Calendar Our Thermometer

کیلنڈر راورتھرمامیٹر

منگل مئی

Calendar Our Thermometer

گھنٹہ گھر والے فیصل آباد میں پنجاب میڈیکل کالج کی سٹوڈنٹس یونین نے گزشتہ ہفتے ایک مشاعرے کا اہتمام کیا تھا۔ مشاعرے کے منتظمین نے محفل کے اختتام پرشعراءکومختلف وٹامنز کی چند بوتلیں اور ایک ایک تھرمامیٹر بطور تحفہ پیش کیا۔ ایک مشاعرہ لاہور میں قومی بچت سکیم والوں نے بھی منعقد کیا تھا اور یہاں منتظمین نے شعراءکو ایک ایک کیلنڈر اور ایک ایک شیشی پرفیوم کا تحفہ دیا۔

اور ظاہر ہے تحفہ کی قدر و قیمت کا اندازہ اس پر لکھی قیمت سے نہیں بلکہ دینے والے کے جذ بہ محبت اور خلوص سے ہوتا ہے چنانچہ قومی بچت والوں نے اگر شاعروں کوکیلنڈرر اور پرفیوم کی شیشی کا تحفہ دیا تو ایک طرف علامتی طور پر اپنی محبت کا اظہار کیا اور دوسری طرف اپنے محکمے کے نام کی لاج بھی رکھ لی ورنہ اپنے ایل ڈی اے کا شعبہ آب رسانی بھی تو ہے۔

(جاری ہے)

نام آب رسانی ہے کا م”ایذا رسانی، یعنی لوگوں کا پانی بند کرنا ہے جبکہ قومی بچت والے اگر بچت کا نام لیتے ہیں تو مشاعروں وغیرہ میں بچت کر کے دکھاتے بھی ہیں۔ ویسے منیر نیازی کا کہنا ہے کہ بچت کے فوائد بتانے کے لئے حکومت کو اس بچت کے محکمے کی کوئی ضرورت نہیں۔ یہ چیز تو ہماری گھٹی میں پڑی ہے کہ ہم تو وہ لوگ ہیں جو اپنے دل کی بات بھی چھپا جاتے ہیں بہرحال قومی بچت والوں نے شاعروں کو کلینڈر دیا کہ اسے گھر میں لٹکاﺅاور اپنی آمدنی کو مہینے کے دنوں خصوصا آخری دنوں میں تقسیم کر کے خرچ کرو۔

عطردیا کہ جب تمہارا پسینہ خشک ہوتو اسے کپڑوں پرلگاو¿ اور کیلنڈر کی ان آخری تاریخوں کو بھول جاو¿۔
مگر سچ پوچھیں تو ہمیں مزامیڈیکل کالج والوں کی جدت طبع کا آیا ہے۔ انہوں نے شعراءکوتحفے کے طور پر وٹامنز پیش کی ہیں۔ ہمیں ڈاکٹروں سے ہمیشہ ہی گلہ رہا ہے کہ ان کی تشخیص ٹھیک نہیں ہوتی ۔مگر اس بار ہم ان کے قائل ہو گئے ہیں کم از کم شعراءکے سلسلے میں ان کی تشخیص بالکل صحیح ہے۔

بیشتر شعراء کا کلام پڑھ کر ہم خود اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ نہیں وٹامنز کی شدید ضرورت ہے تا ہم ہماری رائے اس معاملے میں دقیق نہیں تھی اب ڈاکٹروں نے اس کی تصدیق کی ہے تو میں کاملی اطمینان ہوا ہے۔ ویسے ہماری نظروں میں بھی شاعر ایسے بھی ہیں جن کا علاج صرف وٹامنز سے ممکن نہیں بلکہ انہیں اس کے علاوہ بھی ٹریٹمنٹ کی ضرورت ہے۔ اور اب اس ضمن میں صرف شاعر کی قید بھی کیارکھنی ہے چنانچہ ادیب اور دانشوروں کو بھی اس زمرے میں شامل کرلیا جائے تو ہمارا درمیان جناب حنیف رامے کی طرف جاتا ہے کہ وہ کافی عرصہ پیشتر پنجاب کی وازرت عالیہ کے بلند پایہ تخت سے نیچے گرے تھے جس سے انہیں خاصی رگڑیں آئی تھیں لہذا بہتر ہوگا کہ اگر وہ اس ضمن میں مزید سستی نہ کریں اور اولین فرصت میں ٹیٹنس‘ کاٹیکا لگوالیں۔

اسی طرح مولانا کوثر نیازی جب سے اقتدار سے الگ ہوئے ہیں ان کی شاعری سے وہ سوز اور اثر انگیزی رخصت ہوگئی جو حضرت جوش ملیح آبادی ایسے میں نہ مانوں شاعر سے بھی داد وصول کر لیتی تھی۔ ہمارا مشورہ تو یہ ہے کہ مولا نااس ضمن میں کسی ڈاکٹر بلکہ ڈاکٹر مبشر حسن سے مشورہ کریں۔ ڈاکٹر مبشر حسن اگر چہ انجینئر ہیں لیکن ان کے مشورے تو اقتصادیات سمیت زندگی کے تمام شعبوں میں قیمتی سمجھے جاتے تھے۔

جہاں تک خود ڈاکٹر مبشر حسن کا تعلق ہے ان کی دانش کا بازار بھی اقتدار اور رخصتی کے بعد سے کچھ ٹھنڈا سا پڑ گیا ہے۔ انہیں چاہیے کہ وہ روزانہ شام لکشمی چوک کے کسی مالشیے سے تلیاں چسوائیں کہ شروع میں شرم نہیں ہونی چاہے ہمارے ایک دوست طاہر محمد خان بھی کسی زمانے میں افسانے وغیرہ لکھتے رہے ہیں اور اقتدار سے علیحدگی کے بعد وہ شاید
”افسانہ لکھ رہی ہوں دل بے قرار کا“
والا ریکارڈ سننے پر ہی اکتفا کرتے رہے ہیں کیونکہ اس دوران ان کی کوئی تحریر سامنے نہیں آئی۔

ان کے لئے ہمارا مشورہ یہ ہے کہ وہ صرف وٹامن ای استعمال کریں لیکن ہمارے مشورے پر عمل کرنے سے پہلے بہتر ہوگا اگر وہ کسی ڈاکٹر سے پوچھ لیں کہ یہ وٹامن ای ہر قسم کاتخلیقی صلاحیتوں کو بیدار کرتی ہے؟ یونہی کہیں لینے کے دینے نہ پڑ جائیں۔
مگر یہ بات توکہیں کی کہیں پہنچ گئی۔ گفتگو کا آغاز تو میڈیکل کا لج فیصل آباد کی سٹوڈنٹس یونین کے زیر اہتمام ہونے والے مشاعرے کے ذکر سے ہوا تھا جہاں محفل کے اختتام پر شعراءکو وٹامن اور ایک ایک تھرما میٹر کا تحفہ پیش کیا گیا۔

ہم نے اپنی گفتگو کا رخ وٹامنز کی طرف پھیر دیا اور چکر میں اس تھرما میٹر کو بطور تحفہ پیش کرنے کی معنویت فراموش کر گئے۔ ہمارے خیال میں تو مستقبل کے ان ڈاکٹروں نے اس ضمن بھی شعراءکی نبضوں پر ہاتھ رکھ دیا ہے وہ جان گئے ہیں کہ ان دونوں بعض شعراءبھی سیاست دانوں کی طرح درجہ حرارت ماپنے والے آلے بنے ہوئے ہیں چنانچہ ان کا پارہ اس حرارت کے مطابق اوپر نیچے ہوتا رہتا ہے۔

مگر آلے اور آلہ کار میں ایک نازک سا فرق موجود ہے اور پر ابلم یہ ہے کہ ان دونوں کچھ شعراءآلہ حرارت ماپنے والے آ لے کم اور آلہ کار یا وہ بنے ہوئے ہیں۔ ڈاکٹر لوگ چونکہ صرف ڈاکٹر ہوتے ہیں اس لئے انہوں نے بلا تمیز رنگ ونسل سب کے ہاتھ میں تھرما میٹر دے دیئے۔ حالانکہ انہیں ان میں سے بعض کو درجہ حرارت ماپنے والا یہ آلہ دکھا کر پیچھے پیچھے آنے کا اشارہ کرنا چاہیے تھا کہ آلے اور آ ری کا فرق اسی صورت میں معلوم ہوسکتا ہے۔

Your Thoughts and Comments