Aik Asaan Kaam

ایک آسان کام!

جمعرات اپریل

Aik Asaan Kaam
حکومت کرنا بہت مشکل کام ہے اس لئے میں حکومت نہیں کرتا، حکومت کرنے کے لیے الیکشن کے دوران دس کروڑ عوام کی محکومی کرنا پڑتی ہے ان سے ہاتھ ملانا پڑتا ہے ان کی جھگیوں میں جانا پڑتا ہے اور ان کے ساتھ شوربے میں لقمہ ڈبو کر کھانا پڑتا ہے وہابیوں کے پیچھے نماز پڑھنا پڑتی ہے۔ مزاروں کوغسل دینا پڑتا ہے مسلم لیگی بننا پڑتا ہے باچا خان کو حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ جاری کرنا پڑتا ہے الطاف حسین سے ملنے عزیز آباد جانا پڑتا ہے ناگینہ خانم’ کا نامہ اعمال اپنے کھاتے میں ڈالنا پڑتا ہے امریکہ کو آنکھیں کود کھانا پڑتی ہیں کبھی یہ آنکھیں جھکانا پڑتی ہیں، جرنیلوں کو سلیوٹ مارنا پڑتا ہے آئی ایس آئی سے بنا کر رکھنا پڑتی ہے صد ر کوگرانا پڑتا ہے کبھی اسے منانا پڑتا ہے‘ جمہوریت کی بات کرنا پڑتی ہے سودکونا گزیر قرار دینا پڑتا ہے غیروں کو نوازنا پڑتا ہے اپنوں کو ٹرخاتا پڑتا ہے ایک سجدہ کرانے کے لئے سینکڑوں سجدے کرنا پڑتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ میں حکومت کرنا پسند نہیں کرتا! یہی وجہ ہے کہ میں حکومت کرنے کی بجائے اخبار میں کالم لکھتا ہوں مگر کالم لکھنا بھی بہت مشکل کام ہے۔

(جاری ہے)

لوگوں کو ایمانداری کا درس دینا پڑتا ہے اور اپنے بچے کو”ڈائرکٹ حوالدار“ بھرتی کرانا پڑتا ہے۔ اپنے لکھے ہوئے ہر لفظ کو کیش کرانا پڑتا ہے اور ”کیشئر“ سے عزت کی توقع بھی کرنا پڑتی ہے ‘حکمرانوں کے علاوہ متوقع حکمرانوں سے بھی تعلقات رکھنا پڑتے ہیں، کسی کو جاتے دیکھ کر آنے والے کے استقبال کی تیاریاں کرنا پڑتی ہیں جب کوئی آ جائے تو سابقہ کالموں میں سے کوئی ایک آدھ ایساٹکڑا تلاش کرنا پڑتا ہے جو صفائی کے کام آ سکے کرائے کے قاتل کا کردار بھی ادا کرنا پڑتا ہے اور حریت پسندی کا تاج بھی سر پر سجانا پڑتا ہے ماہوار وظیفے کو چھپانا پڑتا ہے اورخو وکوشاہ کا مصاحب بھی مشہور کرنا پڑتا ہے غرض کہ کالم نگاری بھی کوئی آسان کام نہیں۔

چنانچہ ان دنوں میں کوئی آسان کام کرنے کی سوچ رہا ہوں مثلا میرا ارادہ مسلم لیگ جائن کرنے کا ہے میں نے ایک سو کے قریب بے روز گارنوجوانوں کو بھرتی کرنے کا پروگرام بنایا ہے ان نوجوانوں کو میں نعرے بازی کی ٹرینگ دوں گا اور پھر جہاں صاحبان اقتدار کا جلسہ ہوگا اپنی اس فورس کے ساتھ وہاں جاوٴں گا۔ یہ زندہ باد کے نوعدونعرے صاحب جلسہ کے لئے اور ایک میرے لئے گیالگائیں گے ،جس سے صاحب جلسے کو میری قوت کا اندار ہوگا اور یہ بھی کہ ان کی ساری مقبولیت بھی میرے جیسے مقبول لیڈروں کی مرہون منت ہے۔

اس کے نتیجے میں مجھے صاحبان اقتدار کا قرب حاصل ہو گا اور سیاست دانوں کے پجارو گروپ میں شامل ہو جاوٴں گا ‘تاہم میں اپنی قوت کے اصل سر چشمہ یعنی نعرے باز بے روز گارنوجوانوں کونہیں بھولوں گا بلکہ انہیں روزگار فراہم کرنے کے لیے ابتدائی سرمایہ اورتحفظ فراہم کروں گا، جس سے وہ اپنے علاقے میں ہیروئن اور جوئے وغیرہ کے اڈے کھول سکیں اور میں مسلم لیگ صحیح معنوں میں ایک عوامی جماعت بن سکے۔

لیکن سچی بات یہ ہے کہ یہ کام بھی خاصا مشکل ہے کہ اس میں کمپلیکیشن بہت زیادہ ہے چنانچہ میرا ارادہ بیوروکریٹ بننے کا ہے اگر آپ سمجھتے ہیں کہ اس عمر میں بیوروکریٹ بننے کے لئے میرے رستے میں کوئی قانونی بند ش ہوگی ،تو یہ آپ کی غلط فہمی ہے سارے قواعد و ضوابط ایک جنبش قلم کی مار ہوتے ہیں۔ بیوروکریٹ بننے کے بعد مرے جنبش قلم سے صاحبان اقتدار کے بھی کام کی قواعد و ضوابط کے بغیر ہوتے چلے جائیں گے جس کے نتیجے میں میری عزت اور اقتدار میں دن دگنی او رات چوگنی ترقی ہوگی۔

مگر جب میں نے غور کیا تو احساس ہوا کہ یہ کام بھی خاصا مشکل ہے مگر خدا بھلا کرے ایک صاحب کا جو عین اس کنفیوژن کے لمحے میں آن وارد ہوئے ‘پوچھنے لگے کیا مسئلہ ہے؟ میں نے مسئلے کی تفصیل بیان کی تو انہوں نے کان میں اڑی ہوئی بیڑی نکالی اور سلگانے کے بعد ایک لمباسوٹالگاتے ہوئے کہا ”آپ یوں ہی پریشان ہوئے ہیں،یہ تو مسئلہ ہی نہیں، آپ لمبے چکروں میں پڑنے کی بجائے سیدھی طرح وہ کریں جو میں کر رہا ہوں اللہ مشکل آسان کرے گا۔

میں نے کرسی اس اجنبی کے قریب سر کائی اور پوچھا کہ مجھے کیا کرنا چاہیے؟ وہ اپنا منہ میرے کان کے قریب لا یا اور سرگوشی کے انداز میں بولا کچھ بھی نہیں صرف اتنا کہ میں کریں کہ مونچھیں رکھ لیں کاندھوں پر پرنا ڈالیں اور شام کو جہاں میں کھڑا ہوتا ہوں وہاں آپ بھی کھڑے ہو جایا کریں‘ میا ایک عرصے سے اس بازار میں لوگوں کی خدمت کر رہا ہوں اللہ عزت کی روٹی دیتا ہے اورضمیر پر بوجھ بھی نہیں ہوتا کیونکہ جو ہوں وہی نظر بھی تو آتا ہوں یقین کریں جس طرح کالم نگاری آپ کرتے ہیں اس سے یہ بہتر اور آسان کام ہے۔

Your Thoughts and Comments