بند کریں
مزاح مضامینال گلہری

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین

مزید عنوان

ال گلہری
اےال گلہری مجھےافسوس ہےکہ تیرانام اس مضمون کےلکھنےسےاردوادب میں شامل ہوگیا۔ میں نہ چاہتا تھا کہ تیرا ذکرایک شیریں راحت جان زبان میں آئے۔

خواجہ حسن نظامی

گلہری ایک موذی جانور ہے۔ چوہےکی صورت چوہےکی سیرت۔ وہ بھی ایذادہندہ یہ یہی ستانے والی۔ چوہا بھورے رنگ کا خاکی لباس رکھتا ہے، فوجی وردی پہنتا ہے۔
گلہری کا رنگ چولھےکی سی راکھ کا ہوتا ہے۔ پیٹھ پر چارلکیریں ہیں۔ جس کو لوگ کہتےہیں کہ حضرت بی بی فاطمہ رضی اللہ عنہا کا پنجہ ہے۔ گلہری کی دم چوہےکےبرخلاف ہے، چوہےکی دم پربال نہیں ہوتےاس کی دم گپھےدار ہے۔ گلہری کا سرچپٹا ہوتا ہے، چوہےاوراس کےسرمیں تھوڑا ہی فرق ہے۔ گویا دونوں کا دماغ یکساں بنایا گیا ہے۔ چوہا بھی آدمیوں کی چیزیں خراب کرنےکی تجویزیں مغزسےاتارتا ہےاورگلہری بھی۔
چوہا منہ سےکھاتا ہےاوراگلےہاتھوں سےنوالہ اٹھا کراسےکترتا ہےمگرگلہری کی طرح ہمیشہ نہیں کبھی کبھی اورگلہری تو ہمیشہ اوکڑوں بیٹھ جاتی ہے۔ ہاتھوں میں کھانےکی چیز لیتی ہے۔ دم ہلاتی جاتی ہے۔تھرکتی ہے۔ پھدکتی ہےاورکترکترکرکھانا کھاتی ہے۔
چوہا بےچارابلوں میں بوریوں میں میلےکچیلےسوراخوں میں گھر بناتا ہے۔ گلہری بڑی تمیزدار ہے۔ یہ اکثرمکانوں کی چھتوں میں گھونسلابناتی ہے۔جس گھرمیں ان جناب کاجی چاہا بےپوچھے گچھےجاپہنچتی ہیں اوررضائی تو شک لحاف یاجوروئی دارچیزسامنےآئی اس کوکترڈالتی ہیں۔ اس میں سےروئی نکالتی ہیں اوراپنےگھرمیں اس کےگدّے بنا کربچھاتی ہیں۔اورپھرنرم نرم بسترپر بچےدیتی ہیں۔
رات بھرگھر کی مالک ہیں۔ صبح ہوئی اور یہ چل چل ۔ چلل چلل، چل چل، چل، چلل چلل، چلل چلل ،چلل چلل کہتی اپنی بولی میں خدا کی عبادت کرتی یا آدمی کو گالیاں دیتی ہوئی باہر نکل جاتی ہیں۔سارا دن ہےاوران کا پیٹ ہے۔ جنگل پہنچتی ہیں۔ پھل داردرختوں پرچڑھ جاتی ہیں اورخوب کھاتی پیتی ہیں۔ سڑکوں پردوڑتی پھرتی ہیں۔ جہاں ذراسا کھٹکا ہوااورانہوں نےدونوں ہاتھ اونچےاٹھا کرجن کےپنجےجھکےہوتےہیں اورپیروں کےبل کھڑےہوکرادھرادھرگھبراکردیکھا۔چل چل کی دم کوہلایا۔ کیونکہ ان کی دم ہرپل کےساتھ تھرکتی ہے۔ کوڑےکی طرح تڑپ کربل کھاتی ہے۔ اوربھاگ گئیں۔ گلہری کےبچےبھی چوہےکی طرح لال گوشت کی بوٹی ہوتےہیں۔ ان پربال نہیں ہوتے۔ آنکھیں بند ہوتی ہیں۔ کچھ دن بعد بال نکلتےہیں۔ آنکھیں کھلتی ہیں اوردنیا میں غریب آدمی کےدوستانےوالےاوربڑھ جاتےہیں۔
میں نےاوپرکہا آل گلہری۔ عربی ال کو میں نےانگریزی دی کی طرح اس موذن سےالگ رکھا ہے۔ ملا دیتا تو گلہری کے کاٹنے کاڈر تھا۔ بڑی شریر ہے ،بڑی فتنی ہے۔ میری بادشاہی ہوتوسب سےپہلےگلہریوں کا قتل عام کراؤں۔ اوراس کےزن بچےکولھو میں پلوادوں۔
میری خوبصورت چھت گیری میں جگہ جگہ بھمباقےلگا دیئےہیں۔ لکڑی لےکرمارتا ہوں توکیا مجال باہرنکل جائے۔ چھت گیری کےاندردوڑتی پھرتی ہے۔ میں دوڑتا دوڑتا ہانپ جاتا ہوں پسینہ سارے کپڑوں کوترکردیتا ہے۔ مگر یہ بےغیرت اوچھلتی پھرتی ہے۔ اِدھر سےاُدھر اُدھرسےادھر۔
کونسل میں سوال
میراارادہ ہےکہ کسی آنریبل ممبرکونسل کولکھوں کہ اب کےال گلہری کی باب بھی ایک سوال کریں۔ جس کےالفاظ یہ ہوں۔
کیا گورنمنٹ کےعلم میں یہ امر موجود ہےکہ ہندوستان کی نہایت وفاداررعایا کوایک موذی جانور گلہری نےبہت ستا رکھا ہے۔
گورنمنٹ کی وہ مساعی جمیلہ کونسل کویاد ہیں جوعرصہ دراز سے چوہوں کےخلاف استعمال کی جاتی ہیں۔ یعنی ان کوپکڑکرہلاک کردینےکا پورا بندوبست کردیا گیا ہے۔
لہٰذا میں نہایت ادب سےیہ مسودہ پیش کرناچاہتا ہوں کہ ال گلہری کےمسئلہ پربھی توجہ کی جائے۔ اس جانور میں بھی پسو ہوتے ہیں۔ یہ بھی بیماریوں کی چھوت کو باہر سےگھروں میں لاتی ہے۔یہ بہت خطرناک معاملہ ہے۔ گورنمنٹ میونسپل کمیٹیوں کوہدایت کرے۔ کہ آئیندہ گلہریاں ہرجگہ پکڑی جائیں اورہلاک کی جائیں۔
مفیاہن ہند سےاستفسار
کیا فرماتےہیں مفتیان دین بیچ اس مسئلہ کےکہ ایک گھریلوغیرپالتوجانورجس کوگلہری اوراس وقت ال گلہری بھی کہتےہیں۔ متبرک ومقدس کتابوں کوکاٹ ڈالتا ہےاورصریحاً کتب مقدسہ کی توہین کرتا ہے۔ آیا ایسے بدذات حیوان پرجو پرندہ ہےاپنےدوڑنےاوربھاگنےاوردیواروں چھتوں پرپھرتی سے چڑھ جانےکےسبب اوردرندہ ہےاپنےنوک داردانتوں کےناجائز استعمال کرنےمیں موذی کا اطلاق عائد ہوتا ہے۔ یا نہیں اوقتل الموذی قبل الایذا کا حکم اس پرصادق آتا ہےیا نہیں۔بینواتوجروا
اےال گلہری مجھےافسوس ہےکہ تیرانام اس مضمون کےلکھنےسےاردوادب میں شامل ہوگیا۔ میں نہ چاہتا تھا کہ تیرا ذکرایک شیریں راحت جان زبان میں آئے۔ مگرکیا کروں جیسا تو نےمجھ کو ستا کربےبس کیا ہے۔ ایسا ہی تیرا تذکرہ جبراً میرے قلم کےمنہ میں آیا۔ اورچل چل کرتا نکل گیا۔

(0) ووٹ وصول ہوئے