Hakeem Chargha

حکیم چرغا

ہفتہ مارچ

Hakeem Chargha
عطا ء الحق قاسمی :
آج زرق برق لدھیا نوی المعروف حکیم چرغا کی برسی ہے ۔ حکیم چرغا کی وضاحت آگے آئے گی ۔
حکیم صاحب روزمانہ ” مالیخولیا “ کے پرٹینگ پریس میں کام کرتے تھے ۔ چانچہ انھوں نے اپنی سائیکل پر ”پریس “ کی تختی لگائی ہوئی تھی ۔ ان کی شخصیت ہمہ جہت تھی ۔ وہ طبیب بھی تھے ۔ اس حوالے سے روزمانہ ” مالیخولیا “ میں طبّی کالم لکھتے تھے ، جوٹوبہ ٹیک سنگھ کے چک 22 سے نکلتا تھا ۔

کسی زمانے میں شاعری بھی کرتے تھے ۔ اس زمانے میں انھوں نے پانچ چھے غزلیں کہیں اور پانچ چھے سومشاعرے پڑھے ۔ جب مشاعروں کے منتظمین اور سامعین کو ان کی یہ غزلیں حفظ ہوگئیں اور انھوں نے حکیم صاحب کو مشاعروں میں بلانا بند کردیا ۔ اسی طرح ٹی وی والوں نے بھی معذرت کرلی ، جس پر حکیم صاحب کو دیوانگی کا دورہ پڑا اور انھوں نے اس دیوانگی کے عالم میں روزمانہ ” مالیخولیا “ کی اشاعت میں دس پندرہ پرچوں کا اضافہ ہوگیا ، کیوں کہ کالم کی اشاعت کے بعد حکیم چرغا پندرہ اخبار خرید کر ان لوگوں کو ارسال کرتے تھے ، جوان کی وحشت کا نشانہ بنے ہوتے تھے ۔

(جاری ہے)


موصوف بہت اعلا درجے کے طبیب تھے اور طویل عرصے سے بستر علالت پر پڑے مریض اپنے لواحقین کی منت سماجت کرتے تھے کہ انھیں حکیم چرغا کے پاس لے جایا جائے ،کیوں کہ طویل المدت مریضوں کا علاج انھی کے پاس تھا ۔ چنانچہ یہ مریض ان کی ایک پڑیا سے ہمیشہ کے لیے سکون کی نیند سوجاتے تھے حکیم صاحب کو قبض کے علاج میں مہارت حاصل تھی ۔ ایسی دوا دیتے تھے کہ اس کے بعد مریض قبض کے لیے ترس جاتا تھا ۔


حکیم صاحب کی ایک خوبی یہ تھی کہ وہ مریض کو دوا دینے سے پہلے یہ دوا خود پر آزماتے تھے ، جسے کے ردعمل کی وجہ سے انھیں گونا گوں بیماریاں لاحق ہوگئی تھیں اور یوں وہ سکھ کر کانٹا ہوگئے تھے ۔ انھیں حکیم چرغا کا خطاب ان لوگوں نے دیا تھا ، جنھوں نے انھیں ایک دفعہ جانگیا پہنے دیکھا تھا ۔ اس ہیت کذائی میں وہ بالکل چرغا (کوئلوں پر سینکا ہوا مرغ مسلّم ) لگتے تھے ۔

انھیں اس بات کا علم تھا ۔ چنانچہ چرغا تو کجا ان کے سامنے اگر لکشمی چوک کا نام ہی لے لیا جاتا تو ان پر دیوانگی کا دورہ پڑجاتا ، اس لیے کہ انھیں وہاں سوخوں میں پروئے چرغے (مرغ ) یاد آجاتے ۔ چنانچہ اگلے روز اپنے کالم میں وہ مغلظات کی بوچھاڑ کر دیتے ۔
حکیم صاحب کی دیوانگی کی ایک وجہ اپنے ایک ہونہار شاگرد کی جدائی بھی تھی ۔ انھوں نے اس شاگرد پر اس وقت دست شفقت رکھا، جب وہ صرف بارہ سال کا تھا ۔

حکیم صاحب نے چار پانچ سال کے عرصے میں اسے علوم ظاہری وباطنی سے بہرہ ورکیا اور جب ان علوم میں طاق ہوکر خود اس کے اندر حکیم صاحب کے اوصاف حمیدہ پیدا ہوئے تو وہ اپنے استاد کو چھوڑ کر چلاگیا ۔ اس کی فرقت میں روتے روتے حکیم صاحب کی ڈاڑھی بھیگ جاتی تھی ۔ حکیم صاحب کوئی مذہبی آدمی نہیں تھے ۔ چنانچہ انھوں نے یہ داڑھی شریعت کی پیروی کے نقطہ نظر سے نہیں ، بلکہ اپنے عیب چھپانے کے لیے رکھی تھی ۔

ان کی تھوڑی سے ذرا نیچے آخری عمر میں ایک گلہڑ نکل آیا تھا، جسے چھپانے کے لیے انھیں داڑھی رکھنا پڑی ۔ دستار بھی وہ اپنے چھوٹے سر کو بڑا کونے اور اپنے گنج کو چھپانے کے لیے باندھتے تھے ۔ ایک دفعہ ان کے ایک شاگرد نے ان کے سامنے ندیم کا یہ شعر پڑھ دیا :
آپ دستار اُتاریں تو کوئی فیصلہ ہو
لوگ کہتے ہیں کہ سرہوتے ہیں دستاروں میں
جس پرانھیں ایک بار پھر دیوانگی کا دورہ پڑگیا ۔

حکیم چرغا کا خیال تھا کہ ان سے بڑا کالم نگار ، ان سے بڑا شاعر اور ان سے بڑا حکیم کوئی نہیں ۔ ان کے دوست کہتے تھے کہ ” بڑا “ کی بجائے ” بُرا “ کا لفظ لگا لو تو اس ضمن میں ہمارا تمھارا اختلاف ختم ہوجاتا ہے ۔
حکیم صاحب کا حکمت کے حوالے سے تودعوا اتنا بڑا تھا کہ خود کو حکیم اجمل خان ثانی کہلانا چاہتے تھے ۔ کہتے تھے کہ میں ان کی روحانی جانشین ہوں ۔

وہ تو حکیم اجمل خان کی روح نے ڈرا دھمکا کر ان کی یہ روحانی جانشینی ختم کرائی ۔ اس کے باجود ہمہ وقت اجمل اجمل پکارتے رہتے تھے ۔ ایسا نہیں کہ وہ حکیم اجمل خان کو یاد کرتے تھے ، بلکہ خود کو اجمل خان سمجھنے کی وجہ سے آخروقت تک اپنا نام فضاؤں میں گونجتے دیکھنا چاہتے تھے ۔
آج کا دن صحافت ، ادب اور حکمت کی دنیا میں یاد گار دن ہے کہ اس روز حکیم چرغا، یعنی زرق برق لدھیانوی خلقِ خدا کی دعاؤں کے نتیجے میں بہ عمر پچاس برس بالآخر اپنے مریضوں سے جاملے ۔ مرحوم بہت سی خوبیوں کے مالک تھے ، جن کا سراغ نہیں لگایاجاسکتا ۔ مرحوم حال آنکی سنی العقیدہ تھے ، مگر ان کی قبر پر آج بھی سیکڑوں لوگ ماتم کرتے نظر آتے ہیں ، تاہم پولیس والے انھیں جوتیاں اندر لے جانے کی اجازت نہیں دیتے ۔

Your Thoughts and Comments