Graduate Samosa

گریجویٹ سموسہ

ہفتہ اگست

Graduate Samosa

عمیر نے کمرے میں آکر فائل میز پر پٹی اور پاس پڑی پر دھم سے گر پڑا۔ جوتے اُتارتے ہوئے سسکاری سی نکلی۔ اُسے کافی پیدل چلنا پڑا تھا۔ انٹرویو کی جگہ دور تھی۔ متوقع ناکامی کے باعث کوفت اور بے بسی انتہا کو پہنچی ہوئی تھی۔ دُکھتے سر کو سہلاتے ہوئے وہ پیشانی مسلنے لگا۔
اسی وقت عمیر کی امی جان اور بڑی بہن ، جنھیں سب آپا کہتے تھے، کمرے میں داخل ہوئیں۔

کمرے میں داخل ہوئیں ۔ آپانے جگ اور گلاس کی ٹرے میز پر رکھ دی۔ بھائی کی پریشانی کو دیکھتے ہوئے ان کا دل بھر آیا۔ عمیر، آپا سے گلاس لے کر گھونٹ گھونٹ شربت پینے لگا۔ امی ، عمیر کو تسلی دے رہی تھیں۔
ذرا دیر بعد جب سکون محسوس ہوا تو امی بولیں: ”عمیر بیٹا!ماجد بھائی آئے تھے ، انھوں نے کسی اچھے کاری گر سے بات بھی کر لی ہے۔

(جاری ہے)

کہہ رہے تھے۔

۔۔۔“
”امی! اب میں سموسوں کا ٹھیلا لگاؤں گا۔ اسی لیے یہ ڈگری حاصل کی تھی۔ اس سے بہتر تھا، آپ لوگ مجھے تعلیم نہ دلواتے ، آج کے دن مجھے یوں خفت تو نہ اُٹھانا پڑتی ۔“عمیر کا لہجہ شکایتی تھا۔
”ڈگری کا مقصد محض نوکری کرنا ہی نہیں۔ تعلیم کا اصل مقصد اپنی ذات کی پہچان بھی تو ہے۔“ندیم بھائی اندر آتے آتے ساری بات سن چکے تھے، بولے: ”مشکل حالات میں کسی طرح ثابت قدم رہنا ہے، حالات کو کس طرح نبھانا ہے، تعلیم کا ایک مقصد یہ بھی ہے اور رہی بات ٹھیلے کی تو ہم نے مین روڈ پر ایک چھوٹی سی دکان کرئے پر لے لی ہے ، تمام معاملات طے پا گئے ہیں۔

“ ندیم بھائی پاس بیٹھے سمجھا رہے تھے۔
امی اور آپا میں سے کوئی کچھ نہ بولا۔ عمیرادب کی وجہ سے خاموش بیٹھا سنتا رہا۔ ندیم بھائی آپا کے شوہر یعنی عمیر کے بہنوئی تھے، جو عمیر کے لیے بہت تگ و دو کر رہے تھے۔ ابو جی کی ناگہانی موت کے بعد انھوں نے ہر طرح سے ان کا خیال رکھا تھا۔ عمیر اچھی نوکری نہ ملنے کے باعث ذہنی پریشانی اور مایوسی کا کار تھا۔

ایسے میں وہ اسے حوصلہ دیتے رہتے تھے۔
”فکر مت کرو، میں تمھارے ساتھ ہوں۔ تم صرف انتظامی معاملات سنبھالنا۔ ماجد بھائی اپنا کام کریں گے۔“ ندیم بھائی نے مزید تسلی دی ۔ عمیر نے آہستہ سے سر ہلا کر نیم رضا مندی کا اظہار کیا۔ پھر ندیم بھائی نے اپنی بات خوب نبھائی۔ دفتر سے آک وہ رات گیارہ بجے تک عمیر کے پاس بیٹھے رہتے۔ شروع میں عمیر کو یوں محسوس ہوتا کہ جیسے ساری دنیا کی نگاہیں اسی پر لگی ہیں۔

وہ شرمندگی میں ڈوبا رہتا اور چورنگاہوں سے آنے والے گاہکوں کو دیکھا کرتا کہ کہیں ان میں اس کے کالج کے ساتھی تو شامل نہیں، لیکن پھر روز بروز بڑھتے کام نے اسے مصروف کر دیا۔
آمدنی کے اضافے سے کچھ اطمینان نصیب ہوا۔ شروع میں جب کام محدود تھا، امی سموسوں کا مسالا تیار کرتیں اور آپا کھٹی میٹھی چٹنیاں اور آلو کے چپس بنا دیتیں، جب کام بڑھنے لگا تو ندیم بھائی نے کچھ کاری گروں کا اضافہ کر دیا۔

سر شام دکان کے باہر میزیں اور کرسیاں لگائی جاتیں۔ نوجوان لڑکوں اور بچوں کا ہجوم سا لگ جاتا۔ چپس اور سموسوں کے علاوہ برگ بھی تیار ہوے لگے اور پھر جلیبی بنانے والے کا ایک ماہر کاری گر بھی رکھ لیا گیا۔ گاہکوں کی طرف سے دہی بھلے کی فرمائش بھی ہونے لگی۔ عمیر نے اپنی گریجویشن کی مناسبت سے دکان کا انوکھا نام”گریجویٹ سموسا“ رکھا۔

اس نام کو سب نے پسند کیا۔
عمیر نے دکان کے باہر کھڑے ہوکر بورڈ پر نظریں دوڑائیں۔ طمانیت اور خوشی رگ و پے میں دوڑتی محسوس ہوئی۔
آج گریجویٹ سموسا کی دوسری شاخ کا افتتاح ہو رہا تھا۔ آپا نے جھلملائی نگاہوں سے بھائی کو دیکھا اور عمیر نے دو چمکتے دمکتے سونے کے کنگن آپا کے ہاتھوں میں ڈال دیے۔کیوں کہ یہ ان ہی کی قربانی کا پھل تھا۔

اس وقت انھوں نے اپنی سونے کی چوڑیاں بیچ کر بھائی کو کاروبار شروع کروایا تھا۔ امی نے کچھ دن پہلے ہی یہ راز عمیر کو بتا یا تھا۔
”یہ سب آپا کی چٹنی کا کمال ہے کہ ااج گریجویٹ سموسے کی دوسری شاخ کام شروع کر رہی ہے۔“عمیر نے شوخی سے کہا۔
”چٹنی میری نہیں ، تمھاری ہے، جو میں بناتی ہوں ۔“آپا نے بھائی کا کان پکڑتے ہوئے بے ساختہ جواب دیا تو سب کھِل کھِلا کر ہنس پڑے۔

Your Thoughts and Comments