Ghaen

غ

سہیل عباس خان بدھ اگست

Ghaen

غ

پیارے بچو غ سے غبارہ ہوتا ہے، ویسے تو اس میں ہوا بھر کے کھیلتے ہیں لیکن کچھ ساتھی اس میں سے ہوا نکال کر بھی کھیلتے ہیں۔

غ سے غبی نظر آنے والا بھی ایسے ایسے غبن کر کے غائب ہو جاتا ہے جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔ اسے گدھا سمجھنے والے اصل میں چند چغد خردماغ ہوتے ہیں۔

غ سے غلیل بھی ہوتی ہے جسے جاپانی میں پاچنکو کہتے ہیں، آج کل پاچنکو جوا خانہ ہے، اس میں بھی تاک کے نشانہ لگایا جاتا ہے، ہمارے ہاں کچھ لوگ تاک کی دو حرفی پی کر غل غپاڑہ بھی کرتے ہیں اور اس پہ تین حرف بھی بھیجتے ہیں۔

پیارے بچو غ سے غزل ہوتی ہے، یہ چھیڑی بھی جاتی ہے، جاپان میں اگر کوئی لڑکا کسی لڑکی کو چھیڑے تو آپ اسے چیکان کہتے ہیں، اور اسے پولیس پکڑتی ہے، ہمارا شاید غریب ملک ہے، اس لیے پولیس نہیں پکڑتی، اور اگر پکڑے تو پکڑنے کے بھی پیسے لیتی ہے اور چھوڑنے کے بھی۔

(جاری ہے)

غ سے غفلت بھی ہوتی ہے، اس کے لیے پردے کا خاص انتظام کیا جاتا ہے۔ غ سے غیرت ہوتی ہے، یہ بڑی مفید ہوتی ہے، اس سے قتل کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔

غ سے غلیظ ہوتا ہے، عربی میں یہ گاڑھا ہوتا ہے، اردو میں گاڑھا اور پتلا دونوں قسم کا ہوتا اور ہوتی ہے، کئی بار موٹا بھی ہوتا ہے، یہ ہمارے ہاں ہر کھانے پینے کی ہر چیز میں استعمال کیا جاتا ہے، لوگ اپنی لوٹ مار کی خون پسینے سے کمائی ہوئی دولت، دھن دھلائی کے بعد اس غلیظ ماحول سے باہر لے جاتے ہیں۔

پیارے بچو غ سے غربت ہوتی ہے، اس کی ایک لکیر بھی ہوتی ہے، ہمارے ملک میں امیر اور غریب سب اس کے نیچے رہتے ہیں، غریبوں کی آسانی کے لیے نیچے کر دی جاتی ہے اور امیروں کے لیے اوپر، تاکہ ٹیکس دینے میں سہولت ہو، اس کام کے لیے کئی سہولت کار بھی ہوتے اور ہوتی ہیں۔

غ سے غرور ہوتا ہے، پرانے دور میں سنا ہے اس کا سر نیچا ہوتا تھا، ہمارے حکمران اتنے اچھے ہیں وہ کبھی ہمارا سر نیچا نہیں ہونے دیتے۔ اگر وہ بھول بھی جائیں تو ہم خود اس کا خیال رکھتے ہیں۔ رشوت دے نعرے وجن گے۔ قدم بڑھا حرام خور ہم تمھارے ساتھ ہیں۔ جب تک سورج چاند رہے گا، اندھیرے کا ہی کام رہے گا۔ یااللہ، یارسول۔ جے آئی ٹی ہے بے قصور۔

عوام کے پاوٴں میں زنجیر، بلا، شیر ہو یا ہو تیر۔

پیارے بچو غ سے غیظ ہوتا ہے لیکن ہم اسے ض کے قافیہ والے ایک لفظ کی طرح لکھتے ہیں، کیونکہ غصہ ہو یا غیظ ہو ہم اسے حرام سمجھتے ہیں، اور اس حرام کو ختم کرنے کے لیے اس سے پہلے الف لگانا پڑتا ہے۔ وہ الحمد للہ ہم لگا کر پھر سے پاک صاف ہو جاتے ہیں۔

ویسے تو سنا ہے غ سے غنا بھی حرام ہے، اسی لیے جس کے ہاتھ ملک لگ جائے وہ چین کی بانسری بجاتا ہے اور باقی سب شور کرتے ہیں : ڈی جے میرا گانا لگا دے پیارے بچو غ سے غتر بود ہوتا ہے۔

مستنصر حسین تارڑ کہتے ہیں 'دو پراٹھے بھنے ہوئے مغز کے ساتھ کھانے کے بعد بندہ غتر بود ہو جاتا ہے، میں کہتا ہوں بھائی بندہ نہیں ملک غتر بود ہو جاتا ہے۔

پیارے بچو اب مجھے بھی غنودگی آ رہی ہے، اس لیے چھٹی کرو۔ شابش شابش

Your Thoughts and Comments