Chalo Chao

چلو․․․․․․․․․چلو

منگل مئی

Chalo Chao
علی رضا احمد:
ہمارے ملک میں سفر کرنا یااپنے اوپر جبر کرنا عین لمساوی ہے۔ ٹرانسپورٹ کے کرائے بھی حادثاث کی طرح روز بروز بڑھتے جارہے ہیں۔ یورپ میں کوئی حادثہ ہوا ور دو بسیں آپس میں ٹکراجائیں تو صرف دو یاتین گورے مرتے ہیں اور اگر ہمارے ہاں بالکل ایسا ہی حادثہ ہوجائے تو تعداد پندرہ سے بیس گنا سے بھی شامل ہوجاتی ہے۔

موقع پر گھڑیوں اور زیورات کے ضرورت مندبھی اپنی کارروائیوں میں مصروف نظر آتے ہیں۔ اگر حادثہ نہ بھی ہوتو سفربذات خود تکلیف وہ اور بور رہتا ہے۔
میں مسافر حضرات کو اس بوریت سے ازالہ دلانے کے سلسلے میں کچھ مشورے اور رہنما اصولوں سے مستفید کرنے کی کوشش سے نوازنا چاہ رہا ہوں کہ وہ اپنے سفر کو احسن طریقے سے بخوبی انجام دے سکیں یہ مشورے صرف اور صرف مرد حضرات کے لئے ہیں کونکہ عورتوں کاکام تو صرف بور ہونا ہی ہوتا ہے ۔

(جاری ہے)


فرض کریں کہ آپ لاہور سے ملتان کے لئے کسی عام سی پرائیویٹ بس پرسفر کررہے ہوں جس کے باہر احتیاطاََ یہ لکھا ہوتا ہے کہ ” حد رفتار 65کلو میٹر“ اور اس بس کے اندریہ پشین گوئی لکھی ہوئی ہے” نصیب اپنا اپنا“
بس “ اسی سے آپ اپنے سفر کی تلخی کااندازہ کرسکتے ہیں۔ اس بوریت اور تلخی کو کم کرنے کے لئے آپ میری مندرجہ ذیل پچاس گزار شات کو ملحوظ خاطر رکھیں۔

اگر تمام قابل عمل نہ ہوسکیں تو ان میں سے کسی دو یاتین کاانتخاب کرلیں․․․․․․․
بس میں داخل ہوتے ہی اپنا بیگ کھولئے اور کسی گزرے ہوئے ریفرنڈم کے ” ہاں“ والے پمفلٹ باٹننا شروع کیجئے تاکہ لوگ آپ کے جذبہ حب الوطنی کو داد دے سکیں اور عاجزی سے یہ کہتے جائیں کہ میرا خیال رکھئے گا اور ساتھ ہی ضیاء الحق شہید فاؤنڈیشن میں اپنی شمولیت کا اعلان کردیں۔


سیٹ کانمبر ہمیشہ اپنے جوتے کے نمبر کے مطابق مانگیں۔
سب سے پہلے کسی جگہ بس رکوا کراپنی ٹکٹ کی فوٹو سٹیٹ کاپی کروالیں تاکہ بس میں ہونے والی مصروفیت کی وجہ سے کہیں آپ کا ٹکٹ ہی گم نہ ہوجائے بعد میں آپ کا یہ ٹکٹ لنڈے سے بھی نہیں مل سکے گا۔
اگر آپ کو بس میں سفر کے دوران چکر آتے ہیں تو جب بھی وقت ملے اپنی سیٹ پر کھڑے ہوکر ان چکروں کے الٹی جانب گھومنا شروع کریں۔


اسی دوران اگر ڈرائیور اچانک بریک لگائے تو فوراََ اپنے ہی کان پکڑ کر سہارا ضرور لیں‘ اور اونچی آواز میں یہ بھی کہیں کہ ” الٰہی خیر۔
اگلی سیٹ والے مسافر سے یہ دریافت کیجئے کہ آیا اس کے ساتھ صاف ہیں اپنی مکمل تشفی کے بعد اپنی جراب اتار کرسی مسافر کو تھما کر پوچھئے کہ کیا ایسی جراب ملتان سے مل جاتی ہے؟ دوسری جراب اپنے بائیں ہاتھ پر چڑھالیں تاکہ آپ کے ہاتھ کو گرم اور خشک ہوانہ لگے۔


اگرآپ کے پاس پانی نہیں تو سب سے پہلے ٹیوب ویل کی جگہ تلاش کریں۔
ہمیشہ سفر میں پانی پتلا کرکے پئیں۔
بس میں موجود تمام سامان کی تلاشی لینے سے آپ کا سفربم کے خوف سے مستثنیٰ ہو جائے گا۔
اس جانفشانی کے بعد ایڈوانی کو” ایڈزوانی“ کہہ کر لعن طعن بھی کریں۔
آپ کے جسم پر کوئی پر اناز جم ہوتو یہ بھی دوسرے مسافروں کو دکھائیے اور انہیں یہ یقین دلائیے کہ یہ مچھرنے کاٹا تھا۔

ہوسکے تو اس کا ایکسرے بھی ساتھ رکھیں۔
اپنے سے بالکل پچھلے مسافر کو کھڑے ہوکر ایک دو دفعہ دیر تک گھورئیے․․․․․․․اگر وہ بھی ایسا کرنے کی کوشش کرے تو اسے یہ دھمکی دیں کہ” میں ناک کے راستے تمہارے دانت نکال دوں گا۔
کبھی کبھی بدل بدل کر جانور یاپرندے کی آواز ضرور نکالئے تاکہ کسی سفاری پارک کی سیرکاگمان بھی ہو۔
کسی سے پانی لے کر اپنے سر پر ڈالیں اور ساتھ یہ بھی بار بار کہئے کہ ” بارش آئی بارش آئی۔


سب سے پیچھے بیٹھے مسافر کو تھوڑی دیر بعد جاکر کہیں کہ ” وہ یہی تھا‘ یہی تھا۔
سفر کے آغاز ہی سے مسافروں سے ان گھر کے پتے لینا شروع کریں تاکہ حادثے کی صورت میں ان کے گھروالوں سے رابطہ کیا جاسکے۔
دوران سفر اگر آنکھ میں کوئی چیز پڑجائے تو ساتھ والے مسافر سے نکلوالیں بلکہ لگتے ہاتھ منہ کھول کر دانت میں موجود اشیاء بھی نکلوالیں۔


ساتھ والے مسافر کمر پر خارش کی درخواست بھی کریں۔
اگر آپ کے ساتھ کوئی زنانہ سواری نہیں تو کم ازکم دھاگے والی گڑیا ضرور پاس بٹھالیں تاکہ آپ کی دھاک بیٹھی رہے۔
بس میں کھڑے مسافروں کو دھکا پیل سے بچانے کے لئے فرش پر چاک سے جگہ الاٹ کردیں اور ساتھ خسرہ نمر الاٹ کریں۔
چھت کابھی ایک چکر ضرور لگالیں وہاں اگر کوئی مسافر سوکھ چکا ہوتو اسے اتار لائیں یااگر کوئی پتنگ وغیرہ گرمی ہوتو اسے اٹھا کر لے آئیں۔


کسی مذہبی لیڈر کی تقریر کی کیسٹ بھی زبردستی لگوانے کی کوشش کریں۔
ڈرائیور جب بھی ہارن بجائے آپ منہ سے کوئی ایک مخصوص آواز نکالئے یعنی زبان کو ہونٹوں میں دیا کر پیچھے سے ہوا کابھر پورپر یشردیں۔
دوران سفر اگر آپ ٹشوپیپر سے ناک صاف کریں تو اس کوکھول کر یہ تسلی ضرور کرلیں کہ اس میں آپ کے جسم کاکوئی پرزہ تو نہیں آگیا۔ بعد میں اس کو مزید تسلی کے لئے اپنے سے اگلی سیٹ والے مسافر کو بھی دکھادیں۔

پھر اس کو کہیں کہ اس کو میرے سامنے باہر پھینکو۔
جب بس میں مکمل خاموشی چھاجائے تو اپنے ماتھے پر ہاتھ مار کر‘ زور زور سے یہ کہیں کہ شٹ اپ ‘ شٹ اپ!
یہ گاناضرور گنگنائیے‘ اوہ دور کے مسافر ہم کوبھی ساتھ لے لے رے“ یامکیش کایہ گانا گائیے ” تیری دنیا میں دل لگتا نہیں واپس بلالے“
جب بھی کوئی مسافر بس سے اترے تو اسے گیٹ تک چھوڑ کرآئیں یا اسے ابھی تھوڑی دیر اور بیٹھے کا ضرور اصرار کریں تاکہ اسے آپ کی شرافت اور مہمان نوازی کابخوبی احساس ہوسکے۔


اگر کوئی وہیکل قریب سے آگے گزرے تو اس کے پیچھے لکھی ہوئی عبارت زور سے پڑھئے یاکم ازکم اس کا نمبر ضرور دہرائیے۔
راستے میں اگر کوئی برگر والا مل جائے تو اس سے ایک برگرخرید لیں اور فوراََ ہاتھ میں پکڑتے ہی اس کو دانتوں سے کاٹ کھائیے اور پھر اسی برگر کو ڈرائیور سے لے کر تمام مسافروں بشمول کنڈیکٹر کے کھانے کی پیشکش کریں تاکہ باقی مسافر آپ کے جذبے کی تعریف کرسکیں۔

بچا ہوا برگر آپ کو خود ہی کھانا پڑے گا اور اسے کھانے سے پہلے زور دار آواز میں یہ کہیں” اچھا بھئی تمہاری مرضی۔
برگر کھانے کے بعد پہلو سے اپنی پستول نکالئے اور پھر پستول میں سے ایک عدد گولی۔ گولی نکال کر سیدھا منہ ڈالئے اور زور زور سے کہئے کہ ” ہاضمے دار ہاضمے دار۔
راستے میں اگر بس کا گزر کسی چھوٹی سی نہر سے بھی ہوتو کہئے ” راوی آگئی‘ راوی آگئی“ اس سے لاہور کی سواریاں بہت راحت اور ٹھنڈک محسوس کریں گی۔


اگر گرم اور ملتانی لوچل رہی ہوتو ساتھ کمبل ضرور رکھیں تاکہ لوسے محفوظ رہا جاسکے اور ہوسکے تو ایک لائف جیکٹ بھی پہن کر رکھیں تاکہ بس نہر میں گرنے کا خطرہ نہ رہے۔
اگر ڈرائیور ٹیپ پر عیسیٰ خیلوی کے گانے لگانے کی کوشش کرے تو اسے غصے سے ڈانٹ کر اچھا ساہارن بجانے کی فرمائش کریں یاپھر اسی خیلوی خیال پر بریک ڈانس شروع کردیں۔
کنڈیکٹر جب بھی پاس سے گزرے تو اسے ہاتھ کے اشارے سے سلام ضرور کریں اور اس سے ہر دفعہ یہ پوچھیں کہ بس لاہور جارہی ہے یا ملتان؟
جب بھی ڈرائیور بس کھڑی کرنے کی کوشش کرے تو اس کے پاس جاکریہ پوچھیں کہ میری مدد کی ضرورت ہوتو ضرور بتائیں یا دور ہی سے پوچھ لیں کہ کیا پٹرول ڈلوالیا تھا۔


اگر ڈرائیور بار بار بریکیں لگائے تو اسے سے پوچھیں کہ ”نئی بریکیں ڈلوائی ہیں“ لیکن باقی مسافروں کو یہ مطلع کریں کہ یہاں سے نیا انجن لگے گا۔
ایک دفعہ کسی سیاسی جماعت کے دھرنے کا ذکر خیر بھی ضرور کریں۔
ڈرائیور سے صاف کپڑا لے کر تمام شیشے صاف کرنے کی کوشش کریں اگر پانی نہ ملت تو جہاں پر یہ لکھا ہو کہ تھوکئے نہیں ‘ اس کے آگے چاک سے یہ لکھ دیں لیکن صرف شیشے پر“
اترنے سے پہلے ٹوتھ برش اور ٹوتھ پیسٹ نکال لیجئے۔

سب سے پہلے باقی مسافروں سے بھی پوچھ لیں کہ اگر کسی نے دانت صاف کرنا ہوں تو سامان حاضر ہے۔ ٹوتھ پیسٹ سے بلبلے بنانے کا موقع بھی منہ سے جانے دیں‘ اس سے بچے بہت محفوظ ہوں گے۔ اگر آپ ٹوتھ کاپیسٹ منہ سے فرش پر گرائیں تو کسی سلجھے ہوئے انسان کی طرح اس پرپیر ضرور پھیر دیں کیونکہ اس سے کسی مسافر کے پھسلنے کا احتمال رہے گا۔
اگر آپ نے شیو بھی کرنا ہے تو منہ سے ٹوتھ پیسٹ فرش پر گرانے کا کیا فائدہ؟ آپ اس جھاگ جو منہ پر لگا کر اس سے شیونگ کریم کاخرچہ بھی بچاسکتے ہیں۔

اگر آپ عورت ہیں تو یہ کام گھر پر بھی ہوسکتا ہے۔ جلد بازی سے اجتناب کریں۔
سفر کرنے سے دس پندرہ دن قبل نہانا چھوڑدیں تاکہ سفر کی مٹی آپ کا کچھ بگاڑ ہی نہ سکے۔
دوران سفر ایک دفعہ منہ ہی سے بین ضرور بجائیں ورنہ لوگ آپ کو تماش بین سمجھیں گے۔
منہ سے چیونگ گم نکال کر کسی اور کو بھی کھانے کے لئے دیں اگر حصے دار زیادہ ہوں تو اسے لمبا کرکے توڑتے جائیے اور باقی مسافروں کو دیکھ کر اپنا انگوٹھا بھی ہلاتے جائیے اور یہ کہئے میرا انگوٹھا بڑا ہور ہا ہے۔


ڈرائیور کو آواز دیں کہ ” اوئے پیچھے نہ دیکھنا“ اس کے بعد کسی دوسرے مسافر کو تولیا پکڑا کر اپنے پرانے کپڑے ضرور تبدیل کریں۔
اترنے سے پہلے تمام مسافروں سے فرد آفرد ہاتھ ضرور ملائیے اور بھیگی آنکھوں سے اگی دفعہ ملاقات کا یقین بھی ضرور دلائیے۔
بس میں چاک سے یہ بھی لکھ دیں’ بس میں مفت روئیں۔
اترنے سے گھنٹہ یاآدھا گھنٹہ پہلے ہی اپنا بیگ وغیرہ دروازے کے آگے رکھ دیں تاکہ اترتے ہوئے دشواری کاسامنا ہی نہ کرنا پڑے۔


جہاں اترنا ہوبالکل اسی جگہ بریک لگوائیے اس سے پہلے مسلسل ” ڈرا آگے․․․․․․ ذرا آگے․․․․․․․ ادھر ہی ذرا پیچھے․․․․․․․ کہتے رہئے۔
اترنے سے قبل ہی زور دار آواز میں یہ شور مچائیں تاکہ باقی مسافروں کا وقت ضائع نہ ہو۔ چلو․․․․․ چلو․․․․ لاہور چلو۔

Your Thoughts and Comments