Khawandagi Khawaandagi

خاوندگی ۔خواندگی

جمعرات اگست

Khawandagi Khawaandagi
منصور احمد بٹ:
کہا جاتا ہے کہ شادی ایک ایسا جوا ہے ، جس میں مرد اپنی آزادی کھوتا ہے اور عورت خوشی ۔ بعض لوگوں پر شادی کرنے کا خطبہ سوار ہوتا ہے ․․․․اور بعض لوگوں پر جنون ۔ دیکھا جائے تو دونوں ہی چیزیں بُری ہیں ۔
بعض لوگوں کی شرح خواندگی اتنی نہیں ہوتی ، جتنی شرح خاندگی ہوتی ہے ․․․ اور یہ شرح اس تیزی کے ساتھ بتدریج بڑھتی ہے کہ عمر کی شرح خاوندگی کی ضرور حوصلہ افزا ہے ۔

ہمارے ہاں مغرب کی تقلید میں بعض خواتین شرح خاوندگی پر سبقت لے جانے کی کوشش کرتی ہیں ۔
بعض خواتین تو اتنی ساڑھیاں نہیں بدلتیں ، جتنے مغرب میں خاوند بدلے جاتے ہیں ۔ اور اب یہ فیشن ہمارے ہاں بھی رواج پارہا ہے ․․․ ایک امریکی بچے سے اس کے کلاس فیلونے پوچھا :
تمہارے کتنے بہن بھائی ہیں ؟ “
بچے نے معصومیت سے جواب دیا :
بہن بھائیوں کا تو پتہ نہیں ، البتہ میری ماں سے میرے تین والد ہیں ، اور آخر والد سے دو مائیں ہیں ۔

(جاری ہے)


شادی زندگی کو سادہ لیکن زندہ رہنے کے لیے پیچیدہ فن بنا دیتی ہے ․․ اکثر کامیاب لوگوں کی شادی کامیاب نہیں ہوتی ، اور اکثر ناکام لوگوں کی شادی ناکام نہیں ہوتی ․․․ شادی مہم نہیں تعاون ہے ․․ اسے کامیاب بنانے کا فرض دل نہیں دماغ ادا کرتا ہے ۔
کہتے ہیں شادی شدہ مرد کنواروں پر ہنستے ہیں ، اور کنوارے شادی شدہ کا مذاق اڑاتے ہیں اور عورت ان دونوں پر ہنستی ہے ۔


فوجی ہسپتال کی ایک خوبصورت نرس ایک دن نشانے بازی کی مشق دیکھنے پہنچ گئی ․․․ بہت سی رائفلوں نے جب ایک ساتھ گولیاں اگلیں تو خوبصورت نرس نے بو کھلا کر قریب کھڑے ایک فوجی جوا ن کا بازو مضبوطی سے تھام لیا ․․․․ اگلے ہی لمحے وہ خود پر قابو پاتے ہوئے بولی :
معاف کیجئے ․․ امید ہے آپ نے برا نہیں مانا ہوگا ۔
جوان نے خوش دلی سے کہا :
ذرا بھی نہیں ․․․ آئیے میں آپ کو تو پوں کی گولہ باری کی مشق دکھا لاؤں ۔


بالکل ایسے ہی ہمارے ہاں بعض نوجوان غلط فہمی کاشکار ہو کر بوکھلا اٹھتے ہیں ۔
ہماری فلم انڈسٹری کی ایک میڈم تھیں ․․․ اتنی ان کی عمر نہیں تھی ․․․․ جتنا ان کا شادیوں کا تجربہ تھا ․․․ اور تجربے کے بعد انہیں نت نئے تجربات کا سامنا کرنا پڑا ․․․ اتنی ان کی شرح خواندگی نہیں تھی ۔ جتنی شرح خاوندگی تھی ․․․․ پورے جہاں کا نور ان کے سراپا میں تھا ․․․ اور ان کا سراپا نور جہاں ․․․ وہ اپنے کام میں طاق تھیں ، اور انہیں کبھی جفت بھی ہونا پڑتا تھا ․․․ اور وہ اکثر طاق رہتی تھیں ․․․ جفت رکھنا ان کے مقدر میں بہت کم لکھا تھا ․․․ البتہ تاک میں ضرور رہتی تھیں ان کی کوشش یہی ہوتی کہ یہ مقدر کی لکھائی باربار دہرائی جائے ۔


بعض لوگوں کو نہ یو شادی کا تجربہ ہوتا ہے اور نہ کنوارہ رہنے کا ۔
” ط “ کہتا ہے کہ شادی ایک ایسا کام ہے جس کے لیے تجربہ ضروری نہیں ․․․ ہر کام کرنے اور اسے پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے تجربہ ہر جگہ مانگا جاتا ہے ․․․․ مگر شادی ایک ایسی مہم ہے جس میں تجربے کی بابت کوئی نہیں پوچھتا اگر اس میں کسی کا تجربہ ہوتو اسے ناکام آدمی تصور کیا جاتا ہے ۔


ٹریفک سارجنٹ نے موٹر سائیکل پر تعاقب کرتے ہوئے ایک کار کو جا روکا ․․․ جوبری طرح ادھر اُدھر لہراتی اور لڑکھڑاتی ہوئی جارہی تھی ۔
یہ کیا ہورہا ہے برخودار؟ “ ٹریفک سارجنٹ نوعمر ڈرائیور سے پوچھا :
” ڈرائیونگ سیکھ رہاہوں جناب عالی ۔ لڑکے نے جواب دیا :
” کیا بغیر انسٹر کٹرکے ڈرائیونگ سیکھ رہے ہو ؟ سارجنٹ طیش میں آگیا ۔


” میں بذریعہ ڈاک سیکھ رہا ہوں رواج جڑ پکڑرہا ہے ․․․ ہم بھی ہر چیز بذریعہ ڈاک سیکھنا چاہتے ہیں ․․․ پر یکٹیکل کی توا ب بالکل اہمیت ہی نہیں رہی ․․․ ہم چاہتے ہیں ہر کام جلد ازجلد اور شارٹ کٹ طریقے سے سیکھ جائیں ․․․ ہمارے پاس صرف ڈپلومہ ہونا چاہیے ․․․ تجربہ ہویا نہ ہو ․․․ بھلا تجربے کا کیا ہے وہ تو بعد میں آہی جاتا ہے ․․․ اصل بات موجب بنتی ہے ۔


اس کے لیے وہ جو دلیل دیتا ہے ․․․ وہ یہ ہے کہ جب میری شادی ہوئی تھی تو میں بے روز گار تھا ۔
پھر شادی کے بعد کیا ہوا ؟ ہم نے ہوچھا :
” میں اب بھی بے روز گارہی ہوں ۔
برجستہ جواب ملا :
” ط“ کہتا ہے کہ بے روز گاری کا حل میرے پاس ہے ۔
مگر تم تو خود بے روز گار ہو ۔ ہم نے کہا ۔
میں نے حل کی بات کی ہے ․․․ بے روز گاری کی نہیں ” ط“ نے جواب دیا ۔


ہم نے کہا ۔ لگے ہاتھوں وہ حل بھی بتادو ․․․ جس سے بے روزگاری کا خاتمہ ہوجائے ۔
تمام مردوں کو ایک جزیرے میں اور تمام عورتوں کو دوسرے جزیرے میں بھیج دیا جائے ․․․ آپ دیکھیں کے گے کہ تمام مرد اور عورتیں کام میں لگ جائیں گے ۔ ” ط“ نے جواب دیا ۔
مگر وہ کام کیا کریں گے ؟ ہم نے پوچھا ۔
وہ سب کشتیاں بنانا شروع کردیں گے ۔ جواب ملا ۔
واقعی “ ط“ نے بے روزگاری کے خاتمہ کا بہترین حل تلاش کرلیا ہے ․․ اس طرح تمام مرد اور خواتین ہمہ وقت مصروف رہیں گی ․․․ اور مصروف رہنا بے روزگاری کا بہترین علاج ہے۔

Your Thoughts and Comments