Kuttay Manhooch Chacha Aur Bernard Shaw

کتے، منحوس چاچا اور برنارڈشاہ کاقول

منگل 12 جنوری 2016

حافظ مظفر محسن:
ہمارے دوست شہزاد احمد چیمہ کاہمیشہ خوبصورت نہایت مہنگے بڑے بڑے خوفناک کتے رکھنے کاشوق تھا۔ انھوں نے دو لیبرے ڈاگ بیرون ملک سے منگوائے۔ ان کی خوب خاطر مدارت کی اور پھر اچانک انھیں ایک ماہ کے لئے خودبیرون ملک جانا پڑگیا اور کتے انہوں نے اپنے چچا کے حوالے کردیے کہ وہ ان کاخوب خیال رکھیں گے ۔

۔۔ چچا میں سبھی خوبیاں موجود تھیں لیکن ایک خامی تھی کہ وہ حدسے زیادہ کنجوس تھے۔۔۔ شاید کتوں کوبھی چچا کی اس خامی کاپتہ تھا۔۔۔ شہزاد چیمہ جب جانے لگے تودونوں کتے انن کی ٹانگوں سے چمٹ کررونے لگے جیسے خوف زدہ لوگ ایسے موقع پرروتے ہیں۔ کنجوس چچانے وعدہ کیا کہ تمھاری عدم موجودگی میں میں ان کتوں کاخوب خیال رکھوں گا۔

(جاری ہے)

۔۔ انھیں گاجر کامربع اور میٹھا پان کھلایا کروں گا۔

۔۔ تم مزے سے باہر جاؤ۔۔۔ شہزادچیمہ نے اپنے صحت مند خوبصورت کتے کنجوس چچا کے حوالے کیے اور بیرون ملک چلے گئے۔ کنجوس چچانے کتوں کوبھی شہزاد چیمہ کی موجودگی میں تھپکی دی گویا کہہ رہے ہوں کہ اب میں وہ نہیں ہوں جوتم سمجھ رہے ہو۔ لگ پتہ جائے گا۔
ایک ڈیڑھ ماہ بعد جب شہزادچیمہ واپس آئے تو انھیں گھر میں ا ن کے محبوب کتے نظر نہ آئے۔۔۔ ہاں البتہ دودبلی بلیاں ادھرادھر چھپتی پھرتی دکھائی دیں۔

۔۔ چیمہ نے کنجوس چچا سے اپنے کتوں کی بابت دریافت کیاتوکنجوس چچانے بات ادھرادھر کرنا چاہی چیمہ نے زوردے کربات کی توکنجوس چچانے بلیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ یہ ہیں وہ کتے جوتم چھوڑ کرگئے تھے۔۔ یہ بے ہودہ کمزور۔۔ امیچور بلیاں۔۔۔ کتے ہیں جوکنجوس چچا کے پاس وہ چھوڑ گئے تھے۔۔۔ اب کیاہوسکتا تھا۔۔ چیمہ نے حسرت ویاس کی تصویر بنے کھڑے تھے اور لگتاتھا ان کی آنکھیں آنسوؤں سے ترہیں۔

۔۔ دونوں کسی قحط زدہ افریقی ملک کے مہاجرجانوروں کے نمائندہ محسوس ہورہے تھے اور عالمی سطح پرحیوانیت کے نام پرخیرات مانگنے کی خواہش لیے چلنے پھرنے سے قاصر دکھی دکھی دلوں کے ساتھ کھڑے آہیں بھررہے تھے اور پھر سے کنجوس چچاکے پلے پڑجانے سے ڈررہے تھے۔۔۔ یہ چچا شاید دنیامیں واحد چچا ہیں جنھیں بچے ان کے منہ پرکنجوس چچاکہتے ہیں اور وہ رتی برابر بھی اس بات کابرا نہیں مناتے اور مخاطب کومسکراکردیکھتے ہیں۔

۔ اس آزادی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اور ان کے چہرے پرپھیلی خوشی دیکھ کرکچھ لوگ انھیں منحوس چچا بھی کہہ ڈالتے ہیں اور وہ یہ ثابت کرتے ہیں کہ مجھے کنجوس چچاہی کہاگیا۔۔ منحوس نہیں۔۔ ایسی فراخ دلی شاید آپ کوکہیں اورنہ ملے۔
ویسے بھی حالت دیکھ کرہی لوگ نام بھی رکھتے ہیں اور جونام رکھ دیاجائے وہ ساری زندگی ساتھ چلتا ہے چاہے انسان اس سے چڑ بھی کھانے لگ جائے۔

۔ برامنانے لگ جائے۔ ایک گھر میں تین جڑواں بچے پیداہوئے توساس نے عینک صاف کرتے ہوئے۔۔ کہا۔۔ لوبتاؤ۔۔ پاکستان کے حالات دیکھ کر اب بچے بھی اکیلے آٹے ہوئے ڈرتے ہیں۔ اس کیفیت کے حوالے سے ثناء اللہ ظہیر کاایک شعر ملاحظہ کریں۔
اُٹھ رہیں ہیں واپہ دیواریں
تھی ضرورت جہاں جہاں درکی
ڈرخوف توہر طرف موجودہے یہاں تک کہ لوگ بچوں کواسکول بھیجتے ہوئے ڈرنے لگے ہیں۔

۔ پیپلز پارٹی اقتدار میں ہوتے ہوئے بھی خوف کاشکار ہے اور ایم کیوایم سے کھلے موضوعات پربھی مذاکرات دبئی جاکرکررہے ہیں اور تردید بھی ایساکچھ تو ہوا ہی نہیں۔۔۔ الطاف بھائی تجربے کی بنیاد پرسیاست میں نواب زادہ نصراللہ خان والاکردارنبھارہے ہیں اور مسلم لیگ(ق) والے پچھتارہے ہیں کہ وہ ملک کی مرکزی سیاست سے دور ہوتے چلے جارہے ہیں اور اپنا اپالیسی بیان دیتے ہوئے نوازشریف نے پھر سے کہ دیاکہ چوہدریوں سے سیاسی مفاہمت نہیں ہوسکتی ۔

۔ پچھتاوابری چیز ہے، پچھتاوے کی دوسری قسم خوف ہوتاہے۔
مت کر نفرت انسانوں سے
آجائے نہ رب کاقہر
سب کے لیے رکھ دل میں پیار
جگمگ ہوں گے گاؤں شہر
بھارت میں سنا ہے آج بھی مائیں بچوں کوجب وہ ضدکریں اور رات گئے سونے کوتیار نہ ہوں تو ڈاکٹر عبدالقدیرخان کانام لے کرڈراتی ہیں۔۔ ”کہ سوجاالو کے پٹھے“ ڈاکٹرقدیرخان آتاہی ہوگا۔

۔ اور پچھتاوا بھارتی حکومت اور اختیار والوں کویہ ہے کہ انھوں نے طالبان کی پشت سے مسائل پیداکردو۔ ۔ تاکہ پاکستان کی حکومت اور عوام خوف کاشکارہوجائیں لیکن اب ”رام راج“ کے خواب دیکھنے والوں کو لینے کے دینے پرگئے جب اس ایک اہم ترین مسئلہ پرانھوں نے دیکھا کہ عوام اور سیاستدان اس مسئلہ پر ایک ہوگئے۔ سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن گئے اور پاکستان کی بہادرمسلح افواج نے پوری جرأت سے مقابلہ کیااور دشمنان پاکستان کے عزائم خاک میں ملادیے۔


مزارشعیب فرماتے ہیں کہ بھارتی قیادت کے پاس کوئی کام نہیں سوائے پاکستان پرالزام تراشی کے جبکہ ہماری قیادت سب جانتے بوجھتے بھی بھارتی اداروں کاذکرتک نہیں کرتی۔ جیسا کہ میرے پاس بہت سے عنوانات ہیں، موضوعات ہیں لیکن لکھنے کا وقت نہیں جبکہ لوگ بہت لکھ رہے ہیں لیکن ان کے پاس نہ موضوع ہے نہ متاثر کرنے والی تحریر۔ ہمارے پاس بظاہر اس سارے مسئلے کاحل موجودنہیں کہ آج کے اردو پوائنٹ ڈاٹ کام جوکہ اردوکی سب سے بڑی وہب سائٹ ہے اس کی پیشانی پر اقوال زریں کے شعبہ میں مشہوت دانشور برناڈشاہ کاایک قول پڑھا کہ” کسی کونصیحت نہ کرو کیونکہ بیوقوف سنتانہیں اور عقلمندکواس کی ضرورت نہیں۔

ہم اپنے ازلی دشمن کوبیوقوف سمجھیں یاعقلمندوں کی لسٹ میں شامل کرلیں ویسے میں صبح سے پریشان ہون کہ آج صبح صبح میں نے بیگم کوایک نصیحت کرڈالی کہ بیگم صاحبہ آپ پلیز گرمیوں کے موسم کے مزید کپڑے نہ خردیں کیونکہ اب کے گرمیوں اور آم امنے یعنی اک ساتھ چھ ماہ بعد آئیں گے۔ میں اس وقت سے سوچ رہاہوں کہ بیگم نے ہماری نصیحت سنی ہوگی یاان کوہماری نصیحت کی ضرورت نہیں۔

۔۔؟
کل اپنے افسر کوبھی میں نے نصیحت کی تھی کہ آپ کوایک کم ساٹھ سال کی عمر میں سترہ سالہ مٹیارسے شادی رچانے کاارادہ کر چکے ہیں یہ درست نہیں۔ اس میں دونوں کے خوار ہونے کااندیشہ ہے۔ اب میں سوچ رہاہوں کہ پتہ نہیں میراافسر عقلمند ہے یااس کونصیحت کی ضرورت نہیں یونکہ کل شام کوشہر کے ایک خفیہ مقام یعنی اس کے گھر کی دوسری منزل پہ اس کی شادی کی تقریب منعقد ہوچکی ہے۔

یعنی چراغ تلے اندھیرا۔۔ یہ چراغ اب پوری آب وتاب کے ساتھ چمکتاہے یاپھڑپھڑانے لگتاہے یہ جلد پتہ چل جائے گا۔ بقول فرحت عباس شاہ۔۔۔
جو اس کے چہرے پہ رنگ حیاٹھہرجائے
توسانس، وقت سمندر، ہواٹھہرجائے
ادھر تازہ ترین خبرہے کہ امریکہ میں فوجیوں پرحملے ہوئے ہیں۔ یہ حملے اپنوں نے ہی کیے ہیں۔۔ بش نے فوج کومختلف ملکوں میں گھسایا۔

۔۔ اوبامانے شروع ہی اعلان کردیاتھا کہ فوج کی واپسی شروع کریں گے لیکن بعدمیں مزید فوج بھیج دی۔۔ امریکی فوج کامورال شایدڈؤان ہورہاہے۔۔۔ جبھی ایسے واقعات ہوتے ہیں۔۔۔ میں سوچ رہاہوں کہ میں بش کو عقلمند کہوں یاغور کروں کہ اوباماکوتو نصیحت کی ضرورت نہیں۔۔۔ لیکن جب غور کیاتوپتپ چلاکہ دونوں نہیں سنتے اور جو نصیحت نہیں سنتے۔۔ کل کلاں انھیں اپنے کیے پرشرمندہ بھی ہونا پڑتا ہے اور سزابھی ملتی ہے۔

۔ اور ویسے بھی حالات کاتقاضا ہے کہ جوس جس قابل اسے وہ کال مت کرنے دیں۔ ورنہ شہزاد چیمہ کے کنجوس چچاکی طرح وہ خوبصورت بڑے سائز کے کتوں کو بلیاں بنادیتے ہیں اورکتوں کاانسان سے اعتباراٹھ جاتاہے؟ چاچا کنجوس عرف چچامنحوس کی صحبت میں رہ رہ کر۔۔۔ اور وہ بیمار بھی ہوسکتے ہیں اور وقت سے پہلے مربھی سکتے ہیں۔
ایک شخص پٹھان سے: خان صاحب آج آپ نے ڈاکٹر کے پاس جانا تھا۔ پٹھان: آج ہماری طبیعت ٹھیک نہیں، کل جاؤں گا۔

Your Thoughts and Comments