Haweli

حویلی

Haweli

مشتاق احمد یوسفی

وہ آدمی ہے مگر دیکھنے کی تاب نہیں

یادش بخیر!میں نے 1945 میں جب قبلہ کو پہلے پہل دیکھا تو ان کا حلیہ ایسا ہو گیا تھا جیسا اب میرا ہے۔

(جاری ہے)

لیکن ذکر ہمارے یار طرح دار بشارت علی فاروقی کے خسر کا ہے،لہٰذا تعارف کچھ انہی کی زبان سے اچھا معلوم ہو گا۔

ہم نے بارہا سنا، آپ بھی سنیے۔

‘‘وہ ہمیشہ سے میرے کچھ نہ کچھ لگتے تھے۔

جس زمانے میں میرے خسر نہیں بنے تھے تو پھوپا ہوا کرتے تھے۔

اور پھوپا بننے سے پہلے میں انہیں چچا حضور کہا کرتا تھا۔

اس
سے پہلے بھی یقیناً وہ کچھ اور لگتے ہوں گے،مگر اس وقت میں نے بولنا شروع نہیں کیا تھا۔

ہمارے ہاں مرادآباد اور کانپور میں رشتے ناتے ابلی ہوئی سویوں کی طرح الجھے اور پیچ در پیچ گتھے ہوتے ہیں۔

ایسا جلالی،ایسا مغلوب الغضب آدمی زندگی میں نہیں دیکھا۔ بارے ان کا انتقال ہوا تو میری عمر آدھی ادھر، آدھی ادھر، چالیس کے لگ بھگ تو ہو گی۔

لیکن صاحب! جیسی دہشت ان کی آنکھیں دیکھ کر چھٹپن میں ہوتی تھی، ویسی ہی نہ صرف ان کے آخری دم تک رہی، بلکہ میرے آخری دم تک بھی رہےگی۔

بڑی بڑی آنکھیں اپنے ساکٹ سے نکلی پڑتی تھیں۔ لال سرخ۔

ایسی ویسی؟ بالکل خون کبوتر! لگتا تھا بڑی بڑی پتلیوں کے گرد لال ڈوروں سے ابھی خون کے فوارے چھوٹنے لگیں گے اور میرا منھ خونم خون ہو جائے گا۔

ہر وقت غصے میں بھرے رہتے تھے۔ جنے کیوں۔ گالی ان کا تکیۂ کلام تھی۔

اور جو رنگ تقریر کا تھا وہی تحریر کا۔ رکھ ہاتھ نکلتا ہے دھواں مغزقلم سے۔

ظاہر
ہے کچھ ایسے لوگوں سے بھی پالا پڑتا تھا جنہیں بوجوہ گالی نہیں دے سکتے تھے۔

ایسے
موقعوں پر زبان سے تو کچھ نہ کہتے، لیکن چہرے پر ایسا ایکسپریشن لاتے کہ قدآدم گالی نظر آتے۔

کس
کی شامت آئی تھی کہ ان کی کسی بھی رائے سے اختلاف کرتا۔

اختلاف تو در کنار،اگر کوئی شخص محض ڈرکے مارے ان کی رائے سے اتفاق کر لیتا تو فوراً اپنی رائے تبدیل کر کے الٹے اس کے سرہو جاتے۔

ارے صاحب! بات اور گفتگو تو بعد کی بات ہے۔ بعض اوقات محض سلام سے مشتعل ہو جاتے تھے! آپ کچھ بھی کہیں، کیسی ہی سچی اور سامنے کی بات کہیں، وہ اس کی تردید ضرور کریں گے۔

کسی کی رائے سے اتفاق کرنے میں سبکی سمجھتے تھے۔ ان کا ہر جملہ ‘نہیں’ سے شروع ہوتا تھا۔

ایک دن کانپور میں کڑاکے کی سردی پڑ رہی تھی۔میرے منھ سے نکل گیا کہ ‘‘آج بڑی سردی ہے’بولے‘‘نہیں۔

کل اس سے زیادہ پڑے گی۔’’

‘‘وہ چچا سے پھوپا بنے اور پھوپا سے خسر الخدر لیکن مجھے آخر وقت تک نگاہ اٹھا کربات کرنے کی جسارت نہ ہوئی۔

نکاح کے وقت وہ قاضی کے پہلو میں بیٹھے تھے۔قاضی نے مجھ سے پوچھا، قبول ہے؟ ان کے سامنے منہ سے ہاں کہنے کی جراٴت نہ ہوئی۔

بس اپنی ٹھوڑی سے دو مؤدبانا ٹھونگیں مار دیں جنہیں قاضی اور قبلہ نے رشتہ مناکحت کے لئے ناکافی سمجھا۔

قبلہ کڑک کر بولے، لونڈے! بولتا کیوں نہیں؟، ڈانٹ سے میں نروس ہو گیا۔

ابھی قاضی کا سوال بھی نہیں پورا ہوا تھا کہ میں نے جی ہاں! قبول ہے کہہ دیا۔

آواز یک لخت اتنے زور سے نکلی کہ میں خود چونک پڑا۔

قاضی اچھل کر سہرے میں گھس گیا۔ حاضرین کھلکھلا کے ہنسنے لگے۔

اب
قبلہ اس پر بھنا رہے ہیں کہ اتنے زور کی ’ہاں‘ سے بیٹی والوں کی ہیٹی ہوتی ہے۔

بس تمام عمر ان کا یہی حال رہا۔اور تمام عمر میں کرب قرابت داری و قربت قہری دونوں میں مبتلا رہا۔

‘‘حالانکہ اکلوتی بیٹی، بلکہ اکلوتی اولاد تھی۔ اور بیوی کو شادی کے بڑے ارمان تھے،لیکن قبلہ نے مائیوں کے دن عین اس وقت جب میرا رنگ نکھارنے کے لیے ابٹن ملا جارہا تھا،کہلا بھیجا کہ دولہا میری موجودگی میں اپنا منہ سہرے سے باہر نکالے گا۔

دو سو قدم پہلے سواری سے اتر جائے گا اور پیدل چل کر عقد گاہ تک آئے گا۔

عقد گاہ انہوں نے اس طرح کہا کہ جیسے اپنے فیض صاحب قتل گاہ کا ذکر کرتے ہیں۔

اور سچ تو یہ ہے کہ قبلہ کی دہشت دل میں ایسی بیٹھ گئی تھی کہ مجھے توعروسی چھپر کھٹ بھی پھانسی گھاٹ لگ رہا تھا۔

انہوں نے یہ شرط بھی لگائی کہ براتی پلاو زردا ٹھوسنے کے بعد یہ ہر گز نہیں کہیں گے کہ گوشت کم ڈالا اور شکر ڈیوڑھی نہیں پڑی۔

خوب
سمجھ لو، میری حویلی کے سامنے بینڈ باجا ہر گز نہیں بجے گا۔

اور تمہیں رنڈی نچوانی ہے تو Over my dead body اپنے کوٹھے پر نچواؤ۔

‘‘کسی زمانے میں راجپوتوں اورعربوں میں لڑکی کی پیدائش نحوست اور قہر الٰہی کی نشانی تصورکی جاتی تھی۔

ان کی غیرت یہ کیسے گوارا کر سکتی تھی کہ ان کے گھر برات چڑھے۔

داماد کے خوف سے وہ نوزائید لڑکی کو زندہ گاڑ آتے تھے۔

قبلہ اس وحشیانہ رسم کے خلاف تھے۔ وہ داماد کو زندہ گاڑ دینے کے حق میں تھے۔

‘‘چہرے، چال اور تیور سے کوتوال شہر لگتے تھے۔ کون کہہ سکتا تھا کہ بانس منڈی میں ان کی عمارتی لکڑی کی ایک معمولی سی دوکان ہے۔

نکلتا ہوا قد۔ چلتے تو قد، سینہ اور آنکھیں، تینوں بیک وقت نکال کر چلتے تھے۔

ارے صاحب! کیا پوچھتے ہیں۔ اول تو ان کے چہرے کی طرف دیکھنے کی ہمت نہیں ہوتی تھی، اور کبھی جی کڑا کر کے دیکھ بھی لیا تو بس لال بھبوکا آنکھیں ہی آنکھیں نظر آتی تھیں۔

نگہ گرم سے اک آگ ٹپکتی ہے اسد۔ رنگ گندمی، آپ جیسا، جسے آپ اس گندم جیسا بتاتے ہیں جسے کھاتے ہی حضرت آدم، بیک بیوی و دوگوش جنت سے نکال دیئے گئے۔

جب
دیکھو جھلاتے تنتناتے رہتے۔مزاج، زبان اور ہاتھ کسی پر قابو نہ تھا۔

دائیمی طیش سے لرزہ براندام رہنے کے سبب اینٹ، پتھر، لاٹھی، گولی، گالی کسی کا بھی نشانہ ٹھیک نہیں لگتا تھا۔

گچھی
گچھی مونچھیں جنہیں گالی دینے سے پہلے اور بعد میں تاؤ دیتے آخری زمانے میں بھؤں کو بھی بل دینے لگے۔

گٹھا ہوا کسرتی بدن ململ کے کرتے سے جھلکتا تھا۔ چنی ہوئی آستین اور اس سے بھی مہین چنی ہوئی دو پلی ٹوپی۔

گرمیوں میں خس کا عطر لگاتے۔ کیکری کی سلائی کا چوڑی دار پاجامہ۔

چوڑیوں کی یہ کسرت کے پاجامہ نظر نہیں آتا تھا۔ دھوبی الگنی پر نہیں سکھاتا تھا۔

علیحدہ بانس پر دستانے کی طرح چڑھا دیتا تھا۔ آپ رات کے دو بجے بھی دروازہ کھٹکھٹا کر بلائیں تو چوڑی دار ہی میں بر آمد ہوں گے۔

‘‘واللہ!میں تو یہ تصور کرنے کی بھی جراٴت نہیں کر سکتا کہ دائی نے انہیں چوڑی دار کے بغیر دیکھا ہو گا۔

بھری بھری پنڈلیوں پر خوب کھبتا تھا۔ہاتھ کے بنے ریشمی ازاربند میں چابیوں کا گچھا چھنچھناتا رہتا۔

جو
تالے برسوں پہلے بے کار ہو گئے تھے ان کی چابیاں بھی اس گچھے میں محفوظ تھیں۔

حد یہ کہ اس تالے کی بھی چابی تھی جو پانچ سال پہلے چوری ہو گیا تھا۔

محلّے میں اس چور کا برسوں چرچا رہا،اس لیے کہ چور صرف تالا، پہرہ دینے والا کتا اور انکا شجرہ نسب چرا کر لے گیا تھا۔

فرماتے تھے کہ اتنی ذلیل چوری کوئی عزیز رشتے دار ہی کر سکتا
تاریخ اشاعت: 2018-12-07

Your Thoughts and Comments