Itfaq Mein Barkat Hai

اتفاق میں برکت ہے

پیر اگست

Itfaq Mein Barkat Hai

ابن انشاء
ایک بڑے میاں جنہوں نے اپنی زندگی میں بہت کچھ کمایا بنایا تھا آخر بیمار ہو گئے، مرض الموت میں
گرفتار ہوئے۔ ان کو اور تو کچھ نہیں‘ کوئی فکر تھی تو یہ کہ ان کے پانچوں بیٹوں کی آپس میں نہیں بنتی تھی۔گاڑھی کیا پتلی بھی نہیں چھنتی تھی۔ لڑتے رہتے تھے۔ کبھی کسی بات پر اتفاق نہ ہوتا تھا حالانکہ اتفاق میں بڑی برکت ہے۔ آخر انہوں نے بیٹوں پر اتحاد اور اتفاق کی خوبیاں واضح کرنے کے لئے ایک ترکیب سوچی۔

ان کو اپنے پاس بلایا اور کہا۔ دیکھو اب میں کوئی دم کا مہمان ہوں‘ سب جاکر ایک ایک لکڑی لاوٴ۔
ایک نے کہا۔ لکڑی ؟ آپ لکڑیوں کا کیا کریں گے؟ دوسرے نے آہستہ سے کہ۔بڑے میاں کا دماغ خراب ہو رہا ہے۔ لکڑی نہیں شاید ککڑی کہہ رہے ہیں۔ ککڑی کھانے کوجی چاہتا ہوگا۔

(جاری ہے)

تیسرے نے کہا ۔نہیں ‘کچھ سردی ہے شاید آگ جلانے کو لکڑیاں منگاتے ہوں گے۔

چوتھے نے کہا ‘بابو جی کوئلے لائیں؟
پانچویں نے کہا‘ نہیں اپلے لا تاہوں۔ وہ زیادہ اچھے رہیں گے۔
با پ نے کراہتے ہوئے کہا” ارے نالائقو“میں جو کہتا ہوں وہ کرو۔ کہیں سے لکڑیاں لاؤ جنگل سے۔“
ایک بیٹے نے کہا ‘یہ بھی اچھی رہی، جنگل یہاں کہاں؟ اور محکمہ جنگلات والے لکڑی کی
کاٹنے دیتے ہیں۔
دوسرے نے کہا۔

اپنے آپے میں نہیں ہیں‘ باپوجی‘ بک رہے ہیں جنوں میں کیا کیاکچھ۔
تیسرے نے کہا۔ بھئی لکڑیوں والی بات میرے تو سمجھ میں نہیں آئی۔
چوتھے نے کہا ۔بڑے میاں نے عمر بھر میں ایک ہی تو خواہش کی ہے ‘اسے پورا کرنے میں کیا ہرج ہے؟
پانچویں نے کہا اچھامیں جاتا ہوں۔ ٹال سے لکڑیاں لاتا ہوں۔
چنانچہ وہ ٹال پر گیا۔ ٹال والے سے کہا۔

خان صاحب ذرا پا نچ لکڑیاں تو دینا۔ اچھی مضبوط ہوں۔
ٹال والے نے لکڑیاں دیں۔ ہر ایک خاصی موٹی اور مضبوط۔ باپ نے دیکھا تو اس کا دل بیٹھ گیا۔ یہ بتانا خلاف مصلحت تھاکہ لکڑیاں کیوں منگائی ہیں اور اس سے کیا اخلاقی نتیجہ نکالنا مقصود ہے۔ آخربیٹوں سے کہا۔ اب ان لکڑیوں کا گٹھا باندھ دو۔
اب بیٹوں میں پھر چہ میگوئیاں ہوئیں، گٹھا؟ وہ کیوں؟ اب رسی کہاں سے لائیں۔

بھئی بہت تنگ کیا اس بڈھے نے ۔ آخر ایک نے اپنے پاجامے میں سے ازار بند نکالا اور گٹھا باندھا۔
بڑے میاں نے کہا”اب اس گھٹے کو توڑو۔“
بیٹوں نے کہا‘لو بھئی یہ بھی اچھی رہی۔ کیسے توڑیں۔ کلہاڑا کہاں سے لائیں۔“
باپ نے کہا”کلہاڑے سے نہیں۔ ہاتھوں سے توڑو‘ گھٹنے سے توڑو۔“
حکم والد مرگ مفاجات ‘پہلے ایک نے کوشش کی، پھر دوسرے نے پھر تیسرے نے چوتھے نے پھر پانچویں نے۔

لکڑیوں کا بال بیکانہ ہوا۔ سب نے کہا ”باؤجی ہم سے نہیں ٹوٹتایہ لکڑیوں کا گٹھا۔
باپ نے کہا اچھا اب ان لکڑیوں کو الگ الگ کر دو۔ ان کی رسی کھول دو۔"
ایک نے جل کر کہارسی کہاں ہے؟ میرا ازاربند ہے۔ اگر آپ کو کھلوانا تھاتو گٹھا بند کروایاہی کیوں تھا۔ لاؤ بھئی کوئی پنسل دینامیں ازار بند ڈال لوں پاجامے میں۔
باپ نے بزرگانہ شفقت سے اس کی بات کو نظرانداز کرتے ہوئے کہا” اچھا اب ان لکڑیوں کو توڑو۔

ایک ایک کر کے توڑو۔“
لکڑیاں چونکہ موٹی موٹی اور مضبوط تھیں۔ بہت کوشش کی ‘کسی سے نہ ٹوٹیں۔ آخر میں بڑے بھائی کی باری تھی۔ اس نے ایک لکڑی پر گھٹنے کا پورا زور ڈالا اور تڑاق کی آواز آئی۔
باپ نے نصیحت کرنے کیلئے کرنے کے لئے آنکھیں یک دم کھول دیں۔ کیادیکھتا ہے کہ بڑا بیٹا بے ہوش پڑا ہے۔ لکڑی سلامت پڑی ہے۔ آواز بیٹے کے گھٹنے کی ہڈی ٹوٹنے کی تھی۔


ایک لڑکے نے کہایہ بڈھا بہت جاہل ہے۔"
دوسرے نے کہا ”اڑیل ضدی “
تیسرے نے کہا” کھوسٹ ‘سنکی ‘عقل سے پیدل‘ گھامڑ۔“
چوتھے نے کما”مارے بڈھے ایسے ہی ہوتے ہیں کمنت مرتا بھی نہیں۔
بڈھے نے اطمینان کا سانس لیا کہ بیٹوں میں کم از کم ایک بات پر تو اتفاق رائے ہوا۔ اس کے آنکھیں بند کیں اور نہایت سکون سے جان دے دی۔

Your Thoughts and Comments