Hiran Re Hiran Teray Sar Par Bairi

ہرن رے ہرن تیرے سر پر بیری

ہفتہ مئی

Hiran Re Hiran Teray Sar Par Bairi

عزیزو تم نے سنا ہو گاکہ جنگ میں ایک مقدس ہرن ہوتا ہے جس کے ماتھے پر صلیب گڑی ہوتی ہے ۔یہ ایک ولی اللہ کے نام سے منسوب ہے اور اس کو گزند نہیں پہنچانا چاہیے آپ پوچھیں گے کہ تم نے بھی اُسے دیکھا ہے ؟ میں نے اس صلیب والے ہرن کو تو نہیں دیکھا لیکن جو اپنی آنکھوں دیکھا ہے بیان کرتا ہوں۔ ایک روز کی بات ہے سارا دن شکار کھیلتے میرے چھرے اور گولیاں صرف ہو چکی تھیں کہ ایک بارہ سنگھے سے سامنا ہو گیا۔

اب کیا کیا جائے؟ بارود تو تھا لیکن گولیوں کی جگہ کیا ڈالا جائے اتفاق سے میں اس وقت کھڑا بیر کھا رہا تھا اور بہت سی گٹھلیاں آس پاس بکھری پڑی تھیں۔ میںنے وہی گٹھلیاں مٹھی بھر جمع کیں اور بندوق میں ڈال کر بارہ سنگھے کی پیشانی کا نشانہ لیا نشانہ عین سینگوں کے درمیان لگا اور وہ چوٹ کھا کر بھاگ نکلا اور نظروں سے غائب ہو گیا۔

(جاری ہے)

اس کے کوئی دو سال بعد کی بات ہے میںایک بار پھر اسی جنگل میں شکار کھیل رہا تھا ایک بارہ سنگھے کو دیکھا س کے سینگوں کے بیچوں بیچ کئی ہاتھ اونچا ب یر کا پیڑ اُگا ہو اتھا۔

تب مجھے پُرانا واقعہ یا د آگیا۔ یہ ہرن تو میرا حق تھا۔ میں نے ایک گولی سے اُسے گرالیا۔ ایک گولی میں دو شکار کیے گوشت اپنی جگہ اور یر اپنی جگہ ۔ سچ یہ ہے کہ بیر اتنے لذیذ تھے کہ پہلے مجھے ایسے بیر کھانے کا اتفاق نہ ہوا تھا۔ گولی بارود ختم ہونے کا ذکر آیا تو ایک واقعہ اور سن لیجئے یہ مرحلہ شکاری کے لیے بڑا کٹھن ہوتا ہے ایک دن پولینڈ کے ایک جنگل میں دن بھر شکار کھیلنے میں اپنا سارا ذخیرہ ختم کر بیٹھا تھا کہ ایک خوفناک ریچھ سے مڈبھیڑ ہو گئی۔

وہ وحشی جانور منہ پھاڑے میری طرف لپکا۔ میں نے بچے کھچے گولی بارود کے لیے اپنی جیبوں کو پھر دیکھا لیکن کچھ بھی نہ تھا سوائے چقماق کے دو ٹکڑوں کے۔ میں نے ان میں سے ایک پتھر پورے زور سے اس ریچھ کے کھلے منہ میں دے مارا اور وہ اس کے حلق میںسے ہوتا شکم کے اندر چلا گیا۔ ریچھ گھبرا کر پچھلے پاو¿ں بھاگا۔ اب دوسرا چقماق میںنے پیچھے سے دے مارا۔

وہ بھی اس کے جسم میں گھستا چلا گیا اور آخر پہلے چقماق سے ٹکرایا۔ اس سے آگ پیدا ہوئی اور ریچھ بھک سے اُڑ گیا۔ اس بار تو میں سلامت آگیا خدا نہ کرے پھر کبھی ایسی نوبت آئے۔
ایک واقعہ ایک بھیڑے کا بھی ہے جو ایسے وقت مجھ پر پل پڑا کہ گولی بارود کیا چقماق تک سے جیب خالی تھی۔ میں نے بے اختیار اپنا ہاتھ ہی اس کے کھلے منہ میں ٹھونس دیا اور اسے اندر گھسیڑتاچلا گیا حتیٰ کہ پورا ہاتھ کا ندھے تک بھیڑئیے کے حلق اور شکم میں سے ہوتا ہوا دم تک پہنچ گیا ۔

میں اور بھیڑیا آمنے سامنے ایک دوسرے کو خون پینے والی نظروں سے گھور رہے تھے۔ اگر میں ہاتھ باہر نکالتا تو وہ فوراََ میری تکہ بوٹی کر دیتا ۔ اس کی دم میرے ہاتھ میں آجانا بہت اچھا ہوا۔ میں نے اُسے مضبوطی سے پکڑ پورے بھیڑئیے کو اس طرح اُلٹا دیا جیسے آپ دسانے کو یا بنیان کو یا موزے کو اُتارتے ہیں۔ اندر حصہ باہر کی طرف اور باہر کا حصہ اندر۔


ایک بار سینٹ پیٹرزبرگ کی ایک تنگ گلی میں ایک پاگل کتا سامنے آنکلا اب کیا ہو؟میںنے اپنا کوٹ اتارا اور اس پر پھینک دیا اورخود بھاگ کر گھر چلا گیا جو وہاں سے کچھ دورنہ تھا۔ میں نے اپنے نوکر سے کہا کہ فلاں گلی میں سے میرا کوٹ اُٹھا لاو¿۔ وہ اسے اُٹھا لایا اور لا کر میری کپڑوں کی الماری میںلٹا دیا۔ اگلے روز نوکر بھاگا میرے پاس آیا کہ حضور آپ کا کوٹ پاگل ہو گیا ہے۔ دوسرے کپڑوں کو کاٹ رہا ہے میں جھپٹ کر پہنچا۔ واقعی میرے سارے کپڑے چتپھڑا ہوئے پڑے تھے ۔ نوکر کا کہنا صحیح تھا۔ خود میرے دیکھتے دیکھتے یہ کوٹ میرے ایک نئے سوٹ پر آگرا اور بے دردی سے اسے نوچ کر دور پینک دیا۔

Your Thoughts and Comments