Jab Toofan Nooh Ka Pani Hamary Sehan Main Dakhal Huwa

جب طوفان نوح کا پانی ہمارے صحن میں داخل ہوا،

پیر جنوری

Jab Toofan  Nooh Ka Pani  Hamary Sehan Main  Dakhal Huwa
ابنِ انشاء:
ہمارے مخدوم ملاّ واحدی اللہ ان کی عمر میں برکت دے اس صدی کے شروع کی باتیں ہمیں سناتے ہیں تو حیرت ہوتی ہے لیکن خان بہادر نقی خان خور جوی ان سے آگے نکل گئے رسالہ عصمت میں ان کا تازہ مضمون پان خوری پر شائع ہوا ہے جس میں کچھ واقعات کا تذکرہ کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں کہ یہ باتیں آج سے نوے برس پہلے کی ہیں اور میری چشم دید ہیں پھر لکھا ہے کہ پان کھانا تو چھوڑ دیا ہے لیکن سگریٹ پی لیتا ہوں کہ نوے سال سے پیتا آیا ہوں اب اس بات کی کسر رہ گئی ہے کہ اس قسم کے مضامین سامنے آئیں جب میں 1857 میں اپنی پنشن وصول کرنے دلی گیا جب میں نے میر تقی میر کے کان میں اذان دی جب طوفان نوح کا پانی ہمارے صحن میں داخل ہوا وغیرہ۔

جن بزرگوں کی خدمت میں ہمیں نیاز حاصل رہا ہے ان میں بابا ئے اردو مولوی عبدالحق نے سب سے لمبی عمر پائی کوئی ترانوے سال یایں پیرانہ سالی ان کا ذہن بیدار فعال اور صحت مند تھا غالباً 1960 میں ہم ان کی لائبریری میں ان کی خدمت میں بیٹھتے تھے کہ ایک صاحب نے آکر سلام علیکم کی مولوی صاحب نے ایک لمحے کو انہیں دیکھا پھر اٹھ کر گرمجوشی سے بغلگیر ہوئے ان صاحب نے کہا مولوی صاحب آپ نے مجھے پہچانا بھی بولے کیوں نہیں تم فلاح شخص ہونا؟ان صاحب کو بہت حیرت ہوئی وہ علی گڑھ میں 1894 میں ان کے ہم جماعت رہتے تھے اور ملاقات پورے 66 برس کے بعد ہورہی تھی خان بہادر صاحب کو بھی ہم ذہنی طور پر اس طرح چاق و چو بند پاتے ہیں اور پوچھنا چاہتے ہیں کہ وہ کس چکی کا پسا کھاتے ہیں خوبی صحت اور دراز عمر کا راز جس سے پوچھو الگ ہی بتاتا ہے کوئی صبح دم بیٹھک لگانے کی تلقین کرتا ہے کوئی خالص گھی کو آب حیات بتاتا ہے کسی کا کہنا ہے ڈٹ کے کھاؤ جب ایک داڑھ چلے ستر بلاٹلے کوئی بکھے بھوکے پیٹ رہنے کا مشورہ دیتا ہے ٹیلی ویژن ریڈیو اور اخبارات کے اشتہارات کو دیکھئے تو ان کے دعوے بھی کچھ اس قسم کے ہوتے ہیں۔

(جاری ہے)

ہمارا ٹوتھ پیسٹ استعمال کرنے والا عمر بھر زندہ رہتا ہے۔ہمارا بناسپتی گھی کھائیے اور قیامت کے بورئیے سمیٹئے ہمارا صابن استعمال کرنے والا کبھی نہیں مرتا چورن لکڑ ہضم استعمال کیجیے حضرت نوح ہمیشہ یہی استعمال کیا کرتے تھے وغیرہ پچھلے دنوں ہمارے عزیز دوست ریڈیو پاکستان کے گورد گھنٹال دادا شکیل احمد ٹیلی ویژن پر آئے تو اپنی پہلوان نما صحت کا رازیہ بتا گئے کہ میں صبح صبح سر کے بل کھڑا ہوتا ہوں چنے چباتا ہوں آج تک کبھی زکام بھی نہیں ہوا اپنی صحت کے ثبوت میں انہوں نے ٹیلی ویژن کے ناظرین کو مگدر بھی ہلاکے بلکہ گھما کے دکھائے لیکن ہمارے دوسرے نجمی صاحب توملک کے مایہ ناز کارٹونسٹ ہیں بلکہ ان کی بنائی ہوئیEFU کی کارٹون فلم اب کے بہترین بھی ٹھہرائی گئی ہے دادا شکیل سے اتفاق نہیں رکھتے ان کا کہنا ہے کہ سر کے بل کھڑے ہونا ٹھیک نہیں پنڈت نہرو یہی کیا کرتے تھے ان کو دنیا کا ہر مسئلہ الٹا نظر آتا تھا حتیٰ کہ وفات پاگئے چنوں کے بارے میں بھی انہوں نے کہا کہ ہاں ان میں طاقت ہے اور ان سے صحت قائم رہتی ہے لیکن گھوڑوں کی انسان کویہ قبض کرتے ہیں وہ مگدر ہلانے کے حق میں بھی نہیں کہ ہاتھ سے چھوٹ جائے تو پاؤں پر چوٹ آنے کا خطرہ ہے نہ ہمارے پیدل پاؤں چلنے کو وہ کچھ مفید جانتے ہیں انہوں نے کوئی دس برس سے گھر سے باہر گلی میں قدم نہیں رکھا ہم نے کہا آپ کی صحت کا راز؟بولے چپلی کباب ہم نے کہا اور۔

۔۔۔۔؟بولے اور بھی چپلی کباب۔خان محمد بہادر نقی محمد خاں اب سو کے پیٹے میں تو ہوں گے انہوں نے ساری عمر سگریٹ پیا حقے کا شوق تو مولوی عبدالحق بھی رکھتے تھے برنارڈ شا البتہ نہ سگریٹ پیتے تھے نہ شراب لیکن سچ پوچھئے تو کلیہ کوئی بھی نہیں ایک صاحب کا قصہ مشہور ہے کہ سو سال کی عمر کو پہنچ رہے تھے اور جو نچال تھے ایک رپورٹران کا انٹرویو لینے ان کے گھر گیا اور پوچھا کہ آپ کی درازی عمر کا راز انہوں نے کہا سب سے بڑا راز تو یہ ہے کہ میں نے شراب کبھی نہیں پی یک لخت پچھلے کمرے سے کچھ شور کی اور چیزوں کے گرنے کی آواز آئی رپورٹر نے کہا یہ کیا ہے؟ان صاحب نے کہا کچھ نہیں ہمارے ابا جان ہیں معلوم ہوتا ہے آج کچھ زیادہ پی آئے ہیں ایسے ہی ایک اور بڑے میاں تھے جو یہ فخر کیا کرتے تھے کہ میں نے کبھی نہ شراب کو چھوڑا نہ سگریٹ کو نہ عورت کو جب تک کہ میری عمر گیارہ سال کی نہیں ہوگئی۔

بابائے اردو ہاپوڑ کے رہنے والے تھے جہاں کے پاپڑ مشہور ہیں خاں بہادر نقی محمد خاں کے وطن خورجہ کا اچار مشہور ہے یہ توہوئے لمبی عمروں والے صحت کے باب میں دادا شکیل احمد صاحب کے چنے اور نجمی صاحب کا چپلی کباب یاد رکھنے کی چیزیں ہیں قارئن کرام کی آسانی کے لیے ہم نے ان سب چیزوں کا انتظام یک جاکردیا ہے عمر دراز ریستوران میں تشریف لائیے اور پاپڑیوں کے ساتھ قسما قسم کا اچار نوش فرمائیے چنوں کا بھی انتظام ہے آپ کے لیے بھی آپ کے گھوڑے کے لیے بھی چپلی کباب بھی نہایت عمدہ اور خالص گھی کے ملین گے ان کے ساتھ قہوہ اور نسوار کی چٹکی مفت جو صاحب مگدر ہلانا چاہیں اپنے مگدر ہمراہ لائیں ہمارے ریستوران میں آپ سر کے بل بھی کھڑے ہوسکتے ہیں بلکہ چل بھی سکتے ہیں کیونکہ ہمارا یہ ریستوران کوچہ رقیب میں واقع ہے اس عالم میں آپ اپنے محبوب کی موٹر یا رکشا کے نیچے بھی آجائیں تو مضائقے کی بات نہیں عمر دراز ریستوران معقول معاوضے پر آپ کی تجہیزو تکفین کا بھی ذمہ لیتا ہے۔

Your Thoughts and Comments