Karachi Me Doo Eid

کراچی میں دو عیدیں!

بدھ دسمبر

Karachi Me Doo Eid
ابنِ انشاء:
کراچی میں اب دو عیدیں ہوئیں اس پر سبھی لکھنے والوں نے کچھ نہ کچھ لکھا ہے لیکن ہم کچھ نہ لکھیں گے کیونکہ شرعی مسئلہ ہے بعض بزرگوں نے اتوار کو عید منانے والوں کی روک تھام کے لیے جو مسجدوں میں تالے ڈال دیے تھے اس باب میں بھی ہم نہ کہیں گے کیونکہ وہ بھی شرعی مسئلہ ہے جس کی توضیح ایک صاحب ارشاد و ہدایت نے ہم سے یوں کی ہے کہ ہمارا بس چلے تو سارا سال تالے ڈالے رکھیں تاکہ بدعتی لوگ مسجدوں میں نہ آسکیں فسادنہ پھیلاسکیں ہر چند کہ ہم نے سن رکھا ہے۔

شرع میں شرم نہیں لیکن شروع کی اس قسم کی شرح دیکھ کر ہمیں تو آتی ہے ہم اس لیے بھی اس مسئلے پر کچھ نہ لکھیں گے یہ ایک اقتصادی مسئلہ بھی ہے اگر تالوں کا وسیع پیمانے پر استعمال نہ ہو تو تالے بنانے والے بھوکے مرجائیں علی گڑھ تالے بنانے والوں کی انجمن نے تو علمائے کرام اور مفتیان عظام کے اس فیصلے کو برملا سراہا ہے،پھر جب آپ کارخانے داروں کو تالابندی سے نہیں روکتے تو مسجدوں کی تالا بندی روکنے کا کیا جواز ہے ہمارے ملک میں دین بھی انڈسٹری ہے اور امامت و خطابت بھی کاروبار ہے اور فتویٰ سازی بھی صنعت ہے اگر عید سارے ملک میں ایک ہی دن ہوجائے جیسے کہ اکثر اسلامی ملکوں میں بااتفاق رائے ہوتی ہے تو لوگ سمجھنے لگیں گے کہ رویت ہلال کمیٹی کی کوئی ضرورت نہیں بلکہ مولویوں کی بھی کوئی ضرورت نہیں ہر مسلمان اللہ تعالیٰ سے براہِ راست استمداد کرنے اور رشتہ استوار کرنے کی سوچے گا پر ہو توں کو غیر ضروری سمجھے گا معاملہ صرف چاند اور عید کا ہوتاتو مضائقہ نہ تھابات اور آگے جاسکتی ہے۔

(جاری ہے)

ہم اس لیے بھی اس باب میں کچھ نہ لکھیں گے کہ اس سے ہماری صلح کل طبیعت کے بدنام ہونے کا اندیشہ ہے کیونکہ ہم نے اتوار کو عید کو صحیح سمجھتے ہوئے بھی خود عید پیر ہی کے دن کی ہے بعض لوگوں نے ہمیں پیر کو ناظم آباد کی جامع مسجد کی صفوں میں دیکھا تو کچھ تعجب بھی کیا لیکن ہمارے علاوہ بھی بہت لوگ تھے جنہوں نے اتوار کو مسجدیں بند پاکر ناچار پیر کو عید کی نماز پڑھی تھی بات یہ ہے کہ عید کی نماز باجماعت ہوتی ہے آدمی تنہا نہیں پڑھ سکتا خصوصاً ایس آدمی جو دوسروں کو کن آنکھیوں سے دیکھ کر ہاتھ باندھتا اور چھوڑتا ہو ہم نے اتوار کی صبح اپنے دوست جمیل الدین عالی کو فون کیا تو یہ معلوم کرکے رشک آیا کہ وہ تو اطلس کی پھولدار شیروانی پہنے کان میں عطر کا پھویا رکھوا رہے ہیں کیونکہ سامنے ڈیفنس سوسائٹی کی مسجد میں نماز عید کی صفیں درست ہورہی ہیں ادھر ہمارے ہاں اس روزروز ہ رکھا تھا یہ فقرہ ہم نے جان بوجھ کر مبہم رکھاہے اگر آپ اس کا مطلب یہ لیں کہ ہمارا روزہ تھا تو یہ آپ کا حسن نظر اور الطاف عمیم ہے اور اگر اس سے یہ مراد لیں کہ گھر کہ دیگر افراد کا روزہ تھاتب بھی حرج نہیں کیونکہ زیادہ ترین حقیقت یہی ہوگا۔

البتہ 29 کا ہمارا روزہ تھا اس کے علاوہ ہم نے کتنے روزے رکھے آپ یہ نہ پوچھیں تو اچھا ہے کیونکہ اس طرح بات ذاتیات میں چلی جائے گی اپنے روزے کی پبلسٹی ہم اس لیے نہیں کرتے کہ ایک توہم بے ریا آدمی ہیں دوسرے یہ قباحت ہے کہ لوگ کہیں گے کہ تم نے روزہ رکھا تو ہمیں روزہ کشائی میں کیوں نہیں بلایا اور گلے میں ہارڈال کر اخبار میں تصویر کیوں نہیں چھپوائی بیماری اور سفر میں روزے معاف ہیں اور اسے اتفاق ہی کہیے کہ ہماری اکثر بیماریاں اوراکثر سفر اس مبارک مہینے میں واقع ہوتے ہیں تاہم اپنے اس سال کے روزوں کے بارے میں ہم اتنا اشارہ دے دیں کہ انہیں ایک چھانگا آدمی ایک ہاتھ کی انگلیوں پر گن سکتا ہے بعض لوگ تو ہم سے بھی زیادہ صلح گل نکلے یعنی اتوار کو روزہ بھی رکھا اور عید بھی پڑھی روزہ کراچی کے علمائے کرام خوشنودی کے لیے عید اپنی خوشی کے لیے جو لوگ صبح کو گھر سے عید کی سویاں کھاکر نکلے تھے بعض محلوں میں انہیں رمضان المبارک کا احترام کرنا پڑا جو شخص ہمارے محلے میں ڈھول بجاکر سحری کے لیے جگاتا تھا اس نے اتوا کی صبح ہمیں سحری کے لیے بھی جگایا اور دس بجے عیدی لینے بھی آگیا کہ صاحب عید مبارک بعضوں نے دونوں دن عید کی نماز ادا کی۔

اتوار کو پولو گراؤنڈ میں پیر کو نشتر پارک میں ہمارے نزدیک تو اس میں حرج کی کچھ بات نہیں محاورے میں تو ہر روز روز عید اور ہر شب برات آیا ہے اگر روزے29 یا 30 ہوسکتے ہیں تو کیا عید دو دن بھی نہ ہو؟حلوائے خوش ،دیگر بیارید۔اب کے ہم اپنی عیدی عربوں کو دینا چاہتے تھے جو روزے رکھ کر بے جگری سے لڑکے لیکن ان کے پاس سنا ہے خود اتنا پیسہ ہے کہ ہمیں عیدی دے سکتے ہیں پھر ہمیں عیدی امین صاحب کا خیال آیا عربوں کے معاملے میں انہوں نے اتنی دوڑدھوپ کی ہے کہ ہم نے ان کا ایشیائیوں کا دشمن ہونا معاف کردیا مشکل یہ ہے کہ انہیں منی آرڈر جس پتے پر بھیجیں کیونکہ وہ آج اس دارلحکومت میں ہیں کل دوسرے میں۔

Your Thoughts and Comments