Khud Hansai

خود ہنسائی

پیر اکتوبر

Khud Hansai

تنویر حسین
میری تاریخِ پیدائش آج تک وہی چلی آرہی ہے ،جو میرے قبلہ والد صاحب نے مجھے پہلی جماعت میں داخل کراتے ہوئے یہ سوچ کر لکھائی تھی کہ بر خوردار کی ملازمتی اور ازدواجی زندگی کو پیمانہَِ امر وزد فردا سے بخوبی ناپا جا سکے ۔نام میں کیارکھا ہے ۔اصل چیز تو کام ہے ۔اُسلاف کے کارناموں پر اتنا بھی نہیں اتراتا کہ خود کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہوں ۔

جو مجھ سے میری عمر پوچھتا ہے ،اسے میں اپنی تنخواہ بتا دیتا ہوں ۔ویسے میری عمر اور تنخواہ ،”دونوں گامزن ہیں ایک ہی رفتار سے “۔
چار جماعتیں آٹھ مرتبہ پڑھی ہیں ۔پرائمری سکول میں پڑھتے ہوئے میرے آئیڈیل وہ اساتذہ کرام تھے ،جو صبح دس بجے تبدیلی آپ وہوا کی خاطر سکول آتے تھے ۔ہماری تشنگی علم بجھانے کی خاطر وہ نہ صرف کتاب پڑھاتے تھے بلکہ حقہ پیتے ہوئے ہم پر دھواں بھی چھوڑتے تھے ۔

(جاری ہے)

جونہی ماسٹر صاحب آتے ،ہم میں سے کوئی اُن کی الماری سے اُن کی بیمہ شدہ شلوار اخذ کرنے دوڑپڑتا۔
کوئی شہتوت کے درخت پر چڑھ کر ہمارے جسم کی عروقِ مردہ میں خونِ زندگی دوڑانے کے لیے مولا بخش کا اہتمام کرنے لگتا ۔جب ماسٹر صاحب کے مولابخش کے تو سط سے ہمیں وٹامن ”سی “سے نواز ا جارہا ہوتا تو ہمیں یوں محسوس ہوتا کہ :
ہاتھ ہے اللہ کا بندئہ مومن کا ہاتھ
جب گاؤں کے درختوں کے پھلوں ،پھولوں ،پتوں اورشاخوں سے میرا جی بھر گیا تو مجھے شہر بھیج دیا گیا ۔

یہاں میں نے انڈے اور ڈنڈے ایک ساتھ جلتے دیکھے تو سوچ لیا کہ کبھی نہ کبھی میں بھی اپنا پنجابی دل جلا کر اُردو بازار میں رکھ دوں گا۔میں نے مڈل ورنیکلر میں فرسٹ کلاس لے کر گاؤں والوں کو یہ باور کرا دیا کہ اگر میں چاہوں تو منشی فاضل اور ادیب فاضل کرکے گاؤں کی سیدھی سادی زندگی میں زہر گھول سکتا ہوں ۔پھر میں نے سوچا کہ علم تو دراصل وہ ہے ،جس سے گھر والوں کی بجائے باہر والے ڈریں ۔

میٹرک میں داخل ہونے سے قبل گھر والوں نے میرے مستقبل کو مزید تابناک بنانے کے لیے مجھے تر غیباََ معاشرتی حیوانوں کا ہر شفا خانہ دکھایا تا کہ مجھے معلوم ہو سکے کہ ہر جسمانی مسیحا کو اپنا سر کھجانے کے لیے کسی نہ کسی مریض ہی کی خدمات حاصل کرنا پڑتی ہیں ۔
مجھے سکول میں داخلہ ملاتو اس ارادے سے کہ بڑا ہو کر انجینئر بنوں گا ،ڈرائینگ کی کلاس میں جا گھسا ۔

وہاں استاد صاحب وہ تمام سامانِ حرب وضرب لکھوار ہے تھے جو مغل بادشاہ جنگ اور امن دونوں زمانوں میں استعمال کیا کرتے تھے ۔کلاس میں بیٹھتے ہی میں نے انجینئر کے پنجابی ترجمے پر غور کیاتو اپنی نظر میں ایک عدد مستری ٹھہرا ۔میں نے اسی وقت دوانگلیوں کی وکٹری بنا کر ہاتھ کھڑا کر دیا۔ماسٹر صاحب نے سخن فہمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مجھے باہر نکلنے کی اجازت دے دی ۔


چھٹی ہوئی تو میں ڈاکٹر بننے کے ارمان لیے ایک ایسے بک ڈپو میں جا پہنچا،جس کا مالک اپنی روزی کا معاملہ خدا کے سپرد کرکے خود کسی جاسوسی ناول سے اپنا منہ سفید کررہا تھا ۔میں نے بھاری بھر کم مالک کو بڑی مشکل سے کھینچ کر ہیر و اور ہیروئن کے غیر شرعی تعلقات کی دلدل سے نکل کر ہا ئجین فزیالوجی کی کتاب طلب کی تو وہ قہاری وجباری وقدوسی وجبروت جیسے چاروں عناصر کی مدد لیتے ہوئے بولا:”کیا ایسی چیزیں خریدی جاتی ہیں ؟تم نے میرے مطالعے میں خلل ڈال کر جو مجھے صدمہ پہنچایا ہے ،اسے تو میں روزِقیامت تک التوا میں ڈالتا ہوں ۔


اب تمہاری یہی سزا ہے کہ میری دکان میں ،جہاں یہ کتاب تنہائی کا دکھ سہ رہی ہے ،اسے تلاش کرواور مجھ سے ہم کلام ہوئے بغیر چلے جاء“۔بالآخر تمام کتابوں کی گرد کے عوض مجھے ہائجین فزیالوجی کی کتاب مل ہی گئی ۔اس کتاب کا مطالعہ کرنا تھا کہ میں اس قدر شکی مزاج ہو گیا کہ اگر کوئی مکھی بھی میرے پانی کے گلاس پربیٹھ جاتی تو میں محکمہ کارپوریشن کو ٹیلی فون کردیتا ۔

یہ اسی کتاب کا کرشمہ تھا کہ میرے اور گھروالوں کے تعلقات پر کشیدہ کاری اور پچی کاری ہونے لگی۔یہی نہیں بلکہ ہرہوٹل اور ریڑھی والا میری آنکھ کے تِل میں تیسری دنیا کا تیسرے درجے کا شخص بن کر کھٹکنے لگا۔اُردو ،اسلامیات ،مطالعہ پاکستان اور ہائجین فزیالوجی تو میں قوتِ اراوی سے پڑھ لیتا مگر جو نہی ریاضی کی باری آتی ،اسے میں اختیاری سمجھ کر کسی مناسب وقت پر ٹال دیتا۔


آخر میٹرک کے سالانہ امتحان میں ریاضی کے پرچے والے دن اس کی باری آئی ۔میں ریاضی پر قابو پانے کے لیے بزرگوں سے سیکھی ہوئی تمام دعاؤں کا سہارا لیاکرتا تھا مگر بعد میں پتا چلا کہ ریاضی کے لیے کم از کم کسی ریاض یا پھر الریاض کی ضرورت ہوتی ہے ۔بہر حال میں نے دو ایک گھنٹے میں فیثاغوث کے مسائل پر غور کیا۔پھر نبیان کی شکل جیسے الجبرے کی تقسیم کے سوالات حل کیے ۔

جرابوں کی شکل جیسی ووچار مشقیں اور کیں ۔آہنی کھڑکیوں کے ڈیزائن سے مشابہ ضرب کے سوالات پر ایک اُڑتی نظر ڈال کر اپنے آپ کو یہ شعر سنا کر تسلّی دے ڈالی۔
باطل سے دبنے والے اے آسماں ! نہیں ہم
سو بار کر چکا ہے تُو امتحاں ہمارا
آخرِ کار ریاضی کا پر چہ تُکے لگالگا کر حل کیا۔رزلٹ آیا تو فزکس ،کیمسٹری اور ریاضی کی بدولت میرے اور بورڈ میں اوّل آنے والے لڑکے کے درمیا صرف ساڑھے تین سو نمبروں کی خلیج حائل تھی ۔

گھر والوں کو یقین ہو گیا کہ ہمارا لختِ جگر ایف۔ایس سی میں صرف فزکس ،کیمسٹری اور بیالوجی پر اپنی جسمانی ،روحانی اور شیطانی طاقتیں صرف کرکے بورڈ کے سابقہ ریکارڈز کچے گھڑے سمجھ کر توڑ دے گا۔سکول میں یہ مضامین داغ دہلوی کی زبان میں تھے ۔کولج میں یہ انگریزوں کے داغِ نہاں کی صورت میں میرے سامنے آئے۔
پہلے چھے ماہ تو ان داغوں کا مجھ پر ادرک کھا کر بھی ادرک نہ ہوا۔

بہر حال ایف ۔ایس سی کی تیاری کی ۔ہر پرچے میں سواتین تین گھنٹے بیٹھا۔نوے دن بعد رزلٹ آیا تو میں ڈاکٹر کیا ڈنگر ڈاکٹر بننے کے قابل بھی نہ تھا۔ایف ایس سی کے بعد کئی روز تک ریلوے ٹائم ٹیبل میرے زیر مطالعہ رہا۔کئی دن تک میں مینارِ پاکستان اور بادشاہی مسجد کے میناروں کی اونچائی میں فرق نکالتا رہا۔جب یہ تمام حربے نظریہ پاکستان سے ٹکرا کر پاش پاش ہو گئے تو میں نے اکبر الہٰ آباد ی کے ا نتبا ہ سے خوف زدہ ہو کر فوراََ ایم ۔

اے کر کے اپنے آپ کو گامازبی ۔اے کی صف سے نکالا ۔
قبل اس کے کہ آپ میرے بارے میں کوئی ایسا مُقفی ومسجّع قسم کا تصوّر اتی خاکہ قائم کرلیں ،جس سے لوگ آپ کی معلومات پر خواہ مخواہ انگلیاں اٹھاتے پھریں ،میں خود ہی اپنا تعارف کرا دیتا ہوں ۔میرا قد پانچ انچ ہے ۔چلنے میں سبک رفتار اور وزن میں ہلکا ہوں ۔خاصا پورٹ ایبل ہوں ۔لفٹ لینے کے لیے انگوٹھا نمائی نہیں کرنا پڑتی ۔

جسامت ایسی ہے کہ ہر کوئی یہی توقع کرتا ہے کہ سلام میں پہل میں ہی کروں ۔لیٹ کر پڑھنے کے باوجود آنکھوں کی تعداد نہیں بڑھی۔سر کے بال کتے سے زیادہ وفادار ہیں ۔سر کے چند بال سفید ہوئے ہیں بلکہ کیے ہیں ۔
وہ بھی سیاہ بالوں کی ناقدری دیکھ کر ۔ناک اتنی مناسب کہ پانی پیتے ہوئے اسے ہاتھ سے اٹھانا نہیں پڑتا ۔میرا گلا اتنا سمارٹ ہے کہ میرا بچہ بھی اسے کلائی سمجھ کر بڑی آسانی سے اپنی انگلیوں کا کڑا پہنا سکتا ہے ۔

گلے کی ہڈی اتنی مناسب ہے کہ ہر ٹائی میں ناٹ کاکا م دے جاتی ہے ۔شاعروں میں غالب کے بعد صرف اکبر ۔شوہروں میں اپنا آپ اور شہروں میں لاہور پسند ہے ۔آپ اگر مجھ سے یہ پوچھیں کہ میں نے مزاح کیوں لکھا ہے تو میں یہ ہر گز نہیں کہوں گا کہ میں ایک بہت بڑا سرجن ہوں اور معاشرے کا آپریشن میرے ذمے ہے ۔یہ کام تو باوردی مزاح نگاروں کا ہے ۔میرا دعویٰ بھی نہیں کہ میری ان تحریروں سے ہنس ہنس کر آپ کے پیٹ میں بل پڑجائیں گے ۔


اگر آپ اس مقصد کو پورا کرنے کے لیے اس کتاب کا مطالعہ کرنا چاہتے ہیں تو آپ اس کتاب کی بجائے لطیفوں کی کوئی کتاب خرید کر پڑھ لیں اور اگر پھر بھی تشنئہ کا می کا احساس ہوتو کسی لکی یا اَن لکی ایرانی سر کس کے باہر جاکر کھڑے ہو جائیں ۔وہاں کچھ لوگ اپنے پا جامے کی لاسٹک کو کھینچ کھینچ کر اس کی درازی عمر کی دعائیں مانگ رہے ہوں گے ۔آپ بھی ان کے پیچھے شرافت سے ”آ مین ،آمین “کہتے جائیں ۔

آپ یہ نہ سمجھیں کہ ہماری سڑکیں ہی ناہموار ہیں بلکہ ہمارے معاشرے میں ناہموار یوں کے انبار لگے ہوئے ہیں ۔
میں نے ان ہمواریوں کے دروازے پر ہولے سے دستک دینے کی کوشش کی ہے۔دنیا میں کون ہو گا،جو دکھی نہیں مگر اپنے دکھوں پر روتے رہنا ،ماتم کرنا اور آہ وبکا کرنا زندگی کے صاف شفاف مناظر کو دھندلا دیتا ہے ۔پھر جس آنکھ میں ہر وقت آنسو بھر ے رہیں ،اسے ہر چیز دھندلی ،مِٹی مِٹی اور بجھی بجھی سی لگتی ہے ۔

خدا نے جب ہماری آنکھوں کو بصارت جیسی نعمت سے عبارت کیا ہے ۔تو کیوں نہ ہم انھیں کائنات کے وسیع وعریض حُسن کے مطالعے اور مشاہدے پر صرف بعض کتابوں کا ایک ہی ایڈیشن مصنف کی پوری زندگی کے ساتھ ساتھ چلتا ہے اور ہمارے معاشرے میں یہ المیہ کسی کے ساتھ بھی پیش آسکتا ہے ۔آپ کی محبت نے یہ بات بھی غلط ثابت کردی ہے ۔
سیاست اور ظرافت میں کوئی تیر آخری نہیں ہوتا ،اس لیے میں نے اس کتاب کے نئے ایڈیشن کے لیے کڑی نظرِ ثانی کی ہے ۔

میں جس تخلیقی عمل سے گزرا ہوں ،اُمید ہے آپ بھی نئے ذائقے سے ہمکنار ہوں گے ۔پروفیسر سیف اللہ خالد صحیح المذاق دوست ہیں ،ان کی تنقید اور مشوروں کا میں سپاس گزار ہوں ۔معروف شاعر اور نقاد محترم سلیم الرحمن میرے شکریے کے مستحق ہیں کہ انہوں نے اس کتاب کو اپنے موٴقر ادارے سے منظرِ عام پر لانے کا اہتما م کیا۔

Your Thoughts and Comments