Hadayat Nama Shohran

ہدایت نامہ شوہراں!

بدھ اگست

Hadayat Nama Shohran

رن مریدی ایک ایسا فعل ہے جو ملک بھر میں صرف ایک نقطے کے فرق سے ہر جگہ روا رکھا جاتا ہے۔ پناب میں یہ فعل ”رن مریدی “ اور دوسرے صوبوں میں ”زن مریدی“ کہلاتا ہے اگر دیکھا جائے تو رن مرید ہونے میں کوئی حرج نہیں۔ جب اقبال جیسا فلسفی شاعر اقرار کرتا ہے کہ ”وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ“ تو اس کے بعد اس رونق کائنات کی ناز برداری سے انکا ر کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔

لیکن مسئلہ یہ ہے کہ رن اگر چہ عورت کو کہتے ہیں لیکن اس سے مراد بیوی لی جاتی ہے صرف یہی نہیں بلکہ جب کسی کو رن مرید کہا جتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ صرف ناز برداری نہیں کرتا بلکہ بیوی کے تھلے لگا ہوا ہے اور آپ کو پتہ ہے ہمارے مردانہ معاشرے میں اگر کوئی”بیوی کے تھلے“ لگ جائے تو اسے کتنے طعنے سننا پڑتے ہیں۔

(جاری ہے)


میں ذاتی طور پر رن مرید کو ایک احسن فعل سمجھتا ہوں کیونکہ اس سے گھر میں امن رہتا ہے نندوں کو شرارت کو موقع نہیں ملتا لیکن میرے دوست رن مریدی کے حوالے سے خواہ کسی بھی ”مکتب فکر“ سے تعلق رکھتے ہوں رن مریدی کو ذہنی طور پر قبول نہیں کرتے مثلاََ ایک دوست ہیں جو صحیح معنوں میں رن مرید ہیں ان کے سارے فیصلے ان کی بیوی کری ہے اور وہ ”پوری جرأت سے “ان فیصلوں پر عمل کرتے ہیں مگر وہ خود اور ان کے سالے سالیاں اس فعل کو رن مریدی نہیں سمجھتے بلکہ اس پسپائی کو ڈپلو میسی کے میدان میں ان کی شاندار فتح گردانتے ہیں میرے دوست کی یہ بیوی اکثر انہیں ان کے دوستوں کے بارے میں بھی بھڑکاتی رہتی ہے جس کے نتیجے میں ایک ایک کرکے سارے جاں نثار اور مخلص دوست اس رن مریدی کا ساتھ چھوڑ چکے ہیں او ر یوں وہ تمام دوستوں سے محروم ہونے کی وجہ سے ان دونوں شدید تنہائی کا شکار ہے!
ایک اور رن مرید دوست ان دونوں بہت پریشان ہیں مگر وہ بھی خود کو رن مرید ماننے کے لئے تیار نہیں ان کا موقف ہے کہ تمام بڑے بڑے فیصلوں کا اختیار ان کی بیوی نے انہیں دیا ہوا ہے اور صرف چھوٹے چھوٹے فیصلے وہ خود کرتی ہے بڑے بڑے فیصلوں پاکستان کی خارجہ اور داخلہ پالیسیاں نیز عالم اسلام کا اتحاد وغیرہ آتے ہیں جن کا اختیار اسن کی بیوی نے انہیں دے رکھا ہیاور بچوں کی شاد ی کہاں کرنی ہے شوہر کی تنخواہ کہاں خرچ ہونی ہے شوہر نے کہاں جانا ہے اور کہاں نہیں جانا کس محفل میں شوہر کو خاموش رہنا اور کس محفل میں اُسے بولنا ہے ایسے چھوٹے چھوٹے فیصلے بیوی نے خود سنبھال رکھے ہیں۔

میرے یہ دوست اس بات پر تو خوش ہیں کہ ان کی بیوی نے بڑے فیصلے ان کے اور چھوٹے فیصلے اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں مگر یہ سوچ کر پریشان رہتے ہیں کہ اس کے باوجود انہیں آزادی کا احساس کیوں نہیں ہوتا؟یہ مسئلہ صرف میرے دوست کا نہیں تیسری دنیا کے بہت سے ممالک کابھی ہے مگر یہاں صورت حال قدرے مختلف ہے یہاں طالبان اقتدار”رن مریدی“ کے باقاعدہ امیدوار ہوتے ہیں اور قطار میں لگ کر اپنی باری کا انتظار کرتے ہیں رن اور سپر پاور میں یہی قدر مشترک ہے !دونوں کی نظر کرم ضروری ہوتی ہے۔


جیسا کہ میں نے شروع میں عرض کیا میں ذاتی چور پر رن مریدی کے حق میں ہوں جن کی لکھی ہو وہ تو ڈبہ پیر کے بھی مرید ہو جاتے ہیں تو پھر آخر رن مریدی میں کیا حرج ہے؟میرے ایک غیر شادی شدہ دوست ان ضمن میں مجھ سے متفق ہیں ان کا کہنا ہے کہ وہ شادی کے بعد باقعدہ اعلان کریں گے کہ وہ رن مرید ہیں ان دوست کا نقطہ نظر وضاحت سے بیان بعد میں کروں گا پہلے ان کی زبان سے ابھی تک شادی نہ کرنے کا فائدہ سن لیں ان کا کہنا ہے کہ غیر شادی شدہ شخص کو یہ سہولت حاصل ہوتی ہے کہ وہ چار پائی کے دونوں طرف اُتر سکتا ہے چنانچہ صرف اس سہولت کے لئے انہوں نے ابھی تک شادی نہیں کی تھی اب جو وہ شادی پر رضا مند ہوئے ہیں تو صرف اس بنا پر کہ کہیں پڑھے بیٹھے کہ شادی دہ مردوں کی عمر لمبی ہوتی ہے حالانکہ ہوی نہیں انہیں عمر لمبی لگتی ہے بہر حال میرے یہ دوست اپب تل گئے ہیں کہ وہ شادی بھی کریں گے اور اپنے رن مرید ہونے کا کھل کر اعلان بھی کریں گے۔

تاہم ان کا کہنا یہ ہے کہ یہ اعلان محض اعلان ہوگا صورت حال اس سے بالکل مختلف ہوگی ان کے مطابق جب گھر میں کوئی بھی بڑا معاملہ درپیش ہو گا وہ کہیں گے ملکہ عالیہ فیصلہ آپ نے کرنا ہے تعمیل آپ کا یہ خادم کرے گااس کے نتیجے میں ملکہ عالیہ کوئی فیصلہ صادر فرمائیں گی اور ان کا یہ غلام پانچ منٹ اس فیصلے کے محاسن پر روشنی ڈالے گا بعد میں آہستہ آہستہ اس فیصلے پر عمل درآمد کے ضمن میں ممکنہ مشکلات کا ذکر کرے گا اور پھر اس کے نقصانات سے آگاہ کرنے کے بعد آخری جملہ یہ کہے گا کہ حضور کے وفادار کی حیثیت سے میں نے معاملے کے سارے پہلو آپ کے سامنے رکھ دیئے ہیں فیصلہ بہر ھال آپ ہی نے کرنا ہے اس کے بعد ظاہر ہے بیوی بیچاری نے خاک فیصلہ کرنا ہے، فیصلہ تو یہ نام نہاد”رن مرید“ ہی کرے گا۔


میں نے اپنی ”رن مریدی “ کا ذکر کیا تھا آپس کی بات ہے میں بھی اس قسم کی ”رن مریدی “کا قائل ہوں اور اس کالم کی حیثیت ایک لحاظ سے ”ہدایت نامہ شوہراں“ کی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ مسکین حضرات اس سے فیض یا ب ہو سکیں اور ممکن ہے تیسری دنیا کے ”رن مرید“ حکمران بھی اس سے کچھ سبق سیکھ سکیں!

Your Thoughts and Comments