Cigarette Penain Wala Sher

سگریٹ پینے والا شیر

عطاالحق قاسمی پیر فروری

Cigarette Penain Wala Sher

ان دنوں سگریٹ پینے والوں کی جان پر بنی ہوئی ہے ادھر وہ ٹی وی آن کرتے ہیں ادھر ان کا موڈ آف ہوجاتا ہے کیونکہ تھوڑی دیر بعد ٹی وی پر جو کمرشل دکھائی جارہی ہوتی ہے اس کے مطابق سگریٹ پینے والوں کے دن گنے جاچکے ہیںا ور۔

(جاری ہے)


”ٹک میر جگر سوختہ ہر کش کو زندگی کا آخری کش“
”کیا یار بھروسہ ہے چراغ سحری کا“
کے مصداق یہ جگر سوختہ ہرکش کو زندگی کا آخری سمجھ کر لگاتے ہیں کہ آخر چراغ سحری کا کیا بھروسہ ہے؟مگر جس طرح خود زہر میں زہر کا تریاق موجود ہوتا ہے اسی طرح ٹی وی سے سگریٹ نوشی کے خلاف چلائی جانے والی اس مہم کا توڑ بھی خود ٹی وی نے نکالا ہے چنانچہ ان دنوں مختلف سگریٹ کمپنیوں کے کمزشلز بھی اس مہم کے شانہ بشانہ دکھائے جاتے ہیں جن میں سگریٹ نوشی کا گلیمردکھایا جاتا ہے لیکن ان میں سب سے موثر فلم کے ٹو سگریٹ والوں کی ہے جس نے سگریٹ نوشوں کے حوصلے بلندکررکھے ہیں ورنہ وہ تو ان دنوں خواجہ اسلام کی کتاب موت کا منظر عامہ مرنے کے بعد کیا ہوا پڑھتے تھے اور گریہ کرتے تھے جس کمرشل کا ذکر ہم کررہے ہیں اس میں ایک شیر دل نوجوان کو دکھایا گیا ہے جو کے ٹو ایک سگریٹ پی کر ایک بھپرے ہوئے شیر پر حملہ آور ہوتا ہے اور سخت مقابلے کے بعد اسے چت گرادیتا ہے اس پر ہمیں ایک کار کی مبینہ کمرشل یاد آئی جس میں ایک دو شیز کو ہائی وے پر کار دوڑارتے دکھایا گیا ہے اس کے اوپر فضا میں ایک ہوائی جہاز پرواز کررہا ہے جو کار سے آگے نکلنے کی کوشش میں ہے مگر کار کی تیز رفتاری کامقابلہ نہیں کرپاتا حتیٰ کہ جہاز کا پائلٹ جہاز کو ایک مناسب جگہ پر لینڈ کرتا ہے اورپھر آہستہ آہستہ چلتا ہوا اس دوشیزہ کے پاس پہنچتا ہے اورپوچھتا ہے یہ کار کس کمپنی کی ہے؟جس پر دو شیزہ اس کمپنی کا نام بتاتی ہے اور ساتھ ہی ہی کمرشل ختم ہوجاتی ہے حالانکہ پوچھنے کی بات یہ تھی کہ یہ جہاز کس کمپنی کا ہے؟اور اگر شیر کا ذکرچھڑ ہی گیا ہے تو آج جنگل کے اس نام نہاد بادشاہ کا پول کھول ہی دیں خیر ہم نے یہ پول کیا کھولنا ہے ہماری طرح ہزاروں دوسرے ناظرین نے بھی جنگل فلمائی گئی وہ حقیقی فلم ضرور دیکھی ہوگی جس میں جنگل کا یہ بادشاہ جھاڑیوں کی اوٹ سے ایک بارہ سنگھے پر حملہ آور ہوتا ہے مگر جب بارہ سنگھا جوابی حملہ کرتا ہوا اس کی پسلیوں میں اپنے سینگ چبھوتا ہے اور اسے دھکیلتا ہوا دور تک لے جاتا ہے تھوڑی دیر بعد یہ بادشاہ سلامت دم دبا کر بھاگ کھڑے ہوتے ہیں اور پھر پیچھے مڑ کر نہیں دیکھتے یہ فلم دیکھ کر شیر کے بارے میں ہمارے تمام تصورات خاک میںمل گئے تھے اوپر سے کسی رسالے میں ہم یہ بھی پڑھ بیٹھے کہ جنگل کے یہ بادشاہ سلامت درحقیقت انتہائی سست الوجود مخلوق واقع ہوئے ہیں ان کی آنکھیں سارا دن تارے گننے میں لگی رہتی ہیں کہ کہیں فضا میں منڈلاتی ہوئی گدھیں انہیں نظر آجائیں یہ فوراً وہاں پہنچ جاتے ہیں کہ یقینا یہیں کوئی جانور مرا پڑا ہوگا چنانچہ بیشتر صورتوں میں یہ بادشاہ سلامت مراد پر گزارہ کرتے ہیں اپنے ہاتھ پاﺅں صرف اسی صورت میں ہلاتے ہیں جب گدھ خود ان کے سرپر منڈلانا شروع کردیتے ہیں سو ہمارا خیال تو یہ ہے کہ شیروں نے اپنی بہادری کے قصے خود پھیلائے ہیں یا یہ کہ ان کے پاس کچھ اچھے قسم کے پی آر اوہیں جن سے ان کا امیج بنا ہوا ہے ورنہ شیر کوئی ایسی طاقت ور مخلوق نہیں جس سے مرعوب ہوا جائے اسے بھگانے کے لیے تو ایک بارہ سنگھا کافی ہوتا ہے بشرطیکہ وہ اپنے سینگوں سے خود کو کھجلانے کے بجائے انہیں بادشاہ سلامت کو چبھونے کے کام لائے پس ثابت ہوا کہ ٹی وی پر دکھائی جانے والی سگریٹ کمرشل میں اگر شیر دل نوجوان سگریٹ کا ایک کش لگا کر شیر کے ساتھ مقابلہ کرتا ہے اور اسے چت گرادیتا ہے تو اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں یادوسرے لفظوں میں اس میں سگریٹ کا اتنا کمال نہیں جتنا شیر کے زوال کا ہے تاہم ایک خیال ہمارے ذہن میں یہ بھی آتا ہے کہ شیر بہرحال شیر ہوتا ہے وہ بالکل گیا گزرا بھی ہو تو بھی تو وہ شیر رہتا ہے چنانچہ متذکرہ ٹی وی کمرشل پر ایمان لانے کو کچھ جی نہیں چاہتا اس شبے کا اظہار ہم نے اپنے ایک دوست سے کیا تو اس نے ہمارے شبے کی تصدیق کی اور کہا تم ٹھیک کہتے ہو لیکن اس کمرشل میں سگریٹ کی جو کرامت دکھائی گئی ہے وہ درست ہے البتہ قدرے مختلف ہے ہم نے پوچھا وہ کیسے؟بولا وہ یوں کہ سگریٹ اس نوجوان کو نہیں مقابلے سے پہلے شیر کو پلایا گیا ہے بلکہ شیر تو مجھے عادی سگریٹ نوش لگتاہے ورنہ وہ ایک جھٹکے میں یوں نیچے نہ آن گرتا مجھے تو شبہ ہے کہ یہ شیر نہیں کوئی شاعر ہیں میں نے اسے حلقہ ارباب ذوق میں بیٹھ کر سگریٹ پر سگریٹ پھونکتے اور بحث کرتے دیکھا ہے۔

Your Thoughts and Comments