Aik Long Distance Call

ایک لانگ ڈسٹینس کال

عطاالحق قاسمی پیر جنوری

Aik Long Distance Call

عطاءالحق قاسمی
میں تو دو گھنٹے سے ٹرائی کررہا تھا بھابھی بچوںکا حال ہے؟“”سب ٹھیک ہیں تم سناﺅ گھر میں سب خیریت سے ہیں؟“
”جی اللہ کا شکر ہے پشاور کا موسم کیسا ہے؟“”سخت سردی پڑرہی ہے لاہور کا کیسا جارہا ہے؟“
”لاہور میں بھی یہی حال ہے سنا ہے عذرا باجی سخت بیمار ہیں ایک تو ان کے ہاں فون نہیں ہے اور مجھے خط لکھنے کا وقت نہیں ملتا آپ انکی طرف جائیں تو میری طرف سے بھی پوچھ لیں!“
”میں تو خود ایک مہینے سے ان کی طرف نہیں جاسکتا وقت ہی نہیں ملتا ویسے تو شہباز آیا تھا وہ بتارہا تھا پہلے سے ہی بہتر ہیں بڑا ترس آتا ہے ان پر ہماری اس بہن نے ساری عمر دکھ اور پریشانی ہی میں گزار دی“”سنا ہے وہ مالی طور پر بھی پریشان ہیں!“”ہاں میں نے بھی سنا ہے جی چاہتا ہے کہ ان کی مدد کرنے کو لیکن میں ان دنوں مکان بنارہا ہوں ابھی تک ساڑھے بائیس لاکھ لگ گئے ہیں مگر یہ مکمل ہونے میں میں ہی نہیں آرہا ویسے میں نے شہباز کو لکھا تھا کہ دوائیوں وغیرہ کی ضرورت ہو تو ہسپتال میں ڈاکٹر رانا سے مل لے وہ میرا بچپن کا دوست ہے میں نے شہباز کو اپنا وزیٹنگ کارڈ دے دیا تھا! “”چلیں یہ تو آپ نے بہت اچھا کیا وہ اپنا کٹو ہے نا؟“
”کون کٹو؟“”تایا جی اعجاز کا نواسہ!“”ہاں ہاں کیا ہوا اسے؟“”پولیس اسے جوئے کے الزام میں پکڑ کر لے گئی؟“”یہ تم کیا کہہ رہے ہو وہ تو بہت اچھا بچہ ہے!“”ہاں میں جانتا ہوں رضیہ آپی بھی روتی ہوئی آئی تھیں تایا ابو بھی آئے تھے کہ اس کے لیے کچھ کرو وہ بالکل بے گناہ ہے“”پھر تم نے کیا کیا؟“”بھائی جان میں کیا کرسکتا ہوں اس پر الزام ہی ایسا کہ کسی کو کچھ کہتے ہوئے شرم آتی ہے اور پھر ویسے بھی آج کے زمانے میں کسی کی نیک چلنی کی گواہی کیسے دی جاسکتی ہے کل کو جو سب کے سامنے شرمندہ ہوں تو کیا یہ بہتر نہیں کہ اس معاملے میں آیا ہی نہ جائے چنانچہ میں نے رضیہ آپی اور تایا ابو کو ٹر خا دیا تھا“”اچھا کیا!کبھی سلمان سے تو ملاقات نہیں ہوئی؟“”کون سلمان؟“”بھئی وہ جو میرا بچپن کا دوست ہے کیا اس نے تمہاری طرف آنا جانا چھوڑدیا ہے؟“”اچھا سلمان بھائی اس بیچارے کوتو فوت ہوئے ایک سال گزر چکا ہے“”اوہو بہت افسوس ہوا تم جنازے میں گئے تھے؟“”جانا تھا مگر جب گھر سے نکل رہا تھا کچھ کاروباری دوست آگئے بہت اچھا آدمی تھا اللہ اس کی مغفرت کرے جب بھی آتا ہمیشہ آپ کی باتیں کرتا آپ سے وہ محبت کرتا تھا“
”مجھے خود اس سے بہت محبت تھی کبھی اس کے گھر جانا ہو تو میری طرف سے بھابھی سے تعزیت ضرور کرنا اور سیاست کا کیا حال ہے؟“”آپ کے سامنے ہی ہے ملک میں تو قدرے سکون ہے لیکن عالم اسلام پر بہت برا وقت آیا ہے بھائی بھائی سے لڑرہا ہے اور دشمنوں کو چودھری بننے کا موقع مل رہا ہے!“”بس یار دعا کرو اللہ حالاتب بہتر کرے اس سے کاروبار پر بہت اثر پڑرہا ہے۔

(جاری ہے)


”جی ہاں پہلے سے آدھارہ گیا ہے یہ آپ کی آواز بہت کم آرہی ہے!“”میں تو خاصا اونچا بول رہا ہوں ویسے آواز تمہاری بھی بہت مدہم ہے۔“”ہیلو“”ہیلو“”ہیلو،،،،،،ہاں اب کچھ بہتر ہے آپ لاہور آرہے ہیں؟“”میں پچھلے ہفتے چند گھنٹوں کے لیے آیا تھا کچھ ضروری کام تھے مگر تم سے ملاقات نہ ہوسکی ایک تو تم نے گھر بہت دور بنایا ہے اوپر سے تمہارا فون خراب رہتا ہے بہت فون کئے سوچا تھا کہ چلو فون پر ہی بات کرلوں مگر تمہارے فون سے ٹوں ٹوں کی آواز آتی رہیں ہیلو یہ پھر گڑ بڑ شروع ہوگئی ہے!“”بھائی جان لانگ ڈسٹینس کال میں یہی تو خرابی ہے کہ“”بھائی کو بھائی کی آواز سنائی نہیں دیتی مگر یہ خرابی لانگ ڈسٹینس کال میں نہیں اس لانگ ڈسٹینس میں ہے جو مادہ پرستی نے رشتوں کے درمیان پیدا کردیا ہے !کیونکہ تمہیں تو ایک شہر میں رہنے والے قریبی عزیز وں کی آواز بھی سنائی نہیں دیتی۔

“”یہ کون گدھا درمیان میں آگیا ہے؟“”چلو دفعہ کرو اسے تم اپنے بچوں کی تازہ تصویریں تو مجھے بھیجو بہت یاد آتے ہیں“”وہ بھی آپ کو بہت یاد کرتے ہیں۔“”تم دونوں جھوٹ بولتے ہو تم لوگوں کو اپنے علاوہ کچھ یاد نہیں۔“”یہ کوئی بہت ہی لعنتی شخص ہے اچھا بھائی جان پھر بات ہوگی“
”خدا حافظ“
”خدا حافظ“

Your Thoughts and Comments