Achay Chaal Chalan Ka Faida

اچھے چال چلن کا فائدہ

منگل جنوری

Achay Chaal Chalan Ka Faida
حافظ مظفر محسن:
بھائی ناصر بھی عجیب آدمی ہے۔ آپ کو بڑے بڑے پڑھے لکھوں سے واسطہ پڑے گا وہ بات کریں گے بچوں کی تعلیم پر اٹھنے والے اخراجات کی، نئی گاڑی خریدنے کی، ملتان میں دن بدن بڑھتی ہوئی پراپرٹی کی قیمتوں کی اور آجکل بش (صدر) کے نہایت کامیاب دورہ بھارت کی ”جی“ آپ نے کیا فرمایا۔ انہوں نے پاکستان کا بھی دورہ کیا ہے؟ مگر جماعت اسلامی کے پروفیسر منور حسن‘سوری، غلطی ہوگی۔

سید منور حسن کے نام کے ساتھ بھی پروفیسر لکھ گیا۔ اصل میں جماعت والوں کو اپنے ناموں کے ساتھ چونکہ ”پروفیسر“ اچھا لگتا ہے اس لیے اگر کسی جماعت کے لیڈر کی خوشامد کرنی ہو تو وہ ساتھ ”پروفیسر“ لکھ دیتا ہے۔ ناصر بھائی سے بات شروع ہوئی اور سید منور حسن کے بیان تک پہنچ گئی۔

(جاری ہے)

موصوف نے کراچی میں فرمایا کہ صدر بش پاکستان میں محض ”اپنے دوست“ کی ضیامت میں شرکت کرنے آئے تھے۔

!“سیاسی لوگ ہیں سیاسی باتیں اور بیان جاری کرتے رہتے ہیں اور کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔!
”جتنے منہ اتنی باتیں“ خیر صدر مشرف چونکہ اس دورے سے مطمئن ہیں سو ہمیں بھی مطمئن ہو جانا چاہیے ۔ نفسانفسی کے اس دور میں جبکہ ہ رطرف دولت کی ”پراپرٹی کی“ مال بنانے اور کمانے کے لیے نئے طریقوں کی بات ہوتی ہے۔ ملتان کے اندرونی حصے (پاک گیٹ) میں بیٹھا ناصر صدیقی لوگوں کو نہایت لذیذ چنے اور دال اور نہایت ہی میٹھی (ڈولی) روٹی کھلا رہاہے مگر ہر نئی چھپنے والی کتاب ‘ ہر تیکھے کالم اور ہر ٹیڑ ھی خبرپر اس کی نظر ہے۔

اس کی جیب سے کبھی نوٹ نہیں نکلیں گے۔ اخبارات کے تراشے نکلیں گے۔ وہ تنقید کرتے ہوئے ڈرتا نہیں اور تعریف کرتے ہوئے بخل سے کام نہیں لیتا۔ ملاقات سے ہو تو پوچھتا ہے عطا کا فلاح پڑھا۔ آفتاب اقبال کی فلاح تحریر نہیں دیکھی تویہ لو پڑھ لینا اور واپس کر دینا۔ (وہ جیب سے اخباری تراشہ نکال کر تھما دیتا ہے) اسے یہ بھی ازبر ہوتا ہے کہ ”سررا ہے“ میں تیسرے پیرے میں کون سا لطیفہ چھپا ہے؟ چند دن پہلے میں گیا، تو موصوف دکان پر بیٹھے گاہکوں کو چنے دال بھی کھلائے جا رہے تھے اور ایک کتاب ”پاکستان لوٹنے میں کس کا کتنا ہاتھ ہے۔

“ بھی پڑھ رہے تھے۔ میں نے پوچھا ناصر بھائی اس کتاب کو اتنے غور سے کیوں پڑھ رہے ہو تو بولے۔
”بھائی اس کتاب میں اپنا نام تلاش کر رہا ہوں“۔ میری ہنسی نکل گئی ”بھائی کہیں کسی کو باسی دال کھلا دی ہو گی تو یقینا نام آیا ہوگا۔“ مغنی خیز نظروں سے مجھے دیکھا اور بولے ” مظفر بھائی، اللہ کے فضل سے دال چنے بچتے ہی نہیں۔ اس لیے ہر صبح نئے پکانے پڑتے ہیں ۔


تو پھر اس کتاب میں کس کس کا نام ہے؟ آپ خود پڑھیں،میرا منہ نہ کھلوائیں اور کتاب مجھے تھما دی ۔ میں نے کتاب پڑھنا شروع کی اور میرا بلڈ پریشر مزید بڑھنے لگا۔ اس کتاب میں جس جس کو لوٹنے والا بتایا گیا تھا۔ وہ مجھے معاشرے میں نہ نہایت عزت دار کے طور پر آزاد پھرتا دکھائی دیا۔ موج میلے کرتا، ایک پرانا لطیفہ یاد آگیا۔
ماں: (بیٹے سے) تم بالکل نکمے ہو، اپنے باپ سے ہی کچھ سیکھو ؟
بیٹا:ماں! انہوں نے کون سا کارنامہ سرانجام دیا ہے۔


ماں : دیکھتے نہیں، اچھے چال چلن کی وجہ سے جیل کے افسروں نے ان کی باقی ماندہ سزا معاف کر دی ہے۔
اصل میں ہمارے ہاں سزائیں ”اچھے چال چلن کے باعث یا بڑوں کی بات ماننے کے باعث “ معاف ہو جاتی ہیں اور لوگ بے چارے ”پاکستان لوٹنے میں کس کا کتنا ہاتھ ہے“ جیسی کتابیں بطور ”مزاحیہ تحریریں یا جھوٹی سچی تاریخی باتیں “ پڑھتے ہیں کڑہتے ہیں اور بلڈ پریشر کی گولی ( ڈاکٹر کی ہدایت کے عین مطابق) کھاتے ہیں اور سو جاتے ہیں۔

اخبارات ”کرپشن، کرپشن“ لکھ لکھ کر تھک چکے ہیں۔ لکھنے والے ڈرتے ڈرتے لکھتے رہتے ہیں۔ناصر بھائی جیسے سادہ دل لوگ ہر تحریر کو پوری گہرائی کے ساتھ پڑھنے اور سمجھنے کی کوشش میں مگن رہتے ہیں مگر وہ جو ڈاکٹر انعام الحق جاوید نے کیا خوب کہا ہے کہ،
ادھر ناکے پہ ناکا چل رہا ہے
ادھر ڈاکے پہ ڈاکہ چل رہاہے
ادھر منصوبہ بندی کے ہیں چرچے
ادھر کاکے پہ کاکا چل رہاہے

Your Thoughts and Comments