Or Hum Ne Car Khareedi

Or Hum Ne Car Khareedi

اور ہم نے کار خریدی

ان دنوں کا ذکر ہے جب ہم نے اپنے باس اور بیگم سے پریشان ہو کر کراچی کا سفر اختیار کیا۔ کراچی میں دیکھنے کی بہت سی چیزیں ہیں مثلاً سمندر، اونٹ، کوفیو وغیرہ، تجربہ کار لوگ جانتے ہیں

ان دنوں کا ذکر ہے جب ہم نے اپنے باس اور بیگم سے پریشان ہو کر کراچی کا سفر اختیار کیا۔ کراچی میں دیکھنے کی بہت سی چیزیں ہیں مثلاً سمندر، اونٹ، کوفیو وغیرہ، تجربہ کار لوگ جانتے ہیں کہ کراچی میں اپنی سواری کے بغیر گھومنا اپنی جیب اور صحت دونوں کو خطرے میں ڈالنا ہے اور چوں کہ ہم طبعاً احتیاط پسند واقع ہوئے ہیں اس لیے ہم نے سوچا کہ اگر کراچی گھومنے کے لیے ایک سیکنڈ ہینڈ کار خریدی جائے۔
یہ سوچ کر ہم ایک بہت بڑے شوروم میں جا پہنچے جو شوروم کم اور کاروں کا جمعہ بازار زیادہ لگ رہا تھا۔ بازار میں داخل ہوتے ہی ہماری نظر ایک غیر معمولی کار پر پڑی۔ کار پر نگاہ پڑتے ہی ہم نے ایک زور دار قہقہ لگایا۔ جو ہماری زندگی کا آخری قہقہہ ثابت ہوا۔
کیوں کہ کار خریدنے کے بعد تو دوسرے ہم پر قہقہہ لگاتے رہے۔

(جاری ہے)

مزاحیہ شاعر عبدالکریم بھونپو جو اس وقت ہمارے ساتھ تھے اور جن کی خیر خواہی پر ہم پختہ ایمان رکھتے تھے ہمیں جوش دلانے کے لیے ٹھنکتے ہوئے بولے۔ یہ کار تم خرید رہے ہو یا میں خرید لوں۔

ہم نے جلدی سے کہا۔ نہیں، نہیں ہم خرید رہے ہیں، اور یوں صاحب ہم نے چھ ہزار روپے میں چھ میٹر لمبی تین میٹر اونچی اور سولہ سو کلو گرام کی ہلکی پھلکی کار خرید لی جس کا نام اس کے بنانے والوں نے مرکری فورڈ رکھ چھوڑا تھا۔ ہم نے کار فروخت کرنے والے سے جب کار کی تاریخ پیدائش پر روشنی ڈالنے کو کہا تو پتا چلا کہ دوسری جنگ عظیم کے زمانے کی ہے ، اس ضمن میں ہم نے مزید تحقیق نہیں کہ ورنہ کار کا مالک یہ بھی ثابت کر دیتا کہ دوسری عالمی جنگ دراصل اسی کام کی وجہ سے شروع ہوئی تھی۔
کراچی میں ہمارا قیام اپنے ایک پرانے دوست کے یہاں تھا۔ ہم نے کار ان کے اپارٹمنس احاطے میں کھڑی کر دی۔ ہمارے یہ دوسر غیر ملکی اشیا کے استعمال کے شدید مخالف ہیں۔ ایک مرتبہ ان کے کسی رشتے دار نے انہیں جاپانی ریفریجریٹر کا پانی پلا دیا۔
اس کے بعد سے موصوف نے ریفریجریٹر کے استعمال کو اپنے اوپر حرام کر لیا اور انتقاماً اس رشتے دار کے گھر کی طرف پاوٴں کر کے سونے لگے۔ رات کو ہمارے دوست دفتر سے آتے ہی ہم سے بولے۔ اس کار کو آپ اور جگہ لے جا کر کھڑی کر دیں کیوں کہ اپارٹمنٹس کی انتظامیہ نے اپارٹمنٹس کے آس پاس کاٹھ کباڑ جمع کرنے پر پابند عائد کر دی ہے۔
اپنی نئی نویلی کار کی شان میں ایسے گستاخانہ بیان پر ہمیں بے حد غصہ آیا۔ کار کی شان میں ایسی توہین آمیز باتیں اگر ہمارے کسی ماتحت نے کہی ہوتیں تو ہم اس کو کبھی کا دفتر سے نکال چکے ہوئے اور یہ باتیں اگر ہماری بیگم نے کہی ہوتیں تو ہم خود ان کے گھر سے نکل چکے ہوئے۔
مگر یہاں واسطہ ماتحت اور بیگم سے نہیں، دوست سے تھا۔ اور دوست بھی وہ جسے ہماری میزبانی کا شرف پہلی بار نصیب ہوا تھا۔ جو پچھلے چند برسوں میں بیسیوں مرتبہ ہمیں خط لکھ کر دھمکی دے چکا تھا کہ اگر تم نے جلد ہی شرف میزبانی نہ بخشا تو میں قریبی تھانے میں تمہارے خلاف ہتک دوستی کی رپٹ درج کروا دوں گا اور جو پچھلے چند روز سے ہمیں دیکھ دیکھ کر اس قدر خوش ہو رہا تھا اس کا چہرہ مسرت کی سرخی سے کشمیری سیب ہو چکا تھا، چنانچہ ہم خاموش رہے بلکہ مسکرا دیے۔
ابھی اس واقعے کو تھوڑی دیر نہیں گزری تھی کہ محلے کے کچھ بچے آئے اور بولے۔ انکل اگر آپ اجازت دیں تو ہم آپ کی کار میں آنکھ مچولی کھیل لیں۔ دل میں تو آیا، کہہ دیں کہ نا مرادو یہ کار ہے کوئی پبلک اسکول نہیں مگر پھر یہ سوچ کر انہیں اجازت دے دی کہ بچے کبوتروں کا بک جیسے فلیٹوں سے اکتائے ہوئے ہیں ذرا کشادہ جگہ پر کچھ دیر کھیلیں گے تو ان کا دل بہل جائے گا۔
ابھی کچھ دیر گزری تھی کہ ان بچوں میں سے ایک پانچ چھ سالہ بچہ ہاتھ میں ہتھوڑا اٹھائے ہوئے ہمارے پاس آیا اور بولا۔ انکل یہ لیجئے آپ کی کار کی چابی۔ کار کی سیٹ پر پڑی ہوئی تھی۔ ہتھوڑا لے کر جی چاہا کہ اس سے اپنا سر پھوڑ لیں یا اس بچے کے والدین کو تلاش کریں جن کی ناقص تربیت کی وجہ سے اس گستاخ کو ہماری کار کے خلاف زہر اگلنے کی جرات ہوئی۔
کراچی میں ہم پردیسی تھے ، سو خون کے گھونٹ پی کر چپ ہو رہے۔ اگلے روز ہم اپنے ایک رشتے دار سے ملنے کے لیے لیاقت آباد گئے اور ہم نے انہیں بڑے چاوٴ سے اپنی کار دکھائی۔ وہ صاحب کار دیکھ کر بولے۔ میرے دادا ابا نے بھی اسی ماڈل کی ایک کار خریدی تھی۔
جسے تین مہینے چلانے پر اتنا خرچ آ گیا کہ کار گیراج کے اندر پہنچ گئی اور ہمارا خاندان سڑک پر آ گیا۔ کیا پتھراوٴ کرنے کے لیے۔ ہم نے ان کی بات کاٹتے ہوئے پوچھا۔ نہیں بھیک مانگنے کے لیے۔ انہوں نے بے مزہ ہوتے ہوئے جواب دیا۔ اور اپنی بات جاری رکھی۔
یہ تو خدا کا کرم ہو گیا کہ دادا جی کو جلد ہی عقل آ گئی اور انہوں نے کار کو مستقل طور پر گیراج ہی میں رہنے دیا۔ دادا جی کے انتقال کے بعد سات ہزار روپے میں خریدی ہوئی کار سات سو روپے میں فروخت ہوئی اور اس کی فروخت کے دو ہفتے بعد ہی خریدار کار کو دھکیلتا ہوا لے کر ایا اور کہنے لگا۔
کار آپ رکھ لیں، رقم بے شک واپس نہ کریں۔ باتیں کرتے کرتے ہمارے باتونی رشتے دار کی نظر اچانک کار پر پڑے ہوئے ایک گڑھے پر گئی۔ ارے شانی صاحب، وہ چیخے۔ یہ تو وہی کام ہے۔ پھر پانے کام کے نچلے حصے کو انگلیوں سے مروڑتے ہوئے بولے۔
نمبر تو مجھے یاد نہیں، لیکن دادا جی نے ایک مرتبہ بتایا تھا کہ ہمارے گھر کے افراد نے کار کے ایک مخصوص حصہ اتنی بار سر پھوڑا تھا کہ وہاں ایک گڑھا بن گیا تھا۔ یہ وہی گڑھا ہے۔ ہاں ہاں بالکل وہی، یہ وہی کار ہے ، چند لمحے بعد انہوں نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا اور تسلی دینے کے انداز میں کہنے لگے۔
تم فکر نہ کرو انشاء اللہ میں ہر ماہ تمہاری مالی کفالت کے لیے کچھ نہ کچھ روپے بھیجتا رہوں گا، کیوں کہ اب تمہاری تنخواہ تو اس کار کے پیٹ میں جایا کرے گی، ان کی اس تقریر اور تسلیم کا ہم پہ شمہ برابر اثر نہ ہوا کیوں کہ ہم جانتے تھے کہ اکثر رشتہ داروں کو ترقی کرتا دیکھ کر خوش نہیں ہوتے۔
کراچی میں ابھی ہمارے قیام کو پانچواں دن تھا کہ لاہور سے بیگم کا فون آیا۔ وہ سخت ناراض تھیں۔ بولیں، سنا ہے آپ نے کار خرید لی۔ فورا کار سمیت پہنچئے ، میرے بھتیجے کی لڑکی کا عقیقہ ہے۔ اس میں شرکت کرنی ہے۔ اس گفتگو سے اتنا تو مجھ پر واضح ہو گیا کہ مجھ سے زیادہ کار کا وہاں پہنچنا ضروری ہے۔
ہمارے ایک قریبی دوست نے جو محکمہ ریلوے میں ملازم ہیں مجھ سے کہا کہ تم پریشان کیوں ہوتے ہو تم لاہور پہنچو میں پیچھے سے روانہ کرا ہوں۔ میرے لاہور پہنچتے ہی کار کے بارے میں بڑی تشویشناک خبریں ملنے لگیں مثلاً یہ کہ ریلوے انتظامیہ نے کار کو بحفاظت لاہور پہنچانے کی ضمانت دینے سے انکار کر دیا۔
جس کے بعد کار کو ایک جاننے والے صاحب کے حوالے کیا گیا جو لاہور جا رہے تھے اور جب وہ صاحب کار پر سوئے لاہور روانہ ہوئے تو ناظم آباد چورنگی تک کامیابی سے چلنے کے بعد کار ہاتھی کا پاوٴں ہو گئی اور کراچی کی اس مصروف ترین شاہراہ پر ایک گھنٹے تک ٹریفک معطل رہا۔
ایک گھنٹے بعد کار کو کرین کی مدد سے ایک مکینک کی دکان پر پہنچایا گیا۔ جس کے بعد ان صاحب نے کار سے با عزت علیحدگی اختیار کی اور اب وہ مرکری فورڈ ان ہی دوست کے پاس ہے جن کے پاس ہم چھوڑ کے آئے تھے۔ ایک رات ڈیڑھ بجے کراچی سے ہمارے دوست کی بیوی نے فون پر سسکیوں بھری آواز میں ہمیں اطلاع دی۔
بھائی صاحب آپ کے دوست صبح سویرے کار لے کر گئے تھے اور شام گئے تک واپس نہیں لوٹے۔ ڈھونڈنے پر گاڑی تو مل گئی، مگر ان کا کہیں پتا نہیں ہے ، خدا کے لیے آپ اس کار کا کچھ کیجئے ، ورنہ ہمارا ہنستا مسکراتا خاندان تباہ و برباد ہو جائے گا، اگلے روز ہم نے کراچی فون کیا تو معلوم ہوا کہ کار پانچ چھ گھنٹے چلنے کے بعد راستے میں کہیں خراب ہو گئی تھی لیکن چوں کہ وہ شہر بھر میں مشہور ہو گئی تھی اس لیے شہر کا کوئی مستر اسے ٹھیک کرنے پر تیار نہیں ہو رہا تھا۔
ہمارا دوست ساری رات ورکشاپوں کے چکر لگاتا رہا ہم نے جب پوچھا کہ وہ جو ہمارے دوست کے گھر کے سامنے ایک مستر صاحب تھے ان سے مدد کیوں نہیں مانگی تو جواب ملا، اللہ دتہ ایک ہفتہ ہوا اپنی بیوی بچوں سمیت محلہ چھوڑ کر کسی نامعلوم جگہ پر جا کر رہنے لگا ہے محلہ چھوڑ کر جانے کی وجہ اب تک معلوم نہیں ہوسکی ہے۔
آخر بار اسی نے کار کی مرمت کی تھی۔ چھ ماہ کی مسلسل کوششوں کے بعد وہ دن آ پہنچا جب کار کراچی سے لاہور کے لیے روانہ ہوئی اور بیس دن بعد لاہور پہنچی، کس طرح پہنچی اس کا قصہ طولانی ہے۔ مختصراً اتنا سن لیجئے کہ ڈرائیور نے کار پر بیٹھنے سے پہلے ہمارے ٹرانسپورٹرز دوست سے کہا۔
میں نے بہت دنوں تک آپ کی خدمت کی ہے اگر مجھے کچھ ہو جائے تو میرے بیوی بچوں کا خیال رکھئے گا۔ ہمارے دوست نے اسے تسلی کے ساتھ ساتھ ایک خط بھی تھما دیا جس میں اس نے راستے میں پڑنے والی اپنی کمپنی کی تمام برانچوں کو ہدایت کی کہ کار کو جہاں کہیں بھی جس قسم کی مدد کی ضرورت ہو فراہم کی جائے۔
بالآخر کار کراچی سے لاہور کے لیے روانہ ہوئی اور ہمیں ہر روز فون پر اس طرح کی اطلاعات ملنا شروع ہو گئی کہ کار نے آج رکے بغیر دس میلے تک کا سفر کیا۔ آج کار فلاں شہر سے کامیابی کے ساتھ گزر گئی۔ آج کار فلاں جگہ پہنچ کر لیٹ سکتی تھی لیکن نامعلوم وجواہت کی بناء پر اس نے صرف بیٹھنے پر اکتفا کیا۔
کار لے کر آنے والا ڈرائیور سر سے پاوٴں تک دھول میں اٹا ہوا تھا۔ اس کی داڑھی بڑھی ہوئی تھی اور اس کا شہر عمر قید کی سزا کاٹ کر جیل سے نکلنے والے قیدی جیسا ہو رہا تھا، اس وقت ہم دونوں کی آنکھوں میں آنسو تھے ہماری آنکھوں میں ڈرائیور کی حالت دیکھ کر غم کے ، اور ڈرائیور کی آنکھوں میں کار سے نجات پانے پر خوشی کے آنسو تھے۔
کار کو آئے ابھی ایک ہفتہ ہی گزرا تھا کہ ہمارا خاندانی گوالا ہمارے پاس آیا اور بولا، بابو جی سنا ہے کہ آپ اپنی کار کی وجہ سے بہت پریشان ہیں۔ اگر آپ پانچ سو روپے کے علاوہ 20 کلو چارے کا خرچ برداشت کرنے کے لیے تیار ہوں تو آپ کی کار کے چلنے کی ضمانت دیتا ہوں، مگر وہ کس طرح ہم نے حیرت سے پوچھا۔
اس نے کہا آپ میرا بھینسا خرید کر کار میں جوت لیں۔ مجھے پیسہ مل جائے گا اور آپ کی کار چل جائے گی۔ لاہور میں ہماری کار کا شمار بہت جلد تاریخی عجائبات میں ہونے لگا۔ شہر کے قابل دید مقامات شالامار باغ نیز بادشاہی مسجد کے بعد ہماری کار کا نام لیا جانے لگا، رفتہ رفتہ کار کی شہرت اتنی پھیلی کہ کار کو میوزیم میں رکھنے کا مشورہ دیا جانے لگا۔
اس مشورے پر ہم نے اب تک عمل نہیں کیا۔ کار اب بھی ہمارے پاس ہے اور اب ہماری شہرت اس کار کے حوالے سے ہے اور یہ کس حالت میں ہے اس کا اندازہ آپ اس واقعے سے لگا سکتے ہیں جس کو سنانے کے بعد میں آپ سے اجازت چاہوں گا۔ کیوں کہ مکینک کے آنے کا وقت ہو گیا ہے۔
ایک محلے دار نے جنہیں ہر طرح کے اوسط سے بڑی دلچسپی ہے ہم سے ایک دن پوچھا، گاڑی کے تیل کی اوسط کیا ہے۔ اس سے قبل کہ ہم جواب دیتے۔ برابر میں کھڑے ہوئے ہمارے چار سالہ بچے کے جواب دیا ایک لیٹر میں 17 کلو میٹر۔ محلے دار نے تعجب کرتے ہوئے کہا۔ کمال ہے صاحب اتنی پرانی کار اور تیل کا اوسط اتنا کم۔ یہ سن کر ہمارا بچہ فوراً بولا، انکم کمال کی کوئی بات نہیں ہے کار 4 کلو میٹر پیٹرول اور 13 کلو میٹر دھکے سے چلتی ہے۔

Your Thoughts and Comments