Halal-o-haram

ہلال و حرام

منگل مئی

Halal-o-haram

ڈاکٹر محمد یونس بٹ:
جب سے امریکہ کے ریاضی دان پروفیسر الیگزینڈر نے کہا ہے کہ محترمہ زمین کا جھکاو¿ سور کی طرف بہت بڑھ گیا ہے جس کی وجہ سے شدید موسم اور دیگر آفات نازل ہو رہی ہیں۔ اس لیے ایٹمی دھماکے سے چاند کو تباہ کر دیا جائے۔ تب سے ہمیں جو بھی چاند نظر آتا ہے اسے اپنی حفاظت میں لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ چاند میں ہمیں آج تک یہی خامی نظر آئی کہ چاند معشوقوں پاور مشکوکوں کی طرح رات کو نکلتا ہے۔

رات بھر یہی سوچ کر پریشان رہتے ہیں مگر صبح ہمیں پریشانی نہیں ہوتی جس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ صبح کے وقت ہم سوئے ہوتے ہیں۔ سنا ہے چاند بچارہ ریاضی دانوں کے ڈر سے رات کو نکلتا تھا، مگر ریاضی والوں نے تارے گنتے گنتے یہ نیا چاند چڑھانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

(جاری ہے)

ہم نے سوچا تھا چاند تباہ کرنے کی بات پر شاعر آسمان سر پر اٹھا لیں گے مگر جب پشاور کے ایک صحافی نے اللہ دتہ نا واقف صاحب کو بتایاکہ چاند تباہ کر دی جائے گی، تو ناواقف صاحب نے کہا اس میں تو سنگین غلطی ہے ۔

پوچھا کیا؟ کہا ” تذکیر و نانیث کی سنگین غلطی ہے چاند مذکر ہوتا ہے۔“ لیکن بھلا ہو مولانا محمد خادم نقوی صاحب کا جنہیں اکثر لوگ مولانا محمد خادم نقوی صاحب کہتے ہیں انہوں نے فرمایا ہے کہ ہلال کو یوں حلال کرنا حرام ہے اور امریکیوں کو اس کی ہرگز اجازت نہ دیں گے۔ ہمیں یقین ہے کہ جب امریکی ان کے یہ اجازت لینے آئیں گے تو مولانا انہیں ہرگز نہیں دیں گے۔

ظاہر ہے کہ چاند نہ ہوگا تو یہ کیسے پتہ چلے گا کہ آج چاند کی کتنی تاریخ ہے؟ ابن انشاءکے بقول تو عید کا پیغام لانے کے علاوہ چاند کاکوئی خاص مصرف نہیں۔ شاعر اور چکور اس سے باتیں کر لیتے ہیں یا پھر ان بستیوں میں جہاںبجلی نہیں لالٹین کا کام دیتا ہے۔ تاہم لالٹین والی بات پر واپڈا ہی روشنی ڈال سکتا ہے۔ایک زمانہ تھا تاج برطانیہ کا سور کبھی غروب نہیں ہوتا تھا اب وہاں کئی کئی دن سورج نکلتا ہی نہیں ۔

اگر وہاں کوئی ” ڈیلی سن“ کہے تو یقین کر لیں وہ روزانہ سورج کے بجائے روزانہ اخبار کا ذکر کر رہا ہے۔ سورج سے ذاتی طور پر ہمیں یہی شکایت ہے کہ صبح بہت جلد نکل آتا ہے۔ مغرب صدیوں سے ہر شام سورج کو غروب کرتا ہے مگر ہم نے کبھی اعتراض نہ کیا۔ ویسے بھی سورج دن کو نکلتا ہے اور دن کو ہمیں روشنی کی اتنی ضرورت نہیں، اس لیے سورج نہ بھی نکلے تو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

یوں بھی سورج اورا پنی غلطیوں پر نظر رکھنے سے نظر نہیں رہتی اور اپنے چاند پر نظر نہ رکھیں تو چاند اپنا نہیں رہتا ۔ ہمارے ہاں تو چاند کو چندا ماموں بھی کہتے ہیں اس لیے جب امریکی پہلی بار چاند پر اترے تو ہمارے ایک مولولی صاحب کا پارہ یوں چڑھا جیسے وہ ان کے ماموں کے ہاں اترے ہوں۔
محبوب کو تحفہ دینا ہمیشہ مسئلہ رہا ہے ایک بار رنگیلے نے کسی سے پوچھا، میں محبوب کو کیا تحفہ دوں جو اسے پسند آئے؟ سننے والے نے کہا ” آُپ محبوب کو پسند ہیں؟ رنگیلے نے کہا”ہاں“ تو اس نے جواب دیا ” پھر اسے کچھ بھی دے دیں اسے پسند آئے گا“۔

لیکن جب عاشق محبوب کو کچھ نہ دینا چاہیں تو اسے چاند سے پار لے جانے کی باتیں کرتے ہیں۔ چاند کو محبوب کی خاطر زمین پر اس لئے نہیں لاتے کہ اس رکھیں گے کہاں؟اگرچہ عاشق حلق چاند تباہ کرنے کی خبر سے ہلکے ہلکے پریشان ہوئے ہیں مگر عاشقوں کا کیا بھروسہ وہ محبوب کی خاطر تارے توڑنے کی بات کر سکتے ہیں تو چاند توڑنے کی بھی کر سکتے ہیں۔ پھر جیسے شراب پینے کا یہ فائدہ ہوتا ہے کہ آپ کو پارکنگ کے لیے جگہ تلاش کرنے میں دشواری نہیں ہوتی۔

ایسے ہی رات کو چاند نہ و تو عاشقوں کو چاند چڑھانے کا موقع مل جاتا ہے۔ حکیم عطا بن مقع نے تو چاہ نخشب سے دن کو چاند چڑھا دیا تھا۔ہمیں لگتا ہے کہ ماہرین اجرام فلکی کے حسن سے جلتے ہیں یا د رہے یہاں اجرام جرم کی جمع نہیں ہے تاہم ہمارا ارادہ ہے کہ ” چندا بچاو¿ مہم “ شروع کی جائے جس میں آپ دل کھول کر چندہ دیں۔ کیونکہ اگر کچھ ہو گیا تو نواب زادہ نصر اللہ خان نے اپنی اور حلقے کی ٹوپی درست کرتے ہوئے یہی کہنا ہے کہ یہ جمہوریت کے خلاف سازش ہے۔ محترمہ بے نظیر صاحبہ یہ بیان دے دیں گی کہ یہ سب نواز شریف حکومت کی نااہلیوں کا نتیجہ ہے اور نواز شریف زیادہ سے زیادہ یہی کہیں گے کہ چاند کو تباہ کرنے کی کیا ضرورت تھی اسے پرائیوٹ سیکٹر میں دے دیا جاتا ۔

Your Thoughts and Comments