بند کریں
مزاح مضامینبیوٹی سنڈروم

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین

مزید عنوان

بیوٹی سنڈروم
اس صدی کے شروع میں جب ایک سیانے نے کہا کہ بیوی کی تلاش میں نکلو تو آنکھ کی بجائے کان کا استعمال کرو کیونکہ آپ نے بیوی کو اتنا دیکھنا نہیں ‘جتنا سننا ہوتا ہے تو کسی نے اس دانشور کی بات پرکان نہ دھرے

اس صدی کے شروع میں جب ایک سیانے نے کہا کہ بیوی کی تلاش میں نکلو تو آنکھ کی بجائے کان کا استعمال کرو کیونکہ آپ نے بیوی کو اتنا دیکھنا نہیں ‘جتنا سننا ہوتا ہے تو کسی نے اس دانشور کی بات پرکان نہ دھرے۔اب ڈاکٹر ایڈ گرنے کہا ہے کہ خوبصورت بیوی صحت کے لیے مضر ہے تو سب کے کان کھڑے ہوگئے ہیں ۔ڈاکٹر وں کی باتیں سن سن کی ہم بھی خود کو ڈارون ‘مارکس ‘ٹالسٹائی اور فرائڈ سمجھنے لگے ہیں ۔یعنی ہمیں بھی مستقل سردردرہنے لگا ہے ۔ہم ڈاکٹروں کے دلدادہ نہیں ‘کیونکہ مقدمہ باز ی کے شوقین کے پاس دولت ڈاکٹروں کے دلدادہ کے پاس صحت کم ہی ہوتی ہے ۔اس کے باوجود ہم ڈاکٹروں کو مانتے ہیں ۔انہوں نے بتایا کہ بندہ ایک گردے سے بھی زندہ رہ سکتا ہے ۔ہم نے مرنے کے بعد ایک گردہ عطیے میں دینے کا اعلان کردیا ہے ۔ہم تو شادی کے چھ ساتھ سال بعد کسی میاں بیوی کو ایک ساتھ داک کرتے دیکھ لیں تو ہمیں یقین ہوجاتا ہے کہ میاں کو یہ کچھ کرنے کا ڈاکٹر نے کہا ہو گا ۔امریکیوں کو تحقیق کرنے کا اس قدر شوق ہے کہ انہیں کوئی موضوع نہ ملے تو اس پر تحقیق کرنے لگتے ہیں کہ ان کے ”فورفادرز “کون تھے کچھ تحقیق محدود رکھتے ہوئے یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان کا ”سنگل فادر “کون تھا ؟گزشتہ دنوں وہاں کی ایک یونیورسٹی نے 3519مرے ہوئے ‘شادی شدہ مردوں کی میڈیکل ہسٹری پر ریسرچ کرنے کے بعد یہ انکشاف کیا کہ خوبصورت بیویوں کے خاوند جلد مرجاتے ہیں ۔ڈاکٹر ایڈ گر نے کہا کہ بد صورت اور قبول صورت بیویوں کے خاوندوں کی اوسطا عمر خوبصورت بیویوں کے خاوندوں سے 12سال زیادہ ہوتی ہے ۔ہم نے سو چا شاید بد صورت بیویوں کے خاوندوں کو ویسے ہی اپنی عمر 12سال زیادہ لگتی ہو ‘لیکن ڈاکٹر ایڈ گرنے بتایا کہ حسین بیوی کے خاوند 80فیصد زیادہ تناؤ کا شکار رہتے ہیں ۔کیونکہ وہ اپنی منواتی ہیں ‘پھر امریکی خاوندوں کو یہ ڈررہتا ہے کہ ان کی حسین بیوی کہیں انہیں چھوڑ نہ جائے ۔وہ کسی تقریب یا بازار میں بیوی کے ساتھ چلے جائیں تو سب کی نظریں ان کی بیوی پر ہی ہوتی ہیں ۔اس لیے وہ کبھی ریلیکس نہیں ہوتے ۔اگر چہ پاکستان میں اتنی پریشانی نہیں کیونکہ ہمارے ہاں عورتیں پردہ کرتی ہیں ۔برقع میں ان کی صورت کم سیرت زیادہ دکھتی ہے ۔صوبہ سرحد کے بیشتر علاقوں میں تو سڑک پر عورت کا چہرہ نظر آنا ایسے ہے‘ جیسے سڑک پر سوکا نوٹ پڑا نظر آنا ۔ویسے تو ڈاکٹر ایڈ گر کی اس ریسرچ سے ان کی ذاتی بیوی بھی پریشان ہے‘ کیونکہ ڈاکٹر ایڈ گر کی طویل عمری کے باعث بیوی یہ سوچنے لگی ہے کہ اس کا مطلب ہے ایڈگر مجھے حسین ہی نہیں سمجھتا ۔ہماری ایک ممتاز اداکارہ کی بیٹی نے ماں سے کہا :”ای جب میں بڑی ہوں گی تو میرا بوائے فرینڈ بڑا ہینڈ سم ہو گا ۔“ماں نے مذاق میں کہا :”اگرتمہارے بوائے فرینڈ اتنا ہینڈسم ہوا تو دوسری لڑکیاں تم سے چھین لیں گی ۔وہ کچھ لمحے چپ رہی پھر اپنے باپ کی طرف دیکھ کر بولی”آپ نے اسی لیے پاپا سے شادی کی تھی ۔“گویا جن بیویوں کے خاوند خوبصورت نہیں ‘ہوتے وہ بھی سکھی رہتی ہیں ۔ویسے تو ہمیں یہ حسن شکن تحقیق بس صورتوں کی پبلسٹی کمپین لگتی ہے ۔اب تو کسی کو درازی عمر کی دعا دینا بھی دراصل یہ دعا دینا ہے کہ اللہ اسے بدصورت بیوی دے ۔اگر چہ ڈاکٹر وہ بندہ ہوتا ہے جو اپنی بیوی کو بھی اس دن غور سے دیکھتا ہے جس روز وہ بیمار ہو ۔وہ تو خوبصورت عورت کو بھی دیکھنے کی فیس لیتا ہے ‘لیکن دنیا کے پہلے مارٹ سرجن ڈاکٹر کرسٹن پر نارڈ نے کہا ہے شکل اتنی اہم ہوتی ہے کہ اگر میں خوبصورت نہ ہوتا اور میری جگہ کوئی گنجا ‘نھگنا بد شکل ڈاکٹر یہ آپریشن کرتا تو اسے وہ پذیرائی نہ ملتی جو مجھے ملی ۔ڈاکٹر کر سٹن نے ایک عورت سے شادی کرنے سے انکار کردیا تھا ۔کسی نے وجہ پوچھی تو کرسٹن نے کہا :”اس کا ماضی سننے والے نے کہا خاتون بڑی صالح ہے ۔اس کا ماضی تو بہت اچھا ہے ۔“تو ڈاکٹر کرسٹن بولے:” اچھا تو ہے بڑا لمبا ۔“بہر حال حسین بیویوں کے خاوند عمر میں صرف 12سال کا اضافہ کرنے کے لیے اپنی بیویاں چھوڑنے سے تو ر ہے کیونکہ خوبصور ت بیوی حاصل کرنا کون سا آسان کام ہے ۔ہم نے ٹی وی پر فلم” سر گم“ دیکھی ۔عدنان سمیع کئی ولنوں اور اکیس کمر شلز سے گزر کر اپنی زیبا بختیار تک پہنچتا ہے ۔کرسٹن کنگ کہتا ہے شادی شدہ آدمیوں کے لیے سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ غیر شادی شدہ لوگ اپنے پیسوں کا کیا کرتے ہیں؟ ایسے ہی خوبصورت بیویوں کے خاوندوں کے لیے سب سے پریشان کن بات یہ ہوتی ہے کہ لوگ ان کی بیویوں کو خوبصورت کیوں کہتے ہیں ؟ہم نے ایک دوست سے پوچھا:” پرسوں فلاں: ہوٹل میں تمہارے ساتھ وہ حسین د وشیزہ کون تھی ؟بولا:” وہ میری بیوی تھی مگر خدا کے لیے یہ اس کے سامنے نہ کہہ دینا ۔“ہم نے تو خوبصورت عورت کی شادی پر لوگوں کو خوش اور طلاق پر کبھی رنجیدہ ہوتے نہیں دیکھا۔مشتاق یو سفی کہتے ہیں مجھے کافی اور کافکا ‘مردہ کا ناچ‘ اتوار کے ملاقاتی اور خوبصورت عورت کے خاوند سے چڑہے ۔اٹلی کی کہاوت ہے ۔”جیسی بیٹی چاہتے ہو‘ ویسی بیوی لاؤ ۔“سو بھی بھی بیوی سے بندہ شادی کرنا چاہتا ہے ۔اس کی مرضی ہے ‘ڈاکٹروں کو اس میں مداخلت نہیں کرنا چا ہیے ۔ویسے سب سے اچھی شارک وہ ہوتی ہے جو مردہ ہو اور خوبصورت بیوی وہ ہوتی ہے جو دوسرے کی ہو ۔آپ کی گاڑی اس دن پرانی ہوتی ہے جس دن ہمسایہ نئی گاڑی لاتا ہے ۔بیوی کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے ۔اردو شاعروں کو پڑھ کر لگتا ہے جتنے جان لیوا اسلحے ہیں ‘ان میں حسن سب سے کاری ہے ۔ان کا بس چلے تو بلالائسنس حسن رکھنا قابل دست اندازی پولیس قرار دے دیں ۔حسن کا آنکھوں پر اتنا اثر پڑتا ہے کہ بیوی نے خاوند سے کہا دیکھا وہ سپاہی اس حسین لڑکی کو کیسے گھور گھور کر دیکھ رہا تھا جو ابھی ابھی گزری ہے تو خاوند بولا کون سپاہی ہماری شاعری میں تو لوگ حسن پر ساری عمر قربان کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں ۔اگر خاوند 12سال قربان کردیتے ہیں تو یہ کوئی بڑی بات نہیں ۔ہم سمجھتے ہیں بیماری تو عمر ہے ۔بندے کو پیدا ہی یہ مرض لگتی ہے اور بڑھتی ہی چلی جاتی ہے ۔جرمن کہتے ہیں انسان تو پیدا ہوتے ہی مرناشروع کردیتا ہے ۔لیکن سب سے زیادہ لوگ جوانی میں مرتے ہیں اور اکثر حسینوں پر مرتے ہیں ۔البتہ یہ جان کر خوشی ہوئی ہے کہ ان میں حسینوں کے اپنے خاوندوں کا نام آیا ۔ورنہ شاعری میں حسینوں کے خاوند اتنے ہی اہم تھے جتنے اہم وہ اپنے گھر میں ہوتے ہیں ۔جب یہ تحقیق بل کلنٹن کو اس کی پچا سویں سالگرہ کے موقع پر بتائی گئی کہ خوبصورت بیوی کے خاوند کی عمر بد صورت کے خاوند سے 12سال کم ہوتی ہے تو ہیلری نے کلنٹن سے کہا :”تھینک گاڈا تم نے مجھ سے شادی کی ورنہ تم آج 62سال کے ہوتے ۔“

(0) ووٹ وصول ہوئے