Bedard Syed

بے درد سعید

جمعرات 10 ستمبر 2015

سید ممتاز علی بخاری
سیّد بدر سعیدنے ادب اور صحافت کی دنیاؤں میں تہلکا مچا رکھا ہے۔ شاعری، نثر، طنز و مزاح، فیچر نگاری، انٹرویو۔۔۔ غرض ادب و صحافت کی کوئی بھی صنف ان کے "ظالم و جابر"قلم کی "تباہ کاریوں"سے بچ نہ پائی۔ یہ اور بات ہے کہ موصوف قلم کی جگہ پنسل کا استعمال کرتے ہیں۔ایک دور میں موصوف مُردوں کو خوش کرنے کے واسطے گھڑے مردے اکھاڑا کرتے ہین اور ان کے تعزیت نامے لکھا کرتے تھے۔

بدرسعیدہر مہینے کسی نہ کسی کے"اوپر"جانے کی اطلاع دیا کرتے تھے۔اس شعبے میں ان کی شہرت چارسو پھیل گئی تھی اور انہیں ایک طرف تو تعزیت نامے لکھنے کی روزانہ بیسیوں درخواستیں موصول ہوتی تھی تو دوسری طرف ان کے کئی تعزیت نامے(جو بلا اجازت لکھے گئے تھے)پڑھ کر متذکرہ مرحوم شخصیات دادرسی کے لئے عدالت ِ عظمیٰ کی"سوموٹوایکشن"والی "زنجیرِ عدل"بھی کھینچتے تھے۔

(جاری ہے)

ان کا مطالبہ تھا کہ انہیں بدر کے اس ناروا ظلم سے نجات دلائی جائے۔ایک مرتبہ موصوف کے مرنے کی خبر پر ان کے حلقہ احباب میں خوب کھلبلی مچی تھی لیکن کسی نے ان کا تعزیت نامہ لکھنے کی جسارت نہ کی ۔ آخر کار یہ سعادت بھی ہمارے نصیب میں آئی لیکن وائے ناکامی کہ اگلے دن انہوں نے اپنے مرنے کی تردید کی اوریوں تعزیت نامے کی تردید ہو گئی۔۔۔۔
بدرسعید دنیا سے تیز بلکہ تیز تر چلتے اور دوڑتے ہیں اسی لیے تو بائیس سالہ زندگی میں عشق کا ساٹھ سالہ تجربہ حاصل کر رکھا ہے۔

اس سلسلے میں آج کل ایک میگزین میں نوجوان عُشاق کو عشق کے وہ طریقے سکھانا شروع کر رکھے ہیں جو کئی مرتبہ خود ان کی پٹائی کا باعث بھی بنے۔عموماً کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص پر تو لوگ مرتے ہیں لیکن چپ شاہ کے نزدیک بدرسعید کا نام اکثر لوگوں کے لیے آبِ حیات کا سا اثر رکھتا ہے بالخصوص صنفِ نازک کے لیے۔۔۔!!لڑکیاں جوق در جوق ان کی عقیدت مند بنتی جارہی ہیں اور جہاں بدرسعید تشریف فرما ہوں وہاں کبھی جلوہ کبھی پردہ کے بے شمار مناظر ہر شخص بآسانی دیکھ سکتا ہے۔

ایک مرتبہ ایک جگہ موصوف کے ساتھ ہم چند دوست بیٹھے گپ شپ لگا رہے تھے کہاچانک سامنے موجود بلڈنگ کی تیسری منزل سے ایک کھڑکی کھلی اور ایک آفتاب و ماہتاب چہرہ نمودار ہوا۔ دس پندرہ منٹ گزر گئے لیکن محترمہ کی نظر ہم سے ہٹنے ہی نہ پارہی تھی۔ہم اس صورت حال سے پریشان ہو گئے اور جلدی جلدی اپنے جیب سے موبائل نکال کر اپنی تصویر کھینچی اور لگے معائنہ کرنے۔

۔!!
دراصل ہمیں یہ خدشہ لگا کہ دنیا کے عظیم ترین عجوبوں کی تعداد میں کہیں ہماری لاعلی میں اضافہ نہ ہو گیا ہو اور نیا عجوبہ ہم خود نہ ہوں جو یوں ٹک ٹک دیکھے جا رہی ہیں ہمیں یہ محترمہ۔۔۔خیر جب ہم ان کے اس انداز سے گھورنے کی کوئی وجہ نہ دریافت کر سکے تو ہم نے اپنی تشویش کا اظہاربدرسعیدسے کیا تو وہ ہنس پڑے اور ہماری عقل کا ماتم کرتے ہوئے کہنے لگے:یہ محترمہ آپ کی طرف نہیں بلکہ میری طرف متوجہ ہیں اور میں ان کا فیملی عاشق ہوں۔

"فیملی عاشق "کی یہ اصطلاح آج تک ہماری سمجھ میں نہیںآ ئی اور نہ ہیبدرسعید نے ہمیں بتانے کی زحمت گوارا کی۔موصوف کو لڑنے لڑانے کا بہت شوق ہے اس لیے تو عموماً ان کی زبان پر یہ شعر تھرکتا رہتا ہے
ماسٹر جی نے منع کیا تھا "اکھ" لڑانے سے
گویا اس سے "نک" لڑایا جا سکتا ہے
اڑوس پڑوس کی لڑکیوں کو مُفت میں خدمتِ خلق کے جذبے کے تحت ٹیوشن پڑھاتے ہیں۔

یہ الگ بات ہے کہ بدرسعید آدھے سے زیادہ وقت اپنی طالبات کو اپنی شاعری، مزاح اور دوسرے تخلیقی فن پارے پڑھنے پر مجبور کرتے ہیں۔ اگر کوئی طالبہ ان کا دیا ہوا سبق یاد نہ کرے تو پھر اُس کی شامت آ جاتی ہے اور اسے سزا کے طور موصوف کی دو تین غزلیں یاد کرنے پر ہی معافی ملتی ہے۔
گرل فرینڈز کا بہت خیال رکھتے ہیں۔ اپنی اور دوسرے کی گرل فرینڈ میں کوئی فرق روا نہیں رکھتے، سب کو ایک آنکھ سے دیکھتے ہیں۔

جب بھی کہیں سے دعوت ملتی ہے اسے فوراً ًقبول کر لیتے ہیں۔ اکثر اوقات تو "قبول ہے" کی گردان بھی الاپتے رہتے ہیں لیکن ہنوز کنوارے ہیں۔موصوف کی منگنی کی افواہیں حکومت کی تبدیلی کی خبروں سے زیادہ پھیلتی ہیں ۔ یوں لگتا ہے ان کی شادی پر ان کے مداح عبداللہ کی طرح دیوانے بنے رہیں گے۔کچھ لوگوں نے پیروں فقیروں کے پاس جا کر اُن کی شادی کے لیے خسوصی دعائیں بھی کروائی ہیں لیکن ابھی تک کسی دعا کی قبولیت کے آثار نظر نہیں آرہے۔

ان کے مداحوں کو ان سے یہ گلہ رہتا ہے کہ کال ریسیو نہیں کرتے اور میسج کا جواب نہیں دیتے لیکن جب یہ کسی کے گلے پڑ جائیں تو جاب چھڑانا مشکل ہو جاتا ہے۔ بدر سعیدفون پر تو موجود نہیں ہوتے۔ ہاں !!سوشل میڈیا پر اکثر دکھائی دیتے ہیں۔
بدرسعیددور حاضر کے عظیم فیچر نگار ہیں۔ عموماً اُن کے مسائل میں ہاتھ ڈالتے ہیں جن سے ہر کوئی کتراتا پھرتا ہے۔

اسی لیے تو انہیں خطرناک دھمکیاں بھی ملی ہیں یہاں تک کہ کچھ لوگ انہیں جنت میں بجھوانے کی پیشکشیں بھی کی ہیں۔ پرویزمشرف کی طرح یہ بھی کسی سے ڈرتے ورتے نہیں ہاں رات کو گھر سے باہر نکلتے وقت چھوٹے بھائی کو ہمیشہ ساتھ رکھتے ہیں شاید اسے بھی نڈر رہنے کی ٹریننگ دیتے ہوں ہوں اس طرح۔۔۔!!بدرہر کام بلا معاوضہ کرتے ہیں یہاں تک کہ عشق بھی۔۔۔!!عوام کی بے لوث خدمت کرنے کی خاطر بالکل مُفت میں لکھتے ہیں اور اُن کے مداح اور قارئین یہ سمجھتے ہیں کہ موصوف کی سٹیل ملیں چل رہی ہیں یا پھر گلبرگ میں پراپرٹی کاکاروبار ہیں۔


ہمارے ذرائع کے مطابق اُن کی دوسری کتاب "مُفت میں" جلد قارئین کو دستیاب ہو گی۔بدرجہاں بھی جاتے ہیں داستان رقم کر آتے ہیں ہیں۔ ایک روز اسی شوق کے ہاتھوں مجبور ہو کر مکتبہ داستان چلے گئے اور تب سے وہاں داستانیں رقم کر رہے ہیں۔ ایک عرصے میں بدر "حکایت"کے انویسٹی گیشن سیل کے انچارج بن گئے ہیں لگتا ہے کہ انسپکٹر محبوب عالم، احمد یار خان، انسپکٹر شجاع کے نقشِ قدم پر چلنے کی کوشش کر رہے تھے۔

کچھ عرصہ پہلے تک وہ "حکایت" میں کتابوں پر تبصرے بھی کر رہے تھے۔ تبصروں سے کوئی اور فائدہ ہونہ ہو، ان کی لائبریری نے دن چوگنی رات اٹھنی ترقی کی۔
اعزازی میگزین اتنے آتے ہیں کہ خدا کی پناہ!! جوڈاکیہ ان کے گھر ڈاک دینے آتا ہے وہ بھی آدھا ادیب اور ادب نواز بن گیا ہے۔موصوف کو ہر ڈاک ایک ہفتہ دیر سے ملتی ہے کیونکہ ڈاکیے کے محلے کے اور لوگ بھی ان سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔

اب تو اکثر اوقات موصوف کی دو تین نئی غزلیں سننے کے بعد ہی اپنی ڈاک ملتی ہے۔فارمین کرسچن کالج کے ادبی حلقے کے صدر بھی رہ چکے ہیں کسی نے موصوف سے ان سے اس اد بی نام کی وجہ تسمیہ پوچھی تو کہنے لگے:"ہم اہلِ بزم کالج میں آنے والی ہر لڑکی پرنظر رکھتے ہیں اور ہماری سپروائزر اُن طالبات کے مستقبل کی فکر کرتی ہیں یوں ہم بزم ِ فکر و نظر کا کام چلا رہے ہیں۔

"
موصوف نے اپنی سوسائٹی کے زیرِ اہتمام کئی عالمی مشاعرے بھی کروائے جس میں لاہورکے تمام چھوٹے بڑے شعراء کو دعوت دی گئی۔بدر ان لوگوں میں سے ہیں جو پانی مین رہنے کے باوجود مگرمچھ سے بیر رکھتے ہیں۔ایف سی کالج کے طالب علم ہوتے ہوتے امریکہ کے ایسے ایسے راز افشا کرتے ہیں جن کا صرف اور صرف CIAکو علم ہوتا ہے اور صدر ِامریکہ سمیت باقی سب لوگ ان سے بے خبر ہوتے ہیں۔

ان کی سنجیدہ تحریریں لوگوں کو ہنسانے کا کام دیتی ہیں۔ آپ شاید سمجھ رہے ہوں گے کہ لوگ ان پر یا ان کی تحریروں پر ہنستے ہوں گے۔ ہرگز نہیں لوگ تو اپنے آپ پر ہنستے ہیں جو حکمران طبقے کے سارے کرتوتوں سے واقف ہونے کے باوجود پھر انہی کو ووٹ دیتے ہیں۔
یہ حضرت اپنی تحریروں پر ڈاک ٹکٹ کا خرچہ نہیں کرتے۔ تحریریں رسائل کے دفاتر تک پہنچانے کے لیے موٹر بائیک استعمال کرتے ہیں۔

اگر کسی کو ان کے عظیم لکھاری ہونے پر کوئی شک ہو تو ان کے گھر مہمان بن کر آئیں ۔موصوف آپ کو ضرور اپنے مہمان خانے میں بٹھاکر آپ کی خاطر تواضع کریں گے۔ اس دوران آپ کی نظریں کمرے کا طواف کرتے ہوئے اُس شیشے کی الماری تک جا پہنچیں گی جو ٹرافیوں ، شیلڈوں اور ان جیسی دوسری معلوم نا معلوم اشیاء سے بھری پڑی ہو گی۔
یقیناً آپ بھی ہماری طرح مرعوب ہو کر یہ پوچھیں گے کہ کیا یہ سب انعام میں ملی ہیں۔

یہ سوال کچھ بے جا نہیں کیونکہ اکثر ٹرافیاں ایسی خستہ حال ہوں گی کہ یوں لگے گا کہ کسی نے سزا کے طور پر ان کے حوالے کی ہوں۔ بدر سعید سے جب کبھی رابطہ ہوتا تو ہم ان سے اُن کی تحقیقاتی کتاب کے بارے استفسار کرتے تو معلوم ہوتا کہ موصوف حسیناوٴں کے تعاقب میں ہیں اور کتاب جلد ہی منظر ِ عام پر آ جائے گی۔ ہم سمجھے کہ شاید یہ اپنے عشق کے ساٹھ سالہ تجربات کو زیبِ قرطاس کر رہے ہیں لیکن جب کتاب ہمارے ہاتھوں میں پہنچی تو ہم بے ہوش ہوتے ہوتے بچے کیوں کہ وہ تو"خودکش بمبار کے تعاقب میں"تھی۔


سید بدر سعید نے اتنی کم عمری میں جتنا مقام پایا ہے اتناکوئی بزنس مین کبھی ادب میں نہیں پا سکتا۔بدر ایک ملی ترانے کی ڈائریکشن اور پروڈیکشن میں حصہ لے کر سلام پاکستان یوتھ ایوارڈ بھی حاصل کر چکے ہیں۔

Your Thoughts and Comments