Agy Pattri Khatam Hogai Hain

آگے پٹڑی ختم ہوگئی ہے

عطاالحق قاسمی جمعرات فروری

Agy Pattri Khatam Hogai Hain

میں اس دفعہ اپنے قارئین کے لیے لندن سے ایک برانڈنیو لطیفہ بطور تحفہ اپنے ہمراہ لایا ہوں اور یہ لطیفہ سوشلزم کے حوالے سے ہے راوی بیان کرتا ہے کہ سوشلزم کی ٹرین چلتے چلتے رک گئی تو لینن ٹرین سے باہر نکلے اور پوچھا کیا ماجرا ہے؟بتایا گیا کہ آگے پٹڑی ختم ہوگئی ہے لینن نے کہا کہ ہمت کرو اور نئی پٹڑی بچھاﺅ چنانچہ سوشلزم کی ٹرین دوبارہ روانہ ہوگئی کچھ عرصے بعد ٹرین چلتے چلتے دوبارہ رک گئی تو اسٹالن ٹرین سے باہر آئے اور پوچھا کیا ماجرا ہے؟بتایا گیا کہ آگے پٹڑی ختم ہوگئی ہے اسٹالن نے پستول نکالا اور یہ جواب دینے والے کو وہیں ڈھیڑ کردیا ٹرین ایک بار پھر چلی مگر تھوڑی دیر بعد اچانک رک گئی اس بار خردثچیف باہر آئے اور پوچھا کیا معاملہ ہے؟بتایا گیا کہ آگے پٹڑی ختم ہوگئی ہے خردثچیف نے کہا کوئی بات نہیں پچھلی پٹڑی آگے بچھا کر کام چلاﺅ چنانچہ ٹرین ایک دفعہ پھر روانہ ہوگئی مگر کچھ دور جاکر رک گئی تو برزنیف باہر آئے اورپوچھا کیا معاملہ ہے؟بتایا گیا کہ آگے پٹڑی ختم ہوگئی ہے برزنیف نے کہا کوئی بات نہیں آدھے مسافروں سے کہو کہ وہ گاڑی سے باہر آجائیں اور کھڑکیوں کے پردے گر آکر ٹرین کو زور زور سے ہچکولے دیں تاکہ اندر بیٹھے ہوئے مسافروں کو یہ تاثر ملے کہ گاڑی چل رہی ہے سو ایسا ہی کیا گیا جب کچھ دیر بعد پھر شور مچا کہ ٹرین رک گئی تو گوربا چوف باہر آئے اور پوچھا کیا معاملہ ہے؟بتایا گیا کہ آگے پٹڑی ختم ہوگئی ہے گوربا چوف نے کہا کوئی بات نہیں کھڑکیوں کے پردے اٹھا دو اور سب مسافروں سے کہو کہ وہ کھڑکی میں سر باہر نکال کر زور زور سے چلانا شروع کردیں کہ آگے پٹڑی ختم ہوگئی ہے لوگوں آگے پٹڑی ختم ہوگئی!میں نے یہ لطیفہ سن کر فیض کلچرل اکیڈمی برطانیہ کے چئیرمین مجاہد ترمذی سے کہا کہ برادر یہ لطیفہ تو بالکل نواں نکور ہے اوراپنی ساخت اور مواد کے لحاظ سے یہ امریکی بھی نہیں لگتا آپ نے کہا ں سے سن لیا؟بولے دو دن پہلے براہ راست روسیوں کے منہ سے سن کر آرہا ہوں سو ان دنوں روس میں گردش کرنے والا یہ لطیفہ اپنے اندر سوشلزم کے حوالے سے ایک جہاں معنی رکھتا ہے اس میں طنز نہیں ہے بلکہ اگر دیکھا جائے تو سوشلسٹ قیادت کی سوچوں اور طرز عمل کا نہایت خوب صورت تجزیہ ہے لینن سے لے کر گوربا چوف تک سوشلزم پر جو کچھ گزری اس پر اس سے بہتر انداز میں تبصرہ کرنا ممکن نہیں سوشلزم کے بارے میں میری ذاتی رائے یہ ہے کہ سرمایہ داری نظام کی چیرہ دستیوں کے آگے ہاتھ باندھنے کے ضمن میں اس نظام نے بہت اہم کردار ادا کیا جس کے نتیجے میں مغرب میں اور کچھ نہیں تو ہنس مکھ سرمایہ داری وجود میں آئی جس میں اپنے مقصد کے لیے صارفین سے لے کر ووٹروں تک کو ان کی حسب منشاءاستعمال کیا جاتا ہے میرے نزدیک سوشلزم کے عبرتناک زوال کی دو وجود ہیں ایک وجہ سوشلسٹ ہیں روسی قیادت نے عوام پر سوشلزم نافذ کیا اور اپنے عشرت کدے آباد رکھے عوام کو ایک ڈبل روٹی خریدنے کے لیے لمبی لمبی قطاروں میں کھڑا کردیا اور خود کیک کھاتے رہے کھجور کے درخت کے نیچے اینٹ کو سرہانہ بناکر سونے والے امیر المومنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو جب پتہ چلا کہ مصر کو گورنر شاندار محل میں رہتا ہے اور اس نے اپنے دروازے پر دربان بھی کھڑا کیا ہوا ہے جس سائلوں اور فریاد یوں کو اندر داخل ہونے سے روکتا ہے تو انہوں نے اس گورنر کو معزول کیا اور چند بکریاں یہ کہہ کر اس کے سپرد کیں کہ آئندہ یہ بکریاں چرایا کروگورنر بننے سے پہلے بھی تم یہی کام کیا کرتے تھے سوشلسٹ قیادت نے اگر خدا کو دیس نکالا نہ دیا ہوتا شاید ان کے اندر بھی وہ انقلاب جنم لیتا جو باہر سے وجود میں نہیں آسکتا مگر اس کے نتیجے میں انہیں بھی بڑے بڑے محلوں کی بجائے فرش پر سونا پڑتا اور جو روکھی سوکھی وہ عوام کو کھلاتے تھے وہ خود انہیں بھی کھانا پڑتی۔

(جاری ہے)

سوشلزم کے زوال کی دوسری وجہ انسان کی اپنی ہوس لالچ اور طمع بھی ہے وہ سب کچھ برداشت کرسکتا ہے اپنے مالی مفادات پر زوبرداشت نہیں کرسکتا۔
لطیفہ:
”اگر تمہارے پاس دو گھر ہوں تو تم کیا کرو گے؟“
”ایک گھر کسی رفاہی ادارے کے لیے وقف کردوں گا؟“
”اگر دو کاریں ہوں؟“
”ایک کار کسی ضرورت مند ادارے کو بطور عطیہ دے دوں گا!“
”اگر تمہارے پاس دو بھینس ہوں؟“
”دونوں اپنے پاس رکھوں گا!“
”وہ کیوں؟“
”وہ اس لئے کہ میرے پاس دو بھینسیں ہیں“
پس ثابتہوا کہ انسان باتیں بہت کرتا ہے لیکن اپنے بھائی بندوں کی حالت بہتر بنانے کے لیے تیار وہ اپنی مملکت سے باآسانی دستبردار نہیں ہوتا حضور ﷺ کا جب انتقال ہوا تو بہت سے قبیلوں نے بغاوت کردی ان قبائلی رہنماﺅں نے کہا کہ حضور کو نبی مانتے ہیں قرآن کو خدا کی کتاب بھی تسلیم کرتے ہیں نماز پڑھتے کو بھی تیار ہیں روزے بھی رکھیں گے لیکن یہ جوزکوة ہے وہ ہم ادا نہیں کریں گے مگر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تمہارا سارا ایمان اس وقت تک ناقص ہے جب تک تم اپنے مال میں سے شراکت برداشت نہیں کرتے موجودہ دور میں ایران کا انقلاب بہت مثبت بنیادوں پر عمل میں آیا لیکن ایرانی عوام کی بہت بڑی تعداد اندر سے اس انقلاب سے سخت نالاں ہے،ایک تو سپہ داران انقلاب کی صورت میں یہ انقلاب بدست بچگاں افتاد ہے اور دوسرا یہ انقلاب لوگوں سے کچھ مانگتا بھی ہے چنانچہ میری پیشن گوئی ہے کہ جلد یا بدیر ایران میں اس انقلاب کے خلاف زبردست ہوگی جس میں انقلاب دشمن قوتیں بال آخر فتح یاب ہوں گی کہ انسان اپنی طمع کے ہاتھوں مجبور ہے اس کے برعکس سرمایہ داری نظام اس وقت دنیا کا مقبول ترین نظام ہے اور اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ یہ انسان کی لالچ ہوس اور خود غرضی کو نہ صرف یہ کہ کنٹرول نہیں کرتا بلکہ اسے تیز سے تیز تر کرتا چلا جاتا ہے سو حاصل کلام یہ ہے کہ سوشلزم ایک تو اپنے اندرونی نقائض اور دوسرے انسان کے اندرونی نقائض کی بنا پر بہت بری طرح ناکام ہوا ہے اگر دنیا امن اور سلامتی چاہتی ہے تو اسے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور حکومت کو ایک مثالی عہد کے طور پر سامنے رکھ کر اور اس میں موجود دور کے تقاضوں کی آمیزش کرکے ایک نظام وضع کرنا ہوگا اگر ایسا نہ کیا گیا تو سرمایہ داری نظام کا عفریت انسان کی ساری قدروں کو نگل جائے گا اور اس جہل خرد کے نتیجے میں ۔


”گھٹ گئے انسان‘بڑھ گئے سائے“
والی صورت حال پیدا ہوجائے گی اب انسان کے پاس نئے نظام کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے کہ آگے پٹڑی ختم ہوگئی ہے!

Your Thoughts and Comments