Ghurna Mana Hai

گھورنا منع ہے

منگل دسمبر

Ghurna Mana Hai

فاطمہ عمران

ہم عورتیں بھی عجیب ہوتی ہیں اگر تیار ہو کر کہیں جائیں اور کوئی گھور رہا ہو تو دل ہی دل میں کہتی ہیں " کمینہ دیکھو تو کیسے گھور رہا ہے۔

(جاری ہے)

لگتا
ہے کبھی لڑکی نہیں دیکھی۔گھر میں ماں بہن نہیں ہے اسکے" اور اگر کوئی نہ دیکھے تو کہتی ہیں " کمینہ کہیں کا دیکھا تک نہیں۔

اتنی
محنت سے تیار ہو کر آئے ہیں " الغرض مرد حضرات ہمارے نزدیک کمینے ہی ہوتے ہیں۔

لیکن بات یہیں ختم نہیں ہوتی۔بلکہ ہم یہیں سےبات کو شروع کرتے ہیں کہ آخر "تاڑو" مرد حضرات ہی کیوں ہیں؟کیوں انہیں کی نگاہیں بےباک اور نڈر ہیں؟بس یہی سوال ذہن میں کلبلایا تو ہم نے سوچا کہ ایک نئی تاریخ رقم کر دی جائے۔

۔ اگر مرد حضرات بلا جھجک ۔ ۔ بلا روک ٹوک کسی کو بھی " تاڑ" سکتے ہیں تو ہم کیوں نہیں ؟ ارے چونک گئے؟ کیوں کہ ایک لڑکی ہونے کے ناطے میرا فرض جھکی پلکیں اور شرم سے بوجھل نگاہیں جیسے الفاظ کو عملی "پاجاجامہ" پہنانا ہے تو پھر میں ایسی باغیانہ باتیں کیسے کر سکتی ہوں؟ ۔

۔ ہمارے معاشرے میں "تاڑنے" کی "نماز" صرف مرد حضرات پر ہی لاگو ہے۔

۔ عورتوں کے لیے یہ ایسے ہی حرام ہے جیسے مردوں کیلیے سونا۔

۔ سونا مطلب گولڈ والا۔ ۔ لیکن مردوں میں جب بپی لہری ہو سکتا ہے تو عورتوں میں میں کیوں نہیں؟ بس اسی سوچ کے تحت ہم نے " انقلابی" بننے کا پکا فیصلہ کر لیا۔

۔ ویسے بھی ملک میں انقلاب کسی بھی لمحے آ سکتا ہے ایسے میں چند انقلابیوں کا موقع پر موجود ہونا ضروری ہے تاکہ انقلاب کا شاندار استقبال کیا جا سکے۔

اب لو جی انقلابی باجی یعنی خود ہم نے اپنے نیک مقصد کی تکمیل کی خاطر ایک ہوٹل میں کونے والی سیٹ سنبھال کر مورچہ بندی کر لی تاکہ کسی بھی نووارد کو سر تا پاؤں ٹھونک بجا کر تاڑ سکیں۔

۔ ایک حضرت اندر داخل ہوئے تو ہم نے انکو خوب تاڑنے کے بعد سوچا کہ اب انکا کیا کیا جائے ؟کہ اچانک دورِ جوانی کی اک یاد دماغ میں آ کر لہرائی۔

۔ جب سب سہلیاں یونیورسٹی میں گراؤنڈ سے گزررہی تھیں تو چند انتہائی "شرفاء" ہمیں "ریمارکس" کی بجائے "مارکس" دے رہے تھے۔

۔ ہماری پہلی سہیلی گزری تو آواز آئی سات نمبر۔ ۔

دوسری کو ملے پانچ نمبر کیوں کہ اسکا سکارف شاید زیادہ نمبروں کے قابل نہیں تھا۔

۔ ہماری باری آنے پر ہمیں ساڑھے سات نمبر دیے گئے یہ آدھا اضافی نمبر ہمارے دراز قد کا تھا۔

لیکن انقلابی باجی چونکہ بچپن سے ہی انقلابی ہیں اسلیے ہرگز چپ چاپ گزر جانے میں عافیت نہ جانی اور انتہائی اعتماد سے پلٹ کر نمبر دینے والے حضرت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا کہ "نہیں آٹھ نمبر تو بنتے ہیں ۔

۔ آخر نیا سوٹ پہنا ہے آج" ۔ ۔ اور ان حضرت کی ہماری دیدہ دلیری پر آنکھیں یوں پھٹ گئی گویا سارے بہادری کے سرٹیفیکیٹ ابن آدم کے نام لگا دیے گئے ہیں اور حوا کی بیٹی کو بس یہی حکم ہے کہ ہر حکم بجا لائے۔

۔ لیکن خیر آتا ہے ہمیں بھی اینٹ کا جواب پتھر سے دینا۔

۔ سو ہر اندر آنے والے حضرت کو ہم نے دل کھول کر فیل کیا۔

۔ یہ سب ہم نے صرف بدلہ لینے کی غرض سے نہیں کیا بلکہ اس کمینی سی خوشی کو محسوس کرنے کے لیے بھی کیا جسے حاصل کرتے وقت سر پر چھوٹے چھوٹے دو غائبانہ سینگ نکل آتے ہیں۔

۔ اب ایسا بھی نہیں ہے کہ کوئی موصوف پاس کرنے کے قابل ہی نہ تھے ۔

۔ بس دل میں خیال آیا کہ جب ہمیں کوئی بھی کہیں بھی کسی بھی پیمانے میں تول سکتا ہے تو ہماری بھی مرضی پاس کریں یا فیل۔

۔ سو ہم نے دل کی سنی۔ ۔ کچھ حضرات ہمارے تاڑنے سے جزبز ہوئے کچھ ٹھٹکے ۔

۔ کچھ نے جوابی حملہ کیا جسے ہم نے ہوائی پھونک میں اڑا دیا اور کچھ نے باقاعدہ باعثِ فخر جانا بنت حوا کا انہیں اسقدر اہمیت دینا۔

۔

سرتاج بھی حیرانی سے ہمیں تاڑتے رہے کہ "بدلے بدلے سے آج میرے سرکار نظر آتے ہیں" لیکن ہمارے کان پر جوں تک نہ رینگی۔

۔ ہم نے آج پوری لنکا ڈھانے کا فیصلہ جو کر رکھا تھا۔

۔ اچانک ہمارے ذہن میں ایک جھماکا ہوا اور یاد آیا۔

۔ اوہ ابھی تو خوشی ادھوری ہے۔ خالی تاڑنے سے کیا ہوتا ہے ؟ کچھ کمنٹس پاس کرنا بھی تو بنتا ہے سو اگلے آنے والے موصوف کا سر سے پاؤں تک ایکسرے کر کے ہم بولے " کتھے چلے ہو سوہنیو ۔

۔ نویں ٹائی شائی پا کہ "

یہ سن کرہمارے سرتاج ہمیں حیرت سے اور وہ موصوف ہمیں حیرت پلس مزید حیرت سے تاڑنے لگے۔

۔ لیکن ہم تو اس بات پر حیران ہیں کہ جو کام مرد حضرات خود دن رات سرانجام دیتے ہیں اس پر انہیں اتنی حیرت کیوں ہے؟

Your Thoughts and Comments