Iqbal Ke Ganay Ka Aashiq !

اقبال کے گانے کا عاشق!

ہفتہ اپریل

Iqbal Ke Ganay Ka Aashiq !

میرا ایک لا ہور یا دوست حج کرنے گیا تو وہاں سخت بیمار پڑ گیا اس نے خانہ کعبہ میں بیٹھ کر اپنے والد کو خط لکھا کہ میں شدید بیمار ہوں‘ آپ داتا دربار جا کر میرے لیے دعا کریں۔ مجھے یہ واقعہ ایک وزیر صاحب کا بیان پڑھ کر یاد آ گیا ہے۔ جنہوں نے عہد حاضر کے اد یبوں کو مخاطب کر کے ارشادفرمایا ہے کہ وہ ملت کی ڈوبتی کشتی بچانے کے لیے اپنے قلم کو چپو بنائیں اور اس کشتی کو منجدھارسے نکال لے جائیں۔

اس میں کوئی کلام نہیں ہے کہہ ہمارے عہد میں ایسے ادیب موجود ہیں جن کا مقام بہت ارفع و اعلی ہے لیکن جس قوم نے اقبال جیسے شاعر اور فلسفی کے کلام کوقوالی تک محدود کر دیا ہو اسے راہ راست پر لانے کے ضمن میں آج کا ادیب کیا کردار ادا کر سکتا ہے؟ ہمارے ریڈیو اور ٹی وی کے کارپرداز ان کا توہی حال ہے کہ وہ اقبال کوبھی فانی بدایونی قسم کی کوئی چیز سمجھتے ہیں۔

(جاری ہے)

چنانچہ ان کا کلام جن دھنوں پرگایا جاتا ہے وہ سب کے سب مرثیے کی دھنیں ہیں۔ آپ ان پرسینہ کوبی تو کر سکتے ہیں دل میں کوئی ولولہ اور جوش محسوس نہیں کرسکتے؟خواتین و حضرات! ہماری قوم ویسے بھی ایک عرصے سے سینہ کوبی کی عادی ہوچکی ہے اور یہ سلسلہ بہت پرانا ہے۔ قیام پاکستان کے فوراََ بعد ہم نے یہ سلسلہ شروع کردیا ہے جس کا نتیجہ ایوب خان کے مارشل لا ء کی صورت میں نکلا۔

پھریحییٰ خان ہمارا مقدر بنے ان سے جان چھوٹی تو ذوالفقارعلی بھٹو کی صورت میں ہمیں سول مارشل لا ء کا تحفہ دیا گیا لیکن چلیں یہ حکومت جیسی بھی تھی اس میں سول کادم چھلاتو لگا ہوا تھا مگر پھر یوں ہوا کہ بھٹو کے خلاف اتحاد بنے اور ایک دفعہ پھر سینہ کو بی کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ چنانچہ ضیاء الحق کا مارشل لاء ہمارے حصے آیا۔ آج کل پھر سیاسی جماعتیں سینہ کوبی میں مشغول ہیں۔

دیکھیں اس کا کیا نتیجہ نکلتا ہے ویسے آج تک تو یہی ہوتا آیا ہے کہ ہم خواب مدینے کا دیکھتے ہیں اور تعبیر کوفے کی صورت میں نکلتی ہے۔ ایک سردارجی ہائی کورٹ کے جج کی حیثیت سے بہت نیک نام تھے ایک سائل ان کے پاس ڈرتا ڈرتا آیا اور عرض کیا کہ اس کے اکلوتے بیٹے پرقتل کا الزام ہے اور مقدمہ آپ کی عدالت میں ہے۔ آپ سے درخواست ہے کہ اسے پھانسی کی بجائے عمر قید کی سزادیں۔

سردار جی کادل پسیج گیا انہوں نے کہا کہ میرے ساتھ دوجج اور بھی ہیں۔ میں اکیلافیصلہ نہیں کرسکتا۔ بہر حال میں کوشش کروں گا کہ تمہارا بیٹا پھانسی سے بچ جائے۔ چنانچہ جب مقدمے کا فیصلہ سنایا گیا توملزم کو پھانسی کی بجائے عمر قید کی سزا دی گئی تھی۔ ملزم کا باپ شکریہ ادا کرنے کے لیے سردار جی کے پاس گیا تو سردارجی نے کہا میں نے بہت مشکل سے باقی دوججوں کو عمر قید سزا پر راضی کیا ہے۔

ورنہ وہ تمہارے بیٹے کو بری کرنے پر تلے ہوئے تھے!۔ ہمارے سیاست دان بھی کچھ عرصہ سے قوم کے ساتھ ہی ہاتھ کر رہے ہیں۔یعنی جب کبھی قوم کی نجات کی امید پیدا ہوتی ہے یہ اسے بڑی کوششوں سے کسی فوجی آمر کی قید میں دیدیتے ہیں لیکن وہ جو اقبال نے کہا ہے کہ
پلٹنا ’‘ جھپٹنا‘ جھپٹ کر پلٹنا
لہو گرم رکھنے کا ہے ایک بہانا
تو ہمارے یہ سیاست دان فوجی آمر کو کمزور پڑتے دیکھ کر لہو گرم رکھنے کے لئے بعد میں اس کے خلاف بھی اتحادی سیاست کا آغاز کر دیتے ہیں حالانکہ اسے لانے والے بھی یہی ہوتے ہیں۔

افسوس ہمارے کی مارشل لاء ایڈمنسٹر یر نے انہیں اقبال کا شعر نہیں سنایا۔
روز حساب میرا جب پیش ہو دفتر عمل
آپ بھی شرمسار ہو مجھ کو بھی شرمسار کر
لیکن جس طبقے کا ذکر میں کر رہا ہوں وہ شرمسار ہونانہیں جانتا۔ ویسے سچی بات یہ ہے کہ ہم سب لوگ شرمسار ہونا بھول چکے ہیں۔ ہم لوگوں کے قول و فعل میں اتنا شدید تضاد ہے گلشن سے آنے والی ہوائیں بھی ہم تک پہنچتے پہنچتے باد صرصر کی شکل اختیار کر لیتی ہیں۔

ہمارے عشق میں کھوٹ ہے۔ ساری عمر” میرے مولا بلا لو مدینے “کا وردکرتے رہتے ہیں اور جب بیس ہزار روپے ہاتھ میں آتے ہیں تو مدینے کی بجائے سیدھا ہال روڈ کا رخ کرتے ہیں اوررنگین ٹیلی وژن اٹھا لیتے ہیں۔ قرآن اور حدیث سے ز یا د منبع ہدایت کوئی نہیں لیکن ان پرعمل کے دوران جہاں مشکل مقامات آتے ہیں یعنی ہماری جان و مال پر زد پڑنے لگتی ہے ہم کنی کترا جاتے ہیں۔

ایسے ہی بد باطن لوگوں کے لیے بعض علماء کا ہی فتوی موجود ہے کہ انکم ٹیکس چوری کرنا جائز ہے۔ نیز یہ کہ سونے کی اسمگلنگ از روئے شریعت حرام نہیں ہے۔ گذشتہ چودہ سو برسوں میں صرف ان دو امور میں ”اجتہاد “کیا گیا ہے جبکہ اس دوران سینکڑوں ایسے مسائل جنم لے چکے ہیں جن کے ضمن میں اجتہاد کی اشد ضرورت ہے۔ اقبال نے اپنے خطبات میں جتناز وراجتہاد پردیا ہے اتنا شایدہی کسی اور بات پر دیا ہو۔

میرے نزدیک وہ تمام چیزیں جوحضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مو جو بھی نہیں تھیں اور جن کے بارے میں کوئی واضح حکم بھی موجود نہیں‘ انہیں ایک قلم مسترد کرنے کی بجائے ان پر غور و فکر اور اجتہاد کی ضرورت ہے۔ کوئی قانون اندھادھند نافذ نہیں کیا جاسکتا بلکہ اس سے پہلے تمام معروضی حالات کا جائزہ لینا ضروری ہوتا ہے۔ ایک بدو حضور نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ روزے کے دوران مجھ سے ایک ایسی حرکت سرزد ہوگئی جس سے روزہ ساقط ہو گیا ہے‘ اب مجھے کیا کرنا چاہیے۔

حضور اکرم ﷺنے فرمایا ”ایک غلام آزاد کر دو“ بدو نے کہا کہ حضور میرے پاس کوئی غلام ہے ہی نہیں“ آپﷺ نے فرمایا۔ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا دو‘ بدونے عذر پیش کیا کہ اس میں اتنی استطاعت نہیں۔ حضور اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ”تیس روزے رکھ لو بدو بولا ”حضور میں تو ایک روز نہیں سنبھال سکا مزید تیس روزے کیسے سنبھال سکوں گا؟ اتنے میں ایک صحابی حضور نبی اکرم ﷺکے پاس کھجوروں کا تحفہ لے کر آئے۔

آپ نے بدو نے کہا کہ یہ کجھوریں لے جاوٴ اورمستحقین میں تقسیم کرو “بدو ہاتھ باندھ کر کھڑا ہو گیا اوربولا” حضورجس خدانے آپ کو رسول بنا کر بھیجا ہے ‘مجھے اس خدا کی قسم ہے کہ ان کھجوروں کا مجھ سے زیادہ کوئی مستحق نہیں“ اس پر رحمت اللعالمین ﷺکے چہرے پر مسکراہٹ نمودار ہوئی اور فرمایا“ ٹھیک ہے تم یہ اپنے بچوں میں تقسیم کر دو‘ میرے خیال میں حضور نبی اکرمﷺ کا یہ عمل ہمارے فقہا کے لیے مشعل راہ کی حیثیت رکھتا ہے۔

اسلام ایک محدودزمانے اور کسی مخصوص طبقے کے لیے نہیں تھا بلکہ تمام زمانوں اور تمام طبقوں کے لیے ہے۔ اسلام امن ہے محبت ہے رحمت ہے خدا کے لیے لوگوں کے سامنے اس کی بھیانک تصویر پیش نہ کریں اگر آپ تسلیم نہیں کرتے تو کم از کم اتنا کرم ضرور کریں کہ جو آپ سے اختلاف کرے اسے منکر اسلام قرار نہ دیں کہ وہ منکر اسلام نہیں بلکہ اسے صرف آپ کی اسلام کی انٹرپیٹیشن سے اختلاف ہے۔

اسلام کی جوانٹرپیٹیشن آج کی جارہی ہے اقبال اس کے سب سے بڑے مخالف ہیں۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ وہ قانون سازی کا حق علماء کو نہیں پارلیمنٹ کو دیتے ہیں ہماری پوری قوم عاشق اقبال ہے۔ ان میں ہمارے علما ء بھی شامل ہیں جو اقبال کے شعروں سے اپنی تقریر اور تحریر میں مزین کرتے ہیں لیکن اقبال کا کہا نہ حکمران مانتے ہیں نہ سیاست دان‘ نہ عوام نہ علماء اس کی جو بات ہمیں ”سوٹ “کرتی ہے ہم اس کا گھوٹا لگانے میں رہتے ہیں اور جو ہمارے مفادات سے ٹکراتی ہے اسے ردی کے کاغذ کی طرح پرے پھینک دیتے ہیں۔

چنانچہ آپ نے ٹیلی وژن سے اقبال کے یہ شعرکبھی نہیں سنے ہوں گے
اٹھو میری دنیا کے غریبوں کو جگا دو
کاخ امراء کے درو دیوار ہلا دو
گرماؤ غلاموں کا لہو سوزیقیں سے
کنجشک فرو مایہ کو شاہیں سے لڑا دو
میں نا خوش و بیزار ہوں مرمر کی سلوں سے
میرے لیے مٹی کا حرم اور بنادو
جس کھیت سے دہقان کو میسر نہ ہو روزی
اس کھیت کے ہر خوشہ کو جلا دو

اسی طرح یہ مصر عے اور شعر بھی کسی منبر سے آپ نے نہیں سنے ہوں گے۔

دین ملا فی سبیل اللہ فساد
یا
اسے کشتہ سلطانی وملائی پیری
یا
بہت باریک ہیں واعظ کی چالیں

لرز جاتا ہے آواز اذاں سے

یہ سب کچھ ہم نے اس لئے نہیں سنا کہ جنہوں نے سنایا تھا‘ وہ اگر چہ عاشق اقبال تھے لیکن انہیں یہ سوٹ نہیں کرتا۔ جہاں اقبال کی بات مان کر میں جاں کا زیاں محسوس ہو وہاں ہم کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیتے ہیں۔

ایک شخص کا پہاڑ کی سے پاؤں پھسلا ہومگر خوش قسمتی سے ایک درخت کی شاخ اس کے ہاتھ میں آ گئی۔ اب وہ درخت سے لٹکا ہوا تھا اس نے اس جنگل میں بے بسی سے پکاراکوئی ہے؟“ غیب سے آواز آئی” میں تیرا خدا ہوں’بول تو کیا چاہتا ہے؟ “درخت سے لٹکے ہوئے شخص نے کہا میری جان خطرے میں ہے مجھے بچائے“ اللہ نے کہا جو میں کہتا ہوں تم کرو جوشاخ تم نے پکڑی ہوئی ہے وہ چھوڑ دو“یہ سن کر اس شخص نے ایک دولمحےتوقف کیا اور پھر ادھر اوردیکھ کر بلند آواز پکارا کوئی اور ہے؟۔

یہی حال ہماری پوری قوم کا ہے۔ ہم خدا اور اس کے رسول کے ماننے والے ہیں عاشق اقبال بھی ہیں لیکن روایات کی وہ شاخ چھوڑنے کو تیارنہیں جو عارضی طور پر ہمارا سہارا بنی ہوئی ہے۔ اقبال فرماتےہیں۔
یہ امت روایات میں کھو گئی
حقیقت خرافات میں کھو گئی

Your Thoughts and Comments