Dak Khany Waloo Pani Chor Du

ڈاک خانے والو۔۔! پانی چھوڑ دو

ہفتہ دسمبر

Dak Khany Waloo Pani Chor Du
ابن ِانشاء:
ایک مقامی اخبار میں ایک مراسلہ چھپا ہے جس کا عنوان ہے ڈاک خانے والے توجہ کریں اس سرخی کے نیچے مضمون یہ ہے کہ ناظم آباد میں پانی کی قلت ہے آتا ہے تو قطرہ قطرہ ٹپ ٹپ آتا ہے اس کا اُپائے کیا جائے تدارک کیا جائے ڈاک خانے والے اور کسی شکایت یا مراسلے کا جواب دیں یا نہ دیں اس کا جواب انہوں نے ترنت دیا ہے کہ مکرمی!آپ کو کچھ غلط فہمی ہوئی ہے گھروں میں پانی چھوڑنا نہ چھوڑنا ڈاک کے محکمے کی ذمے داری نہیں۔

ڈاک خانے کے اس مستعد افسر نے یہ تو وضاحت کردی کہ پانی بند کرنا چھوڑناہم ڈاک خانے والوں کا کام نہیں ہے لیکن یہ نہیں بتانا کہ ان کا اپنا کام ہے کیا اگر ڈاک بانٹنا کام ہے تو وہ پہلے ہی ہورہا ہے ایک صاحب نے ایک بار فرمایا تھا سورج رات کو نکلناچاہیے اس کی اصل ضرورت رات کو ہے دن کو تو ویسے روشنی ہوتی ہے ہم بھی یہی کہیں گے کہ اگر ڈاک خانے والے پانی کی قلت دور نہیں کرسکتے تو سمجھیے کچھ بھی نہیں کرسکتے کیونکہ نامہ بری تو کبوتر بھی یہ خوبی کرلیتے ہیں آخر کیا ہی کرتے تھے ٹکٹ لگانے کی ضرورت بھی نہ تھی رجسٹری کرانے کا جھنجھٹ بھی نہ تھا بس کوٹھے پر انتظار میں کھڑے ہونا پڑتا تھا بہت ہوا کبوتروں کو چوگادے دیا دانہ ڈال دیا سو وہ ڈالنے اور کبوتر کو کھلانے ہی کی چیز ہے نہ ڈالیں تو خاک میں مل کر گل و گلزار ہوجاتا ہے اس سے بڑی قباحتیں پیدا ہوتی ہے باغ ہوگا تو اس میں مگس ضرور آئے گی اوراس سے ناحق پروانے کی جان جائے گی۔

(جاری ہے)

قصہ یہ ہے کہ لوگ پانی کی شکایت پانی کے محکمے کو لکھتے لکھتے تنگ آگئے تھے شکایت دور کرنا تو ایک طرف وہ لوگ رسید تک نہ دیتے تھے پانی تو خیر ڈاک خانے والوں نے بھی نہ دیا لیکن جواب تو دیا اور جواب میں اسی طرح آدھا پانی یعنی آب موجود ہے جس طرح کسی نے فرمایا ہے۔جس کوکہتے ہیں بشر اس میں ہے شردوہٹا تین اس اصول پر ڈاک وقت پر نہ ملنے اور رسالے چوری کیے جانے کی شکایت بھی ڈاک خانے کو بھیجنے کا فائدہ نہیں وہ محکمہ آب رسانی کو بھیجنی چاہیے ہم یقین دلاتے کہ ڈاک کی شکایت کی ازالہ وہ لوگ کریں یا نہ کریں ان کا افسر رابطہ جواب ضرور دے گا کہ حضرات رسالے چوری کرنا ہم آب رسانی والوں کا کام نہیں ہے ہم بہو بیٹیاں یہ کیا جانیں۔

کسی کا کام ہونا تو قسمت کی بات ہے جواب ملنے کو بھی کام ہی سمجھنا چاہیے فی زمانہ کوئی آدمی وہ کام تو کرتا نہیں جو اس کے سپرد ہے یا جس کی اسے تنخواہ ملتی ہے دوسرے کاموں کے لیے مستعد رہتا ہے مثلاً ادیب سائیکل کا پنکچر لگاتا ہے اور سائیکل کا پنکچر لگانے والا شاعری کرتا ہے ادبی جلسوں کی صدارت بنیے موسیقی کی محفلوں کی سرپرستی آڑھتیے کرتے رہیں گویا جوتا پالش کرتا ہے جوتا پالش کرنے والا گاتا ہے گویا جس کا کام اُسی وک نہ ساجھے وہ خود کرے تو ٹھینگا ہی باجے کابل میں ایک بار ہمیں خط پوسٹ کرنا تھا سارے شہر میں کاغذ لفافے اور ٹکٹ کی تلاش میں گھوم لیے لیکن جہاں نقشے میں ڈاک خانہ لکھا ہوتا وہاں سبزی کی دکان ملتی یا تنور ملتا ڈنمارک کے ایک سیاح ہمارے ساتھ تھے بے چارے بہت دن تصویری کارڈ اپنے ساتھ ساتھ لیے پھرتے رہے ڈاک خانہ ملا تو دستی ان کارڈوں کو گھر واپس لے گئے جناب ظفر حسن ایبک نے اپنی آپ بیتی میں جلال آباد افغانستان کا ذکر کیا ہے اتنے بڑے شہر میں اسٹیشنری یعنی قلم دوات پنسل کی کوئی دکان نہ تھی کاغذ البتہ قصاب کی دکان سے ملتا تھا اعتراض کرنے والے یہ رمز نہیں سمجھتے کہ قلم دوات کا غذ آسانی سے ملنے لگے تو لوگ پڑھنے لگتے ہیں شوزش کرنے لگتے ہیں حقوق مانگتے ہیں آئین مانگتے ہیں افغانستان میں تھوڑی سی قلم دوات کی دکانیں کھلی تھیں اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لوگ سر کو ا ٓگئے ہیں نہ قلم دوات ہو نہ کوئی محضر لکھے نہ اخباروں کو مراسلے بھیجے نہ کالم نگاری کرے یہاں بھی نگس باغ اورپروانے کا قصہ ہے لیکن بات کابل کی بیچ میں رہی جاتی ہے کاغذ تو قصاب کی دکان سے ملتا تھا گوشت کہاں سے ملتا تھا؟ہمارے ایک مہربان نے جوان دنوں کابل میں ہوتے تھے اور گدھے پالا کرتے تھے جو اب دیا کہ روزی کے ہاں ڈاک خانے اورپانی کا مضمون ہمارے دوست نصر اللہ خان کے ہاتھ آیا ہے اور انہوں نے اسے اچھا نبھایا ہے اتنا تو ہم بھی کہیں گے کہ یہ تعلق اتنا دور کا بھی نہیں ہے بعض لوگ بوتل میں خط بند کرکے سمندر میں ڈال دیتے ہیں اور وہ خط ڈوبتا تیرتا بھٹکتا کبھی ساحل مراد پر آبھی لگتا ہے مکتوب الیہ کو پہنچ جاتا ہے اگر پانی وافر نہ ہوگا تو خط بھیجنے والا خط کی بوتل کہاں ڈالے گا۔

Your Thoughts and Comments