Jannat Ya Dozakh

جنت یا دوزخ

Jannat Ya Dozakh

عطاء الحق قاسمی

میں کبھی کبھی سوچتا ہوں جنت کیسی ہوگی؟ہردفعہ عجیب وغریب نقشے میرے ذہن میں آتے ہیں۔

اسی طرح کبھی خیال آتا ہے کہ اگر مجھے جنت میں داخلہ مل گیا تو میری زندگی وہاں کس طرح کی ہوگی، اور پھر اس حوالے سے کئی باتیں ذہن میں آنے لگتی ہیں۔

(جاری ہے)

مثلاً میں سوچتا ہوں میرا یاقوت کا محل ہوگا، میری خواب گاہ بھی سیمنٹ اورریت کی بجائے قیمتی ہیرے اور موتیوں سے بنی ہوگی، اس کے پردے ایسے ہوں گے اور فرنیچر ویسا ہوگا، صبح شہد کی نہر کے کنارے ایک توس پر تھوڑا سا شہد لگاؤں گا اور دودھ کی نہر میں سے ایک کپ دودھ لے کر ناشتہ کروں گا، دو چار حوریں میری ٹانگیں دبا رہی ہوں گی، مگر ساتھ ہی خیال آتا ہے کہ جنت میں ٹانگوں میں دردتو ہونی نہیں لہٰذا یہ کام ان سے لینے کا کیا تُک ہے؟ ویسے بھی یہ حوریں اربوں کھربوں سال عمر کی ہوں گی پتہ نہیں ان عمر کی حوروں سے کبھی بھی کسی قسم کا کوئی کام لیا جاسکے گا بھی کہ نہیں؟ تو چلو پھر غلمان پنکھا جھل رہے ہوں گے،مگر پھر میں نے سوچا جنت میں کون سی گرمی ہونی ہے کہ وہ پنکھا جھلیں گے، چنانچہ مجھےان کا کوئی مصرف سمجھ نہیں آیا۔

یک
دل خوش کن خیال یہ آیا کہ علی الصبح اٹھ کر پہلےنماز پڑھوں گا، پھر دودھ اور شہد کی نہروں کے کنارے گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ سیر کروں گا تاکہ صحت ٹھیک رہے،مگر مجھے اپنے اس خیال پہ ہنسی آگئی، بھلا جنت میں صحت کی برقراری کے لئے سیر کی کیا ضرورت ہے، وہاں تو نہ بیماری ہے، نہ موت ہے، نہ بڑھاپا ہے، صرف جوانی ہی جوانی ہے۔

ان
سوچوں کے دوران اچانک ایک خیال نے مجھے پریشان کردیا کہ میں صبح سے رات تک کا وقت گزاروں گا کیسے؟ نہ وہاں حلقہ ارباب ذوق ہے، نہ وہاں سے کوئی اخبار نکلتا ہے، نہ وہاں تعلیمی ادارے ہیں اورمیرے تینوں شوق یعنی ادبی محفلیں، کالم نگاری اور تدریس تو انہی سے وابستہ ہیں۔

پھر میں نے سوچا صبح سے رات گئے تک اللہ تعالیٰ کی عبادت کروں گا مگراس کام پرتوفرشتےمامورہیں جوازل سے خدا کی حمدوثنا میں مشغول ہیں۔

جنت
میں طرح طرح کے کھانے ہوں گے، انواع و اقسام کے پھل اورمیوے ہوں گے،مگر اس خیال سے بھی میری تسلی نہیں ہوئی کیونکہ سارا دن کھاتے رہنے سے تو وقت نہیں گزرسکتا،چنانچہ بالآخرمیں نے یہ معاملہ اللہ تعالیٰ پرچھوڑدیا کہ صرف وہی جانتا ہے جنت کیسی ہوگی اور جنتیوں کےمشاغل کیا ہوں گے؟

جنت کے بعد میرا دھیان جہنم کی طرف گیا اور میں نے سوچا اگر خدانخواستہ مجھے میرےاعمال کی وجہ سے جہنم میں بھیج دیا گیا تو میرا کیا بنےگا؟یہ سوچ کر ہی میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے کہ وہاں بار باردہکتے ہوئے الاؤ میں پھینکا جائے گا، پیاس لگنے پرپانی کی جگہ پیپ پلائی جائے گی، فرشتوں نے کاندھوں پر بڑے بڑے گرز رکھے ہوں گے اور وہ دوزخیوں کو مارمارکر ان کا بھرکس نکال دیں گےمگر یہ سوچ کر تسکین ہوئی کہ دنیا میں جن لوگوں نے ہمیں گمراہ کیا، ان کے چہروں پرریاکاری کے پردے پڑے ہوئے تھے،وہ تھے کچھ اورمگر ظاہر کچھ اور کرتے تھے اور یوں ہم ان کے ظاہر سے دھوکا کھا گئے چنانچہ جب جہنم میں ان سے ملاقات ہوگی تو ان کے اصلی چہرے سامنے ہوں گے اور میں ان سے پوچھوں گا کہ تم نے ہمارے ساتھ دھوکا کیوں کیا؟ یہاں علماسوئے ہوں گے، انصاف کا خون کرنے والے جج صاحبان ہوں گے، ظلم و زیادتی اور آئینہ حدود سے تجاوز کرنے والے صاحبان اقتدار ہوں گے، برصغیر کے مسلمانوں کی عظیم پناہ گاہ پاکستان کےخلاف سازشیں کرنےوالےاوراسے ذلت سےدو چار کرنے والے سیاست دان اور جرنیل ہوں گے،میں ان سب سے پوچھوں گا کہ پاکستانی مسلمانوں نے تمہارا کیا بگاڑا تھا جو تم ان کے اعتماد کو ٹھیس پہنچاتے رہے اور ان کے لئے ان زندگی کو بھی جہنم بنادی؟ مگر پھر میں نے سوچا اس کا کیا فائدہ؟ جو ہونا تھا، وہ تو ہوگیا، ان لوگوں کو سزا ان کی زندگی میں ملتی جو پاکستان کی جنت کو دوزخ بنانے میں لگے رہے مگر پھر سوچا چلو دیر سے ہی سہی لیکن ان کا حساب کسی نے تو لیا اور حساب لینے والا بھی وہ جو کڑے احتساب میں بھی کسی سے نا انصافی نہیں ہونے دیتا!

بہرحال جنت اوردوزخ دونوں کی خیالی سیر نے مجھے خاصا کنفیوژ کردیا ہے، دوزخ تو کسی صورت میں قبول نہیں اور جنت کے بارے میں پوری طرح علم نہیں کہ وہاں کی زندگی کس طرح کی ہوگی، اس کی لذتیں کس نوعیت کی ہوں گی، اس میں ہجر اور وصال، محبت اور نفرت،روشنی اوراندھیرا،خوشی اورغم،بچپن،جوانی اوربڑھاپا،صحرا اورگلستان غرضیکہ وہ سب تضادات جوزندگی میں یکسانیت پیدانہیں ہونے دیتے وہاں کس صورت میں ہوں گے کہ لذتوں کی یکسانیت تنگ نہ کرے۔

ان سب باتوں کا جواب ، میں انشاء اللہ آپ کو مرنے کے بعد دوں گا یہ ایک شعر ہے:

وہاں سے لوٹ کے آئے کوئی تو بتلائے

وہاں پہ کیا ہمیں ملتا ہےکیا نہیں ملتا

چنانچہ آپ جنت یاجہنم سے آئے ہوئے میری تازہ تازہ تحریرکا انتظارکریں۔

تاریخ اشاعت: 2018-12-03

Your Thoughts and Comments