 1959-1977ء کے دوران پاکستان فلم انڈسٹری اپنے عروج پر تھی۔اور پاکستانی سنیما پوری دنیا میں چوتھے نمبر پر تھا۔ ’’گھونگٹ‘‘، ’’جاگو ہوا سویرا‘‘ سمیت بہت سی مشہور زمانہ فلمیں بنیں۔ اس کے بعد 90 کی دہائی میں بھی اچھی فلمیں بنیں لیکن پھر فلمیں یکسانیت کا شکار ہونے لگیں اور گنڈاسا کلچر نے سینما کی رونقیں ماندکردیں۔

ایک وقت ایسا بھی آیا کہ فلمیں بن رہی تھیں لیکن فیملیز سینما گھر جانا چھوڑ چکی تھیں۔ کئی فنکار بڑی سکرین سے چھوٹی سکرین پر کام کرنے پر مجبور ہوئے۔ موجودہ حکومت بھی انڈسٹری کی بحالی کے لئے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے اور اس سلسلہ میں مختلف پہلووں کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ حال ہی میں ریلیز ہونے والی متعدد فلمیں دیکھ کر کہا جاسکتا ہے کہ فلم انڈسٹری کا مستقبل تابناک ہے۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 28/12/2018 - 23:42:25

Your Thoughts and Comments