Dakhly Jarri Hy

داخلے جاری ہیں

ہفتہ دسمبر

Dakhly Jarri Hy
ابنِ انشاء:
پہلے بریلی کی بانس بھیجا کرتے تھے یہ کاروبار کسی وجہ سے نہ چلاتو کوئلوں کی دلالی کرنے لگے۔چونکہ صورت اس محاورے کے عین مصداق تھی ہمارا خیال تھا اس کاروبار میں سرخ روہوں گے لیکن آخری بار ملے تو معلوم ہوا نرسری کھول رکھی ہے پودے اور کھاد بیچتے ہیں پھولوں کے علاوہ سبزیوں کے بیچ بھی ان کے ہاں سے بارعایت مل سکتے ہیں۔


آتے ہی کہنے لگے دس روپے ہوں گے؟“ہم نے نہ دینے کے بہانے سوچتے ہوئے استفسار کیا۔کیا ضرورت آن پڑی ہے؟“فرمایا اپن ادبی ذوق کے آدمی ہیں اپن سے اب گھاس نہیں کھودی جاتی کھاد اور پود نہیں بیچی جاتی اب ہم ایسا کام کرنا چاہتے ہیں جس سے قوم کی خدمت بھی ہو۔“ہم نے کہا۔”دس روپے میں اسکول کھولیے گا؟“بہت ہنسے اور بولے اچھی رہی بھلا دس روپے میں بھی اسکول کھولا جاسکتا ہے دس روپے میرے اپنے پاس بھی تو ہیں۔

(جاری ہے)

دیکھیے سیدھا سیدھا حساب ہے ایک دس روپے کا تو بورڈ لکھوایا جائے گا بورڈ کیا کپڑے۔یہ نام لکھوانا ہی کافی ہوگا اور دوسرے دس روپے سے جو آپ مجھے دیں گے میں شہر کی دیواروں پلیوں بس اسٹینڈوں وغیرہ کے چہرے پر کالک پھیروں گا یعنی اشتہیار لکھواؤں گا کہ اسے عقل کے اندھو گانٹھ کے پورو آؤ کہ داخلے جاری ہیں۔ہم نے کہا یہ جو تم لوگوں کے لیے پُتے گھروں کی دیواروں کو کالی کوچی پھیر کر خراب کروگے کوئی پونچھنے والا نہیں ہے تمیں کارپوریشن نہیں روکتی پولیس نہیں رُکتی؟“بولے پہلے یہ لوگ ملاوٹ کو تو روک لیں،عطائیوں اور گداگروں کو تو ٹوک لیں شہر سے گندگی کے ڈھیڑ تو اٹھوالیں۔

کتے ہتو پکڑوالیں اور مچھروں مکھیوں کے منہ توآلیں۔“ہم نے کہا۔آپ بھی سچے ہیں ان لوگوں کی مصروفیت کا ہمیں خیال ہی نہ رہا تھا اچھا اگر یونین کمیٹیوں کو خیال آگیا کہ ان کا محلہ اُجلا ہونا چاہیے ٹھٹھا مار کر بولے یونین کمیٹیاں؟یہ کون لوگ ہوتے ہیں کیا کام کرتے ہیں؟ہم نے کھسیانے ہوکر پوچھا آپ کے پاس اسکول کے لیے عمارت بھی ہے خاصی جگہ درکار ہوتی ہے آپ کا گھر تو جہاں تک ہمیں معلوم ہے133 گزپرہے۔

“فرمایا وہ ساتھ والا پلاٹ خالی ہے نا؟جس میں ایک زمانے میں بھینس بندھا کرتی تھیں بچوں سے تین تین ماہ کی پیشگی فیس لے کر اس پرٹین کی چادریں ڈلوالیں گے۔فی الحال تو اس کی بھی ضرورت نہیں گرمیوں کے دن ہیں اوپن ائیر ٹھیک رہے گا سنا ہے شانتی نکیتین میں بھی کھلے میں کلاسیں لگتی تھیں۔ہم نے کہا۔آپ کی بات کچھ ہمارے جی نہیں لگتی بارشیں آنے والی ہیں ان میں اسکول بہ گیا تو!“سوچ کر بولے۔

ہاں یہ تو ہے جگہ تو اپنی نرسری کے سائبان میں بھی ہے بلکہ اسکول کھولنے کا خیال ہی اس لیے آیا کہ کئی والدین نرسری کا بورڈ دیکھ کر آئے اور کہنے لگے ہمارے بچوں کو اپنی نرسری میں داخل کرلو،بڑی مشکل سے سمجھایا کہ یہ وہ نرسری نہیں بلکہ پھولوں پودوں والی نرسری ہے لیکن وہ یہی زور دیتے رہے کہ اسکولوں میں تو داخلہ ملتا نہیں یہیں داخل کرلو ہمارے بچوں کو کم ازکم مالی کا کام سیکھ جائیں گے۔

ہم نے کہا کس درجے تک تعلیم ہوگی؟“فرمایا میٹرک تک ہونی ہی چاہیے اس کے ساتھ کے جی اور منٹگمری اورنہ جانے کیا کیا ہوتا ہے۔“ہم نے کہا ۔مانٹیسوری سے مطلب ہے غالباً فرمایا ہاں ہاں مانٹیسوری میرے منہ سے ہمیشہ منٹگمری ہی نکلتا ہے۔“پڑھائے گا کون؟،،،ہم نے دریافت کیا۔بولے میں جو ہوں اور کون پڑھائے گا اب مشق چھٹی،،،ہوئی ہے ورنہ مڈل تو بندے نے بھی اچھی نمبروں میں پاس کر رکھا ہے اے بی‘سی تو اب بھی پوری آتی ہے ۔

سناؤں آپکو؟”اے۔بی۔سی۔ڈی۔ای۔“ہم نے کہا نہیں اس کی ضرورت نہیں آپ کی اہلیت میں کسے شک ہے لیکن آپ تو پرنسپل ہوں گے پھر آپ کی دوسری مصروفیات بھی ہیں یہ پھول پودے کا کاروبار بھی خاصا نفع بخش ہے یہ بھی جاری رہنا چاہیے۔“بولے۔”ہاں یہ تو ٹھیک ہے خیر ساٹھ ستر روپے میں کوئی بی اے۔ایم اے پاس ماسٹر یا ماسٹرنی رکھ لیں گے جب تک چاہا کام لیا چھٹیاں آئیں نکال باہر کیا بلکہ ہمارے اسکول میں خواتین کے بجائے چھ ماہ کی چھٹیاں ہوا کریں تاکہ بچوں کی صحت پر پڑھائی کا کوئی اثر نہ پڑے۔

“نام کیا رکھا ہے اسکول کا؟“ہم نے پوچھا مدرسہ تعلیم الاسلام اقبال ہائی اسکول وغیرہ؟“بولے جی نہیں نام تو انگریزی چاہیے۔فرسٹ کلاس کا ہو جس سے معلوم ہو کہ ابھی ابھی انگریزوں نے آکر کھولا ہے کسی سینٹ کا نام تو اب خالی نہیں سینٹ جوزف سینٹ پیٹرک سینٹ یہ سینٹ وہ سب ختم ہوسکتاہے۔“غور کرے کہنے لگے نہیں ہمارے اسکول میں جاسوسی کی تعلیم نہیں دی جائے پھر اکسفورڈ کیمبرج وغیرہ کے نام پر رکھیے۔

“ فرمایا یہ بھی بہت ہوگئے بلکہ لٹل فوکس اور چلڈرن ہوم اور گرین وڈ وغیرہ بھی کئی ایک ہیں میرا ارادہ۔ہمپٹی انگلش اسکول“نام رکھنے کا تھا لیکن وہ بھی کسی نے رکھ لیا آج سارے ناظم آباد کی پلیوں پر یہی لکھادیکھا۔اس پر ہمارے ذہن میں ایک نکتہ آیا۔ہم نے کہا ”ہمپٹی ڈمپٹی“دو بھائی تھے بھائی نہیں تھے تو ایک ہی تھیلی کے چنے بٹے تو تھے ہی آپ نہلے پہ دہلا مارہے،ڈمپٹی انگلش اسکول“نام رکھیے اس میں بچت بھی ہے نیا اشتہار لکھوانے کی ضرورت بھی نہ پڑے گی۔

“وہ کیسے ازراہِ اشتیاق پوچھنے لگے۔ ہم نے کہا پینٹر سے کہیے کہ رات کو کوچی لے کر نکلے ”ہمپٹی کی“ہ“پر کوچی پھیرتا جائے اور اسے”ڈ“بناتا جائے سفیدی برائے نام خرچ ہوگی دو تین روپے سے زیادہ نہ دیجیے گا۔ پینٹڑ کو“بولے“بات تو آپ بھی کبھی کبھی ایسی کرجاتے ہیں۔ دانا اندر آں حیراں بمائد مفت اور مفید مشورے شکریہ۔لیکن وہ دس روپے تو دلوادئیے اور ایک پان کھلوائیے ڈبل کتھے چونے کا۔“ یوں اسکول کھل گیا اور یوں اسکول کھُل رہے ہیں جس لکڑیوں کا ٹال نہ چلا اس نے اسکول کھول لیا اور جس کی نرسری کے پودے نہ بکے اس نے بھی اسکول کھول لیا اسکول بڑھتے جاتے تعلیم گھٹتی جاتی ہے خیر اس میں نقصان بھی کچھ نہیں آج تک کسی کا تعلیم سے کچھ بنا بھی ہے؟

Your Thoughts and Comments