Jadeed Daur Kay Sultan Rahi

جدید دور کے سلطان راہی

پیر مارچ

Jadeed Daur Kay Sultan Rahi
حافظ مظفر محسن:
میں نے دست بستہ کھڑے ہوکر سلطان راہی کی روح سے معذرت چاہی اور ان کیلئے دعا کی کہ اللہ پاک ان کے درجات بلند فرمائے(آمین) ہوایوں کہ بس میں سفر کے دوران ایک انگریزی فلم دکھائی گئی اس فلم میں ایک انگریز فوجی دکھایا گیا جو زمین پر اکیلا کئی مخالف فوجیوں کا نہ صرف مقابلہ کرتا ہے بلکہ بہت سوکوڈھیر بھی کردیتا ہے۔

یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ فوجی تیراکی میں ” مسٹریونیورس“ کامیڈل جیت چکا ہے پھر جب وہ فائرنگ کرکے مخالفوں کی لاشوں کے انبار لگادیتا ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ فادر آف دی گن“ کا اعزاز بھی حاصل کرچکا ہے۔ پھر وہ ہیلی کاپٹر اڑاتا ہے اور کمال اڑاتا ہے تو ایسا لگتا ہے جیسے” امریکن سکول آف ہوابازی“ سے پائلٹ آف دی سنچری کاایوارڈ بھی اکیلا بھی حاصل کر پایا ہے۔

(جاری ہے)

اس فلم میں بتایا ہے کہ جو بات بڑے بڑے ذہین لوگوں کے پلے نہیں پڑتی وہ منٹوں میں اس کاحل نکال دیتا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ وہ ندی‘ نالوں‘ دریاؤں‘ جنگلوں‘ صحراؤں‘ ہواؤں اور فضاؤں میں لڑتا لڑتا سب کو مار کر بچ نکلنے میں کامیاب ہوجاتا ہے آگ کے سمندر سے گزرتا ہے اور اس کے ساتھی رسی لٹکا کر عین دشمن کے پنجوں سے بذریعہ ہیلی کاپٹر اٹھا کر بحفاظت لے جانے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔

اور اس بے چارے“ کو خراش تک نہیں آتی۔ آپ خود ہی غور کریں کہ وہ اپنے سلطان راہی مرحوم سے بڑا ادا کار ہوا کہ نہیں؟ اگرکسی فلم میں سلطان راہی مرحوم دس بیس دشمنوں کوایک ساتھ موت کی نید سلادیتا تھا تو کیا ہوا؟ ہالی وڈوالے بھی تو” ہرفن مولا” قسم کے ادا کارپیش کررہے ہیں اور دنیا کمال غور اور ذوق وشوق سے ایسی فلمیں دیکھ رہی ہے اور داد بھی دے رہی ہے؟ مجھے تویوں لگتا ہے جیسے مرحوم سلطان راہی ہی ٹرینڈ سیٹر“ ہیں کہ ان کو دیکھ کر بھارتی ہدایتکاروں اور ہالی ووڈوالوں نے ہرفن مولا قسم کے ہیرو بنانے شروع کئے ہیں؟ اسی حوالے سے اخبارات میں چھپنے والی یہ خبر نہایت حوصلہ افزا ہے کہ ملتان میں ٹی وی اسٹیشن قائم ہورہا ہے زمین مہیا کی جاچکی ہے اور وزیر اطلاعات ونشریات جناب شیخ رشید احمد اس سلسلہ میں اپنے حالیہ دورہ ملتان کے دوران باقاعدہ اعلان بھی کرچکے ہیں ملتان ادبی اور علمی حوالوں سے بہت آگے ہے اور یہاں اس حوالے سے خاصی متحرک شخصیات بھی موجود ہیں۔

ریڈیوملتان کی ہر دلعزیز شخصیت جناب قیصر نقوی سے اس حوالے سے بات ہوئی توانہوں نے بتایا کہ اس سے نیا ٹیلنٹ مہیا ہوگا کیونکہ بہت سے نامور فنکار اور تکنیک کاروں کا تعلق ملتان سے ہے مگرا نہیں اس سلسلہ میں اکثر لاہور آنا جانا پڑتا ہے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں پاکستان ٹیلی ویژن کے نامور اور کہنہ مشق فنکار محسن گیلانی نے کہا کہ مجھے قیصر نقوی نے ادا کار بنایا۔

دراصل اس حوالے سے ملتان اساتذہ کاشہر ہے اور پاکستان ٹیلی ویژن کا ملتان سے آغاز بڑاہی خوش آئندہ کام ہے اور اس کے پیچھے مجھے ملتان کیلئے منتخب ہونے والے ضلعی ناظم جو کہ شاید پاکستان بھر میں سب سے متحرک رہنے والے ناظم ہیں کاہاتھ دکھائی دیتا ہے۔ ہردن نئے منصوبوں پر کام کرتے دکھائی دیتے ہیں اور اکثر اوقات دیکھا گیا ہے کہ وہ شہر کے پسماندہ علاقوں میں چھوٹی بڑی تقریبات میں موجود ہوتے ہیں بلاشبہ ایسی لیڈرشپ محرومیاں دور کرنے اور لوگوں کا معیار زندگی بلند کرنے میں ممدومعاون ثابت ہوتی ہے۔


اسی اخبار میں یہ خبر بھی چھپی ہے کہ شیخ رشید احمد نے ملتان میں ٹریفک کانہایت اچھا انتظام کرنے پر ٹریفک پولیس کو چھ ہزار روپے نقدانعام سے بھی نوازا ہے۔ بلاشبہ یہ انعام بکرا عیدسے پہلے ملا․․․ لہٰذا امید ہے کہ یہ انعام بکرا عید پر ٹریفک پولیس والوں کے کام آیا ہوگا۔ کیونکہ چھ ہزار میں ایک بکرا تو آنہیں سکتا تھا شاید انہوں ن نے بڑے سائز کے مرغے خریدلئے ہوں اور یاپھر ایسے بھی ہوتا ہے کہ بہت سے بچوں کے درمیان بہت بڑی پتنگ آکر گرے تو وہ سمجھ لیں کہ ”سب کی ہوگئی“ کیونکہ سب اک ساتھ جھپٹتے ہیں اور پتنگ ٹکڑے ہوکر ہوا میں تحلیل ہوجاتی ہے۔

اللہ نہ کرے اس چھ ہزار کی انعامی رقم کے ساتھ کوئی ایسا واقعہ ہوا ہو؟ بہرحال اعلیٰ اختیار والے لوگوں کو ایسے انعامات دیتے رہنا چاہیے۔ کہ انعامات ‘حوصلہ افزائی“ نئے ٹی وی اسٹیشنوں کاقیام․․․․ مجرومیوں میں کمی کا باعث بنتے ہیں اور کام کرنے والے لوگ پوری دلجمعی سے اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہیں۔
خیر․․․ بات شروع ہوئی تھی مرحوم فنکارسلطان راہی سے کہ جن کی حال ہی میں دسویں برسی منائی گئی۔

بلاشبہ قو میں ایسے عوامی لوگوں کی برسیاں بھی مناتی ہیں اور انہیں یاد بھی رکھتی ہیں مگر ابھی بھی․․․․ بہت سے نامور فنکار‘ شاعر‘ تحریک پاکستان کے دوران خدمات سرانجام دینے والے ہمارے درمیان موجود ہیں کہ جن کی حوصلہ افزائی کرنا ہم سب کے ساتھ ساتھ حکومت وقت کابھی فرض ہے کہ کہیں وہ ایڑھیاں رگڑ رگڑ کرد نیا سے رخصت نہ ہوجائیں اور ہم ان کی جائز ضروریات پوری کرنے سے بھی قاصر رہیں۔

ایسے سفید پوش لوگوں کوان کاجائز مقام اور مالی معاونت فراہم کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ ہمیں ان کے فوت ہوجانے کا انتظار نہیں کرنا چاہیے۔ تاکہ ہم ان کی وفات پر ان کے شایان شان ریفرنس پیش کرسکیں۔ یا نہایت دھوم دھام سے اس کی برسی مناسکیں کہ جس پر لاکھوں روپے خرچ ہوں۔ ہمیں ان کی برسیوں پر خرچ ہوجانے والے لاکھوں روپوں میں سے چند ہزار ان کی زندگی میں ان پر نچھاور کردینے چاہئیں کہ یہ ان کا حق ہے اور ہم سب کافرض بھی۔

کہ سب سے باری باری رخصت ہوتا ہے۔
یہ چمن یونہی رہے گا اور ہزاروں جانور
اپنی اپنی بولیاں‘ سب بول کر اڑجائیں گے
سنا ہے بھٹوشہید کہ دور میں ایک نہایت جلال والے گورنر کے ایک جونیئر افسر نے یہ شعر پڑھاتھا اور پھر جلالی گورنر صاحب نے انہیں کوابنا دیا اور انہیں سرعام” کائیں‘ کائیں“ کرنے پر مجبور کرتے رہے۔

Your Thoughts and Comments