Intezariyah

انتظاریہ

جمعہ ستمبر

Intezariyah

ڈآکٹر محمد یونس بٹ

انتظاریہ صاحب ہمارے وہ افسانہ نگار ہیں جن کے افسانوں کا انتظار ہوتا ہے ۔ایسے ادیب کہ بندہ ان سے آلوؤں کا بھاؤ پوچھے تو اس کا جو جواب دیں گے ‘وہ ادب ہو گا ۔جیسے چین جانے والوں کو بریف کیاجاتا ہے کہ وہاں مزاحیہ بات نہ کرنا کیونکہ چینیوں کا مزاح اتنا مختلف ہے کہ میزبان آپ کی مزاحیہ بات سے برامنا سکتا ہے ۔

ایسے ہی انتظار حسین سے ملنے جانے والوں کو سمجھا یا جاتا ہے کہ ان سے اوبی گفتگو سے پرہیز کرنا ‘ورنہ بھول جاؤگے کہ کس کام آئے تھے۔انتظار صاحب ماضی کے انتظار میں رہتے ہیں ۔انہیں پرانی چیزیں اچھی لگتی ہیں۔ ہم سمجھتے تھے یہی ان کی خوشگوار ازدواجی زندگی کاراز ہے لیکن مسزانتظار حسین نے اور ہی بات بتائی ہے ۔ایک ہفت روز کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا:”میں نے کبھی انتظار کے افسانے نہیں پڑھے۔

(جاری ہے)

“مزید کہتی ہیں :”جب مجھے پتہ چلا کہ ان سے میری شاد ی ہورہی ہے تو پہلے میں نے انکار کردیا کہ ایسے شخص سے شادی نہیں کروں گی جو شہر کے گڑوں کے احلن گنتا پھرے ۔“صاحب ہمیں انتظار حسین صاحب کے ان مشاغل کو تو پتہ نہیں ‘ابتدان کی افسانہ نگاری کے قائل ہیں ۔ہم سمجھتے ہیں اچھے افسانہ نگارمیں اچھے خاوند بننے کی بڑی صلاحیتیں ہوتی ہیں ۔

کیونکہ رات دیر سے گھرآنے پر ہر روز نئی کہانی زیادہ آسانی سے بنا سکتا ہے ۔یادرہے کہانی یا افسانے اور حقیقت میں یہ فرق ہے کہ کہانی یا افسانہ بے تکا نہیں ہوتا ۔البتہ تجریدی افسانہ وہ ہوتا ہے جسے سمجھنے کے لیے لکھنے والے کو بھی اسے کئی دفعہ پڑھنا پڑتا ہے ۔کچھ کاغیر شاعرانہ خیال ہے کہ اگر خاتون تین ہزار مہینے کے لے کر گھر کاکام کرے گی تو یہ نوکری ہو گی ۔

اگر اس کے بغیر کرے تو یہ شادی ہے ۔انتظار حسین صاحب ایسی شخصیت ہیں کہ میاں بیوی بیٹھے ہوں تو پوچھنا پڑتا ہے کہ تم دونوں میں سے میاں کون ہے ؟مسزانتظار حسین سخت نہیں ہیں ورنہ انتظار حسین صاحب کو کشورنا ہید سے پردہ کرواتیں ۔کشور نا ہیداورانتظار حسین کے ایسے تعلقات ہیں کہ کبھی وہ کشور کی بات مان لیتے ہیں ۔کبھی کشور اپنی بات منوالیتی ہیں ۔

کشور ناہید ادب کی مردانہ آوازہیں ۔ایک نجی تقریب میں انتظار صاحب کو ”مصروفہ“نے ڈانٹ دیا تو مسزانتظار نے برا منا تے ہوئے کہا کہ آپ نے انہیں کیوں ڈانٹا ۔یہ میرے خاوند ہیں ۔ہماری ادبی تاریخ شاعروں ‘ادیبوں کی بیویوں کی شکایتوں سے بھری ہوئی ہے ۔اگر چہ شادی کی اپنی بڑی خوبیاں ہیں ‘بندے میں وفا داری ‘قوت برداشت خود پر قابو پانے کی صلاحیت اوردوسری بہت سی خوبیاں پیدا ہو جاتی ہیں ‘جن کی بندے کو ضرورت ہے نہ ہوتی اگر اس کی شادی نہ ہوتی۔

ہم اکثر سوچتے تھے شاعروں اور ادیبوں کی تحریروں میں اتنا سوزوگداز کہاں آتا ہے ۔جب سے ان کے فیملی چھپنے لگے ہیں ۔تب سے کچھ کچھ اندازہ ہو نے لگا ہے ۔ایک تحقیقی رپورٹ کے مطابق شادی شدہ کنواروں سے پانچ سال زیادہ زندہ رہتے ہیں ۔صاحب پانچ سال بچانے لیے ساری زندگی صرف کردینا اگر چہ کوئی عقل مندی نہیں ‘بہر حال کہتے ہیں شادی شدہ شاعر کنوارے شاعر سے زیادہ زندہ رہتا ہے ۔

البتہ افسانہ نگار کے بارے میں نہیں کہا گیا ۔تاہم جن شاعروں ‘ادیبوں کی ازدواجی زندگی کامیاب رہی ‘ان میں بیشتر وہ ہیں جن کی بیویاں خاوندوں کی تحریریں نہیں پڑھتی تھیں ۔ہمارے ہاں تو بھی تب تک دوسرے کی تحریر نہیں پڑھتے جب تک انہیں اس پر سرقے کاگمان ہو۔رائٹر کی بیوی اگر اس کی تحیریریں نہ پڑھے تو بندہ آسانی سے لکھتا ہے ۔شاید اسی لیے انتظار حسین آج بھی ویسا ہی لکھ رہے ہیں جیسا انہیں لکھنا چاہیے۔

ہم تو انہیں تب اردو کا بہت بڑا افسانہ مانتے تھے ‘جب ابھی ہم نے ان کے افسانے نہیں پڑھے تھے ۔ان کے افسانے پڑھنے کے بعد بھی ہم نے اپنی رائے نہیں بدلی ۔ہمیں ان کے افسانے ا س قدر پسند ہیں کہ رات کو جب تک ان کی کوئی کتاب نہ کھولیں ‘نیند نہیں آتی ۔لیکن ہم مکمل طور پر انہیں کبھی نہ چڑھ سکے کیونکہ جب بھی ہم پڑھنے لگتے ہیں کوئی نہ کوئی آکر ہمیں جگادیتا ہے ۔

ان کے خیالات ڈارون کے برعکس ہیں ۔ڈارون کو پڑھو تو وہ کہتا ہے انسان بندرسے بنا ہے ۔انتظار حسین کو پڑھو لگتا ہے ‘انسان بندربن رہا ہے ۔وہ کہتے ہیں افسانہ تب بھی ہوتا تھا جب افسانہ نگار بھی نہیں ہوتا تھا ۔آج کل بھی ہمارے محلوں میں جو ”افسانے “مشہور ہوتے ہیں ‘وہ سارے افسانہ نگاروں کے تو نہیں ہوتے ۔بیگم انتظار حسین نے کہا:”اگر وہ لاپروانہ ہوں تو ہیرا ہیں ۔

“جس پر انٹرویو لینے والے صحافی نے کہا:”گویا لاپروا ہیں ہیرا نہیں ۔“صاحب ہمیں دکھ ہوا کہ انتظار حسین ہیرا بننے سے بال بال رہ گئے ۔محترمہ نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ انتظار حسین سنتے بھی کم ہیں ۔ہم سمجھتے تھے انتظار حسین صرف بولتے ہی کم ہیں ۔بہرحال اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ انتظار ‘صاحب طرز افسانہ نگارہی نہیں ‘صاحب طرز شوہر بھی ہیں ۔

یہ یوں شاعروں ‘ادیبوں کی بیویوں کے لیے مشغول راہ ہے کہ اگر وہ کا میاب ازدواجی بھی چاہتی ہیں تو خاوند کی تخلیقات پڑھنے سے پر ہیز کریں۔ ہمیں اپنے بے شمار ادیب آرہے ہیں جن کی طلاقیں ہو چکی ہیں ۔ہمیں یقین ہے کہ وجہ یہی ہو گی کہ ان کی یوں نے ان کی تحریریں پڑھ لی ہوں گی ۔برنارڈ شا نے کہا تھاکہ رائٹر کی تحریریں ان کی ازدواجی زندگی بنانے کی بجائے بگاڑنے میں زیادہ اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ خاص کر کے وہ تحریریں جنہیں وہ پوسٹ کرنا بھول جاتے ہیں ۔

Your Thoughts and Comments