Dil Ka Dorah

دل کا دورہ

منگل اگست

Dil Ka Dorah

ایک زمانہ تھا جب ہمیں اس بات پر حیرت ہوتی تھی کہ کیسے ایک بلے چنگے آدمی کو بیٹھے بیٹھے دل کا دورہ پڑتا ہے اور وہ چشم زدن میں اللہ کو کچھ اس طرح پیار ہو جاتا ہے جیسے کہہ رہا ہو۔
دیکھتے ہی دکھتے دُنیا سے میں اُٹھ جاؤں گا
دیکھتی کی دیکھتی رہ جائے گی دُنیا مجھے
جب ہم کسی اخبار میں اس قسم کی خبر پڑھتے۔۔۔نو بجے تک وہ دوستوں کی محفل میں چہچہارہے تھے۔

دس بچے اچانک ان کے سینہ میں درد اُٹھا۔ ڈاکٹر کو فون کیا گیا لیکن اس سے پہلے کہ ڈاکٹر ان کے ہاں پہنچتا وہ چل بسے۔۔۔ تو حیران ہو کر کہتے تھے۔ ”بڑے جلد باز نکلے؛ ڈاکٹر کی آمد کا انتظار تو کر لیتے شاید وہ انھیں بچا ہی لتا۔ اور پھر یہ بھی کیا کہ ذرا سا درد ہوا اور مر گئے۔ ناز کی کی بھی حد ہوگئی۔“
ہمیں یاد ہے، ایک مرتبہ ہم نے کسی اخبا ر میں پڑھا ۔

(جاری ہے)

”امراض دِل کے فلاں ماہر سامعین کو بتا رہے تھے دردِ دل کو روکنے کے لئے کیا تدابیر کرنا چاہئیں کہ اچانک ان کے اپنے دل میں درد ہونے لگا اور وہ لڑکھڑا کر اسٹیج پر گر پڑے اور اُسی وقت ان کی موت ہو گئی۔“ہمیں یہ خبر پڑھ کر انگریزی کی وہ کہاوت یاد آگئی تھی جس میں کہا گیا ہے۔ ”ڈاکٹر!مریضوں کا علاج کرنے سے پہلے اپنا علاج تو کرلو!“
یہ وہ زمانہ تھا جب ہمیں دل کا دورہ نہیں پڑا تھا اور جب ہم کہا کرتے تھے۔

لو گ دل کے دورے سے نہیں بلکہ اس خوف سے انہیں دل کا دورہ پڑا ہے جاں بحق ہوجاتے ہیں۔ نہیں تو دل کا دورہ کوئی ایسا خطرناک مرض نہیں اور پھر وہ دن بھی آگیا جب ہمیں دل کا دورہ پڑگیا۔ یک لخت ہمارے سینہ میں درد اُٹھا جو لمحہ بہ لمحہ تیز ہوتا گیا۔ یہاں تک کہ چند لمحوں کے بعد ہمیں محسوس ہونے لگا۔ہمارے سینہ کو کسی فولادی شکنجہ میں کس دیا گیا ہے۔

ہمارے چہرے کا رنگ روٹی کی طرح سفید ہو گیا۔ جی متلا نے لگا اور ٹھنڈے پسینے چھٹنے لگے۔ ایسی حالت یں بھی خدا جانے ہمیں فراق # گورکھپوری کا یہ مصرع کیسے یاد آگیا:
وہ درد اُٹھا فراق# کہ میں مُسکرادیا
ہم نے دل میں کہا: ”فراق صاحب! وہ درد آپ کے سینے میں نہیں گھنٹے میں اُٹھا ہوگا۔ مزاتو تب تھا وہ سینے میں اُٹھتا اور آپ پھر بھی مسکراتے۔


ڈاکٹر کو بُلایا گیا۔ اُس نے ہمیں دیکھ کر قسم کی ادا کاری کی جیسے دل کا دورہ ہمیں نہیں اُسے پڑا ہے۔ جب اس کے ہوش و حواس ذرا ٹھکانے ہوئے ۔ اُس نے بڑی دھیمی آواز میں کہا۔ میرا منہ کیا دیکھ رہے ہو۔ انھیں جلد از جلد بڑے ہسپتال لے جاوٴ۔ حالت بہت نازک ہے۔ ہمیں ہسپتال پہنچایا گیا۔ جہاں ڈاکٹر نے ”پیتھے ڈین“، کاٹیکہ لگا دیا۔ درد تھم گیا او ہم پر غنودگی طاری ہو گئی۔


تھوڑی دیر میں یہ خبر سارے شہر میں پھیل گئی ہمیں دل کا دورہ پڑا ۔ بس پھر کیا تھا۔ جسے دیکھو اپنا ضروری سے ضروری کام چھوڑ کر ہمارا حال پوچھنے چلا آرہا ہے۔ ڈاکٹر نے ہمارے کمرے کے باہر نوٹس لگا دیا تھا کہ مریض کو پریشان نہ کیا جائے مگر وہ تیماردارہی کیا جو مریض کو پریشان نہ کرے!جب حال پوچھنے والوں کو ہم سے ملاقات کرنے کی اجازت نہ ملی۔

وہ ہماری بیوی اور بچوں کا دماغ چاٹنے لگے۔”دورہ کب پڑا؟کیوں پڑا؟کیا بچنے کی کوئی اُمید ہے؟ہوش میں ہیں یا بے ہوش پڑے ہیں؟ڈاکٹر کیا کہتا ہے؟کیا آکسیجن دی جار ہی ہے؟ کیا رشتہ داروں کو بزریعہ تار مطلع کر دیا ہے؟“
یہ باتیں بعد میں ہمیں بیوی اور بچوں نے بتائیں اور یہ بھی بتایا کس طرح ہمارے احباب کے چہروں پر رونق آجاتی تھی جب انھیں بتایا جاتا تھا کہ بچنے کی اُمید بہت کم ہے۔

ہمارے کچھ مہربان ایسے بھی تھے جو ہر گھنٹہ کے بعد پتہ کرنے کے لئے آتے تھے کہ مریض کا اب کیا حال ہے۔در اصل وہ کوئی خوشخبری سننے کے لئے تشریف لاتے تھے لیکن یہ جان کر مریض ابھی تک زندہ ہے۔ ان کی تمام اُمیدوں پر پانی پھرجاتا۔ ان میں سے ایک جب بارھویں با ر ہمارا حال پوچھنے آیا۔ ہماری بیوی نے جل کر کہا:”ان کی حلات نازک ضرور ہے لیکن وہ کم از کم آ ج نہیں مریں گے۔

آپ بار بار آنے کی تکلیف نہ کیجئے۔“
جس دن ہمیں دل کا دورہ پڑا لوگوں نے قیاس کے گھوڑے دوڑانا شروع کر دیئے کہ ہم بیٹھے بیٹھے کیوں بیماری ءِ دل میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ کیسی نے کہا۔ ننا نوے کے پھیر میں پڑ گیا تھا۔ دن رات زیادہ سے زیادہ روپیہ کمانے کے لئے دوڑ دھوپ کیا کرتا تھا۔ کسی اور نے کہا۔ پر لے درجے کا کنجوس تھا۔ گوشت کی بجائے مونگ کی دال کھایا کرتا تھا۔

کوئی بولا : صحت کے پیچھے لٹھ لے کر پھرتا تھا۔ دن میں دس بار چائے پیتا تھا او کوئی اپنے دل کی بھڑاس نکالتے ہوئے کہنے لگا:”قرض لے کر کبھی واپس نہیں کرتا تھا۔ دِ ل کا دورہ نہ پڑتا تو اور کیا ہوتا۔“
ہسپتال میں ایک ماہ رہنے کے بعد جب چھُٹی ملی۔ ڈاکٹر نے اتنی ہدایت دیں اور اس قدر پابندیں لگا دیں کہ ہم سوچنے لگے۔ بچ گئے ہیں لیکن اب جی کر کیا کریں گے۔

سگریٹ مت پیجئے ۔ گھی مت کھایئے۔ نمک کا استعمال مت کیجئے۔ لکھنا پڑھنا چھوڑ دیجئے۔ اپنے بلڈ پریشر کا خیال رکھا کیجئے ۔ ہر دوماہ کے بعد ای سی جی کروانے کے لئے اسپتال آیئے۔
کچھ دن اور گھر پر آرام کرنے کے بعد ہمیں چلنے پھرنے کی اجازت دے دی گئی۔ اب جب بھی ہم سیر کو جاتے لوگ باگ کرید کرید کر پوچھتے ۔ کہ سینے میں درد تو نہیں ہوتا؟چلتے وقت سانس تو نہیں پھول جاتا؟نبض ڈوبتی ہوئی تو محسوس نہیں ہوتی ۔

چکر تو نہیں آتا ؟آنکھوں کے آگے اندھیرا تو نہیں چھا جاتا؟ ہم ان تمام سوالوں کا جواب نفی میں دیتے۔ انھیں بڑی مایوسی ہوتی۔ بظاہر وہ کہتے:”خدا کا شکر ہے۔ اس نے بڑا کرم کیا ہے۔“لیکن بباطن یہ کہہ رہے ہوتے۔ ”اللہ رے اِس کی سخت جانی۔ اتنا بڑا دورہ بھی اس کا کچھ بگاڑ نہیں سکا۔“
ایک برس کے بد ہمارے احباب کو شک ہونے لگا۔ ہمیں دل کا نہیں کسی اور چیز کا دورہ پڑا تھا۔

اب جب اُن سے ملاقات ہوتی وہ سوال کرتے۔”کیا آُ کو سوفی صدیقین ہے آپ کو دل ہی کا دورہ پڑاتھا؟“کیا وہ ڈاکٹر جنہوں نے آپ کا علاج کیا تھا امراض دِل کے ماہر تھے یا معمولی ڈاکٹر تھے؟اگر وہ دِل کا دورہ تھا ۔ اس کے بعد آپ کو پھر کبھی نہیں پڑا؟ہمیں اُن کے سوالات سن کر کسی شاعر کا یہ شعر بے ساختہ یاد آجاتا۔
وہ ارماں جو نہ نکلے دُشمنی سے
نکالے جا رہے ہیں دوستی سے
آج کل جب کبھی ہماری طبیعت خراب ہوجاتی ہے ہمارے کچھ دوست بھاگم بھاگ ہمارے یہاں پہنچتے ہیں اور مصنوعی ہمدردی جتاتے ہوئے کہتے ہیں”خیر تو ہے ، دل کو دوسرا دورہ تو نہیں پڑ گیا؟“جب ہم انھیں مطلع کرتے ہیں۔

”جی نہیں معمولی زکام ہے۔“وہ پھیکی ہنسی ہنستے ہوئے مشورہ دیتے ہیں:”پھر بھی آپ کو محتاط رہنا چاہیے ئی بار زکام بھی دل کے دوسرے دوروں کا باعث بن جاتا ہے۔ پچھلے دنوں ایسے کئی کیس ہوئے ہیں۔“
سُنا ہے ہمارے گھر سے واپس جاتے وقت وہ آپس میں اس قسم کی باتیں کرتے ہیں۔
”ہم نے توسمجھا تھا۔ دل کا دوسرا دورہ ہوگا۔ یہ تو محض زکام نکلا۔

“اجی بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی۔ آج نہیں تو کل انھیں دل کا دوسرا دورہ ضرور پڑے گا۔
”دوسرا دورہ عموماََ جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔“
”ہوتا تو ہے۔ اگر آدمی ان کی طرح ڈھیٹ نہ ہو۔“
”حضرت !اُ س نکے آگے کسی کی ڈھٹائی نہیں چلتی۔“
”آپ کو شاید علم ہوگا ۔ میر تقی میرکو جب دل کا دوسرا دورہ پڑا تھا۔ انھوں نے سرِ تسلیم خم کرتے ہوئے یہ شعر موزوں کیا تھا۔
اُلٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کا م کیا
دیکھا اس بیماریٴ دل نے آخر کام تمام کیا

Your Thoughts and Comments